منگل، 11 نومبر، 2014

جماعتِ بغدادی کےاعلانِ خلافت سے متعلق موقف

جماعتِ بغدادی کےاعلانِ خلافت سے متعلق موقف

اس سے قبل جماعت البغدادی سے متعلق موقف میں اس گروہ سے متعلق ملاحظات کو بیان کیا گیا تھا، تاہم اب ایک نئی صورتحال سامنے آئی ہے جو اپنے نتائج کے اعتبار سےبہت بڑھ کر ہے، ہم اللہ تعالیٰ سے سوال کرتے ہیں کہ وہ مجاہدین کی معاملات کو آسان بنا دیں۔ اس معاملے کا تعلق جماعت الدولۃ کے خلافت کے اعلان سے ہے، کچھ بھائیوں نے مجھ سے اس امر سے متعلق شرعی موقف بیان کرنے کوکہاہے، جو کسی بھی جذبات سے آزاد ہو۔

دین کا امر اس معاملہ میں کیا ہے، اس کو ہم نے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرنے کے بعد مندرجہ  ذیل عنوان کے ذریعے بیان کرنے کی کوشش کی تھی:
نريدها على منهاج النبوة
[ ہمیں یہ (خلافت) منہج ِنبوت پر مطلوب ہے]

شروع میں منہج نبوت کےاوپر قیام ِ خلافت  کے سلسلے میں کوشش ایک ضروری امر ہے ،جو خلافت  امتِ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) سے چھینی گئی تھی، صرف اس وجہ سے کہ امت ’وہن‘ (زندگی سے محبت اور موت سے نفرت) کی بیماری میں مبتلا ہو گئی، جب انہوں نے جہاد فی سبیل اللہ کو چھوڑ دیا اور امت نے ایسے علماء اور حکمرانوں کے آگے خود کو جھکا دیا ،جو فقط حکام کی مرضی کے مطابق بیان کرتے ہیں اور انہی حکام کے  لیے فتاوی دیتے ہیں اور امت کے لیے حق کو باطل کے ساتھ ملاتے ہیں، واللہ المستعان۔ اس لیے خلافت کے قیام اور اس کیلئے کوشش واجبات میں سےہے، اورامت کی شان و شوکت ان کے متحد ہونے اور دین سے جڑ جانے میں ہے۔

اسی غرض سے یورپی ممالک نے مسلمانوں کی وحدت کو پارہ پارہ کرنے کے لیے ’سایکس پیکو‘ کی فرضی حدود کا اہتمام کیا، اسی لیے اقامتِ دین اور احکاماتِ شریعت  کامکمل نفاذ اسی خلافت سے منسوب ہے، اور مسلمانوں کے لیے مکمل امن خلافت کے قیام کے بغیر ممکن نہیں۔

میں ہر اس شخص سےجو ’وہن‘ کی بیماری میں مبتلا ہے اورجو مغرب کی  قوت و شوکت کو دیکھ کر یہ گمان کرتاہے کہ خلافت کی کوشش فقط ایک خیال اور وہم ہی ہے، بلکہ یہ توراہِ جنون ہے،اس سے یہی کہوں گا کہ جان لو، خلافت یقیناً ضرور قائم ہونے والی ہے، اور میں  اس ذاتِ واحد کی قسم اٹھا کر کہتا ہوں جس کے علاوہ کوئی عبادت کے لائق نہیں کہ امت کی عزت اور خلافت ضرور بضرور۔۔رغبتی  یا بے رغبتی سے۔۔۔ ضرور واپس آئے گی۔ یہ وعدہ تو ہمارے نبی ﷺ کا ہے، اور ایسے وہن میں مبتلا افرادتو اسے دور دیکھتے ہیں جبکہ ہم اس امر کو قریب دیکھ رہے ہیں۔

آپ اس امر کو دنیاوی پیمانے پر تولنے کی کوشش کرتے ہیں جبکہ ہم اس امر کو تیونس میں ایک بدلتی رات کے موافق حالات کی طرز پر دیکھتے ہیں، اسی طرز پر حاکمِ مصر (حسنِ مبارک) کا معاملہ جبکہ وہ قیدی بن گیا، اور ایک قیدی(مرسی)  حکمران بن گیا، اور پھر اس کے بعد حکمران پھر سے قیدی بنا لیا گیا۔

جو ذات ان تمام حالات کو بدلنے پر اسطرح قادر ہے، وہ امت کے حالات بھی اسی طرز پر بدل دینے کی باکمال صلاحیت فقط اپنے ایک قول سے رکھتی ہے، (کن فیکون)، پس ہو جا! اور وہ اسی وقت ہو  جاتی ہے۔ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم فقط اس  خلافت کے لیے کوشش کریں،جبکہ تنائج کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔

لیکن ہم  اس با ت کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی ضرور بیان کرتے ہیں کہ جس خلافت کے لیے ہم کوشش کر رہے ہیں جس کا گھونٹ ہم اپنی گردنوں سے اتارنے کے  خواہشمند ہیں، وہ رسول اللہ(صلی اللہ علیہ وسلم) کی طرف سے وعدہ کی گئی وہ خلافت ہے جو (علی منھاج النبوۃ)،منہجِ نبوت کی طرز پر، قائم ہو ۔ اس کے علاوہ باقی اقسام ِخلافت فقط ملوکیت ہے جو امت پر سابقہ  بھی موجود رہی ہیں اور جس کا ذائقہ دوسرے علاقوں نے بھی چکھا ہے۔

کوئی  اعلان ِ خلافت جوشروط کا لحاظ رکھے بغیر ہی کر دیا جائے، ایک ایسی کیفیت  کو جنم دیتا ہےجس میں جذبات کے ذریعے خوشگوار بے چینی کا ماحول بنادیا جاتا ہے یا ناجائز طور پر جذبات سے فائدہ اٹھایا جاتا ہے۔ایسے اعلانات دین کے لیے فائدے سے زیادہ نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں۔

جماعت بغدادی کا خلافت کا اعلان کوئی پہلا امر نہیں ہے بلکہ اس سے قبل ایسے اعلان الجزائر میں بھی ہو چکے ہیں۔ اس الجزائر گروہ نے ناجائز قتل و غارت کی، امت افراتفری کا شکار ہوئی اور مغرب اور انکے آلہ کار اس  سے خوش ہوئے۔ یہ اس سبب ہوا کہ اس گروہ نے خلافت کے اعلان میں تمکن (غلبہ) سے قبل ہی عجلت دکھائی۔

دو دسال پہلے، ابو البنات اور انکے حواریوں نے شام میں خلافت کا اعلان کیا اور بیعت کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے خود کو شورائیتِ امت سے علیحدہ کیا، پس وہ نیست ونابود ہو گئے۔

کچھ نوجوانوں نے افغانستان میں  خلافت کا اعلان کیا اور مجاہدین کے خلاف برسرِ پیکار ہوئے، اور امت پر اپنے گروہ کی بیعت کو لازم کیا اور اس بنیاد پر قتال کیا اورخود بھی قتل ہوئے اور دوسروں کو بھی قتل کیا۔

پس ان واقعات سے یہ عبرت حاصل ہوئی کہ خلافت کے شعار کا اعلان فقط اُس سے وابستہ شروط کے بغیر  نہیں کیا جانا چاہیے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ یہ خلافت  منہجِ نبوت پر قائم ہو، اگر ایسا نہ ہوا تو جو چیز حاصل ہو گی، وہ بے سود ہی ہو گی۔

 آج ہم اسی پس منظر میں مجاہدین کے درمیان ایک اور تفریق کے شاہد ہیں،جس میں اختلاف رائے بڑھ رہا ہے، جہاد  کونقصان ہو رہا، فرقہ بندی کی بنیاد پڑ گئی اور ناحق خون بہایا جا رہا۔

اے اللہ! ہم آپ کے سامنے ہی یہ تمام شکایات کوبیان کرتے ہیں۔

آج جماعت ِبغدادی نے خلافت کا اعلان کیا ہے، جسکو صرف عراق وشام تک محدود نہیں رکھا ہے بلکہ اس کا اطلاق پوری امت پر مشرق سے لے کر مغرب تک کر دیا ہے، اور وہ بھی بغیر مشورے  اور شورائیت کے، اور اس امر میں کسی ایک معتبر عالم ِ دین سے مشورے کی حاجت ضروری نہیں جانی ہے!

ہر راست باز شخص سے میں یہ کہوں گا، اللہ سے ڈریں، یہ معاملہ فقط جہاد کی صفوں میں تفریق پیدا کرنے والا وہی سابقہ  واقعات  (الجزائر، شام اور افغانستان میں  اعلانِ خلافت )جیسا تکرار  ہی ہے، جس میں عجلت پسندی غالب آ رہی ہے، جس میں باقی جہادی جماعتوں، انکے علماء، اہل عقل اور امت کے  اہل حل وعقد سے رجوع کیے بغیر تمام معاملا ت کیے گئے ہیں۔آپ لوگ اللہ کے سامنے ان افعال  کا بوجھ ضرور اٹھانے والے ہیں۔

اے حق کے متلاشی،
اہل علم نے کسی حاکم کی امامت کے لیےتین صورتیں بیان کی ہیں:

۱)   استخلاف (سابقہ حاکم کی طرف سے  ولی عہد کا انتخاب ہونا)
۲)  شوری  (منہج نبوت کی طرز پر)
۳)  متغلب (جو حکومت پر غلبہ پا لے)

جہاں تک معاملہ استخلاف سے امام بننے کا ہے تو وہ وقوع پذیر نہیں ہوا ہے، پس جہاں تک بغدادی کا معاملہ ہے تو اب صورت متغلب کی بچتی ہے یا منہج نبوت پر شورائیت کی۔

اب جہاں تک معاملہ  شوری کا ہے، تو ہمیں جو مطلوب  خلافت ہےوہ  منہجِ نبوت کے اوپر ہے جسکا ہم سے  وعدہ  رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے کیا ہے اور اسی خلافت کے لیے ہم فی سبیل اللہ اپنے خون کا نذرانہ پیش کر رہے ہیں تاکہ اس مطلوبہ خلافت کا احیاء ہو سکے۔ پس یہ وہ خلافت ہرگزر نہیں ہے جس کا اعلان بغدادی نے (بغیر شوری) کے کیا ہے۔

شریعت نے تمام اعمال سے متعلق شروط و موانع سمجھانے کا اہتمام کیا ہے تاکہ کسی بھی عبادت سے متعلق خطا ہونے کی غلطی کے احتمال کو روکا جا سکے، پس اسی طرح نقصان پہنچانے والا اور فائدےسے روکنے والا شخص اس گمان میں ہوتا ہے کہ وہ تو خیر اور اچھائی پر ہے۔اہل بدعت اور اہل تصوف جب اپنی بدعت پر مبنی تسبیحات اور نمازوں کو دیکھتے ہیں تو وہ اپنے بارے میں عند اللہ یہی گمان رکھتے ہیں کہ وہ تو خیرکا معاملہ کر رہےہیں۔

نماز کے اوقات ہیں اور اس کی قبولیت کی شرائط ہیں، اسی طرح دیگر فرض عبادات کا احوال ہے جیسے حج، روزہ، زکوۃ؛  ہماری نماز، روزے، حج، خلافت سے محبت ہم سے اس چیز کا تقاضا ہرگز نہیں کرتی ہے کہ ہم اس اسے جب وقت بھی چاہیں اپنی منشاء کے مطابق ان عبادات کو قائم کرلیں اور ساتھ یہ گمان بھی رکھیں کہ دین اور عملِ صالح سے محبت کے پیش نظر یہ تمام اعمال کر رہے ہیں۔ پس اس طرح تو ہم بدعت کی طرف قدم بڑھا دیں گے، اور یہی معاملہ خلافت کے ساتھ بھی ہے کہ اسے اپنی مرضی کے مطابق بغیر شروط کا اہتمام کیے قائم نہیں کیا جا سکتا ہے۔

جس طرح باقی عبادات کے لیے شروط ہیں، اسی طرز پر خلافت کے لیے بھی شرائط  موجودہیں، اور ان میں سب سے اہم ترین  شرط تمکن اور شوری کی ہے۔

[ایک حقیقی معتبر تمکن جو کسی وہم  سے بالا تر ہو اور منہجِ نبوت کی طرز پر شورائیت  پر مبنی ہو، نہ کہ کسی ایک گروہ کی نمائندگی کرتا ہو]
[خلافت امت کے لیے ہے کسی خاص جماعت کے لیے نہیں ہے]

ظہورِ بغدادی شرعی طور پر اس خلافت کے صحیح ہونے کے لیے دلیل نہیں، سب سے ضروری امر یہ ہے کہ دیکھا جائے  گاکہ شرائطِ خلافت  پوری ہوئی ہیں کہ نہیں، اور ان میں سب سے اہم شرط  جس کا پورا ہونا ضروری ہے وہ تمکن کا ہے، اور یہ اہل حل و عقد کو اختیار دینے پر منحصر ہے، جن کا انتخاب امت خلافت کے مسئلہ پر کرتی ہے۔ خلافت شرعی اور فقہی حوالے سے نمائندگی کا نام ہے، اور خلیفہ امتِ اسلامیہ کا نائب ہے، اور یہ اہل حل و عقد  ان معتمدین کی طرح ہیں جن   کی بیعتِ خاصہ کے ذریعے یہ نمائندگی خلیفہ کو منتقل ہوجاتی ہے۔

یہ نیابت  یا نمائندگی شرعی،عقلی اور روایتی طرز پر  تب ہی ثابت ہو گی ،جب تک امت (ان اہل حل و عقد  کی بیعتِ خاصہ کے ذریعے) خلیفہ کا انتخاب نہ کر لے،جبکہ یہاں  پرصرف ایک جماعت کا اعلانِ خلافت خلیفہ کے انتخاب کے لیے کافی نہیں ہے۔

کیا ملا عمر، الظواہری،امیرِ قوقاز،الوحیشی (یمن کے امیر) اور دیگر دوسرے امرائے جہاد  نے یہ انتخاب ِ خلیفہ کیا ہے؟ کیا علمائے ارض  یا دیگر دوسرے علاقوں میں موجود علماء نے اس کا انتخاب کیا ہے؟

کیا مجاہدین  میں سے موجود اہل حل و عقد (اہل شوکت) اور دیگر مجموعات نے یہ انتخاب کیا ہے؟  ہم’ مجاہدین کی خلافت‘ کے لیے کوشاں نہیں ہیں بلکہ ’امت کی خلافت‘ کے لیے کوشاں ہیں، پھر کیاخلافتِ بغدادی امت  کے لیے ہے یاصرف اپنی مخصوص جماعت کے لیے خاص ہے؟


اے حق کے متلاشی!
کسی ملک میں امارت کا قیام اہل حل وعقد(اہل شوکت) کی مشاورت (شوری) کے بغیر جائز نہیں ہے۔ 

کیا اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا ہے:
[اور ان کا کام باہمی مشورے سے ہوتا ہے]
 کیا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)  نے یہ نہیں فرمایا:
[اگر مجھے بغیر شوری(مشاورت) کے امیر بنانے کی اجازت ہوتی، تو میں ابن مسعودؓ کو امیر منتخب کرتا]

یہ بہت ضروری امر ہے کہ اہل حل وعقد ہی امتِ محمدﷺ کے اصل نمائندے ہوں۔ یہ کسی کو حق حاصل نہیں کہ وہ اپنا انتخاب خود ہی مجلس شوری میں کر لے، اور اس کو ’اہل شوری‘ کا نام دے دے، یہ تو ظالموں کا طریقہ کار ہے، خلافت کا طریقہ کار ہرگزر نہیں ہے۔

پھر ان لوگوں  کے بارے میں جنہوں نے بغدادی کا انتخاب کیا اورانکی شوری کے حوالے سے یہ بتایا جائے کہ ان  افرادکے نام کیا ہیں؟ ان کا احوال کیسا ہے؟ وہ کس کی نمائندگی کرتے ہیں؟ ان کو اس چیز کا اختیار کس نے دیا ہے؟

یہ اعلان جسے (دولۃ العراق و الشام)  کے نام نے منسوب کیا جاتا ہے ایک بہت بڑی غلطی ہے، امت کےاوپر جرأت کرنے والا معاملہ ہے اور جنہوں نے اس معاملہ میں حمایت و نصرت کی اور بیعت دی ہے، ان کے لیے ہلاکت ہے  اور  ان کو اس امر کے تباہ کن  تنائج کا بوجھ اٹھانا ہو گا۔ ہم ایک ایسی خلافت کا سامنا کر رہےہیں جو تمکن اور شوری کے بغیر قائم کی گئی ہے، جو ظلم پر قائم کی گئی ہے، منہجِ نبوت پر قائم نہیں ہوئی، اب اس استبداد پر مبنی خلافت کےلیے اور کتنا خون بہایا جائے گا؟ 

میں نے ذاتی حیثیت میں بھی اس بات کا مشاہدہ کیا ہے کہ بغدادی کو شام کے کثیر علاقوں پر غلبہ اور تمکن حاصل نہیں ہے جیسے حلب، ساحل، حمص، دمشق، غوطہ اور دیگر دوسرے علاقے۔

پھر کس طرح امت پراس خلافت کا اعلان کیا جا سکتا ہے۔ بلاشبہ ، اللہ کی قسم یہ ایک  سنگین غلطی ہے اور اندھا فتنہ ہے۔

پھر یہ غلطی مزید اسطرح بھی بڑھ جاتی ہے جب اس کے ساتھ ناحق خون بھی بہایا جائے اور عزتوں کو پامال کیا جائے، پس   بغدادی کا اپنے لیے خلافت کا اعلان کرنا اور پھر جو کوئی اس استبداد (جابرانہ طرز پر) پر مبنی بیعت کو قبول نہ کرے اس سے قتال کرنا اور اس  بیعت  کے لیےموحدین کا خون بہانا ایک بھیانک امر ہے۔

ان انصارانِ بغدادی اور بیعت دینے والوں  کے لیے ہلاکت ہے جو اس ناحق قتل میں اس کی نصرت کرتے ہیں، پس جب انہیں جبار سبحانہ تعالیٰ کے سامنے محاسبہ کے لیے پیش کیا جائے گا، ان کے لیے پھر ہلاکت و بربادی ہے۔

ان لوگوں کے لیے ہلاکت ہے جنہوں نے پورے عالمِ اسلام میں جہادی صفوں میں تفریق پیدا ک۔۔۔ ہمیں خدشہ ہے کہ یہ فتنہ یمن، مغرب، صومال اور دیگر جگہوں پر (اللہ محفوظ فرمائیں) منتقل ہو سکتا ہے، اس دن یہ لوگ امریکا اور انکے حواریوں کو کتنا خوش کر دیں گے!

اس معاملہ میں سب سے ناجائز منظرنامہ یہ بن جائے گا، جس میں خونِ مسلم ناحق بہایا جائے گا۔ جہاں تک ہمارا معاملہ ہے، اللہ کی قسم، ہم اس لیے نہیں نکلے یا مجاہدین کو اس لیے نہیں نکالا ہے کہ وہ ناحق خون بہائیں اور اُن کی عزتوں کو پامال کریں بلکہ ہم تو ان کے اوپر ڈھائے جانے والے ظلم، کفر اورفتنہ کو ختم کرنے کےلیے آئے ہیں، پس ان کے معاملے میں اللہ سے ڈرو!

مجاہدین اور علمائے امت سےبغیرمشورے کےاس شعار کا اعلان کرنا ایک شدید فتنہ ہے جو  مجاہدین کے درمیان قتال کا سبب ہے اور جس سے ناحق خون بہایا جائے گا۔ یہ اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتے جب تک یہ اللہ کے حکم کے مطابق اس معاملے کو علمائے امت کی طرف نہ لوٹا دیں۔

پس اگر یہ خلافت منہج نبوت پر نہیں ہے تو یہ لازم  بات ہے کہ یہ متغلب اور استیلاء  پر مبنی ہے، پس اس کا حکم جبری ملوکیت کا ہے نہ کہ اس خلافت کا جس کی بشارت ہمیں نبی اکرمﷺ نے دی۔

اگر وہ اس بات کاگمان رکھتے ہیں کہ بغدادی کی امامت شوری کے ذریعے نہیں تھی بلکہ استیلاء  ہے، تو اہل علم متغلب امام کے فسق پر متفق ہیں، اور یہ بات واجب ہو جاتی ہے کہ اس کوان علاقوں سے پچھاڑ دیا جائےجہاں اسکو ولایت ، سلطہ اور اختیار حاصل نہیں ہے۔

اگر وہ تم سے کہیں کہ وہ متغلب ہے، اور اس کی بیعت  اہل رقہ (شام کا شہر)پر درست ہے اور اس کو بطور متغلب اہل رقہ نے بیعت دی ہے،توپھر باقی علاقوں اور ملکوں میں جو اسےبغیر مشاورت (شوری) کے امام  (خلیفہ) نہیں مانتے کیونکہ وہ  متغلب ہے اور اس وجہ سے فاسق ہے ، تو باقی علاقوں کے لیے اس کو بیعت دینا جائز نہیں ہے بلکہ ان کو چاہیے کہ وہ اپنا دفاع کریں۔

جس طرح پہلے بیان کیا گیا ہے کہ بیعت بغداد ی خلافت کے لیے درست نہیں، بلکہ یہ ایک باطل بیعت ہے جس میں امت کے اوپر جرأت دکھائی گئی ہے، صفوں میں تفریق پیدا کی گئی ہےاور ناحق خون بہایا گیا ہے۔


آخر میں، 
اے حق کے متلاشی،
یہ اعلانِ خلافت جو باقی اہل حق جماعتوں  کو چھوڑ کر فقط ایک جماعت نے کیا ہے، یہ اس کے باطل ہونے پر دلیل ہے اور مسلمانوں کے حق میں ظلم پر مبنی ہے۔

امام اعظم (خلیفہ) کو نصب کرنے کا مقصود تو وحدتِ کلمہ، وحدت ِ امت، اقامت دین اور احکاماتِ الہی کا نفاذ، ظلم کو دور کر کے انصاف کوپھیلانا ہے۔ میں تم سے اللہ کے لیے سوال کرتا ہوں، تم نے اپنے افعال سے امت کو کلمۂ حق پر جمع کیا ہے یا اس کو سیپارہ کر ڈالا ہے؟

اے حق کے متلاشی،
جو اپنے سلطہ کو تمام اسلامی ممالک تک وسعت دینے پر قادر ہو ، اسی کے لیے ہی  امامت کا انتخاب کیا جائے گا، پھر اس کے بعد ہی اس کو بیعت دی جائے گی۔

جس کے پاس قدرت نہیں ہے نہ ہی اکثر مسلمانوں، انکی بری، بحری، فضائی، وسائل،خدمات پر سلطہ حاصل نہیں ہے، اس کے پاس خلافت میں سے کوئی بھی چیز نہیں ہے سوائے ایک نام کے۔
اسلام کے اندرکسی  والی(خلیفہ) کے فرائض کی ادائیگی بہت عظیم معاملہ ہے اور یہ ان  شرعی القابات کو اپنی ذات کے لیے مخصوص کر لینے سے بہت بڑا معاملہ ہے۔

کیا اس خلیفہ کے پاس جس کا انتخاب تم لوگوں نے کیا ہے کویمن یا صومال یا دوسرے دیگرشہروں میں موجود مسلمانوں کے دفاع کا اختیار حاصل ہے؟ پھر یہ کس طرح خلیفہ ہو سکتا ہے جبکہ حدیث میں بیان ہوتا ہے [امام  ڈھال ہے]؟

کیا یہ اپنی بیعت یافتہ رعایا کے لیے عملی طور پر ایک ڈھال ہے اور ان سے منسلک نقصان اور خوف کو دور کر سکتا ہے جبکہ رسول اللہﷺ نے فرمایا  [امام ڈھال ہے]؟

بیعت دینے کا مطالبہ کرنا اور جسکی بیعت دی جا رہی اس کی عدم استطاعت کہ وہ ان کے احوال کی درستگی کر سکے جو اسکے علاقوں سے دور ہیں کے اندر واضح نشانی موجود ہے کہ خلافت کے معاملات اور اختیار میں غفلت پائی جاتی ہے۔

یہ اعلانِ خلافت جوتم لوگوں نے کیا ہے  یہ فقط اہل سنت کا مزید خون بہانے کی تیاری ہے اور بغاوت کومزید بڑھکانے کے لیے اس کا سنگِ بنیاد ڈالا گیا ہے، اور اس خلافت کوجواز بنا کراپنے مخالفین کے قتل کی راہ ہموار کی جائے گی۔

یہ تمام جہادی جماعتوں اور دیگر افراد جو انکی خلافت سے موافقت کا اظہار نہ کریں گے کے خلاف لڑنے اور انہیں قتل کرنے کا ایک  وسیلہ ہے۔

یہ القاعدہ اور اس سے وابستہ تمام فروع کے خلاف جنگ ہے، اس امر سے مغرب اور اسکے حواری خوفزدہ ہو گئے ہیں کہ القاعدہ نے اس (خلیفہ) کی تابعداری قبول نہیں کی ہے، اور یہ اس جنگ کو اہل سنت پر  باقی رکھنے کے لیے اہل سنت کے نام سے ہی  سامنے لائےہیں۔

یہ خلافت کا اعلان جہادی تنظیموں کےلیے خلافتِ موعود کے مرحلے سے قبل ہی ایک حصار اور جال ہے، جو دین کا نام استعمال کرتے ہوئے ہی   ایک جنگ مجاہدین پر مسلط کر دی گئی ہے۔

اے حق کے متلاشی،
یہ خلافت صرف اپنے مخالف کو گمراہی کی تہمت بلکہ اسے قتل کرنے کی تحکیم کا نام ہے،یہ تحکیم بھی اس کے اوپر ہو گی  جو سچا سنی مسلمان ہے۔۔۔یہ  بات ان کی گمراہی پر سب سے بڑی دلیل ہے۔



اے جماعت بغدادی اور انصارانِ بغدادی،
یہ حق بات ہم آپ کے سامنے بیان کرتے ہیں اور اس کی تصدیق کرتے ہیں جیسا کہ پہلے بھی علماء نے اس حق بات کی تصدیق کی ہے:

بلاشبہ امت اور اسلامی ریاست فقط رقہ (شام کا شہر) یا موصل(عراق کا شہر) تک محدود نہیں ہے، یہ امت تم سے بھی اور ہم سے بھی وسعت میں ہے، پس اس معاملہ میں فتوے جاری نہ کرو اور اللہ کا تقوی اختیار کرو۔

افغانستان، یمن،چیچنیا،مغربِ اسلامی میں موجود مجاہدین کی جماعتوں کے معاملہ میں اللہ سے ڈر جاؤ، مسلمانوں پر ان کے جہاد کو فساد میں مت بدلو۔

اللہ تعالیٰ کے دین کا دفاع گونج دار نعروں اور نہ ہی رومانوی کشش رکھنے والے کلمات سے ہوتا ہے، تم ضرور اپنے اعلان کا نتیجہ دیکھ لو گے، بے شک اس میں کچھ وقت ہی کیوں نہ لگ جائے!

اور اللہ تعالیٰ کے لیے امر پہلے بھی تھا اور بعد میں بھی اسی کا امر ہے!

پیر، 10 نومبر، 2014

شہیدِ فتنہ شیخ ابو خالد السوری رحمہ اللہ کی شہادت پر شیخ ایمن الظواہری حفظہ اللہ کا تعزیتی بیان

مہاجر،مجاہد،مرابط وشہید فی سبیل اللہ …شیخ ابوخالد السوری رحمہ اللہ
شہیدِ فتنہ شیخ ابو خالد السوری رحمہ اللہ کی شہادت پر شیخ ایمن الظواہری حفظہ اللہ کا تعزیتی بیان

خونِ مسلم کی حرمت کے بارے میں شیخ عطیۃ اللہ اللیبی رحمہ اللہ کے بیان میں سے ایک اقتباس:
ایک مسلمان نفس کی عظمت و ضخامت اور خونِ مسلم کی حرمت کو بیان کرنے کے لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ہی کافی ہے :لزوال الدنیا اھون عند اللہ من قتل رجل مسلم ’’اللہ سبحانہ تعالیٰ کے نزدیک پوری دنیا کا ختم ہونا ایک مسلمان کے قتل کے مقابلے میں بہت ہلکی بات ہے ‘‘…چاہے دنیا کوزوال آجائے، ہماری تنظیمیں اور جماعتیں ختم ہو جائیں اور تمام منصوبے ناکام ہوجائیں لیکن ہمارے ہاتھوں پر کسی بے گناہ مسلمان کا خون نہیں ہونا چاہیے ۔یہ بہت واضح اور طے شدہ مسئلہ ہے ۔

بسم اللہ والحمدللہ والصلاۃ والسلام علیٰ رسول اللہ و آلہ و صاحبہ ومن والاہ۔
ساری دنیا کے مسلمان بھائیو!السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ 

اما بعد۔آج مجھے امت ِ مسلمہ کو بیک وقت مبارک باد بھی پیش کرنی ہے اور تعزیت بھی !
مبارک باد تو بطلِ عظیم ،مہاجر و مجاہد و مرابط اور قید وبند کو صبر کے ساتھ برداشت کرنے والے شیخ ابوخالد سوری (رحمہ اللہ)کی شہادت پر پیش کرنی ہے ۔اللہ سبحانہ تعالیٰ ان پر اپنی ڈھیروں رحمتیں نازل کرے اور ہمیں ذلت و ندامت اورفتنوں سے بچا کر ان سے ملادے۔

جہاں تک تعزیت کا تعلق ہے تو وہ شام کی مقدس سرزمین پر اٹھنے والے گھمبیر فتنے کے بارے میں کرنی ہے اور اس بے وقوف مجرم کے لیے جو اس فتنے میں پڑ کر دھوکہ کھا گیا۔جسے کسی اکسانے والے نے ‘جہالت ،ہوائے نفس ،دشمنی اور برتری کے لالچ میں شیوخِ جہاد میں سے ایک عظیم شخصیت کے قتل پر آمادہ کر دیا۔

وہ شیخ جنہوں نے اپنی جوانی کی بہار جہاد میں لگادی اور ساری عمر مجاہدین کی تربیت اور حق کی نشر و اشاعت میں گزار دی۔اسیری کو صبر و استقامت کے ساتھ برداشت کیا اور راہِ حق کی تکلیفوں اور آزمائشوں کی شدت ذرا بھی ان کے ارادے اور عزم کو ڈگمگا نہ سکی ۔میں ان کو روس کے خلاف جہادکے دنوں سے جانتا ہوں۔تب سے لے کر پاکستان میں ان کی گرفتاری تک سارا عرصہ انہوں نے استاد المجاہدین الشیخ ابو مصعب السوری (اللہ ان کو جلد رہائی عطا کرے)کے قریبی رفیق کے طور پر گزارا۔ دس سال قبل ان کی گرفتاری سے کچھ عرصہ پہلے ان کا آخری پیغام جو مجھے موصول ہوا وہ میرے اس بیان کی تائید میں تھا جس کا عنوان تھا:’’انما النصرصبر ساعۃ‘‘ (بے شک فتح ایک گھڑی صبر کے فاصلے پر ہے )۔ پھر جلد ہی وہ گرفتار ہوگئے اور ہمارا رابطہ منقطع ہو گیا۔یہاں تک کہ شام کی مبارک انقلابی تحریک کھڑی ہوئی اور ایسی اسلامی ریاست کے قیام کے لیے علم ِ جہاد بلندہوا جو شریعت کی حاکمیت قائم کرے ،عدل اور شورائیت کو نافذ کرے ،مسجدِ اقصٰی اور تمام مسلم مقبوضات کو آزاد کرائے ۔جو مظلوموں کی داد رسی کرے اور اسلامی ممالک کو غیروں کی غلامی اور داخلی فساد سے نجات دلائے۔شیخ ابوخالد رحمہ اللہ کو جب اللہ سبحانہ تعالیٰ نے بعثی نصیریوں کی قید سے رہائی عطا فرمائی تو اللہ کی مدد سے ہمارے درمیان دوبارہ رابطہ قائم ہو گیا۔وہ میرے اور میرے رفقا کے لیے بہترین ناصح اور مشیر تھے۔انہوں نے مجھے بتایا کہ وہ رہا ہونے تک سات سال اپنے استاذ اور رفیقِ سفر شیخ ابومصعب السوری کے ہمراہ رہے۔ہم اللہ سبحانہ تعالیٰ سے دعا گو ہیں کہ وہ ہمارے محبوب بھائی ابومصعب حفظہ اللہ کو جلد از جلد رہائی عطا فرمائے۔ انہوں نے مجھے آگاہ کیا کہ وہ شام میں اسی فتنے کو اٹھتا ہوا دیکھ رہے ہیں جسے پشاور میں کھڑا کیا گیا تھا۔جہالت،ہوائے نفس اور ظلم کا فتنہ!ایسا فتنہ جس میں محض افواہوں اور شبہات کی بنا پراور طمع اور خواہشاتِ نفس کی تسکین کے لیے جانیں ضائع اور عزتیں پامال کر دی جاتی ہیں۔اس فتنے سے مجھے پشاور کے دور کاایک کرب انگیز لطیفہ یاد آیا ۔اس کا خلاصہ یہ ہے کہ میں اپنے محبوب بھائی شیخ ابو محمد المقدسی (اللہ ان کو ہر پریشانی سے محفوظ رکھے اور جلد رہائی عطا کرے)سے ملنے گیا۔میں نے ان سے کہا کہ ’’ایک گروہ اس وجہ سے میری تکفیر کرتا ہے کہ میں افغان مجاہدین کی تکفیر نہیں کرتا‘‘۔وہ مسکرائے اور کہنے لگے:’’آپ نہیں جانتے کہ وہ میری اس وجہ سے تکفیر کرتے ہیں کہ میں آپ کی تکفیر نہیں کرتا‘‘۔

یہ وہی جہالت ،ہوائے نفس اور طمع ہے جس نے امیر المومنین ذوالنورین حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی حرمت کا بھی پاس نہیں رکھا۔جاہل اور خواہشاتِ نفس کے بندوں نے انہیں اس حال میں قتل کیا جب وہ قرآن ِ پاک کی تلاوت کر رہے تھے۔پھر انہی لوگوں نے امیر المومنین اسد اللہ الغالب سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی حرمت کا بھی لحاظ نہیں کیا اور ان میں سے ایک نے ان پر اس وقت حملہ کیا جب وہ فجر کی نماز پڑھ رہے تھے۔یہ وہ فتنہ ہے جسے شیخ ابوخالد رحمہ اللہ بھانپ گئے تھے اور اس سے خبردار کر رہے تھے ،اللہ سبحانہ تعالیٰ کی مشیت تھی کہ وہ اسی فتنے سے شہادت پاگئے۔آج اس فتنے میں احترام ،بزرگی اور سبقت کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ اس میں ہجرت و جہاد، اسیری پر صبر اور راہِ حق پر ثبات کوئی معنی نہیں رکھتے۔

آج ہر مسلمان کا فرض ہے کہ اس فتنے کا راستہ روکے اور اس کے خلاف رائے عامہ بنائے اور ہر اس فرد کے خلاف بھی جو اس فتنے میں آزاد،غیرجانب دار شرعی فیصلے پر راضی نہ ہواور میں ’’آزاد،غیر جانب دار‘‘پر زور دیتا ہوں۔کیوں کہ ایسی تحکیم کا کوئی اعتبار نہیں جس میں جھگڑنے والے فریقین خود ہی منصف ہوں۔ہر مسلمان اور مجاہد پر لازم ہے کہ ایسے لوگوں سے برأ ت کا اظہار کرے جو ایسے غیر جانب دار شرعی فیصلے سے انکار کریں۔

ہر مسلمان مجاہد کا فرض ہے کہ مجاہدین کے خون سے اپنے ہاتھ نہ رنگے اور ان کے مراکز کو تباہ کرنے اور ان کے شیوخ کو قتل کرنے سے انکار کردے۔وہ شیوخ جو اکابرمجرمین کا ہدف ہیں، جنہیں شہید کرنے کے لیے کفار ہر طریقے سے کوشش کر رہے ہیں…یہ جاہل نادان اٹھے اور ان کا ناحق خون کر دیا۔تمام مسلمانوں کو چاہیے کہ ایسے لوگوں سے ہرگز تعاون نہ کریں جو مجاہدین کے مراکز پر دھماکے کرتے ہیں یا ان کے لیے بارودی گاڑیاں یا بم بار روانہ کرتے ہیں اور اس فتنے کی کسی صورت حمایت نہ کریں۔

جو کوئی اس فتنے میں مبتلا ہو چکا ہے وہ یاد رکھے کہ وہ اپنے ہاتھوں دشمنانِ اسلام کے وہ مقاصد پورے کر رہا ہے جو وہ اپنے سارے وسائل استعمال کر کے بھی حاصل نہیں کر سکے ۔

مجاہد و مہاجر،مرابط و مصابر شیخ ابوخالد السوری رحمہ اللہ کے قتل سے مجھے ، جماعتِ اسلامیہ المقاتلہ الجزائر کے ہاتھوں دو عظیم شیوخ محمد سعید اور رجّام رحمہم اللہ کے قتل کا واقعہ یاد آگیا۔جو اس جماعت کی معنوی اور پھر مادی موت کا سبب بن گیا۔اس جرم میں کون ملوث ہے یہ معاملہ مخفی نہیں رہے گااور ابھی نہیں توکچھ عرصہ بعد پتہ چل جائے گا۔جیسے پہلے جماعت اسلامیہ مقاتلہ نے بھی شیخین محمدسعید اور رجّام رحمہم اللہ کے قتل سے انکار کیا تھا۔

اے ابوخالد ہم آپ کے رحمان و رحیم رب سے دعاگو ہیں،سوال کرتے ہیں کہ ہجرت و جہاد اور اسیری گزارتے گرازتے آپ پر آنے والے بڑھاپے پر رحم فرمائے۔آپ کے گناہوں کی مغفرت فرمائے،آپ کے درجات بلند کرے اور آپ کو اجر سے محروم نہ کرے اور آپ کے فراق میں غمگین اہلِ خانہ ،ساتھیوں ،چاہنے والوں اور تمام انصارِ جہاد کو صبر دے ۔

شیخ الوغی فارحل لربک راقیًا * * درج الشہادۃ فائزًا مأجورا
شیخِ مردِ میدان شہادت اور اجرِ عظیم پاکراپنے رب کے حضور کامیابی کے بلند مرتبے پر فائز ہوگئے۔
لیثٌ یدافع عن عرینٍ غاضبًا * * متقدمًا أشبالہ منصورا
وہ شیرجس نے دھاڑ کر اپنی کچھار کا دفاع اور اپنے بیٹوں کی نصرت کی
بدرٌ تقاصرت الدیاجی دونہ * * شمسٌ تغالب بالحقائق زورا
ایسا بدرِ روشن ‘راتیں جس کے بغیر اندھیری ہیں۔ایسا شمس جو حقائق کے اجالوں سے جھوٹ پر غالب آگیا۔
طودٌ شموخٌ طامحٌ لا ینحنی * * تنبو العواصف دونہ مقرورا
عزم و عظمت کا نہ جھکنے والاجبلِ عظیم،طوفان جس سے ٹکرا کر اپنا رخ بدل لیں۔
لم تکتسب منک النوائب ہنۃً * * أو تنتزع منک الخطوب فتورا
مصائب آپ سے کچھ چھین نہ سکے نہ ہی شدائد آپ کو کمزور کر سکے
أمضیت عمرک ہجرۃً وتزہدًا * * ورحلت عنا بالثنا موفورا
آپ نے ساری عمر ہجرت و زہد میں گزار دی اور ہم سے وافر ثنا کے ساتھ رخصت ہوئے
رافقت أستاذ الجہاد المصطفی * * فی ہجرۃٍ ومطاردًا وأسیرا
آپ نے ہجرت ،روپوشی اور اسیری میں اپنے استادِ جہاد مصطفٰی (شیخ ابو مصعب ) کی رفاقت نبھائی۔
فرقیت فی قمم الثغور مجاہدًا * * وربحت فی قید السجون أجورا
آپ نے اگلے مورچوں میں جہاد کیا اورتعذیب خانوں کی قید میں اجرِ عظیم کمایا۔
حتی أتتک من الجہالۃ غدرۃٌ * * لم ترع سبقًا أو تؤد شکورا
حتیٰ کہ جہالت کا غدر بپا ہوا جس میں نہ سبقت کی رعایت ہے نہ خدمات کا تشکر
لکنہا نالت علیًا قبلکم * * عثمان أیضًا صابرًا مغدورا
لیکن اسی فتنے نے پہلے بھی علی رضی اللہ عنہ اور عثمان رضی اللہ عنہ کو قتل کیا۔
ہذا الذی قد کنت تحذر شرہ * * فکتبت منہ محذرًا ونذیرا
اسی کے شر سے آپ پریشان تھے اور ہمیں خبردار کر رہے تھے
وخشیت عقباہ فقمت مناصحًا * * بنصوع رأیٍ مخلصًا ومشیرا
آپ اس کے انجام پر متفکر تھے اس لیے شفاف اور مخلص رائے سے نصیحت و مشورہ دے رہے تھے۔

بشکریہ: نوائے افغان جہاد



جمعہ، 7 نومبر، 2014

محترم ومکرم علماء کرام کے جواب میں!

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں جس نے اکیلے، اپنے بندے کی مدد کی،اپنے لشکر کو عزت بخشی اور تمام لشکروں کو شکست دی، صلٰوۃ وسلام ہو اس ذاتِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم پر جن کے بعد کوئی نبی نہیں اور ان کی آل و اصحاب اور دینِ اسلام کا دفاع کرنے والے سپاہیوں پر؛


برادران محترم ڈاکٹر طارق عبدالحلیم، ڈاکٹر ھانی السباعی، ڈاکٹر ایاد قنیبی، ڈاکٹر عبداللہ المحیسنی، شیخ محمد الحصم اور ڈاکٹر سامی العریدی حفظھم اللہ ورعاہم!

 السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ،

میں اللہ تعالیٰ سے آپ کی اور آپ کے ساتھیوں کی خیریت کے لیے دعاگوہوں اور دعا کرتا ہوں اللہ سبحانہ و تعالیٰ ہمیں اپنی رضا اور چاہت کے مطابق دنیوی فلاح اور اخروی کامیابی پر اکٹھا کرے۔ و بعد!


۱)  انٹرنیٹ کے کچھ مواد سے مجھے آپ حضرات کے مجھ بندہ ضعیف کے نام پیغام کی اطلاع ہوئی، تو میں نے ضروری جانا کہ آپ کے قابل احترام موقف کی تعظیم، اس توجہ اور چاہت کے احترام میں جواب عرض کروں کیونکہ مجھے آپ کی امتِ مسلمہ اور مجاہدین کی نصرت، ان کے مابین فتنہ کے خاتمے اور ان کے خون اور عصمت کے دفاع کی چاہت کا یقین ہے۔


۲)  جہاں تک جماعت دولۃ اسلامیہ فی العراق و الشام کی بابت اس کے توسیع کے اعلان سے پہلے اور بعد کی صورتِ حال اور بیعات کے بارے میں آپ کے سوال کا تعلق ہے تو میں ‘شام میں مجاہدین کا خون روکنے کے لیے ایک شہادت’ کے عنوان سے اپنے پچھلے بیان میں کافی حد تک اس مسئلے کی وضاحت کر چکا ہوں کہ دولۃ الاسلامیہ فی العراق، جماعت قاعدۃ الجہاد کی ایک تابع شاخ ہے اور اس کے امیر اور سپاہی جماعت قاعدۃ الجہاد اور اس کے امیر شیخ اسامہ بن لادنؒ اور ان کے بعد اس بندہ عاجز کی بیعت میں ہیں اور ان کی طرف سے اس (بیعت) کا تکرار کئی بار ہوا، میں نے اس کی کچھ مثالیں بیان کی تھیں، آپ کے لیے میں ایک اور مثال بیان کر دیتا ہوں۔ یہ شیخ ابو بکر البغدادی الحسینی حفظہ اللہ کے اس خط کے متعلق ہے جو انہوں نے ۷ ذی الحجۃ ۱۴۳۳ ھ کو میرے نام لکھا تھا۔ جس کا آغاز انہوں نےحمد او صلوۃ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود وسلام کے بعد ان الفاظ میں کیا ہے:

’ہمارے امیر شیخ ڈاکٹر ابو محمد ایمن الظواہری حفظہ اللہ کے نام! السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ،

پھر اس کے ضمن میں انہوں نے کہا:
ہمار ے محترم شیخ! ہم چاہتے ہیں کہ آپ پر واضح کریں اور اس بات کا اعلان کریں کہ ہم آپ کا حصہ ہیں اور ہم آپ میں سے ہیں اور آپ ہی کے لیے ہیں، ہم اللہ تعالیٰ کو گواہ بناتے ہیں کہ آپ ہمارے معاملات میں ولی الامر ہیں اور جب تک ہم باقی ہیں ہم پر آپ کی سمع و اطاعت کا حق ہے۔ اسی طرح ہماری بہی خواہی اور ہمیں نصیحت و تذکیر آپ پر ہمار ا حق ہے اور آپ کے امر کی اطاعت ہم پر لازم ہے۔ لیکن اکثر ہمارے محاذ کےکچھ مسائل ایسے ہوتے ہیں جن میں اپنی صورتِ حال کی وضاحت کی ضروری ہوتی ہے۔ لہذا ہمیں امید ہے آپ وسعتِ قلبی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہمارے نقطۂ نظر کو سنیں گے، اس کے بعد امر کا اختیار آپ کو ہی ہے اور ہم فقط آپ کے ترکش کے تیروں میں سے ایک ہیں‘۔


۳)  پھر میں نے بحیثیت امیر، شیخ ابو بکر الحسینی حفظہ اللہ کے نام، یکم جمادی الثانی ۱۴۳۴ھ کو اپنے خط میں مسئلے کے فیصلے تک دولۃ الاسلامیہ فی العراق والشام کاامیر ساقط کرنے کا حکم دیا ۔ اس کے بعد میں نے ۱۳ رجب، ۱۴۳۴ ھ کو اپنے خط میں اس امر کی دوبارہ تاکید کی کہ دولۃ الاسلامیہ فی العراق و الشام کو ختم کر کے دولۃ العراق الاسلامیہ کے طور پر اپنا کام جاری رکھا جائے۔ اس لیے ان تمام بیعات کو جو شیخ ابو بکر الحسینی البغدادی حفظہ اللہ نے جمادی الثانی ۱۴۳۴ ھ میں میرے پہلے خطاب کے بعد دولۃ الاسلامیہ فی العراق والشام کے لیے ہیں، میں باطل سمجھتا ہوں۔ اس لیے کہ موجودہ امیر کی حیثیت سے میرے حکم کی واضح مخالفت پر ان کی بنیاد ہے۔


۴) جہاں تک اس جھگٹرے کے بارے میں آپ کے سوال کا تعلق ہے:
تو میں کئی دفعہ اس بات کی وضاحت کر چکا ہوں کہ شام میں پیدا شدہ بحران کے حل کے لیے سب سے پہلا قدم فوراً مجاہدین کے مابین قتال کو روکنا ہے۔ میں نے پھلے بیان میں شیخ ابو محمد الجولانی حفظہ اللہ اور جبھۃ النصرہ کے تمام لشکروں کو امر کیا ہے اور شام میں موجود تمام جہادی مجموعات اسےاپیل کی ہے کہ فوراً ایسے ہر قتال سے رک جائیں جس میں ان کے مجاہدبھائیوں یا عامۃ المسلمین کی جانوں اور حرمتوں کا نقصان ہو اور اسلام کے دشموں کے خلاف صف آرائی کریں۔

اس طرح کئی دفعہ پہلے میں اس بات پر زور دے چکا ہوں کہ سب ایک متفقہ اور مستقل شرعی ہئیت کو حَکم بنائیں جو تمام باہمی اختلافات کا فیصلہ کرے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ آپ معزز بھائیوں اور ان سب اہل علم و فضل کی ذمہ داری ہے جو جہادِ شام کے حامی اور اس (کی حفاظت) کے لیے حرص رکھتے ہیں کہ وہ اس بات کی دعوت دیں اور پھر امت پر یہ بھی واضح کریں کہ کون شرعی تصفیے کو تسلیم کرتا ہے اور کون پہلو تہی کرتا ہے، یہ ایک امانت ہے جو میں آپ کے سپرد کر رہا ہوں کیونکہ آپ مجھ سے زیادہ (اس کے لیے)استطاعت رکھتے ہیں اور آپ میرے حالات کو جانتے ہیں۔

اس کے ساتھ میرا آپ سے اور جہادِ شام کے حامی تمام اہل علم و فضل سے مطالبہ ہے کہ آپ فریق مخالف پر خیانت، تنزل اور کفر جیسے الزامات لگا کر چڑھائی کرنے کے طوفان کا راستہ روکیں۔۔۔ آپ کی ذمہ داری ہے کہ ہر اہل ِفضل کو اس طوفان کے سامنے کھڑا ہونے کے لیے اٹھائیں۔

۵) میرے معزز بھائیو! میں آپ کو اطمینان دلاتا ہوں کہ میں اور میرے بھائی اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے فضل وکرم سے آج بھی آپ سے اپنے عہد کے مطابق اسلام کے خارجی اور داخلی دشمنوں کے خلاف جہاد اور شریعت کی کامل حاکمیت کی دعوت دیتے ہیں۔ جو کوئی اس کے علاوہ کسی دعوت کو ہمارے ساتھ منسوب کرے تو میں اللہ تعالیٰ سے اس کے لیے معافی کا سوال کرتا ہوں اور دعاگوہوں کہ اللہ ہمیں اور اسے اپنی رضا پر اکٹھا کرے۔


۶)  اس کے ساتھ مجھے امید ہے کہ شیخ ابو بکر الحسینی البغدادی حفظہ اللہ اور ان کے بھائی سمجھ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے عراق کے محاذ پر لوٹ جائیں گے جو ان کی گنی چگنی محنتوں کا محتاج ہے تاکہ شام میں مسلمانوں کا بے دریغ بہتا خون روکا جا سکے۔

آخر میں مجھے امید ہے کہ آپ میری طرف سے جواب میں تاخیر پر درگزر کا معاملہ فرمائیں گے کیونہ آپ میری اور میرے بھائیوں کی صورتِ حال سے واقف ہیں، لیکن ہم آپ کو یہ خوشخبری دینا چاہتے ہیں کہ ہم عنقریب اللہ کے اذن سے تاریخِ اسلامی کی ایک عظیم فتح اور نصرِ مجید کا استقبال کرنے والے ہیں۔

استوعکم اللہ الذی لا تضیع و دائعه

والسلام
آپ کا بھائی ایمن الظواہری
(جمعہ ۳ رجب، ۱۴۳۵ ھ)
ادارہ السحاب برائے نشرو اشاعت

بشکریہ مجلہ نوائے افغان جہاد

امرائے جہاد کے نام

امرائے جہاد کے نام
شیخ عطیۃ اللہ اللیبی رحمۃ اللہ علیہ

بسم اللہ الرحمن الرحیم
الحمد للہ رب العالمین، والعاقبۃ للمتقین ولا عدوان إلا علی الظالمین، وصلی اللہ وسلم وبارک علی نبینا محمد المبعوث رحمۃ للعالمین وعلی آلہ وصحابتہ أہلِ العزائم الطیبین الطاہرین، ومن تبعہم بإحسانٍ إلی یوم الدین.

آپ کے بھائی عطیۃ اللہ عفااللہ عنہ کی طرف سے میرے معزز بھائیوں ،امرائے مجاہدین کے نام!
معزز بھائی السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ!

میں اللہ تعالیٰ سے امید رکھتا ہوں کہ آپ خیریت سے ہوں گے اور نیکی اور تقویٰ کی توفیق میں ترقی کے لیے کوشاں ہوں گے۔امابعد۔۔۔اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں!

وَالْعَصْرِ إِنَّ الْإِنْسَانَ لَفِی خُسْرٍ إِلَّا الَّذِینَ آَمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ
’’ کہ انسان نقصان میں ہے مگر وہ لوگ جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے اور آپس میں حق بات کی تلقین اور صبر کی تاکید کرتے رہے‘‘۔

اسی طرح فرمانِ الٰہی ہے :
وَتَعَاوَنُوا عَلَی الْبِرِّ وَالتَّقْوَی وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَی الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُوا اللَّہَ إِنَّ اللَّہَ شَدِیدُ الْعِقَابِ(المائدۃ:۲)
’’اور (دیکھو)نیکی اور پرہیزگاری کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کیا کرو اور گناہ اور ظلم کی باتوں میں مدد نہ کیا کرو اور خدا سے ڈرتے رہو۔ کچھ شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ کا عذاب سخت ہے‘‘۔

اور فرمایا:
قُلْ یَا أَہْلَ الْکِتَابِ لَسْتُمْ عَلَی شَیْءٍ حَتَّی تُقِیمُوا التَّوْرَاۃَ وَالْإِنْجِیلَ وَمَا أُنْزِلَ إِلَیْکُمْ مِنْ رَبِّکُم(المائدۃ:۶۸)
’’کہو کہ اے اہل کتاب !جب تک تم تورات اور انجیل کو اور جو (اور کتابیں) تمہارے پروردگار کی طرف سے تم پر نازل ہوئی ان کو قائم نہ رکھو گے کچھ بھی راہ پر نہیں ہوسکتے‘‘۔

میں اپنی ذات کو اور آپ بھائیوں کو اللہ سبحانہ تعالیٰ کے اس احسانِ عظیم کی تذکیر کرانا چاہتا ہوں کہ اس دور میں جب دنیا اور اس کے فتنوں نے عوام کو گھیر رکھا ہے اور ھوائے نفس اور زندہ و مردہ طواغیت کی عبادت کا غلبہ ہے، اس نے مجھے اور آپ کو اپنی اطاعت نصیب فرمائی اور ہمیں اپنے دین کی نصرت اور اپنے کلمے کی سر بلندی کے لیے اپنے راستے کے مجاہدین میں شامل کیا ۔ہم اس عظیم نعمت کے لیے رب سبحانہ تعالیٰ کے شکر گزار ہیں اور دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اس نعمت کا صحیح معنوں میں شکر ادا کرنے ،اپنے ذکر اور حسنِ عبادت کی توفیق عطا فرمائے ۔

میں آپ کو مزید توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ یہ توفیق اور نعمت اللہ سبحانہ تعالیٰ کی طرف سے ایک بہت بڑی آزمائش اور امانت ہے۔۔۔ جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق خبردار فرمایا ہے ۔یہ ذمہ داری یومِ قیامت بہت بڑی رسوائی اور ندامت کا باعث بن سکتی ہے الاّ یہ کہ ذمہ دار اس کا پوراپورا حق ادا کرے اور اللہ کی قسم انسان اس ذمہ داری کو کماحقہ ادا کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا جب تک کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ اس کی نصرت نہ فرمائے ، اسے توفیق اور رشد و ہدایت عطا کرے ، اسے ظاہر و باطن میں تقویٰ وخشیتِ الٰہی اور یقین و قوت سے نہ نوازے۔اللہ سبحانہ تعالیٰ کی رحمت سے ہی ایسا ممکن ہے کہ بندے کے لیے یہ رتبہ اور ذمہ داری حق سبحانہ وتعالیٰ کی عبادت اور قربت کا ذریعہ بن جائے ۔یہ توفیق اللہ سبحانہ تعالیٰ کے حقِ بندگی کی ادائیگی میں پوری محنت کرنے سے ہی ملتی ہے کہ انسان اپنے آپ کو اس ذاتِ باری کا محتاج سمجھے ،اس کے سامنے انکساری کے ساتھ جھکا رہے اور حسبِ استطاعت ظاہر و باطن میں تواضع اور انکساری اور جواب دہی کے خوف کے ساتھ اللہ سبحانہ تعالیٰ کی اطاعت پر ڈٹا رہے ۔جو چیزیں اس کے حصول میں ممد و معاون ہو سکتی ہیں ان میں کثرتِ ذکر و دعا،قیام اللیل،نفلی روزوں کا اہتمام ،صلحا کی صحبت و مجلس اور علما ئے طیبین کا قرب شامل ہیں ۔مزید یہ کہ انسان اہلِ آخرت کو اپنا ساتھی اور رازداں بنائے اور مغرور،ریاکار ،متکبر دنیادار لوگوں کی صحبت سے دور رہے ۔

محترم بھائی !آپ کے لیے یہ سطور تحریرکرنے کا مقصد حق سبحانہ تعالیٰ کی طرف سے صبر وحق بات کی تلقین ،نیکی وتقویٰ میں تعاون ،مسلمانوں اور ان کے امرا کو نصیحت ،امربالمعروف ونہی عن المنکر اور جہاد فی سبیل اللہ کے احکامات کی تکمیل کی کوشش ہے ۔۔۔اور یہ کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے علم و معرفت اور امور کا جوتجربہ عطا کیا ہے اس کا حق ادا ہو جائے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم سب ایک ہی کشتی کے مسافر ہیں جیسا کہ صحیح بخاری اور سنن ترمذی میں حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنھما سے مروی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کا مفہوم ہے :
’’اللہ سبحانہ تعالیٰ کی حدود پر قائم لوگوں کی مثال اس گروہ کی مانند ہے جو ایک کشتی میں سوارہے ،کچھ لوگ اس کے اعلیٰ درجے میں سوار ہیں اور کچھ نچلے درجے میں۔اگر نچلے درجے والے اوپر والوں سے لاتعلق ہو کر نچلے حصے میں پانی بھرتے رہیں کہ ہمارے حصے میں پانی بھرنے سے اوپر والوں کو کچھ نہیں ہو گا اور اوپر والے انھیں اسی حال میں چھوڑ دیں تو سب ڈوب جائیں گے جب کہ اگر اوپر والے نیچے والوں کو سمجھا کر روک لیں تو سب بچ جائیں گے‘‘۔

بلاشبہ ہماری امت کا جہادی قافلہ اپنی اصلاح ودرستی کے لیے ہم سے لگاتار کوشش کا متقاضی ہے کیوں کہ انحراف کی راہیں بہت زیادہ ہیں اور کوئی اس سے محفوظ نہیں رہ سکتا ،جب تک مضبوطی سے اللہ سبحانہ تعالیٰ کے ساتھ جڑا رہے اور ظاہر وباطن میں اور سری و اعلانی اس کے سہارے کو تھام کر نہ رکھے ۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
ومَن یعتصم باللہ فقد ہُدِیَ إلی صراطٍ مستقیم
’’اور جس نے اللہ (کی ہدایت کی رسی)کو مضبوط پکڑ لیا وہ سیدھے راستے لگ گیا‘‘۔

چنانچہ اللہ وحدہ لاشریک کے علاوہ کوئی پناہ گاہ نہیں ہے جو انسان کو فتنوں سے محفوظ رکھ سکے ۔۔۔

لاَ عَاصِمَ الْیَوْمَ مِنْ أَمْرِ اللّہِ إِلاَّ مَن رَّحِمَ
’’آج اللہ کے امر سے پناہ دینے والا کوئی نہیں سوائے جس پر اللہ رحم فرمائے‘‘۔

کوئی شخص اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتا جب تک اللہ سبحانہ تعالیٰ کی پناہ میں نہ آجائے اورہمیشہ اس کے احکامات اور حقوقِ عبودیت ادا کرتے ہوئے اس کی اور اس کے اولیا کی صف میں شامل رہے ۔یہ وہ شخص ہے جسے حقیقی نصرت و توفیق نصیب ہو ئی ہے ،جو اپنے انجام کے بارے میں مطمئن ہے اور جسے اپنی تجارت میں خسارے کا خدشہ نہیں ہے ۔

اللہ سبحانہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَمَا النَّصْرُ إِلَّا مِنْ عِنْدِ اللَّہِ الْعَزِیزِ الْحَکِیمِ(آل عمران:۱۲۶)
’’اور مدد ہے صرف اللہ ہی کی طرف سے جو کہ زبردست ہے حکمت والا ‘‘۔

وَمَا النَّصْرُ إِلَّا مِنْ عِنْدِ اللَّہِ إِنَّ اللَّہَ عَزِیزٌ حَکِیمٌ(الأنفال:۱۰)
’’اور مدد نہیں مگر اللہ کی طرف سے بے شک اللہ زور آور ہے حکمت والا‘‘۔

اسی طرح ارشادِ باری ہے: 
وَمَا تَوْفِیقِی إِلَّا بِاللَّہِ عَلَیْہِ تَوَکَّلْتُ وَإِلَیْہِ أُنِیبُ(ہود:۸۸)
’’مجھے تو فیق کاملنا اللہ ہی (کے فضل)سے ہے میں اسی پر بھروسہ رکھتا ہوں اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں‘‘۔

اور فرمایا :
إِنَّ الَّذِینَ یَتْلُونَ کِتَابَ اللَّہِ وَأَقَامُوا الصَّلَاۃَ وَأَنْفَقُوا مِمَّا رَزَقْنَاہُمْ سِرًّا وَعَلَانِیَۃً یَرْجُونَ تِجَارَۃً لَنْ تَبُورَ لِیُوَفِّیَہُمْ أُجُورَہُمْ وَیَزِیدَہُمْ مِنْ فَضْلِہِ إِنَّہُ غَفُورٌ شَکُورٌ(فاطر:۲۹،۳۰)

’’جو لوگ اللہ کی کتاب پڑھتے اور نماز کی پابندی کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے اس میں پوشیدہ اور ظاہر خرچ کرتے ہیں وہ اس تجارت (کے فائدے) کے امیداوار ہیں جو کبھی تباہ نہیں ہوگی۔کیونکہ اللہ ان کو پورا پورا بدلہ دے گا اور اپنے فضل سے کچھ زیادہ بھی دے گا وہ تو بخشنے والا (اور) قدردان ہے ‘‘۔

محترم بھائی !ہمیں ہر وقت اس بات کے بارے میں متفکر رہنا چاہیے ۔۔۔ہمیں اس کا کیا فائدہ ہوگا کہ اگر ہم دشمن کو تباہ کرکے ،اس سے انتقام لے کر ،اس پر غلبہ حاصل کر کے ایک اسلامی ریاست قائم کرنے میں کامیاب ہو جائیں اور اس معرکے اور جنگ میں ہمارا اہم کردار ہو لیکن خدانخواستہ اللہ سبحانہ تعالیٰ ہمارے ظاہری و باطنی گناہوں کی وجہ سے ہمارے سب اعمال ضائع کردیں اور انجامِ کار ہم جہنم میں داخل کردیے جائیں(العیاذ باللہ)۔

کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں ہے :
’’بے شک اللہ سبحانہ تعالیٰ فاجر شخص سے بھی اس دین کی نصرت فرمائے گا‘‘۔

الغرض مختصر،اہم اور دائمی نصیحت اور وصیت یہ ہے کہ ہم اپنی ذات کے اندر، ظاہرو باطن میں ،کھلے اور چھپے ہر حال میں اللہ سبحانہ تعالیٰ کے دین ،شریعت اور اس کے احکام پر کاربند رہیں ۔اسی طرح اپنے اہل وعیال ،ماتحت اورزیرِ اتباع لوگوں میں بھی اس کا اہتمام کریں ۔ہم صرف اللہ ہی کے لیے دیں اور اس کے لیے ہی روکیں ۔۔۔ہماری دوستی ، محبت و الفت صرف اللہ کے لیے ہو اور ہماری دشمنی ،غضب و عداوت بھی اسی کی وجہ سے ہو۔

محترم بھائی چند اہم امور جنھیں ہمیں اپنے اوپر واجب کر لینا چاہیے:
ہم سب کو اس کام پر بھرپور توجہ مرکوز کرنی چاہیے کہ ہم اپنے ساتھیوں اور افرادِ جماعت کے اندر فقہ ،صحیح علمِ نافع اور ثقافتِ اسلامیہ کی نشر و اشاعت کا اہتمام کریں ۔ اس مقصد کے لیے مدارس قائم کریں ،علومِ شرعیہ کے دورہ جات اور حلقہ جاتِ علم کا انعقاد کریں ۔طلبہ کو علمِ دین کے حصول کے لیے روانہ کریں تاکہ وہ مستقبل میں علما بن سکیں ۔ اسی طرح اپنی مساجد اور مراکز میں دروس کا اہتمام کریں ،کتابیں نشر کریں اور پڑھائی و تحصیلِ علم کا اہتمام کریں تاکہ ہمیں صالح اور مخلص اہلِ علم کا قرب حاصل ہو سکے ۔یہ ایک عمومی کام ہے۔بے شک علمِ نافع اور علما و متعلمین کی کثرت جماعت اور امت کا حفاظتی حصار ہوتے ہیں۔

اس کے بعد ہمارے لیے بالخصوص بحیثیت مجاہدین جس علم کا سیکھنا اور اپنے ساتھیوں اور افرادِ جماعت کو سکھانا انتہائی اہم اور فرض ہے وہ احکامِ جہاد(قتل و قتال ) کے احکام کہ کس کا قتل ہمارے لیے جائز ہے اور کس کا نہیں ،اسی طرح کس کا مال لینا ہمارے لیے جائز ہے اور کس کا نہیں۔۔۔ اسی طرح ہمارے لیے جہاد میں کس قسم کے تصرفات اور تعلقات جائز ہیں۔ہر مجاہد کو مجملاًان اصولوں کا علم ہو نا چاہیے پھر تفاصیل بعد میں علما سے پوچھ لی جائیں اور یہ بھی حقیقت ہے کہ عامۃ المجاہدین کے لیے تمام امور کی مکمل یا اکثر تفصیل حاصل کرنا ممکن نہیں ہوتا۔

بلاشبہ جہادی تحریک جوں جوں طویل ہوتی ہے اس میں ایسے لوگ آنا شروع ہوجاتے ہیں جو مکمل طور پر جہادی سانچے میں ڈھلے ہوئے نہیں ہوتے ۔چنانچہ اصلاح و تذکیر اور محاسبے و مراقبے کی ضرورت بڑھتی جاتی ہے ۔آج ہم جس مرحلے سے گزر رہے ہیں ،ہمیں مجاہدین کی طرف سے خطا اور تجاوزات کی کثرت نظر آتی ہے ،اس کا سبب مجاہدین کی صفوں میں ایسے افراد یا گروہوں کی شرکت ہے جن کی صحیح اسلامی بنیادوں پر تربیت نہیں ہوئی ہے یا ان میں جہالت اور اخلاقی فساد پایا جاتا ہے ۔اہلِ علم انھیں فجار سے تعبیر کرتے ہیں لیکن وہ جہاد کررہے ہیں۔ہمیں سب سے زیادہ اس بات کا خوف اور فکر ہونی چاہیے کہ تحریکِ جہا د انحراف وفساد یا ہلاکت کا شکار نہ ہوجائے ۔ہم اللہ سبحانہ تعالیٰ سے سلامتی و عافیت کے خواست گار ہیں۔لیکن ضروری ہے کہ ہم اس معاملے پر خصوصی توجہ دیں اور اس کی تفصیلات پر بات کریں :وہ علم جس کی جزئیات کا سیکھنا اور اسے اپنے مجاہد ساتھیوں میں پھیلانا اور اس کی فقہ ،واضح بصیرت اور کامل التزام کو ان کے مابین یقینی بنانا ہمارے اوپر واجب ہے ،وہ خونِ مسلم کی حرمت و عظمت کا علم اور اس معاملے کی اہمیت و عظمت کو دلوں میں اجاگر کرنا ہے ۔مسلمان نفس کا قتل ‘اکبر الکبائر میں سے ہے اور ادلہ شرعیہ کی روشنی میں غالباً اللہ سبحانہ تعالیٰ کے ساتھ کفر و شرک کے بعد سب سے بڑا گناہ ہے۔کتاب و سنت میں اس بارے میں سخت ترین وعید وارد ہوئی ہے ۔جیسے اس میں مبتلا ہونے والاکبھی بھی فلاح نہیں پا سکتا ۔۔۔جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’مومن اس وقت تک دین کے دائرے سے نہیں نکل سکتا جب تک حرام خون نہ بہائے‘‘۔(بخاری)

یہ نہیں کہا جاسکتا کہ تمام مجاہدین اس بات سے اچھی طرح واقف ہیں ۔کیوں کہ افغانستان کے قبائل اور اکثر علاقوں میں اسی طرح پاکستان کے قبائلی علاقہ جات میں قتل وانتقام کی ثقافت کا غلبہ ہے ۔۔۔اور دشمنی اور بدلے کے نام پر قتل اور خون بہانے کا رواج عام ہے جب کہ اس کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ کے حکم پر چلنے والے اہلِ دیانت اور حقیقی سچی توحید پر عمل کرنے والے لوگ کم ہیں ۔خلاصہ یہ کہ ہم پر لازم ہے کہ ہم نشرِ علم کے تمام وسائل کو استعمال کرتے ہوئے مجاہدین کی صفوں میں عملی طور پر اس علم (یعنی خونِ مسلم اور مسلمان کے مال وعصمت کے تقدس کا علم )کو نشر کریں ۔اسی طرح بطورِ امیر یا مسؤل ہمارے اوپر واجب ہے کہ اپنے زیرِ دست لوگوں کے ہاتھوں کو روک کر رکھیں اور ان کا محاسبہ کریں ۔ اللہ سبحانہ تعالیٰ کے احکامات کا التزام کرتے ہوئے اس کی اطاعت میں مستقل مزاجی سے اپنے اوپر شریعت کو نافذ کریں اور جو کوئی اس کی مخالفت کرے اسے سزا بھی دیں ۔

اگر ہم نے ایسا نہ کیا اور اپنی اجتماعیت میں غفلت یا تساہل سے کام لیا یا ایک دوسرے کی رعائت کی یا امرانے اپنے مامورین کے محاسبے ،امر بالمعروف نہی عن المنکر اور اپنے متبعین کو اللہ کی شریعت اور اطاعت پر قائم رکھنے میں کمزوری دکھائی تو ہم یقینابری طرح ناکام ہو جائیں گے اور پھر ہمارا نجام ہلاکت ہی ہے (العیاذ باللہ)۔۔۔

اے اللہ ہم آپ سے آپ کی ناراضی سے پناہ میں آتے ہیں ۔میں آپ کو گواہی دیتا ہوں کہ میں ،میری قیادت اور میرے ساتھی ہر شریعت کی مخالفت کرنے والے فرد سے بری ہیں ۔ہم ہر اس اللہ کے ولی سے محبت رکھتے ہیں اور اس کے حمایتی اور قریب ہیں جو اللہ سبحانہ تعالیٰ کا مطیع و فرماں بردار ،ذاکر و شاکر اور اسی کی طرف رجوع کرنے والا ہو اور اسی طرح ہر اس شخص سے بغض اور دوری رکھتے ہیں جو اس کے متضاد ہو۔

اس سے ملتا جلتا دوسرا اہم امر جس پر ہمیں توجہ کی ضرورت ہے وہ استشہادی عملیات کی فقہ ‘جسے فقہا ئے کرام ’قاعدہ تترس ‘سے موسوم کرتے ہیں ‘اس کی حدود و قیود کو واضح کرنا ہے ۔ہم اپنے ساتھیوں کے سامنے اس کی تشریح کریں بالخصوص وہ ذمہ داران جو ان کارروائیوں کی منصوبہ بندی اور تنفیذ کرتے ہیں اور وہ فدائیین جو ‘ان عملیات میں شریک ہو تے ہیں ان پر ان مسائل کا واضح ہونا بہت ضروری ہے ۔بعض اوقات ہم دیکھتے ہیں کہ فدائی مجاہد اس حوالے سے لاپرواہ اور لاعلم ہوتے ہیں اور عوام کی کوئی پرواہ نہیں کرتے ۔بالخصوص ایسے کم سن فدائی جوعلم و معرفت سے نابلد ہوتے ہیں اور ان کی کوئی دینی تربیت نہیں ہوتی اور اس سے بھی بڑھ کر وہ خطرناک ہدایات ہوتی ہیں جو انہیں عین موقع پر دی جاتی ہیں جو العیاذ باللہ دین کے مخالف ہوتی ہیں۔جیسے مجاہدین میں سے بعض لوگ انہیں یہ پڑھا دیتے ہیں کہ ’’بازاروں میں پھرنے والے عوام چونکہ اہلِ حق اور مجاہدین کی نصرت نہیں کرتے اور طاغوت اور مرتدین کے ساتھ رہنے پر راضی ہیں اس لیے منافق ہیں۔چنانچہ ان میں سے جتنے بھی مارے جائیں فدائی پر اس کا کوئی وبال نہیں ہوگا اور نہ ہی ان کے خون کے بارے میں اس سے کوئی پوچھ ہو گی‘‘۔بلاشبہ یہ مطلقاً ایک عظیم خطا ، واضح گمراہی ہے اور ایک بڑے فساد کا پیش خیمہ بن سکتی ہے ۔

بے شک وہ مسلمان ممالک جہاں مرتد جکومتیں قائم ہیں وہاں کی عام آبادی ، ر سڑکوں اور بازاروں میں پھرنے والی عوام بالاصل اور مجموعی طور پر مسلمان ہیں۔پھر ان میں صالحین اور دیگر آپس میں ملے ہوئے ہیں، ان میں کچھ ایسے ہیں جو مرتد کافر ہیں اور ان کا خون حلال ہے ۔لیکن مسلمان ممالک میں بسنے والے عوام مجموعی طور پر مسلمان ہیں جو کتاب و سنت او ر مسلمانوں کے مشہور مذاہبِ اربعہ کے مطابق زندگی گزار رہے ہیں اور یہ مسئلہ متعدد کتب اور ابحاث سے ثابت ہے ۔جوکوئی اس کے خلاف کہتا ہے تو وہ یقیناًغلو اور گمراہی کا شکار ہے اور اہلِ علم کی متفقہ رائے کا مخالف ہے ۔

مسلمان عوا م کے فسق و فجور،کمی و تقصیر یا جہاد کی نصرت سے پیچھے بیٹھ جانے کے باوجود اگر کوئی اوپر بیان کردہ وجوہات کی بنیاد پرجان بوجھ کر ان پر قتل کاحکم لگاتاہے اور اس زعم میں ہے کہ ان کے خون کے بارے میں اس سے کوئی بازپرس نہیں ہو گی تو وہ صریح گمراہی میں مبتلا ہے اور علم و فقہ کی حدود سے خارج ہے ۔ ایسا شخص حرام کا مرتکب ہے اور اللہ سبحانہ تعالیٰ کی ناراضی ،غضب اور پکڑ کو دعوت دے رہا ہے ۔وہ اس بات کا حق دار ہے کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ اس کو ناکام کرکے دشمن کو اس پر مسلط فرما دے ۔

محترم بھائی !اگر آپ کو اپنے مامور مجاہدین میں ایسے کسی معاملے سے واسطہ پڑے تو مجھے امید ہے آپ شرعی علمی طریقے سے اسے حل کریں گے۔بلاشبہ یہ ایک ذمہ داری ہے جسے فوراً ادا کرنا چاہیے ۔آپ کو چاہیے کہ فوراً ان کا ہاتھ روکیں ،نہیں تو میں آپ کو اس کے برے انجام اور مضر اثرات سے خبردار کرتا ہوں ۔فوراً اس کی اصلاح کا اہتمام کریں اور اس مسئلے کو اولین ترجیح بنائیں۔۔۔ اللہ سبحانہ تعالیٰ آپ کے حالات کی اصلاح فرمائے اور آپ کی نصرت کرے ۔


یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا إِن تَنصُرُوا اللَّہَ یَنصُرْکُمْ وَیُثَبِّتْ أَقْدَامَکُمْ
پھر دینی و دنیوی دونوں اعتبار سے دیکھا جائے تو کسی بھی سیاسی ،عوامی انقلابی تحریک کی کامیابی کیوں کر ممکن ہے کہ اس کی قیادت اور افراد ،عامۃ الناس (عوام، اکثریت اوراپنی قوم )کی ہمدردی اورحمایت حاصل کرنے اور انہیں اپنے ساتھ ملانے کی محنت نہ کریں ۔وہ کیسے اپنی تحریک کی کامیابی کی امید رکھ سکتے ہیں جب کہ لوگ ان سے متنفر ہو اور ہر آنے والے دن کے ساتھ ان سے دور ہوتے جارہے ہوں اور ان کی زبانِ حال کہہ رہی ہو
وجدناہم اخبُرْ تَقْلُہْ۔

کسی بھی فرد کا منصوبہ کیسے کامیاب ہو سکتا ہے جب کہ لوگوں کی رائے اس کے بارے میں یہ ہو
إن ترید إلا أن تکون جبّاراً فی الأرضِ وما ترید أن تکون من المصلحین
’’تم چاہتے ہو کہ زمین میں ظلم و ستم کرتے پھرواور یہ نہیں چاہتے کہ نیکوکاروں میں ہو‘‘۔

روزبروز اس کے بارے میں یہ تاثر عام ہوتا جائے اور وہ خود بھی اپنے افعال سے اس کی تصدیق کرے اور اس کی غلطیوں کی اصلاح ہوتی ہوئی نظر نہ آئے نہ ہی اس کے اندر ،شفقت رحمت اور احسان کا کوئی مادہ پایا جائے!

جب کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جو کے اکرم الخلق ہیں ،انہیں بھی اللہ سبحانہ تعالیٰ فرمارہے ہیں :
وَلَوْ کُنتَ فَظًّا غَلِیظَ الْقَلْبِ لاَنفَضُّواْ مِنْ حَوْلِکَ
’’اور اگرآپ بدخو اورسخت دل ہوتے تو یہ آپ کے پاس سے بھاگ کھڑے ہوتے ‘‘۔

بہت ضروری ہے کہ قائدین جہاداپنے مامورین کو یہ سکھائیں ، ان کی اس نہج پرتربیت کریں اور اس سے پہلے اپنے اندر یہ صفت پیدا کریں کہ انہیں عامۃ الناس کے ساتھ مشفقانہ رویہ اختیار کرنا چاہیے ،عوام کے ساتھ رحمت اور آسانی والا معاملہ کرنا چاہیے۔قائدین اپنے ساتھیوں کی تربیت کریں کہ وہ عوام کو سزا دینے ،قتل کرنے یا ان سے انتقام لینے میں جلدی کرنے کی بجائے ان کی خطاؤں ،نقائص اور کوتاہیوں پر صبر کریں اور محبت اور رفق کے ساتھ بتدریج ان کی اصلاح کے لیے کوشاں رہیں ۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کبھی کوئی مہم روانہ کرتے یا کسی کو کسی سریہ یا جیش کا امیر مقرر کرتے تو ہمیشہ یہ نصیحت کرتے جو متعدد احادیث میں وارد ہوئی ہے:

یسّروا ولا تعسّروا وبشّروا ولا تنفّروا
’’آسانیاں پیدا کرو،مشکلیں نہ بناو،خوش خبریاں سناواور نفرتیں مت پھیلاو‘‘


کیاکبھی ہم نے اس نصیحت میں تدبر کیا ہے اور اس کا صحیح فہم حاصل کر کے اس پر عمل کی کوشش کی ہے ؟
اگلا اہم معاملہ جو توجہ طلب ہے :ہم پر واجب ہے کہ ہم مجاہدین کی نگرانی کریں کہ ان کے اندر دین کے معاملے میں ہرگز غلو پیدا نہ ہو۔بالخصوص لوگوں پر کفر کاحکم لگانے(یعنی مسئلہ تکفیر)کے بارے میں!بے شک اس مسئلے میں غلو ایک عظیم مصیبت ہے۔یہ ان خبیث ترین امراض میں سے ہے جن میں مجاہدین کے مبتلا ہونے کا خدشہ ہوتا ہے ۔اس سلسلے میں کچھ مجرب باتیں عبرت والوں کے لیے ذکر کرتا ہوں۔غلو بالعموم ہر دین میں ایک مہلک اور خطیر مرض رہا ہے جیسا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

إیاکم والغلوَّ فی الدین فإنما أہلک من کان قبلکم الغلوُّ فی الدین(رواہ أحمد والنسائی وغیرہما)
’’تم دین کے معاملے میں غلو سے بچو،بے شک تم سے پہلے والوں کو دین میں غلو کرنے ہی نے ہلاک کیا ‘‘۔

اور فرمایا:
’’ہلک المتنطعون‘‘قالہا ثلاثاً.(رواہ مسلم)
’’ہلاک ہو گئے غلو (بے جا شدت )کرنے والے اور اس کو تین دفعہ دہرایا‘‘۔

یہ ارشادات مطلق دین میں غلو کے بارے میں ہیں،جب کہ اگریہ غلو ’’مسلمانوں کی تکفیر‘‘کے مسئلے میں پیدا ہو جائے اور پھر اسے بہت ہلکا معاملہ سمجھ کر بے خطر اپنا لیا جائے تو یہ اس سے بھی کئی گنازیادہ مہلک اور تباہ کن ہوجاتا ہے ۔ہم اللہ سبحانہ تعالیٰ سے پناہ مانگتے ہیں کہ وہ ہمیں ،آپ کو یا ہمارے کسی بھائی کو اس میں مبتلا کرے ۔

اگر ہمیں پتہ چلے کہ بعض مجاہدین ،دیگر مجاہدین یا عوام کی بے دھڑک تکفیر کرنا شروع ہو گئے ہیں تو لازم ہے کہ ہم اس سے مکمل احتراز کریں اور اپنی پوری قوت سے مجاہدین کی اس مسئلے میں صحیح منہج پر تربیت کی کوشش کریں۔اس سلسلے میں میں نے کئی امور کا تجربہ کیا۔۔۔ ان میں سے ایک آزمودہ طریقہ آپ کے لیے بیان کرتا ہوں جو ان شاء اللہ نفع بخش ہو گا۔ہم اپنے بھائیوں کی تربیت اس انداز میں کریں کہ ان کی توجہ اپنے عیوب پر مرکوز رہے اور وہ اپنے نفس کی اصلاح اور تزکیہ میں اس قدر مشغول ہوں کہ ان کی نظر لوگوں کے عیوب کی طرف اٹھے ہی نہیں ۔ہم بھائیوں کی یوں تربیت کریں کہ وہ ہروقت اپنے دین کی سلامتی اور عافیت کے لیے دعا گو رہیں ،ان کے دلوں میں بغیر علم دینی معاملے میں حکم لگانے کا خطرہ واضح ہو جائے ،اس میں سے اہم ترین یہ کہ بغیر ضروری علم کے کسی مسلمان کی تکفیر کا حکم لگایا جائے ،بھائیوں کو یہ بات سکھائی جائے کہ یہ مسئلہ ایسے اہلِ علم فقہا کے سپرد کرنا چاہیے جن کی دیانت اور ورع معلوم ہو۔غیر عالم عوا م کو ان مسائل میں پڑنے سے مطلقاً روکا جائے ۔امرا کی ذمہ داری ہے کہ اگر وہ عام مجاہدین میں سے کسی کو اپنے اجتہاد سے عوام میں سے فلاں فلاں کی تکفیر پر کلام کرتا ہوا سنیں تو اس کو سختی سے منع کریں ۔اگر ہم ان بنیادوں پر کام کریں تو ان شاء اللہ پھر کامیابی یقینی ہے ۔

مجاہدین کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی اس حدیث کے معنی سمجھائیں :
طوبی لمن شغلہ عیبُہُ عن عیوب الناس
’’خوش خبری ہے اس شخص کے لیے جس کے اپنے عیوب کی مشغولیت نے اسے دوسروں کے عیب ٹٹولنے سے باز رکھا‘‘۔

اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان:
المسلمُ من سلم المسلمون من لسانہ ویدہ(رواہ البخاری و مسلم)
’’مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں‘‘۔

اسی طرح یہ حدیثِ نبوی:
المجاہد من جاہد نفسہ فی ذات اللہ
’’مجاہد وہ ہے جو اپنے نفس کو اللہ کے لیے فنا کردے‘‘

والمہاجر من ہجر ما نہی اللہ عنہ
اور مہاجر وہ ہے جو اس چیز کو ترک کردے جس سے اللہ سبحانہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہو‘‘۔

اسی طرح حضرت معاذ بن انس الجہنی رضی اللہ عنہ کی روایت جس میں وہ بیان فرماتے ہیں:
غزوتُ مع نبیّ اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غزوۃَ کذا وکذا فضیق الناسُ المنازلَ وقطعوا الطریقَ، فبعث نبیُّ اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منادیاً ینادی فی الناس أنَّ مَنْ ضیّقَ منزلاً أو قَطَعَ طریقا فلا جہادَ لہ. رواہ أبو داود وأحمد وغیرہما، وورد فی بعض ألفاظ ہذا الحدیث فی بعض المصادر ۔۔۔أو أذی مؤمناً فلا جہادَ لہ

’’میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوے میں گیا(پھر غزوے کی روداد بیان کی اور فرمایا)لوگ غزوے کے دوران لوٹ مار کرتے اور دوسروں کو پریشان کرتے رہے ،تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک منادی بھیجا جس نے لوگوں میں آکر اعلان کیا کہ جس نے لوٹ مار کی یا منزل کو تنگ کیا اس کاکوئی جہاد نہیں،بعض روایات میں یہ الفاظ ہیں ’’یا مومن کو اذیت دی تو اس کا کوئی جہاد نہیں‘‘۔

اسی طرح مجاہدین کے قائدین پر واجب ہے کہ وہ اپنی اور اپنے مامورین کے نفوس کی ان تمام روحانی بیماریوں سے حفاظت کے لیے بھرپور اور انتھک محنت کریں جس میں ان کے مبتلا ہونے کا خدشہ ہے ۔ان بیماریوں کی تعداد بہت زیادہ ہے ، ان میں سے چند ایک :عُجب ،غرور،کِبر،لوگوں سے خود کو اعلیٰ سمجھتے ہوئے ان پر ظلم کرنا ہیں ۔بے شک یہ تمام امراض ایمان کے لیے مفسد اور انسان کے لیے ہلاکت کا موجب ہیں ۔(العیاذ باللہ)

اس کا سبب یہ ہے کہ اگر مجاہد تزکیہ نفس کے علوم اور معارف نافعہ سے مسلح نہ ہوتو اس راستے کی طوالت اور وحشت ، فتح ،قوت اور غلبہ اور اس کے ساتھ ساتھ لوگوں کی طرف سے ملنے والے طعنے جو امت کے بیٹو ں کو اس کی معاونت سے پیچھے رکھتے ہیں اور پھر جہاد کے راستے میں پیش آنے واالی لگاتار لڑائیاں اور مزاحمتیں ۔۔۔یہ سب عوامل مجاہد کے ان امراض میں مبتلا ہونے کا خدشہ پیدا کر دیتی ہیں اور مجاہد کی غربت اور وسائل کی کمی کی وجہ سے شیطان کے لیے مجاہد کو ان بیماریوں میں مبتلا کرنا آسان ہو جاتا ہے ۔یوں مجاہد ایک عظیم شر کا شکار ہو جاتا ہے اور شیطان اس کے جہاد کو فاسد کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے ۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خبردار فرمایا ہے کہ شیطان ،ابنِ آدم کے لیے اللہ کی راہ میں ہر موڑ پر گھات لگا کر بیٹھتا ہے تاکہ اس کے دین ،ہجرت اور جہاد کو تباہ کرسکے ۔


نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کافرمانِ مبارک ہے:
’’شیطان ابن آدم کو گمراہ کرنے کے لیے مختلف راستوں میں بیٹھا ہوتا ہے ، پہلے اسلام کے راستے میں بیٹھتا ہے اور اس سے کہتا ہے کہ کیا تواسلام قبول کر کے اپنا اور اپنے آباؤاجداد کا دین ترک کردے گا وہ اس کی نافرمانی کر کے اسلام قبول کر لیتا ہے۔تو شیطان ہجرت کے راستے میں آ کر بیٹھ جاتا ہے اور اس سے کہتا ہے کہ تو ہجرت کر کے اپنے زمین اور آسمان کو چھوڑ کر چلا جائے گا مہاجر کی مثال تولمبائی میں گھوڑے جیسی ہے وہ پھر اس کی نافرمانی کر کے ہجرت کر جاتا ہے۔پھر شیطان جہاد کے راستے میں بیٹھ جاتا ہے اور اس سے کہتا ہے کہ اس سے جان و مال دونوں کو خطرہ ہے تو لڑائی میں شرکت کرتا ہے اور مارا جائے گا تیری بیوی سے کوئی اور نکاح کر لے گااور تیرے مال کا بٹوارہ ہو جائے گا لیکن وہ اس کی نافرمانی کر کے جہاد کے لیے چلا جاتا ہے‘‘۔

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مزیدفرمایا:
’’جو شخص یہ کام کر کے فوت ہو جائے تو اللہ کے ذمہ حق ہے کہ اس کو جنت میں داخل کرے اگروہ شہید ہو جائے یا سمندر میں ڈوب جائے یا جانور سے گر کر فوت ہو جائے تب بھی اللہ کے ذمہ حق ہے کہ اس کو جنت میں داخل کرے‘‘۔(احمد،نسائی)

اس کاسبب جیسے میں نے پہلے بیان کیا تفقہ فی الدین کی قلت ہے ،چنانچہ علاج بھی تفقہ الدین ،صحیح اسلامی علوم کے حصول اور تربیت اور تزکیہ نفس کا اہتمام ہے ، اس کے ساتھ ایسے امین و صالح،اہلِ ورع امرا کاتقرر جو معتدل مزاج و اخلاق کے حامل ہوں،صبر و درگزر اور قربانی کے ایسے پیکر کہ خالصتاً اللہ کی رضا کے لیے سب کچھ قربان کریں اور کسی اور سے کسی جزایا بدلے کے طلب گار نہ ہوں،اپنے لوگوں کے ساتھ شفقت کا معاملہ رکھنے والے جو مخلوق پر اس لیے رحم کرتے ہیں کہ الرحمن ان پر رحم فرمائے گا۔اللہ سبحانہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِیْنَ آمَنُوا بِاللَّہِ وَرَسُولِہِ ثُمَّ لَمْ یَرْتَابُوا وَ جَاہَدُوا بِأَمْوَالِہِمْ وَأَنفُسِہِمْ فِیْ سَبِیْلِ اللَّہِ أُوْلَءِکَ ہُمُ الصَّادِقُونOقُلْ أَتُعَلِّمُونَ اللَّہَ بِدِیْنِکُمْ وَاللَّہُ یَعْلَمُ مَا فِیْ السَّمَاوَاتِ وَمَا فِیْ الْأَرْضِ وَاللَّہُ بِکُلِّ شَیْْءٍ عَلِیْمٌ O یَمُنُّونَ عَلَیْْکَ أَنْ أَسْلَمُوا قُل لَّا تَمُنُّوا عَلَیَّ إِسْلَامَکُم بَلِ اللَّہُ یَمُنُّ عَلَیْْکُمْ أَنْ ہَدَاکُمْ لِلْإِیْمَانِ إِن کُنتُمْ صَادِقِیْنَ Oإِنَّ اللَّہَ یَعْلَمُ غَیْْبَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاللَّہُ بَصِیْرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ (الحجرات:۱۵۔۱۸)
’’مومن تو وہ ہیں جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے پھر شک میں نہ پڑے اور اللہ کی راہ میں مال اور جان سے لڑے یہی لوگ (ایمان کے) سچے ہیں۔ان سے کہو کیا تم اللہ کو اپنی دین داری جتلاتے ہو؟ اور اللہ تو آسمانوں اور زمین کی سب چیزوں سے واقف ہے اور اللہ ہر شے کو جانتا ہے ۔یہ لوگ تم پر احسان رکھتے ہیں کہ مسلمان ہوگئے ہیں ،کہہ دو کہ اپنے مسلمان ہونے کا مجھ پر احسان نہ رکھو بلکہ اللہ تم پر احسان رکھتا ہے کہ اس نے تمہیں ایمان کا راستہ دکھایا بشرطیکہ تم سچے (مسلمان)ہو ۔بے شک اللہ آسمانوں اور زمین کی پوشیدہ باتوں کو جانتا ہے اور جو کچھ تم کرتے ہو اسے دیکھتا ہے ‘‘۔

ان آیاتِ کریمہ میں اللہ سبحانہ تعالیٰ نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے والوں کے لیے اس صفت کو مختص فرمایا ہے کہ وہ ایمان لا کر اس کے بارے میں کسی شک میں نہیں پڑتے اور اپنے اموال اور جانوں کی قربانی سے اللہ وحدہ لاشریک کے راستے میں جہاد کرتے ہیں۔پھر اعراب کے اس گروہ کو مخاطب کر کے تنبیہ و سرزنش فرمائی ہے جو ایمان کے دعوے دار تھے اور ایمان لا کر جتلا رہے تھے جب کہ مندرجہ بالا ایمانی صفات سے متصف بھی نہیں تھے۔اللہ سبحانہ تعالیٰ نے اہلِ ایمان کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان جتلانے پر ان کی سرزنش فرمائی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ انہیں کہیں کہ اپنے اسلام کا احسان نہ جتلائیں اور انہیں خبردار کریں کہ ہدایت کا مل جانا صرف اللہ وحدہ لاشریک کا فضل و احسان ہے ۔سچے اہلِ ایمان کی صفات بیان کرنے کے بعد ایمان کے دعوے اور اس پر گھمنڈ کے عیب پر سرزنش فرمانا، اہلِ ایمان کو اس بیماری کے خطرے سے خبردار کرنا ہے ۔(واللہ اعلم)۔۔۔اسی طرح مجاہدین کی قیادت کو چاہیے کہ وہ قول و فعل کے تمام دستیاب شرعی وسائل کو استعمال کرتے ہوئے مجاہدین کی صفوں کو مضبوط کرنے اور ان کے مابین محبت و عاطفت کو بڑھانے کے لیے بھرپور محنت کریں ۔مجاہدین کے باہمی تعلق کو ایسا بنا دیں جیسا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
’’مسلمان آپس میں پیار ومحبت ،رحم وشفقت اور مہربانی برتنے میں ایک جسم کی مثال رکھتے ہیں کہ جسم کا ایک عضو بیمار پڑ جائے تو سارا جسم اضطراب اور بخار میں مبتلا ہو جاتا ہے‘‘۔ (بخاری و مسلم)

اسی طرح اللہ سبحانہ تعالیٰ کا فرمان ہے :
إِنَّ اللَّہَ یُحِبُّ الَّذِیْنَ یُقَاتِلُونَ فِیْ سَبِیْلِہِ صَفّاً کَأَنَّہُم بُنیَانٌ مَّرْصُوصٌ (الصف:۴)
’’اللہ محبت کرتا ہے ان لوگوں کو جو لڑتے ہیں اس کی راہ میں قطار باندھ کر گویا وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں‘‘۔

یہ بات اللہ سبحانہ تعالیٰ کو محبوب اور اس کی رضا کا باعث ہے اور اللہ سبحانہ تعالیٰ نے اس کا حکم فرمایا ہے اس لیے ہمیں چاہیے کہ اس کے حصول کے لیے بھرپور کوشش کریں۔ اس کی عملی شکل یہ ہے کہ اہلِ ایمان کے درمیان محبت کو بڑھانے والے اسباب کی بھرپور ترویج کی جائے اور اس کے برعکس باہم اختلاف،دوری و رنجش یا بغض و عداوت پیدا کرنے والے امور کا تدارک کیا جائے ۔شریعتِ مطہرہ نے بہت تفصیل کے ساتھ باہم محبت کے اسباب ، ان کے فضائل اور آپس میں دوری و رنجش اور بغض و عداوت کے اسباب کے خطرات کو بیان کیا ہے ۔۔۔یہ پاکیزہ ربانی شریعتِ اسلامیہ کے محاسن میں سے ہے ۔اس کی تفصیل بہت طویل ہے ،اس کے لیے سلوک واخلاق اور فضائل پر اہلِ علم کی کتب ، کتبِ احادیث اور ان کی شروحات کا مطالعہ کیا جاسکتا ہے ۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’بدگمانی سے اپنے آپ کو بچاؤ کہ بدگمانی بڑی جھوٹی بات ہے اور دوسرے کے عیوب کی تلاش میں نہ رہا کرواور جاسوسی نہ کیا کرواور نہ دوسروں سے بڑھنے چڑھنے کی ہوس کیا کرو۔نہ باہم حسد کیا کرو ، نہ بغض رکھا کرو ، نہ ایک دوسرے سے پیٹھ پھیر کر چلو ، بلکہ سب ایک اللہ کے بندے اور بھائی بھائی بنے رہو جیسا کہ اس نے حکم فرمایا ہے ،ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے نہ اس پر ظلم کرے ،نہ اس کو بے یارومددگار چھوڑے ، نہ اس کو حقیر سمجھے ۔ پھر سینہ کی طرف اشارہ کرکے فرماتے تھے :تقویٰ اس جگہ ہے ، تقویٰ اس جگہ ہے۔۔۔برائی کے لیے انسان کو اتنا ہی کافی ہے کہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر سمجھے ،مسلمان کاسب کا سب دوسرے مسلمان پر حرام ہے ،خون ہو یا آبرو یا مال‘‘۔ (مالک ،بخاری ،مسلم ابوداود،ترمذی )۔

حاصلِ کلام یہ ہے کہ یہ ان اہم ترین امور میں سے ایک ہے جس کا مجاہدین کی قیادت کو بہت زیادہ اہتمام کرنا چاہیے ۔میرے خیال میں کوئی مضائقہ نہیں ہے اگر میں یہاں اس حوالے سے مجاہدین میں پائی جانے والی چند خطاوں کا تذکرہ کردوں جن کا میں نے خود مشاہدہ کیا ، تاکہ تنبیہ کا صحیح حق ادا ہوجائے اور ہمارے عمل میں بہتری آجائے کیوں کہ علم تو عمل کی خاطر ہی حاصل کیا جاتا ہے ۔

بعض امرااپنے ماتحتوں یا ساتھیوں کو دوسرے امرایا مجاہدین کا مذاق اڑاتے ہوئے دیکھتے ہیں لیکن انہیں منع نہیں کرتے بلکہ کئی دفعہ دوسرے امیر سے کسی رنجش یا اس سے مسابقت کی خاطر اپنے ساتھیوں کو اور تھپکی دے دیتے ہیں ۔یہ انسان کی ایسی بیماری ہے کہ اس کا علاج اس کا اپنا نفس ہی کر سکتا ہے ۔بڑے امرا کو چاہیے کہ اس معاملے میں اپنے نائبین اور ساتھیوں کی نگرانی کریں اور ان کے علاج و اصلاح اور تادیب کا انتظام کریں ۔امیرکے لیے واجب ہے کہ جب وہ اپنے ساتھیوں میں سے کسی کو دوسرے مجاہدین یا امراکے بارے میں بات کرتے ہوئے سنے تو فوراً اس کو منع کرے ،ساتھیوں کو غیبت ،چغلی یا کسی مسلمان کی آبرو پر انگلی اٹھانے سمیت زبان کی تمام آفات اور ان کے مضرات سے خبردار کرے اور کوئی امیر اس وقت تک یہ کام نہیں کرسکتا جب تک اسے دین میں تفقہ حاصل نہ ہو اور وہ عارف باللہ ،متقی اور مخلص نہ ہو۔

مجاہدین کے مجموعات اور گروپوں میں یہ مرض بہت کثرت سے پایا جاتا ہے کہ وہ اپنے مجموعے ، امرا اور کارروائیوں کی مدح میں مصروف رہتے ہیں اور اس پر فخر کرتے رہتے ہیں اور دوسرے گروپوں پر یوں طعن کرتے ہیں:وہ تو بالکل فارغ ہیں ،ان کے پاس کوئی کام نہیں ہے اور ہم بہت مصروف ہیں اور ہم نے فلاں فلاں بڑی کارروائیاں کی ہیں۔ یہ رویہ بہت سی قلبی بیماریوں کی گواہی دیتا ہے ۔اللہ سبحانہ تعالیٰ ہمیں سلامتی و عافیت عطا کرے ،ذمہ داران کو چاہیے کہ وہ تواضع ، اخلاص اور سوئے خاتمہ کے خوف جیسے اخلاق کی تعلیم و تذکیر کے ذریعے اپنے ساتھیوں کی اصلاح کی کوشش کریں۔حسبنا اللہ و نعم الوکیل۔

بدگمانی ، آپ اندازہ نہیں کر سکتے کہ یہ مرض مجاہدین کے مابین کس قدر کثرت سے پایا جاتا ہے ۔ایک دوسرے کے بارے میں غلط فہمیاں پھیلانا اور تہمت لگانا ، فلاں یہ کرنا چاہتا ہے ،فلاں نے یہ کام دنیاوی شہرت ،غلبے یا جاہ کے لیے کیا ہے یا کوئی کسی پر الزام لگاتا ہے کہ وہ ایجنسی کا ایجنٹ ہے وغیرہ وغیرہ۔۔۔یہ بہت خطرناک روش ہے ۔ امرا کو چاہیے کہ اپنے مسلمان بھائیوں کے بارے میں حسنِ ظن رکھنے کے معاملے میں اپنے ساتھیوں کے لیے نمونہ بنیں اور اپنے ماتحت لوگوں کو اس عالی اسلامی اخلاق کی تعلیم دیں۔
ہم اللہ سبحانہ تعالیٰ سے دعاگو ہیں کہ وہ ہمیں اور آپ کو ایمانِ کامل اور عملِ صالح کی توفیق عطا فرمائے۔ہماری ہجرت و جہاد کی حفاظت فرمائے اور اپنے فضل و کرم اور احسان سے انہیں تکمیل تک پہنچائے ۔بے شک وہ فضل و کرم کرنے والا ولی ہے جس کے سوا کوئی الٰہ اور رب نہیں ہے ۔

والحمد للہ رب العالمین ، وصلی اللہ علی محمدٍ وآلہ وصحبہ أجمعین.
والسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
ذو الحجۃ ۱۴۳۱ھ

*****
اردو ترجمہ بشکریہ نوائے افغان
شمارہ اگست،ستمبر،اکتوبر ۲۰۱۴

جمعرات، 6 نومبر، 2014

اخبار کا جھوٹ اور تدلیس کے ذریعے شیخ ابو قتادہ کو بدنام کرنےکی بابت ایک تیزدھار جواب

اخبار کا جھوٹ اور تدلیس  کے ذریعے شیخ ابو قتادہ کو بدنام کرنےکی بابت ایک تیزدھار جواب
ابو محمدفلسطینی (اسماعیل کلام) کا شیخ ابو قتادہ فلسطینی سے  مقالمہ

الحمد لله رب العالمين والصلاة والسلام على أشرف الانبياء والمرسلين.
بعدازاں،

علی یونس نامی صحافی نے [The Arab Daily] میں ایک  کالم نشر کیا ہے جس کے اندر یہ دعوی کیا ہے کہ انہوں نے ایک خصوصی گفتگو شیخ ابوقتادہ کے ساتھ کی ہے۔ کچھ نقات جو اس تحریر میں بیان ہوئے ہیں یقیناً اس سے متعلق جو ہم شیخ  ابوقتادہ کو جانتے ہیں یقیناً وہ رائے انہیں کی ہے ۔ جو کوئی بھی شیخ کی کتب کا مطالعہ رکھتا ہے وہ یہ بات جان لے گا کہ شیخ کا نقطۂ نظر وہی ہے؛ تاہم اس کے اندر کچھ دوسرے دعوے بھی موجود   ہیں، خاص طور پر شیخ اسامہ بن لادنؒ سے متعلق  نقطہ جو شیخ کی رائے کے برعکس ہے، جس میں دعوی ہے کہ وہ شیخ اسامہؒ سے متعلق یہ رائے رکھتے ہیں کہ وہ امت کی رہبری کے لیے نااہل اورنامناسب ہیں، جس میں  شریعت اور منہج دونوں اعتبار سےاعتراض کا تزکرہ موجود ہے اور اس کے علاوہ اس بات کا تذکرہ بھی ہے کہ شیخ ابوقتادہ شیخ اسامہؒ کی بیعت نہ کرنے کی نصیحت کرتے  ہیں۔

اس تحریر کو کو دیکھنے کے بعد اوراسکی احمقانہ اور اوچھی سنسنی خیزی کے باوجود جو موضوع پر بیان ہوئی ، میں نے یہ دیکھا ہے کہ اس  کے اندر کسی درجہ تک حق بات بھی موجود ہے جو شیخ ابو قتادہ کےمنہج سے متعلق ہے۔ یہ تب تک ہے جب تک ہم شیخ اسامہؒ سے متعلق ان کے نظریات اور نقطۂ نظر تک نہیں پہنچ جاتے۔ میں اس بات کوقابل بیان سمجھتا ہوں کہ  ایک جوان شخص کی حیثیت سے جب میں نے دین پر عمل کرنا شروع کیا، تو سب سے پہلے جس شخصیت سے میں نے شیخ اسامہؒ کا تذکرہ سنا وہ شیخ ابو قتادہ ہی تھے۔ اس میں انہوں نے شیخ اسامہؒ سے متعلق مدح بیان کی جس سے میری آنکھوں میں آنسو رواں ہو گئے۔

اس چیز کا علم ہونے پر کہ اس تحریر میں تدلیس اور افتراء سے کام لیا گیا ہے، میں نے اس  کے جواب میں ایک عاجلانہ تبصرہ  تحریر کیا اور اپنے محبوب شیخ ابو قتادہ کے جواب کا انتظارکرنےلگا، جس سے وہ میرے شبہات اور سوالات کا جواب اس نشر کردہ مضمون کے حوالے سے دے سکیں گے۔یہ اللہ تعالیٰ کی رحمتوں  میں سے ہے کہ میرےشیخ میری تحاریر کو پڑھتے ہیں، اور میری غلطیوں کی اصلاح کرتے ہیں اور میرے اشکالات کی وضاحت کرتے ہیں۔ پس مجھ پر یہ بات واضح ہو گئی شیخ کے الفاظ سےاس صحافی کو بعض دفعہ فہم کا مسئلہ رہا اور بعض دفعہ جھوٹ اور تدلیس سے کام لیا۔

اور اب جو نیچے بیان ہو گا وہ شیخ کے اپنے الفاظ ہیں جس میں انہوں نے اس جھوٹ اور بدنام کرنے کی سازش کے پس ِ منظر میں جواب دیا اور  اس بات کی وضاحت کر دی کہ کہ شیخ کا  اصل موقف اس معاملہ میں کیاہے۔

ہمارے شیخ ابو قتادہ نے کہا:
میرے محبوب بھائی میں آپ کی اس (اخباری)تحریر میں موجود الفاظ کو سمجھنے اور اس پر جواب دینے پر  آپ کا مشکور ہوں۔ وہ واحد چیز جس پر ہمارے اوپر اس صحافی کی طرف سے جھوٹ بولا گیا،  وہ  ابو عبداللہ(شیخ اسامہ بن لادنؒ) سے متعلق کلام ہے ۔

وہ چیز جو میں نے فقط اس معاملہ پر بیان کی وہ یہ تھی کہ ستمبر (۹۱۱) سے قبل ہم نے بیعت میں داخل نہ ہونے کی نصیحت کی تھی۔جب وہ ستمبر(۹۱۱)  کا واقعہ ہوا، تب معاملات تبدیل ہو گئے۔ ستمبر (۹۱۱) سے قبل بہت سے مجموعات مثلاً شیخ الزرقاوی، شیخ ابوعیاض التونسی، جماعت المقاتلہ(الجزائر) نے بھی بیعت اس وقت تک نہ دی تھی جب تک ستمبر (۹۱۱) کے واقعات رونما نہ ہو گئے۔ میں نے یہ بات بھی اس صحافی سے بیان کی تھی کہ یہ الفاظ نشر کرنے کے لیے نہیں ہیں۔

میں نے اسے بیان کیا کہ یہ وہ خیرکا معاملہ ہے جوہمارے دشمنوں کے ہاتھوں ہم پر آن پڑا، جس سے امت میں اتحاد پیدا ہوا۔ امریکہ کے خلاف امت یکجا ہو کر متحد ہو گئی، یہ ایک ایسا امر ہے جسے کوئی بھی جھٹلا نہیں سکتا۔یہ بات اس ضمن کے دلایل کے طور پر بیان ہوئی کہ کیوں بہت سے افراد داعش کے اندر گئے ہیں۔ میں نے اس سے بیان کیا کہ کس طرح فلسطین کے مہاجرین کیمپوں میں لوگوں نے ۹۱۱ کے دن مٹھائیاں بانٹیں حالانکہ اس وقت وہ یہ بات نہ جانتے تھے کہ یہ عمل کس نے کیا ہے۔

میں نے اپنے شیخ سے کہا:
 میرے شیخ آپ نے مجھ سے الجزیرۃ چینل پر ایک انٹرویو کے حوالے سے کہا تھا جب کہ وہ آپ کو بہت زیادہ اصرار کر رہے تھے کہ آپ یہ انٹرویو ضرور دیں، آپ نے مجھ سے کہا تھا کہ یہ دانشمند ی کا نقاضا نہیں ہے کہ اس وقت کسی بھی میڈیا کو کسی بھی قسم کا بیان دیا جائے۔میری بہت خواہش تھی کہ آپ کا پہلا انٹرویو الجزیرہ چینل پر دیا جاتا اور وہ براہ راست نشر ہوتا تاکہ کسی بھی قسم کی قیاس آرائی اورتدوین سے بچا جا سکنا ممکن ہو جاتا۔

انہوں نے جواب دیا ( اللہ ان کی حفاظت فرمائیں):
میری بات کو سنو، میں نے ایسا کوئی بھی  انٹرویو نہیں دیا، اس نے اس معاملہ پر جھوٹ بولا کہ یہ انٹرویو تھا  بلکہ شیخ ابو محمد المقدسی اسے ایک مجلس میں ساتھ لائے۔ میرا اس سے تبادلۂ خیال ہوا اور دوسری دفعہ ملاقات ایک شادی پر ہوئی، اس وقت میں نے سب کے سامنے بیان دیا، اور اس نے وہ الفاظ ورق پر محفوظ کیے، اس وقت مجھ سے بہت سے سوالات لوگوں کی جانب سے اور اس  صحافی کی جانب سے ہوئے۔ جیسا کہ آپ اس تحریر کی بناوٹ سے معلوم ہو جائے گا کہ اس میں کسی بھی قسم کا سوال وجواب والا مقالمہ نہ تھا۔ وہ ایک  مضمون کی طرز پر ہے جو اس نے میرے الفاظ سے سمجھا۔

یہ شخص بھی باقی صحافیوں سے بالکل بھی مختلف نہ تھا جن سے میری ملاقات رہی۔ میں جو بھی ان کے سامنے سلف اور جہاد  (سلفی جہادی) کے مفہوم میں سے بیان کرتا ہوں یہ اسے سمجھ نہیں پاتے۔ میں نے سلفیہ کو جہاد کےاس رخ کے طور پر اس انداز میں مسترد کیا تھا کہ آج کا جہاد امت کا جہاد ہے، کسی خاص مخصوص جماعت(سلفی جہادی) کے ساتھ متصف کرنا ٹھیک نہیں ہے۔ میں نے یہ بات بیان نہیں کی تھی کہ اہل جہاد خطا اور غلطی پر ہیں بلکہ میں نے اس نظریہ کی نفی کی تھی جو جہاد کو کسی خواص جماعت سے جوڑنا چاہتے ہیں۔ آج اللہ کے فضل سے  ہم خواص کے جہاد سے آگے نکل چکے ہیں، آج جہاد ایک امت کا جہاد بن چکا ہے۔

اس تحریر میں الفاظ بہت واضح ہیں۔ اس شخص نے میرے شیخ اسامہؒ سے متعلق موقف پر جھوٹ باندھا اور اس چیز کا دعوی کیا کہ میں نے یہ بیان کیا کہ جہاد فقط اسلحہ کے استعمال کا نام نہیں۔ پس میں کسی بھی جہاد کو جو قرآن و سنت میں بیان ہوا ہے اسے قتال کے علاوہ نہیں جانتا ہوں۔ تاہم جو چیز میں دیکھتا ہوں وہ یہ ہے کہ جہادی جماعتوں کو چاہیے کہ وہ اپنے اردگرد کے فہم میں وسعت لے کر آئیں اور سابقہ فہم پر اس کو مت سمجھیں، کیونکہ اب جن حالات اور حقیقتوں کا وہ سامنا کر رہے ہیں وہ  بالکل تبدیل ہو چکی ہیں۔ یہ بالکل بھی جہاد کو شرعی طور پر تبدیل کرنے کی دعوت ہرگز نہیں ہے، بلکہ اس کا تعلق جہاد اور عملیات کی عملی تطبیق سے ہے۔

لیکن میرے محبوب شیخ آپ اس چیز کو اچھی طرح جانتے  ہیں کہ مجھ سے نفرت کرنے والے پھر بھی موجود ہی ر ہیں گے اگرچہ میں فقط لا الہ الا اللہ ہی کہوں۔جہاں تک ان  جاہل کم عمر افراد کا تعلق ہے جو سوائے طعن و تشنیع کے کچھ نہیں جانتے ہیں، میں ان کی کوئی پرواہ نہیں کرتا ہوں، نہ ہی ان کی طرف کوئی دھیان دیتا ہوں، کیونکہ وہ اتنے اصاغر(چھوٹے) ہیں کہ وہ میری بات کو نہیں سمجھ سکتے ہیں، میں ان سے متعلق یہ امید کھو چکا ہوں کہ وہ اپنے حواس  پر واپس آئیں گے یا میرے سے متعلق انصاف سے کام لیں گے۔

جو بات مجھے عجیب لگتی ہے وہ یہ ہے کہ خالد الحایک اس عنوان کے ساتھ سامنے آتا ہے کہ میں نہ ہی سلفی ہوں اور نہ ہی جہادی ، اس چیز کو سمجھے بغیر کہ میں نے اس معاملہ کی وضاحت کس رخ سے کی ہے۔

میں اسے اپنے جسم کے گوشت پر لذت اٹھانے کی مبارکباد دیتا ہوں۔

میں  (شاگرد) اس کے جواب میں کہتا ہوں:
خالد الحایک اپنی ساخ اور اپنے بیانات کی صحت سے متعلق مزید سوالات کو اپنے اوپر لائے ہیں۔ جو اس نے بیان کیا وہ شیخ کی ذات پر براہ راست حملہ تھا اور انکے عمل کو نقصان پہنچانے کی کاوش تھی۔ اس سے شیخ کے الفاظ کو بالکل بھی نہ سمجھا تھا۔ میں اس معاملہ کو ان پر چھوڑتا ہوں جو اس معاملے کو دیکھ رہے ہیں کہ وہ  اس کی نیت کے اندر موجود ناقابل فہم معانی کو خود ہی اخذ کرنے کی سعی کرلیں، اور اس بات کو بھی دھیان میں رکھیں کہ جب معاملہ روایت بیان کرنے کا ہو، تو صرف اسی معاملہ میں یہ(خالد الحایک) کسی فہم کے متقاضی بنتے ہیں۔

شیخ ابوقتادہ اپنی بات کو جاری رکھتے ہیں:
اگر مجھے آپ سے محبت نہ ہوتی تو میں اس معاملہ پر کوئی بھی لفظ کو بیان نہ کرتا۔ میں آپ کے بارے میں بہت گہرہ احساس رکھتا ہوں اور آپ کی پسند کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہوں، شاید کہ آپ کے دن ہمارے سے بہتر ہوں۔ہم اس معاملہ پر کچھ بھی نہیں کر سکتے، یہ ہماری قدر ہے جو لوگوں کے ساتھ منسوب ہو چکی ہے۔ ہمارا جرم صرف اتنا ہے ہم سمجھ بوجھ رکھتے ہیں اور لوگوں سے متعلق بھی یہ خواہش رکھتے ہیں کہ وہ بھی اس بات کو سمجھ لیں۔ بجائے  اس کے وہ ہمارے مشکور ہوں، وہ ہم پر طعن و تشنیع لے کر آتے ہیں۔ ان میں سے تو کچھ اس چیز کی خواہش بھی رکھتے ہیں کہ ہم پھر سے کفروارتدار کا ارتکاب کر لیں، صرف اس وجہ سے کہ یہ لوگ اس بات کو بیان کر سکیں کہ دیکھا ! ہم لوگ سچے تھے۔ اللہ کی قسم! میں اس چیز کو محسوس کرتا ہوں کہ یہ اس چیز کے خواہشمند ہیں کہ ہم کفر کا ارتکاب کر لیں۔ اللہ المستعان۔

اگر وہ اس تحریر کو کامل پڑھ لیں، ان کے پاس میرے الفاظ کے سمجھنے کے حوالے سے اور کوئی صورت کا سامنا نہ کرنے پڑے گا سوائے اسکے جس کا سامنا آپ نے کیا۔ اس معاملہ میں فقط یہ بیان کیا جا سکتا ہے کہ یہ اچھا تھا سوائے اُن الفاظ کے جو شیخ اسامہؒ  سے متعلق بیان ہوئے۔ یہی بات حقیقت ہو گی۔

میرے محبوب بھائی، میں اس سچ کو بیان کروں گا جس کو سننا لوگ نا پسند کرتے ہیں، چاہے معاملہ کسی سے متعلق بھی ہو۔ چاہے وہ حکومتیں ہوں، تنظمیں ہوں، اہل غلو ہوں، میرے دوست ہوں،میرے گھر والے ہوں یا میرے بھائی ہوں۔
میں نے ابو بکر صدیقؓ سے متعلق سب سے بڑی آزمائش سے متعلق تدبر کیا، تو میں اس معاملہ میں ابو بکر صدیقؓ کے  سیدنا فاطمہؓ سے متعلق اختلاف کو سب سے بڑھ کر پاتا ہوں کیونکہ ان کو سیدنا فاطمہؓ سے بھی محبت تھی، ان کے والد گرامی محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) سے بھی محبت تھی،  ان کی یہ آزمائش تھی کہ انہوں نے سیدنا فاطمہؓ کو غضب میں صرف اس وجہ سے مبتلا کیا کیونکہ وہ حق کو جانتے تھے۔

یہ وہ بات ہے جو میرے پاس  بیان کرنے کے حوالے سے موجود تھی۔ میں نے یہ اس لیے بیان کیا کیونکہ میں آپ کے بارے میں یہی رائے رکھتا ہوں کہ آپ حق بات کی اتباع کرنے کی خواہش رکھتے ہیں، آپ کی خواہش  حق کی اتباع میں میری محبت سے بڑھ کر ہے۔ آپ میرے لیے صرف یہی پسند کرتے ہو کہ میں سچ بات بیان کر دوں اور مجھ سے غلطی سرزد نہ ہو۔اگر مجھ سے غلطی ہو تو میں اس بات کو محبوب رکھتا ہوں کہ حق بات سے رجوع کر لوں۔

والحمد لله رب العالمين.
انتھی

بدھ، 5 نومبر، 2014

محسنِ امت شیخ اسامہؒ کا مسئلہ تکفیر کے موضوع پر بیان

مسئلہ تکفیرکو علمائے حق کے لیے چھوڑ دیں!
محسنِ امت شیخ اسامہؒ کا مسئلہ تکفیر کے موضوع پر بیان

اہل السنۃ والجماعت کا یہ عقیدہ ہے کہ جب انسان دین (اسلام)میں یقین کے ساتھ داخل ہوتا ہے، توبعینہٖ یہ دین سے بغیر یقین کے خارج نہیں کیا جا سکتا!مسلمانوں سے متعلق اصل یہ ہے کہ وہ مسلمان ہی ہیں، یہ ہرگزجائز نہیں ہے کہ ان کی تکفیر کی جائے بلکہ یہ تو مذہبِ خوارج کی علامات میں سے ہے، ولا حول ولاوقوۃ الا باللّٰہ (نہیں ہے نیکی کرنے کی طاقت اور برائی سے بچنے کی طاقت مگر اللہ کے اذن سے)۔

حدیثِ صحیح میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
’’جب کوئی شخص اپنے بھائی سے کہتا ہے کہ اے کافر!تو یہ (تکفیر)ان میں سے کسی ایک کی طرف ضرور لوٹتی ہے۔ اگر جس کو اس نے کافر کہا ہے، وہ اگر کافر ہی تھا تو پس وہ تو کافر ہی کہلائے گا، لیکن اگر وہ کافر نہ ہوا، تو یہ تکفیر اسی کی طرف واپس لوٹے گی، جس نے یہ جملہ کہا ہے ‘‘۔

پس مسئلہ (تکفیر)کی اس قدرحساسیت کی بناپریہ معاملہ بہت ہی خطرناک ہے، بہت ہی خطرناک ہے، بہت ہی خطرناک ہے اور خاص طور پر تکفیرِ عام کے معاملہ میں اور بھی خطرناک ہے۔ اس معاملہ میں آپ لوگ اللہ کا تقویٰ اختیار کریں، ہم اللہ تعالیٰ کی جانب سے جس نصرت کا انتظار کر رہے ہیں، بلاشبہ اُس کا کامل اختیاراللہ تعالیٰ ہی کے ہاتھ میں ہے، اوراُس کے ہمارے لیے حصول کا ذریعہ صبر اور تقویٰ میں مضمر ہے۔

إِن تَصْبِرُوا وَتَتَّقُوا
’’اگر تم صبر و پرہیزگاری اختیار کرو‘‘

اگر آپ صبر کریں اوراللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہیں تو ان (کفار)کی منصوبہ بندی (مکروفریب)آپ کو کچھ نقصان نہ پہنچائیں گی۔۔۔لہٰذا میں یہ بات زور دے کر اوربتکرارکہوں گا کہ آپ کی جانب سے مسلمانوں کی تکفیر کرنا بڑے گناہوں میں سے ہے اور ان کبائر میں سے ہے جن کے گناہ کاوبال بہت زیادہ ہوتا ہے۔سو! اپنی زبانوں کو روک لیجیے!

ایک حدیث میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا:
’’اللہ تعالیٰ تمہارے لیے تین چیزوں کو پسند فرماتا ہے، کہ تم اس کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراو، اور تم اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ نہ کرو‘‘۔

پس یہ حکمِ اول جو بیان ہوا ہے، اس پر عمل بیان کردہ آخری نصیحت کو تھامیے بغیر ممکن نہیں!اور وہ کیا ہے؟ وہ ہے جماعت کو لازم پکڑنا۔۔۔مطلب اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ نہ کرو۔
شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے اس حدیث سے متعلق بیان فرمایا : ’’اس کے اندر اسلام کے اصول کو بیان کیا گیا ہے کہ تم اللہ کی عبادت کرو،اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ ، اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو، تفرقہ نہ کرو، اور پھر تم اان تمام امور سے بخوبی آگہی کے بعد اس متعلق دوسروں بھی نصیحت کرو ‘‘۔لہٰذا آپ لیے یہ نصیحت ہے، یہ نصیحت تمہیں بھی ہے اور تمہارے امراکے لیے بھی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث میں وارد ہوا:

’’ وہ (اللہ)تمہارے لیے تین چیزوں کو ناپسند فرماتا ہے:قیل و قال، کثرتِ سوال اور اموال کا ضیاع‘‘۔

ان تین چیزوں کی شدید نصیحت کرتا ہوں، پہلے بیان کردہ حدیث میں مذکور احکامات کا تعلق اصولِ اسلام سے ہے، جن کے اوپر دین کھڑا ہوتا ہے۔۔۔مذکورہ بالا حدیث میں واردامورعماد الدین ہیں۔۔۔قیل و قال اور کثرتِ سوال اور مالوں کو ضائع کرنے سے باز رہنا چاہیے۔۔۔

اگر آپ اس خاص معاملہ (تکفیر)سے متعلق جانناچاہیں تو اہل علم سے پوچھیں، جو ضوابطِ تکفیر کاپختہ علم رکھتے ہیں ہیں، پھر اس معاملہ کو ان سے پوچھنے کے بعد آپ اس کو اپنے بھائیوں میں بیان کردیں، تو کوئی حرج نہیں ہے۔جس نے قرآن و سنت کے عین مطابق کسی کی تکفیر تو یہ جائز ہے، بشرطیکہ اگروہ ان احکامات کی صحیح تطبیق کرنے کی اہلیت سے متصف ہو۔ جہاں تک اس تکفیر کا مسئلہ ہے جو نص سے ثابت ہے جیسا کہ ابوجہل کو کافرسمجھنا،یہ تو دلیل سے ثابت ہے، ابوجہل کوکافرنہ سمجھنے والا کوئی فرد مومن کیونکر ہوسکتا ہے؟۔۔۔

لیکن جہاں تک دیگرمعاملات میں تکفیر کا سوال ہے، جیسا کہ نواقصِ اسلام کا تذکرہ آ جاتا ہے، یہ مسئلہ حساس بھی ہے اور تفصیل طلب بھی۔ مثلاً اگر کوئی مسلمان کفریہ فعل کاارتکاب کر لے،تو محض کفریہ فعل کا مرتکب ہونے پر اُس کی تکفیر نہیں کی جاسکتی! جہالت ،اکراہ سمیت دیگر عذرپیش نظر رکھنا انتہائی ضروری ہے۔لہٰذا یہ مسائل تو انتہائی تفصیل طلب ہیں جن کی استطاعت عامی بھائیوں میں نہیں ہوتی ہے، کہ انہیں کما حقہ سیکھ سکیں اور پھر اس میں مہارت حاصل کر سکیں۔ لیکن یہ المیہ ہے کہ ہم ان معاملات کو عام امور کے زمرے میں ہی گمان کرکے ان پر خوب گفتگو کرتے ہیں! 

کوئی بھی گروہ جو کہ نواقضِ اسلام کامرتکب پایا جائے،چاہیے کہ اُس کو نصیحت کی جائے، اور اس کو بار بار دہرایا بھی جاتا ہے،اس کے باوجود بھی اگر وہ اپنی ڈگر پرقائم رہیں اور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے جنگ کریں ، پھر ہم یہ بات کہتے ہیں اس گروہ یا اس نظم نے اللہ کے دین سے ارتداد اختیار کر لیا ہے۔۔۔ اکثر بھائی بہت دفعہ یہ سوال بھی ہم سے کرتے ہیں کہ فلاں نے یہ کیا اور فلاں نے یہ، بعض لوگوں کے حالات اور کیفیات کا ہمیں مکمل ادراک نہیں ہوتااوراُن کے ظاہری افعال کو دیکھ کر فوراًتکفیر کے حکم لگا دینا قطعی غیر مناسب ہے! شیخ محمد بن عبدالوہاب ؒ سے معروف ہے کہ جب انہوں نے اپنے زمانہ میں موجود کچھ حکام کی تکفیر کی، جو کہ اللہ کے قانون کے علاوہ فیصلہ کر رہے تھے۔۔۔بعض لوگ ‘ جو اپنے آپ کو علم نے منسوب کرتے تھے، انہوں نے ان حکام کا دفاع کیا ، تو شیخ ؒ نے ان کی جانب سے ایسے حکام کی دفاع کا رد کیا اور ان کو مسکت جواب دیا۔۔۔ یہ لوگ جو ایسے حکام کی تحسین ،مدح اور دفاع میں مصروف ہیں جو اللہ کی نازل کردہ شریعت کے مطابق فیصلہ نہیں کر رہا‘ایک درجے میں فسق کے مرتکب ہیں لیکن یاد رکھیں کہ فسق اور کفر کے درمیان ایک طویل اورلمبی مسافت ہے۔۔۔لہٰذا اللہ سے ڈریں، اور اس مسئلہ (تکفیر)کو علمائے حق کے لیے چھوڑ دیں!میں اپنے سمیت آپ سب کو کثرتِ ذکر اور دعا اور نعمتوں پر شکرگزاری کا کہوں گا، اور جو نعمت اللہ تعالیٰ نے دی اس پر باربارشکرگزاری کریں تاکہ اللہ پاک ہم سب سے راضی ہو جائیں۔جب بھی آپ زبان سے کوئی بات نکالیں تو اس سے قبل ضرورسوچیں کہ مجھے اس کلام کیا کیا فائدہ ہو گا، اگر آپ اللہ کی اطاعت کرنا چاہتے ہیں اور جہاد فی سبیل اللہ کرنا چاہتے ہیں، تو پھر ان مسائل میں جو آپ پر واضح نہیں ہیں، ان میں صرف تقویٰ اختیار کرنے کی ہی نصیحت ہوتی ہے، اور تقویٰ میں سے ہی ہے کہ آپ ان معاملات کی طرف ایسے کامل علم اور واقفیت احوال کے بغیرمت آئیں۔

ولا حول ولا قوۃ الا باللہ

بشکریہ: نوائے افغان جہاد

مسئلہ تکفیر کے معاملہ میں القاعدہ کے مجاہد عالم دین شیخ عطیۃ اللہ اللیبیؒ کا واضح موقف

سوال:
تکفیر کے مسائل کے حوالے سے ایک عام مجاہد کا،  جو کہ عالمِ دین نہ ہو، طرزِ عمل کیا ہونا چاہیے؟
جواب: 
( شیخ عطیۃ اللہ اللیبی رحمہ اللہ):

مسئلہ تکفیر ان حساس شرعی مسائل میں سے ہے جن کی خطرناکی سے  ہم ہمیشہ اپنے نوجوانوں کو خبردار کرتے رہے ہیں۔ ہم اپنے  مجاہد بھائیوں سے یہی کہتے ہیں کہ یہ  حساس مسائل اپنے معتمد علماء کے لیے چھوڑ دیں اور ہر ایرے غیرے کو ان مسائل میں کودنے کی اجازت نہ دیں۔ یہ تو علم کو وہ باب ہے جس کی نزاکت اور خطرناکی کے پیش ِ نظر اکابر علماء اور ائمہ کرام بھی اس کی بہت سی عملی صورتوں پر گفتگو کرنے اور  متعین افراد پر حکم لگانے سےگھبراتے (۱) تھے، اور ہمیشہ محفوظ راستہ اختیار کرتے تھے۔ ہمارے اسلاف تو کہا کرتے تھے کہ: ہمیں اپنا دین محفوظ رکھنے سے کوئی شے محبوب نہیں!

پس ایک عامی نوجوان کے لیے اتنا علم بہت ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ اور رسول اکرم ﷺ  کی لائی ہوئی تعلیمات پر اجمالی ایمان رکھے اور اسی طرح طاغوت سے اجمالاً انکار کرے۔ رہا ان امور کی تفصیلات میں جانا اور یہ جاننے کی کوشش کرنا کہ فلاں شخص کا حکم کیا بنتا ہے اور فلاں جماعت دین سے خارج ہے کہ نہیں؟۔۔۔ یا ایسی ہی دیگر تفصیلات میں اترنا، تو ان میں اپنے علمی مقام کو سامنے رکھ کر ہی بات کرنی چاہیے، اس لیے یہ مسائل، فتوے اور شرعی قضاء سے تعلق رکھتے ہیں۔ پس جسے ان ابواب کا علم نہ ہو وہ خاموش رہے یا کہہ دے کہ ‘مجھے نہیں معلوم!’، ایسا کہنے سے اس کے ایمان میں،  اس کے دین میں کوئی کمی واقع نہیں ہوتی، بلکہ یہی رویہ اختیار کرنا ایمان کا عین تقاضا ہے۔

کسی جاہل کو یہی حق نہیں پہنچتا کہ وہ ان مسائل میں زبان کھولے یا لوگوں پر احکامات منطبق کرے یا کسی  شخص کے کافر ہونے کے معاملہ میں اپنی ایک مستقل رائے رکھے، سوائے اس صورت میں جب وہ کسی عالم کی اتباع و تقلید کرتے ہوئے ان کی رائے دہرا رہا ہو۔ دین کا علم نہ رکھنے والے شخص کا کام تو یہی ہے کہ اگر اس سے ایسے مسائل میں رائے مانگی جائے تو صاف کہہ دے کہ: ‘ مجھے نہیں معلوم، جاؤ جا کر علماء سے پوچھو!’ پھر اگر کوئی ثقہ عالم کسی شخص یا جماعت کے بارے میں نام لے کر ان کی تکفیر کر دے تو ان کی اتباع اور تقلید کرتے ہوئے ان کی رائے دہرا دینا اس عامی کے لیے جائز ہے۔  اور بلاشبہ اللہ  تعالیٰ ہی ہر بھلائی کی توفیق دینے والے ہیں۔

(لقاء  مع الشیخ عطیۃاللہ اللیبی رحمہ اللہ، الحسبۃ (عربی) جہادی فارم)
مصدر : مجلہ حطین ۸

(ا) یہاں یہ نکتہ واضح رہنا ضروری ہے کہ تکفیر کی نظری بحث اور تکفیر کے حکم کی عملی تطبیق دو علیحدہ چیزیں ہیں۔  علماء کی بہت کثیر تعداد تکفیر کی نظری بحث پر بات کرتی رہی ہے اور عوام الناس کو بھی یہ نظر ی بحث پڑھاتی رہی ہے، لیکن تکفیر کے حکم کوعملاً کسی فرد یا جماعت پر چسپاں کرنا وہ کام ہے جو کلیتاً علماء ہی کے سپرد ہوتا ہے،  عامی کو کوئی حق نہیں ہے کہ وہ اس میں دخیل ہو۔ مثلاً اس دور میں اجمالاً یہ بات جاننا تو ایک عامی کے لیے بھی نہایت اہم ہے کہ جمہوریت اسلام سے علیحدہ ایک مستقل دین ہے اور اپنے بنیادی اصولوں کے اعتبار سے صریح کفر ہے۔ لیکن اس نظری حکم کو لے کر جمہوریت میں اترے کسی متعین فرد یا جماعت پر کفر کا فتویٰ چسپاں کر دینا، یہ وہ کام ہے جس سے ایک عامی کو (یعنی ایسے شخص کو جو عالم نہ ہو) کوسوں دور رہنا لازم ہے۔

جمعہ، 31 اکتوبر، 2014

شام کی طرف ہجرت کرنے والے مہاجرین کے نام ضروری پیغام

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الحمد لله وحده، والصلاة والسلام على من لا نبي بعده، وبعد،

شام میں حالیہ ہی ہجرت کرنے والے ایک بھائی نے شام سے محبت کا اظہار مجھ سے ان الفاظ کے ساتھ کیا:
[مجھے شام سے بہت قریبی محبت ہو چکی ہےاور میں اس چیز کو پسند کرتا ہوں کہ اپنی بقیہ زندگی بھی ادھر ہی گزار دوں]

میں نے اس سے کہا:
[تم مجھے ایک چیز کی ضمانت دے دو، میں تمہیں باذن اللہ اس چیز کی ضمانت دے دوں گا جو تمہیں محبوب ہے]

اس نے جواب دیا:
[میں دس چیزوں کی ضمانت دینے کے لیے بھی تیار ہوں!]

میں نے پھر اُس سے کہا:
[نہیں،  بلکہ صرف ایک ہی چیز کی ضمانت کافی ہے؛ اور وہ یہ ہے کہ تم جو اپنے ہتھیاروں کا رخ اہلِ شام کے چہروں کی جانب نہیں کرو گے۔۔۔اہلِ شام سے نہیں لڑو گے۔۔۔، ان کے اہل و عیال،  مسلمانوں اور جن لوگوں کا تم دفاع کرنے کی غرض سے شام آئے ہو، انکے خلاف نہیں لڑوگے]

اس نے جواب دیا:
[کیا ایسا ممکن ہو سکتا ہے؟ یہ تو ناممکن بات ہے]

میں نےاُ س سے کہا:
[ہاں، بالکل ایسا ممکن ہے؛ ہم نے یہ پہلے بھی بقیہ علاقوں میں ہوتے دیکھا ہے، کوئی وجہ نہیں ہے کہ شام کو اس معاملہ میں استثنا حاصل ہو۔اب اِن گزرتے ایام نے  ہمارے اس خدشے کو واضح کر دیا ہے جس سے متعلق ہم ڈر رہے تھے، اور مسلسل  تنبیہ کر رہے تھے ، اس امید کے ساتھ کہ اس سے بچا جا سکے گا، تاہم بدقسمتی سے اس کی توقع ضرور تھی۔ اب یہ معاملات مسلسل اور بڑے پیمانے پر ہونے لگےہیں ، یہاں تک کہ ان پر قابو پانا  بھی اب مشکل ہوتا جا رہا ہے، اندرونِ خانہ مختلف وجوہات اور اسباب کی بنا پرلوگ قتل ہو رہے ہیں، جن میں اکثریت کا قتل ہونا بے بنیاد ہے، اور جن کا معاملہ درست ہے وہ  بھی غلط اہداف  کو پورا کرنےکے لیے استعمال میں لائے جا رہے ہیں]

میرے پیارے مہاجرین بھائیو، جو شام اور اہل شام کے دفاع کے لیے یہاں پر آئے ہو، اس بات کو ذہن نشین کرلو کہ جب تک تمہارے اسلحے کا رخ طاغوت بشار الاسد اور اس کے مجرم حمایتیوں کی جانب ہے، تو پھر اہل شام تم سے اور تمہارے جہاد سے سب سے زیادہ خوشی محسوس کرنے والے ہیں ، وہ آپ کو سراہیں گے اور آپ کی قربانیوں کو بہت تحسین کی نگاہ سے دیکھیں گے۔ تاہم اگر تمہارے اسلحے کا رخ اہل شام کے سینوں کی جانب ہو گیا، چاہے وہ دعوی کسی بھی قسم کا ہو، اور تم نے  طاغوت اور اسکے  شریر رافضہ اتحادیوں کی تلواروں کے ساتھ ساتھ اپنی تلواروں کا رخ بھی  اہل شام کے سینوں کی جانب کر لیا ؛ اور اہل شام پر تمہارا ظلم اور طاغوت کا ظلم جمع ہو گیا، تو بلاشبہ اہل شام تمہارے یہاں آنے پر بہت ہی بدنصیب سمجھیں جائیں گے۔ ہم اس چیز کو سخت نا پسند کرتے ہیں کہ آپ اپنے اعمالِ خیر کو اعمالِ بد میں بدڈالیں یا پھر آپ اپنے اچھے اعمال کے اوپر بد اعمال کی مہر ثبت کر لیں۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
[اور جو کوئی کسی مسلمان کو جان کر قتل کرے اس کی سزا دوزخ ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا، اس پر الله کا غضب اور اس کی لعنت ہے اور الله نے اس کےلیے بڑا عذاب تیا رکیا ہے]  (النساء: ۹۳)

مزید براں، صحیح مسلم میں  رسول اللہ ﷺسے ثابت روایت میں بیان ہوتا ہے:
[ہر مسلمان کا دوسرے مسلمان پر سب کچھ حرام ہے، اس کا مال،عزت اورجان، اس شخص کے اندر وافر شر موجود ہے جو اپنے مسلمان بھائی کو رسوا کرے] (صحیح مسلم)

رسول اللہﷺ نے یہ بھی ارشاد فرمایا:
[میرے بعد دوبارہ کافر نہ ہو جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو] (متفق عليه)

رسول اللہﷺ نے یہ ارشاد فرمایا:
[مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں، مہاجر وہ ہے جو اللہ کی طرف سے حرام کی ہوئی چیزوں سے اجتناب برتے](صحیح بخاری)

رسول اللہﷺ نے یہ ارشاد فرمایا:
[ مسلمان کو گالی دینا فسوق (نافرمانی) ہے اور اس سے لڑائی کرنا کفر ہے] (متفق عليه)

رسول اللہﷺ نے یہ ارشاد فرمایا:
[ مومن اس وقت تک دین کی دی ہوئی آزاد فضاؤں  سے محضوض ہوتا رہتا ہے جب تک کسی ناحق خون سے اپنے ہاتھ رنگین نہیں کرلیتا] (صحیح بخاری)

رسول اللہﷺ نے یہ ارشاد فرمایا:
[جو کوئی کسی مومن کو نقصان پہنچائے گا،اس کا کوئی جہاد قبول نہیں کیا جائے گا]  (صحیح الجامع: ۶۳۷۸)

یہ تو اس شخص کی حالت کا بیان ہے جو  کسی مومن کو ’نقصان‘ پہنچائے گا، پھر اس شخص کا معاملہ کیا ہو گا جو اپنا اسلحہ بھی اپنے مومن بھائی کی طرف کرے اور اسے قتل بھی کر دے۔۔۔؟

رسول اللہﷺ نے یہ ارشاد فرمایا:
[جو شخص اپنے بھائی کی طرف ہتھیار سے اشارہ کرتا ہے فرشتے اس پر اس وقت تک لعنت کرتے ہیں جب تک وہ اس اشارہ کو ترک نہیں کرتا ] (السلسلة الصحيحة: ۳۹۷۳)

بنابریں، رسول اللہ(صلی اللہ علیہ وسلم) نے کعبہ کی طرف ایک مرتبہ دیکھا اور یہ ارشاد فرمایا:
[اے کعبہ!  تجھ پر سلامتی ہو، تو کتنا عمدہ ہے ، تو کتنا عظیم المرتبت ہے اور تیری حرمت کتنی زیادہ ہے،بلاشبہ مومن کی حرمت اﷲکے نزدیک تیری حرمت سے زیادہ ہے،اللہ تعالیٰ نے تیری ایک چیز کی حرمت کو بیان فرمایا ہے اور ایک مومن کی حرمت سے متعلق تین چیزوں  کا لحاظ رکھا ہے،اس کی جان،مال اور اس  کی عزت سے متعلق سوئے ظن سے کام لینا] (السلسلة الصحيحة: ۳۴۲۰)

میرے پیارے مہاجر بھائیو، تمہیں ایک فتنہ کی لڑائی کی دعوت دی جائے گی جو کہ مجاہدین اور انقلابیوں  کےمابین ہو گی۔ اس جنگ کا حصہ نہ بننا۔ اس چیز کا انکار کر دینا جس سے تم اور تمہارا دین داغ دار  ہو۔ اپنے سفید پاکیزہ ہاتھوں کو اس سے مت رنگنا،بلکہ اس سے فرار اختیار کرنا بلکل اسی طرح جس طرح ایک صحت مند شخص ایک کھجلی والے بیمار شخص سے دور بھاگ جاتا ہے۔تم اس لیے یہاں نہیں آئے ہو، نہ ہی یہ وہ چیز ہے جس کے لیے تم جدوجہد اور قتال کر رہے ہو۔ اگرچہ تمہیں اپنے ہتھیاروں کو توڑنا پڑے، اپنے گھروں میں پسپائی اختیار کرنی پڑے اور تمہیں اپنے ہاتھ میں لکڑی کی تلواریں ہی کیوں نہ لینی پڑیں، پس اگر کر سکو تو ضرور  کر لینا۔ مزیدبراں، اگر تم سمجھو کہ اس  فتنہ سے بچنا بغیر اپنے ملکوں کی طرف واپس ہجرت کیے بغیرممکن نہیں، تو پھر ضرور یہ کام کر لو، یہ تمہارے لیے اور تمہارے دین کے لیے زیادہ بہتر  اور قابلِ عزت ہےچہ جائیکہ کہ تم مسلمانون کے مابین فتنہ کی لڑائی کا حصہ بن جاؤ، اور اپنے پاکیزہ ہاتھوں کو جو وضو  سے پاک ہوتے ہیں کو  بے گناہ لوگوں اور ناحق خون سے رنگ لو۔ اگر تمہیں اس کے برعکس امر کیا جائے، جو کہ تمہیں ضرور کیا جائے گا، تو اپنے امیر کی اطاعت مت کرنا، چاہے وہ کوئی بھی ہو اور اس کو کوئی بھی  مقدس دعوی ہو اور اس بات کو  اچھی طرح جان  لو کہ اللہ کی معصیت میں مخلوق کی اطاعت جائز امر نہیں ہے۔

یہی وہ موقف ہے جو رسول اللہ ﷺ نے ہر مسلمان کو اپنانے کی  ترغیب دلائی ہے۔ رسول اللہﷺ نے یہ ارشاد فرمایا:
[اگر مسلمانوں کے مابین فتنہ کھڑا ہو جائے، تو  اپنے ہاتھ میں لکڑی کی تلواریں تھام لو] (صحیح الجامع: ۷۶۰)

رسول اللہﷺ نے یہ ارشاد فرمایا:
[بلاشہ فرقہ واریت اور اختلاف ہو گا ، اگر ایسا ہو جائے تو اپنی تلواروں کو توڑ دینا، ایک لکڑی کی تلوار لینا اور اپنے گھروں میں بیٹھ رہنا حتیٰ کہ تم کسی حادثہ میں جاں بحق ہو جاؤ یا تمہیں موت اس حالت میں آ لے] (صحیح الجامع: ۲۳۹۲)

عديسة بنت أهبان الغفاري سے روایت ہے، جب حضرت علیؓ بن طالب بصرہ میں تشریف لائے، تو وہ میرے والد صاحب کے ہاں تشریف لائے اور کہا: ’ابو مسلم، کیا تم میری حمایت ان لوگوں کے خلاف نہ کرو گے( اس سے ان کا قصد اہل شام، معاویہؓ اور ان کے اصحاب سے جنگ تھی)؟‘ انہوں نے جواب دیا: ’ جی کیوں نہیں! اور اپنی باندی کو آواز دی اور کہا: ’اے باندی، مجھے میری تلوار دے دو‘، غلام عورت نے وہ تلوار ان کے حوالے کر دی، اور پھر انہوں نے اس تلوار کو نیام سے اتنا نکال لیا کہ یہ واضح ہو گیا کہ تلوار لکڑی کی ہے۔ پھر انہوں نے کہا: ’میرے محبوب اور آپ کے چچازاد (صلی اللہ علیہ وسلم) نے مجھے یہ نصیحت فرمائی تھی: ’ اگر مسلمانوں کے مابین فتنہ ظاہر ہو جائے تو لکڑی کی تلوار تھام لینا‘، اگر تم مجھ سے مدد لینے کا ارادہ رکھتے ہو، تو میں اس کے ساتھ ہی تمہارے ساتھ چلنے کو تیار ہوں‘، سیدنا علیؓ نے جواب دیا:’ مجھے تمہاری اور تمہاری تلوار کی کوئی حاجت نہیں ہے‘۔ (صحیح سنن ابن ماجہ:۳۲۱۴)


اپنی محبت اور مخلصی کے ساتھ تمام دیانتداری کے ساتھ یہ بات میں آپ سے بیان کرتا ہوں، مجھے یہ بات کہنا پڑے گی کہ میں نے آپ کے معاملہ میں تکفیر میں غلو کو دیکھ رہا ہوں، جس کے اندر دوسرے افراد کی تکفیر کی سعی ہوئی ہے اور دوسرے اللہ کے بندوں سے متعلق سوئے ظن رکھنے کی عجلت بھی شامل ہے۔ یہ بہت بڑے شر کا معاملہ ہے جس سے متعلق میں آپ کو تنبیہ کرتا ہوں کیونکہ اس کے نتائج بہت ہی بھیانک ہیں۔ چونکہ  دوسروں پر تکفیر میں شدت پسند رحجانات  دکھانے کا پیش خیمہ عام طور پر دھماکے، قتل و غارت اوربغیر حق کے حقوق کا غصب ہونا ہی بنتے ہیں، روزِ حساب میں ملنے والی سزا اس کے علاوہ ہے،  یہ بات رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) سے ثابت ہے  جب انہوں نے فرمایا:
[جس کسی نے اپنے مسلمان بھائی کو کہا: اے کافر، پس  یہ اسے قتل کرنے کے مترادف ہے، اور مومن پر لعنت کرنا اس کو قتل کرنے کی مانند ہے] (صحیح بخاری)

رسول اللہﷺ نے یہ ارشاد فرمایا:
[جس کسی نے دوسرے مسلمان کواے کافر یا ’اللہ کے دشمن‘ کہا، اور وہ شخص ایسا نہ تھا، تویہ بات اس شخص پر جس نے بیان کی ہے واپس لوٹ جائے گی] (صحیح مسلم) (صحیح مسلم)

یہی وہ بات ہے جس کو بیان کرنے کا میں ارادہ رکھتا تھا اور اسی سےمتعلق نصیحت بھی مطلوب تھی۔
[میں یہ نہیں چاہتا کہ جس کام سے تجھے منع کروں میں اس کے خلاف کروں میں تو اپنی طاقت کے مطابق اصلاح ہی چاہتا ہوں اور مجھے تو صرف الله ہی سے توفیق حاصل ہوتی ہے میں اسی پر بھروسہ کرتا ہوں اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں ] (ھود: ۸۸)

عبدالمنعم مصطفی حلیمہ
ابو بصیر الطرطوسی
13.07.2013

www.abubaseer.bizland.com
http://www.altartosi.net