اتوار، 15 مارچ، 2015

جماعتِ بغدادی کے ساتھ ہمدردی اور مجاہدینِ شام کے لیے نصیحتِ عامہ اور مجاہدینِ غوطہ کے لیے نصیحتِ خاصہ

بسم اللہ الرحمن الرحیم
جماعتِ بغدادی کے ساتھ ہمدردی اور
مجاہدینِ شام کے لیے نصیحتِ عامہ اور مجاہدینِ غوطہ کے لیے نصیحتِ خاصہ

شیخ ابو قتادہ فلسطینی حفظہ اللہ

سوال:
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ،

اے ہمارے محبوب شیخ، اللہ تعالیٰ آپ کو زندگی دے، ہم اللہ تعالیٰ سے سوال کرتے ہیں کہ آپ کو خیر و برکت عطا فرمائیں،اے ہمارے شیخ، اللہ تعالیٰ آپ کی حفاظت فرمائیں اور آپ میں اور آپ کے علم میں برکت عطا فرمائیں،ہم غوطہ شرقیہ(شام کے علاقہ کے نام) میں جبھۃ النصرہ کے لشکر کا حصہ ہیں، جن کو اپنے کچھ بھائیوں سے جو جماعتِ بغدادی کے ساتھ ہمدردی رکھتے ہیں کے ساتھ تحمل کا معاملہ کرنا پڑتا ہے،ہمیں آپ اِس ہمدردی کرنے کے معاملہ سے متعلق کسی حل سے آگاہی دیجیے۔

اے ہمارے محبوب شیخ ، اللہ تعالیٰ آپ میں اور آپ کے علم میں برکت عطا فرمائیں،ہم آپ سے یہ بھی التماس کریں گے کہ آپ اپنے غوطہ شرقیہ کے بیٹوں کو نصیحت کریں تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق کویاد رکھیں اور اس کو مضبوط کریں،اور آپ پریہ بات چھپی ہوئی بھی نہیں ہے کہ غوطہ کے مجاہدین تقریباً ڈیڑھ سال سے زائد عرصہ سے یہاں پر محاذ پرموجود ہیں۔ اے ہمار ےمحبوب شیخ، اللہ تعالیٰ آپ میں اور آپ کے علم وعمل میں برکت عطا فرمائیں۔ (آمین)

جواب:
و علیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ،

خوش آمدید اے محبوب بھائیو اوردورِ حاضر کے بہترین لوگو، اور یہ مجاہدین فی سبیل اللہ ہیں، میں کتنا ہی خوش ہوں جب آپ کے پیغام کو اپنی طرف آتا دیکھتا ہوں، جس سے آپ مجھ سے مخاطب ہوتے ہو، اور اللہ کی قسم! آپ کا یہ جہاد تب تک جاری رہے گا جب تک آپ کے سپاہی بیت المقدس میں داخل نہیں ہو جاتے، باذن اللہ، اور آپ کو یہی کہوں گا کہ آپ کو کوئی فتنہ اس معاملہ سے دور رکھنے سے باز نہ رکھے جبکہ آپ اپنے اندر اس خیر کو بھی دیکھتے ہیں، اور فتنے تو نیک بندوں کی درجہ بندی کے لیے ہوتے ہیں، حتی کہ یہ معاملہ تو نماز کے اندر بھی ہوتا ہے جیسا کہ آپ جانتے ہیں، اور یہ فتنہ تو لوگوں کے اندر درجہ بندی کی معرفت حاصل کرنے کے لیے ہیں اور اِن کے مرتبہ کو دیکھنے کے لیے ہیں اور جو کچھ اِن کے دلوں میں ہے اس کو واضح کرنے کے لیے ہے، جیسا کہ آپ نے دیکھا کہ بازارِ خیر تو ہمیشہ کھلے ہیں جیسا کہ افغانستان، شیشان و یمن میں ہیں، اور ان سے وہی فیض پا کر نکلے ہیں جنہوں نے خود کو طاعت وجہاد میں مشغول رکھا، اور یہی وہ لوگ ہیں جن کے لیے اللہ تعالیٰ نے شہادت یا امامت میں سے ایک چیز کو چن لیا ہے، اور یہ بات ذہن نشین رہے کہ آپ کا آج جہادِ غوطہ، بیت المقدس سے پتھر پھینکے جتنی مسافت کے قریب ہے، بلاشبہ کیا ہی خیر ہے جس پر آپ اِس وقت موجود ہیں، اور اللہ کی قسم، ہر عاقل شخص آپ کے اس مرتبے کی وجہ سے آپ سے ضرور حسد رکھے گا، اور آپ کے مقام کو پانے کی تمنا کرے گا، لیکن ہمیں زندگی نے یہ سکھایا ہے کہ جو شخص جس نعمت میں زندگی گزارتا ہے اور اس میں بہت اتر جاتا ہے وہ اس کی عزمت کو خود جاننے سے قاصر رہتا ہے، جیسا کہ اُس شخص کی حالت ہوتی ہے جو خوشبو لگاتا ہے، وہ خود اس کے اِحساس سے محروم رہتا ہے جب کہ اس کے اردگرد لوگ اس سے لطف اندوز ہوتے ہیں، اسی لیے جہاد و اذکار اور مسلمانوں کے لیے دعا کے علاوہ اپنے آپ کو کسی بھی چیز سے مشغول نہ رکھیں۔

آپ پر واجب ہے کہ آپ مسلمانوں سے رحمت کا معاملہ رکھیں اور ان کے ساتھ بردباری سے پیش آئیں کیونکہ ہماری امت کو طواغیت کے ہاتھوں بہت کچھ برداشت کرنا پڑا ہے، اور اِن کے درمیان جہالت اور غلطیاں کو پھیلایا گیا ہے، اِن کے معاملے میں صبر سے کام لیں حتی کہ یہ دین کی طرف آ جائیں، اور ان کے ساتھ شدت سے پیش نہ آئیں کہ یہ آپ سے دور ہو جائیں اور آپ اِس چیز کا علم رکھتے ہیں کہ یہ جہاد امت کا جہاد ہے، نہ کہ کسی خاص گروہ یا جماعت کا جہاد ہے، اور مقاصدِ جہاد اِن امور پر عمل کیے بغیر ممکن نہیں ہو پائیں گے، یعنی کہ تمام امت اِس میں اپنا حصہ ڈالے، اور آپ پر یہ بھی لازم ہے کہ آپ آپس میں محبت والفت اوررواداری سے کام لیں، اور شیطان کی پیروی نہ کریں کہ وہ اپنے بھائیوں اور احباب میں تفریق پیدا کردے ، بلکہ صبراور حلم اور آپس میں میں ایک دوسرے کے لیے نماز میں اور خفیہ بھی دعاگو رہیں، اے محبوب بھائیو، آپ ایک واجب الوقت کو ادا کرنے کے لیے نکلے ہیں، اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس پر ثابت قدم کیا ہےجبکہ باقی کثیر لوگ اِس سے محروم رہے، اور آپ اس مقام پر آ گئے جس کی باقی تمنا کرنے لگے لیکن وہ یہ نہ بن پائے، پس خود کو اللہ تعالیٰ کی نظروں کے سامنے رسوا مت کریں، جس طرح اللہ تعالیٰ نے آپ کو خیر عطا کی، پس اُس خیرکو خود سے دور مت کریں، اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو شہادت کی منزل پر لا کھڑا کیا ہے اور یہ ایک عظیم عبادت ہے، پس اپنی پیٹھ پھیرکر پیچھے مت ہٹنا، اور اللہ کی قسم، ہم نے جس منزل پر آپ ہیں، وہاں سے لوگوں کو واپس ہوتے دیکھا ہے اور ہمیں اُن کے چہرے پر سوائے ہزیمت اور چھوٹے پن کے کچھ نہیں دکھا اور ذلت ان پر چھا گئی جیسے ہی انہوں نے جہاد کو چھوڑا ،جو اسلام کی چوٹی ہے، اور وہ دنیا کے مردار کے طرف آ گئے، اور ممالک کے خبث کو دیکھ لیا اور اپنے نفس کی حقارت اور لوگوں کی طرف سے اہانت کو برداشت کرنے لگے، اور یہ بات بھی بہت ہی عجیب ہے کہ جس نے بھی جہاد کو چھوڑا اور واپس ہوا، لوگوں نے اُن کے جھوٹ اور تضاد اور کلام میں تناقص کو دیکھ لیا، اور تمام لوگوں نے یہ بات بھی بیان کر دی کہ یہ جہاد سے واپس ہونے والے بزدل ہیں،اور جہاد فی سبیل اللہ تعالیٰ کے انجام سے ڈرتے ہیں۔

جہاں تک ان شدت پسند غالیوں کا تعلق ہے، جو گمراہ(ابو بکر) بغدادی کی اتباع کرتے ہیں، تو اللہ کی قسم، یہ ایک فتنہ ہے جس سے سوائے جاہل یا ادنیٰ ہی مرعوب ہوئے ہیں، اور بھائیوں نے دیکھا کہ اِن لوگوں کو جو اس جماعت ِ بغدادی میں گئے، تو اُن میں کوئی بھی ایسا شخص نہیں جو اپنے دین کی حمیت، یااپنے اخلاق یا اپنے علم میں معروف ہو، بلکہ ان کے اندر وہی گمراہ گئے جواپنی بداخلاقی اور خطابِ غلو اورمخلوق اور بھائیوں پر تکبرجیسا معاملہ کرنے والے لوگ تھے، پھر اس کے بعد آپ نے اے محبوب بھائیو، یہ بھی دیکھ لیا کہ کہ کوئی بھی شریعت کا معروف طالب علم اِن(جماعتِ بغدادی) کی طرف نہیں گیا ہے، ان کے درمیان سوائے جہالت کے اور کوئی چیز نہیں ہے، پھر انہوں نے شر کو بڑھایا اور اِن کے فتنۂ تکفیر کی زد میں مسلمان اور مجاہدین سامنے آئے، پھر اُن کو قتل کیا اور اُن کے خلاف قتال بھی کیا، تو پھر کیا یہ اہل سنت کا اخلاق ہے؟ یا کسی ہدایت یافتہ شخص کی خصوصیت ہے؟ اور اللہ کی قسم اور پھر اللہ کی قسم، میں ہمیشہ اللہ تعالیٰ سے اِن (غالیوں) سے متعلق استخارے (مدد)کا طالب رہتا ہوں، پھر اس کے بعد اِن سے متعلق سوائے اس بصیرت کے کسی بات میں اضافہ نہ ہوا کہ یہ جہنم کے کتے(خوارج) ہیں، اور میں آپ سے اِن (غالیوں) کےمعاملے میں ایمانداری سے یہ بات بیان کروں گا، اور اللہ تعالیٰ ہمارا بھی آپ کا بھی محاسبہ کرنے والے ہیں، کہ یہ (گروہ) زوال کی طرف گامزن ہیں، اور یہ فتنہ صفِ جہاد کو ان (شدت پسند غالیوں) سے علیحدہ کرنے کاباعث ہے، اور ہم ان سے نہیں ہیں اور یہ ہم سے نہیں ہیں۔

البتہ یہ ممکن ضرور ہے کہ بعض سادہ ذہن لوگ اِن کے خلافت کےد عوی اور اقامتِ حدود کی وجہ سے دھوکہ میں مبتلا ہوئے ہیں، لیکن یہ کسی عاقل شخص کو یہ بات نہیں بھلائے گی کہ اِن کا اصل مذہب اور عمل کیا ہے، اور آپ لوگ اِن کو دیکھتے ہیں کہ یہ مسلمانوں اور مجاہدین کے خلاف قتل وقتال کر رہے ہیں اور خصوصی طور پر اُن جگہ پر حملہ آور ہوتے ہیں جہاں پر مجاہدین(نصیریوں کے خلاف) پیش قدمی کرتے ہیں، اور یہ گمراہ جہلاء اس بات کو پسند نہیں کرتے کہ مسلمانوں کی نصرت ہو، اور آپ نے صلاح الدین شیشانی کی گواہی بھی اِن (غالیوں) کی طرف سےسنی ہے کہ یہ آپ کی تکفیر کرتے ہیں اور آپ کو ارتداد پر دیکھتے ہیں، اور اس مطلب جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ آپ کے خون بہانے کو جائز سمجھتے ہیں، اور وہ یہ سمجھتے ہیں کہ آپ سےارتداد کی بنیاد پر قتال کرنا اس وقت ہر چیز پر فوقیت رکھتا ہے، اِس جرم سے بڑا بھلا کیا جرم ہو گا؟ لوگوں کے دلوں میں موجود خبث میں سے اس سے بڑا کیا خبث ہو گا؟ یہ لوگ آپ پر کسی بھی غفلت کے لمحے میں کسی بھی قسم کا شر لے آئیں گے اور اِن کے اُن اعمال کا آپ نے گمان بھی نہ کیا ہو گا، اس لیے ان کو خود سےدور کر لیجیے، اور آپ پر لازم ہے کہ اِن کواپنے امور اور جہاد سے متعلق کسی بھی قسم کی آگاہی نہ دیں، بلکہ اگر آپ یہ استطاعت رکھتے ہیں تو ان کو اپنی صفوں سے نکال دیجیے، بےشک اس میں خیر ہے۔

اور کبھی بھی ان سے متعلق کسی بھی قسم کے جھوٹ میں گرفتار مت ہوں، ان لوگوں میں پاگل کتوں کے کاٹنے والے جنونی جراثیم ہیں، آپ کو اس چیز کا علم نہیں ہے کہ کب یہ جنونی جراثیم اپنا کام شروع کر دیں، پھر اُس وقت آپ کو ندامت کا کوئی بھی فائدہ نہیں ہو گا۔ سب سے پہلے اِن افراد کے لیے علم اور نصیحت کے ذریعے مباحثہ کیجیے، اگر پھر بھی وہ اس نصیحت کو قبول نہ کریں، پھر اِن کو خود سے دور کر دیجیے، اور اِن سے متعلق ایسے ہی خطرہ محسوس کریں جس طرح آپ اپنے دشمنوں سے خطرہ محسوس کرتے ہیں اور بے شک یہ دشمن ہی ہیں، انہوں نے لوگوں کی تکفیر کر کے اُن کو قتل کیا ہے، اور اُن کے خون بہانے اور اموال لوٹنے کو حلال کیا ہے، اِس کے باوجود بعض اصحاب جو اِن کے متعلق ٹھنڈا رہنے کی تلقین کرتےہیں، اب بھی اِن (جماعتِ بغدادی)سے متعلق یہ کہتے ہیں کہ یہ ہمارے بھائی ہیں، نہیں، اللہ کی قسم، ایسا نہیں ہے اور آپ لوگ اِن سے متعلق پہلے سے واقعہ شدہ امور سے بھی زیادہ معاملات کو ہوتا دیکھنے والے ہیں۔

اللہ کی قسم، میں حیرت زدہ ہوتا ہے کہ کوئی شخص جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہو اور خونِ مسلم کی حرمت کا علم بھی رکھتا ہو، اور مجاہدین کی تکفیراور اُن کی خواتین کوحلال جاننےکے خطرے سے بھی آگاہی رکھتا ہو، وہ کس طرح اِن (جماعتِ بغدادی) کے ساتھ ہمدردی دکھا سکتا ہے،اللہ کی قسم، یہ معاملہ میرے لیے ایک ابدی تعجب ہے،اور میں یہ گمان رکھتا ہوں کہ آپ نے ان خبثاء کی طرف سے نشر کیے گئے مقالات کی جہالت کو سن رکھا ہے، اس میں یہ بات یقین کے ساتھ ثابت شدہ ہے، جس میں کسی بھی قسم کا کوئی شک باقی نہیں رہتا کہ یہ آپ کے جان و مال کو حلال سمجھتے ہیں، بلکہ اللہ کی قسم، ان میں سے بعض نے تمہاری عزتوں کو جائز سمجھتے ہوئے دھمکیاں بھی دی ہیں، اور میں یہ بات یقین کے ساتھ بیان کر رہا ہوں اور اس میں کوئی شک نہیں ہے، بلکہ ان میں سے بعض صغار نے اپنے ایک دوست سے کہا، اور وہ ایک نوجوان شخص ہے، کہ اگر اگر مجھے فلاں شخص(اور اُس نے بڑی عمر کے ایک شخص کا تذکرہ کیا) پر قدرت حاصل ہو گئی، تو میں اسے اس کے ارتداد کی وجہ سے اپنے ہاتھوں سے ذبح کر ڈالوں گا۔

اللہ اللہ یہ ہمارا جہاد! پس اس جہاد کو اپنی غفلت کی وجہ سے ضائع مت کرو،اور نہ ہی اس جہاد کو برے اور گمراہ لوگوں کے لیے چھوڑ دو، اور یہ جان لو کہ اگر آپ نے ایسا کیا تو آپ خود ان کا پہلا شکار بن جائیں گے، کیونکہ اللہ تعالیٰ آپ کی مدد نہیں کریں گے اور نہ ہی آپ کے دشمن آپ کو چھوڑیں گے، حق کی نصرت کریں، اللہ تعالیٰ تمہاری نصرت فرمائیں گے، اس جہاد کی حفاظت کریں کہ اسے خبیث قسم کے لوگ جیسا کہ گمراہ کذاب بغدادی کی اتباع کرنے والے چرا کر نہ لے جائیں، اگر آپ نے ایسا کر لیا ،تو بے شک نصرت آپ کی ہی ہو گی، اور اللہ تعالیٰ تو معاملے کو واضح کرنے اور اقامتِ حجت کو پسند فرماتے ہیں، اور آپ پھر اُس حق کے حقدار اوراِس (جہاد)کی حفاظت کرنے والے گردانے جائیں گے۔

میں آپ سے اس مختصر کلام پر معذرت چاہوں گا، بلاشبہ آپ خیر کے معاملہ میں سبقت لینے والے لوگوں میں سےہیں اور آپ کے لیے ہی محبت اور نصیحت کیے جانے کا اصل حق ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ کاوش ایک ضعیف (شخص) کی ہے۔

والسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
شیخ عمر محمود ابو قتادہ فلسطینی

جمعرات، 12 مارچ، 2015

خلافت ِ بغدادی کے اعلان سے متعلق بیان (هيئة الشام الإسلامية)

بسم اللہ الرحمن الرحیم
خلافت ِ بغدادی کے اعلان سے متعلق بیان
هيئة الشام الإسلامية

تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں، سوائے ظالموں کے کسی پر جارحیت نہیں، اور درود وسلام ہو اُن پر جو واضح حق لے کر آئے(صلی اللہ علیہ وسلم)،اُن کی آل پر، اُن کے اصحابؓ پراور اُن پر جو احسان کے ساتھ اُن کی قیامت تک پیروی کریں، بعد ازاں:

فتنے یکے بعد دیگرے نازل ہو رہے ہیں، آزمائشیں امتِ اسلام پر گردش کی مانند آ رہی ہیں حتی کہ میل کچیل ایسے زائل ہو رہے ہیں جیسے لوہے کی دھات کا زنگ ختم ہو تا ہے، انہی آخری فتن میں سے،ایک ’خلافت‘کا دعوی ہے جس کا اعلان جماعتِ بغدادی نے کیا ہے،جو پہلے اہل شام پر زخموں سے چورمصائب کو لائے، بالکل ویسے ہی جیساکہ انہوں نے پہلے اہل عراق پر یہی زخم لگائے تھے، جس میں قتل وغارت اور تکفیرکی گئی، اور انقلاب و جہاد کی راہ میں رکاوٹیں ڈالی گئیں اور(مسلمانوں کی) وحدت میں تفریق پیداکرنا شامل رہا ۔

ہم نہیں سمجھتے ہیں کہ یہ بودے قسم کا دعوی جو اپنے ظاہرپر باطل پرکھڑا ہوا ہےکی بابت کوئی بیان کرنے کی ضرورت ہے، لیکن جماعت ِبغدادی نے ذرائع ابلاغ کے ذریعے دھوکہ دینے میں مہارت حاصل کی ہوئی ہے،جس کے ذریعے وہ اپنی تنظیم کےجملۂ امور کے معاملہ میں غلو کرتے ہیں، تعداد کو بڑھا کر پیش کرتے ہیں، اور بہت سے دوسروں کی حاصل کردہ فتوحات کو خود سے منسوب کرتے ہیں، اور جس گروہ کی امت کے دشمن ذرائع ابلاغ بھی معاونت کرتے ہیں،جنہیں ایک ایسا گروہ میسر آ گیا ہے جو مسلمانوں کے خلاف جنگ کرنے والا باغی گروہ ہے اور مجاہدین کے نام کو بدنام کرنے کا سبب بھی بنتا ہے۔

یہ واقعات تمام لوگوں سے غوروفکر اور ہوش مندی کا مطالبہ کرتے ہیں، اور ہر جگہ سے تعلق رکھنے والےاہل علم ، اہل فکر، اہل جہاد پر اس بات کو نئے انداز سےفرض ہونے کی حیثیت سے تقاضا کرتے ہیں کہ وہ اس فتنہ سے متعلق اپنے سکوت و خاموشی کو توڑیں، اِن سے متعلق بات کریں، معذرت سے پرہیز کرتے ہوئے، اِن(داعش) کے خلاف اس طریقے سے بیان جاری کریں، جو اس سے قبل نہ کیا گیا ہو۔

اور اس خلافتِ مزعومہ سے متعلق ان مختلف وجوہات کی بنا پر اِس کے باطل ہونے کو واضح کرتے ہیں:

(۱)اس اعلان کا بیان ایک باغی مارقہ فرقہ کی طرف سے ہونا ہے، جو تکفیر پر کھڑا ہے اور(ناحق) خون کو جائز قرار دیتا ہے، جو منہجِ نبوی سے منحرف ہیں، وہ منہج جو اصل میں خلافتِ راشدہ کی اقامت پر کھڑا ہے۔

(۲)دولت (امارت) سے متعلق شرعاً اور عرفِ عام میں ضروری عناصرموجود نہیں ہیں،اور نہ ہی اِن کو تمکین حاصل ہے، نہ ہی لوگ اِن کے تابع ہیں، اگر پھر بھی ان کی کچھ شخصیات کو ظاہراً تمکین اور غلبہ حاصل ہے، تو یہ دولت کی نسبت ایک گروہ کے زیادہ قریب ہے۔

(۳)خلافت کا اعلان انفرادی طور پر بغیر اہل علم اور اہل رائے اور مسلمانوں کے مشورے کے بغیر کرنا، جیسا کہ حزبِ بغدادی کے ذہنوں میں یہ بات سرایت کر گئی ہے کہ یہ خود ہی اہل شوری اور اہل حل و عقد ہیں، اور ان کے علاوہ افراد پر مرتدین اور صحوات کے حکم کے علاوہ کچھ نہیں لگتا، جیسا کہ متعدد بار انہوں نے اس بات کو واضح کیا ہے! یہ انفرادی فیصلہ امت پر نیا استبدادوظلم ہے اور امت کےاقتدار سے تجاوز کرنے والا امر ہے،امت کی رائے پر رسوائی لانے والا اور مصلحت ِ امت کو نظرانداز کرنے والا معاملہ ہے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے امت پر اِس کی اہمیت واضح کرتے ہوئے فرمایا:

[پس اب جس کسی نے مسلمانوں سے مشورے کے بغیر کسی کی بیعت کی، تو بیعت کرنے والا اور جس کی بیعت کی گئی ہو دونوں اپنی جانیں گنوا بیٹھیں گے] (امام بخاری اور دیگر نے اسے روایت کیا ہے)۔

ابن حجر رحمہ اللہ فتح الباری میں کہتے ہیں، اس کا مطلب یہ ہے کہ
[جس نے یہ (بغیر مشورے کے) بیعت والا معاملہ کیا ، تو اس نے گویا خود کو اور صاحب ِ بیعت کو بھی قتل کےخطرے سے دوچار کر دیا]

(۴)لوگوں پر اُس بیعت سے متعلق غضب ناک ہو رہے ہیں، جس کا اصلاً انعقاد ہوا ہی نہیں ہے، جب انہوں نے کہا:
[ہم مسلمانوں کو متنبہ کرتے ہیں کہ خلیفہ کے اعلان کے بعد تمام مسلمانوں پر خلیفہ ابراہیم(ابو بکر بغدادی) کی بیعت اور نصرت واجب ہو چکی ہے۔۔۔]

اور پھر یہ کہ:
[وہ تمام دنیا میں بسنے والوں مسلمانوں کے امام اور خلیفہ بن گئے ہیں]

اور یہ بات بھی ان کی طرف سےبیان ہوئی کہ:
[جو صفوں میں تفریق پیدا کرنا چاہے، اس کے سر کو گولیوں سے اڑا دو اور اس میں موجود سب کچھ باہر نکال دو، چاہے وہ کوئی بھی ہو اور اس کے لیےکوئی عزت نہیں ہے]

(۵)ایک مجہول الحال (نامعلوم غیر معروف)خلیفہ کا تعین کرنا،جس کا کسی ایک بھی اہل علم نے تزکیہ نہیں کیا، یہ اپنی جماعت کے افراد سمیت جمہور مسلمانوں کے لیے(فالوقت) مجہول العین ہے، اگر اس کا نام معلوم بھی ہو، تو بھی علمائے امت کی طرف سے ایک معتبر خلیفہ کے شروط کو نظر انداز رکھا گیا ہے، اور یہ امت کا تمسخر اڑانے کے مترادف ہے، یہ تو بالکل جابرانہ حکومتوں جیسا طرزِ عمل ہی ہے۔

(۶)بغدادی کا اپنے امیر(ایمن) ظواہری کے ساتھ عہد شکنی کرنا اور بیعت کو توڑ دینا جب کہ بغدادی نے کہا تھا:
[آپ (شیخ ایمن الظواہری)ہمارے معاملات میں ولی الامر ہیں اور جب تک ہم باقی ہیں ،ہم پر آپ کی سمع و اطاعت کا حق ہے!]

اور(شیخ ایمن) ظواہری نے شام میں دولت کی توسیع کو اپنے فیصلے میں باطل قرار دے دیا تھا، اور اُس فیصلہ والے بیان کے بعد لی گئی تمام بیعات باطل و مردود ہیں ۔ کیا مسلمانوں کے’خلیفہ‘ کا پہلا عمل غداری، خیانت اور عہد شکنی ہوتا ہے!

یہ شریعت کی مخالفت پر مبنی اعلان اہل اسلام پر بہت سے فتن و شرور اور مفاسد و مصائب لے کر آیا ہے، ان میں سے بعض یہ ہیں:

(۱) اس طریقے پر ’خلافت‘ کا اعلان کرنااور ایسے طبقہ کی جانب سے اس کا اعلان خلافت کے مقاصد کو فوت کر دیتا ہے، جس کے ذریعے دین اور سیاستِ دنیا کی حفاظت ہوتی ہے، بلکہ یہ تو اسلام کی صورت کو مسخ کرنے کے مترادف ہے جس سے ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ یہ دولت تو دراصل دولتِ قتل اور دولتِ جرائم ہے، جوفقط سروں اور ہاتھوں کو کاٹنے سے لطف اندوز ہوتی ہے۔

(۲)پوری امت ِ اسلامیہ کواِس مجہول(مامعلوم و غیر معروف) ’خلیفہ‘ کی بیعت نہ کرنے پر گناہگار قرار دینا، اور ان کے ساتھ قتال کو جائز قرار دینا اور اُن کے خون کو مباح سمجھنا اگر وہ اِس جماعت کےخلیفہ کی اطاعت کو قبول نہیں کرتے! اس بات کو ملحوض رکھتے ہوئے کہ کوئی بیعت(عامہ) اُس وقت تک معتبر نہیں ہوگی، جب تک باقی لوگ (تمام نہیں تو جمہور) اس کے تابع نہ ہو جائیں، اور ایک امرِ عامہ جیسا نظم سامنے نہ آ جائے، یہی اس حدیث سے مقصود ہے [جو شخص اس حالت میں مر جائےکہ اس کی گردن پر بیعت نہ ہو،تو اس کی موت جاہلیت پر ہوئی]، اِس حدیث کا اطلاق اُس طبقہ یا گروہ پر نہیں ہوتا جس کو امت ہی نہ جانتی ہو اور نہ ہی سابقہ ومابعد علمائے امت جانتے ہوں۔

(۳)مسلمانوں اور اُن کے فتوحات اور جہاد کو شام و عراق میں کمزور کرنا، ان کے درمیان فتنہ کو بھڑکانا، اور انہیں دشمن کے گروہوں سے قتال سے ہٹا کر دوسری طرف مشغول کرنا۔

(۴)ان تمام کتائب اور مجموعات کو جو اِن(الدولۃ) کے جھنڈے تلے جمع نہیں ہوئے، ان کی طرف سے کیے جانے والے دعوتی، علمی، جہادی، رفاعی کاموں کو کالعدم اور بےکارقرار دینا۔

(۵)مسلمانوں کے ممالک میں اسلام دشمنوں کو تمکین فراہم کرنا، اور ان کو نئے انداز سے ایک موقع عطا کرنا، اِن دشمنوں کی سیاست و مفاداس چیز کا تقاضا کرتا ہے کہ وہ اس نقصان دہ ’خلافت‘ کی ترویج اور نشرواشاعت کریں؛ اس لیے وہ اِن کی مزاحمت (اُس طرز پر)نہیں کرتے بلکہ اِن کے لیے مسلح ہونے اور انتشار پھیلانے کو آسان بناتے ہیں ، تاکہ وہ مجاہدین کے علاقوں کا حصار کر سکیں، اور یہ جماعتِ مارقہ مسلمانوں کے دشمنوں پر سوار ہوتے ہوئے سنی علاقوں کو تباہ کر سکے اور اُن کی تقسیم میں معاونت کرے، پھر یہ اِن (الدولۃ) سےاور باقی مسلمانوں کے خلافت قتال کرتے ہیں اور شدت پسندی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کے ناموں کو بنیاد بناتے ہیں ۔

اس بڑی مخالفت اور عظیم مفسدے کے سامنے تمام لوگوں پر واجب ہے کہ وہ اس کا سامنا کر کے مقابلہ کریں:

اول: اہل علم اور اہل فکر کو چاہیے کہ ابتدائی قدم اٹھائیں اور ان امور کو تعین کر کے ان کی وضاحت کریں:

(۱) خلافتِ اسلامیہ کے مفہوم کی وضاحت کریں، جو سوائے اللہ تعالیٰ کی سنت کے مطابق نصرت کے بغیر حاصل نہیں ہوتی، اور جس نصرت کے بعد دولتِ اسلامیہ پھیلتی ہے اور اس کا قیام ممکن ہوجاتا ہے، یہ صرف کسی شخص کے اپنی مرضی کا دعوی کر لینے سے وقوع پذیر نہیں ہوتی،اور نہ ہی خلافت کی شرط اقامتِ دین کے لیے کسی محدود ملک کے ساتھ مشروط ہے اور نہ ہی کسی خاص معین کیفیت کے ذریعے قائم ہوتی ہے، بلکہ جیسے جیسےاللہ کا دین قائم ہوتا جاتا ہے اسی طرز پر دولتِ اسلام قائم ہوتی جاتی ہے، اور مسلمان کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ تمکین حاصل کرنے میں جلدبازی کریں جبکہ اس کے مادی اسباب بھی سامنے نہ پاتے ہوں ، اور نہ ہی اس تمکین کے مسئلہ میں اُجلت دکھائیں یا اپنی جماعت کے ذریعے بغیر باقی مسلمانوں کو شامل کیے، اس کی یکتا کوشش کریں ؛ بلاشبہ یہ ایک واضح ضلالت وگمراہی ہے، اور امت میں بہت سے جھوٹے اور دجال ظاہر ہوئے ہیں، جوسب مختلف گمان رکھتے تھے کہ اُن میں کوئی نبی ہے، یا مہدی ہے یا خلیفہ ہے۔

(۲)اس اعلانِ خلافت کا شریعت سےمتصادم ہونے کی تصدیق کی جائے، جیسا کہ کئی اعتبار سے اس کی وضاحت ہوتی ہے، جیسے اس خلافت کا اعلان کرنے والے امت کی رائے میں غالی خوارج مارقہ ہیں، اور ان کے آگے تسلیم ہونے کی اجازت نہیں ہے؛ کیونکہ کسی کے آگے تسلیم ہو جانے کا حق متغلب حاکم کے پاس محفوظ ہوتا ہے جو مسلمانوں کی جان کی حفاظت کرتا ہے، اور اِن (الدولۃ)کے پاس کسی قسم کا سلطہ نہیں ہے، بلکہ اِن کے سامنے تسلیم ہونے سے مزید ناحق خون بہے گا، اور اِن خوار ج کے بڑوں نے کہا ہے [ہم خون پیتے ہیں اورکھوپڑیوں کے گھر بناتے ہیں]، اور یہ رائے ہمارے معصوم لوگوں کے ناحق خون اور مال کے متعلق بیان کرتے ہیں، بلکہ اُن مجاہدین کے خلاف جو دشمنوں سے لڑ رہے ہیں۔

(۳) امت ، اُس کے انقلاب، اُس کے جہاد پر اِن کی طرف سے اپنائی گئی حکمتِ عملی کے ضرر اثرات کی وضاحت کریں، جو اس اعلان کی وجہ سے سامنے آئے ہیں، اور اس سے قبل بھی دئے گئے بیان اور دیگر بیانات کی روشنی میں اِس کو عامۃ الناس پر واضح کریں۔

(۴) تاریخ میں غالیوں اور خوارج کے موقف کا انکشاف کرنا، اور سابقہ دہاہیوں میں دولتِ اسلام پر ان کی تخریب کاری اور بگاڑ کے اثرانداز ہونے کو سامنے لانا، اور فتوحات کا راستہ روکنا، اہل ایمان کو قتل کرنا، اہل شرک کو چھوڑ دینا، اور اِن کی پناہ میں گئے ہوئے لوگوں کے ساتھ کی گئی غداری کو واضح کرنا۔

(۵) خوارج کے احوال کو دولتِ بغدادی کی مماثلت کو استعمال کرتے ہوئے واضح کرنا، جس میں علمائے امت کا سقوط کرنا، اِن (جماعت الدولۃ)کی طرف سے نشر جہالت کو واضح کرنا، اور ان کے اندر موجود منحرف سمت بندی کو منکشف کرنا، اوراِن کی بعض قیادت کا روافض کو چھوڑ دینے کا(اہل سنت پر) معاملہ کرنا، اور اِن (روافض)کی خدمت امت کے دشمنوں کی مصلحت کو فائدہ پہنچا کر کرنا(جیسا کہ مجاہدین سے لڑنا)، اور بعض محاذون پر براہِ راست اِن سے قتال کو روکے رکھنا، اور بعض علاقوں میں ڈاکؤں اور راہزنوں سے لڑائی کرنے سے گریز کرنا، اور اس معاملہ کی وضاحت کرنا کہ سابقہ اولین خوارج کے اپنے نماز، روزے اور تلاوتِ قرآن کی ریاضت بھی ان کو کوئی اطمینان نہ دلا سکی تھی۔

دوم: ہم قیادتِ جہاد اور انقلاب کے داعی حضرات کو کہتے ہیں ، جن کو عامۃ الناس نے اپنی قیادت کرنے کی ذمہ داری سپرد کی، اللہ تعالیٰ کی ذات کے بعد وہ اس معاملہ میں ہمارے معاون و مددگار ہیں، اور ان سے بھی ہم مندرجہ ذیل فرض کی ادائیگی کی درخواست کرتے ہیں:

(۱) اہل علم کے ساتھ تعلق استوار کیجیے، اور ان کے ساتھ مستقل مشاورت کا عمل جاری رکھیے اور اسی طرح اہل خبر اورمختلف اہل تخصص کے ساتھ بھی مشورہ کیجیے، تاکہ اکٹھے ہو کر مشترک رائے اور حکمتِ عملی کو وضع کیا جا سکے جس سے یہ نازل ہونے والی آفت کو دور کیا جا سکے، اور ان جیسے افراد کے ساتھ تعامل اور اُن کی طرف دعوت دینے والوں کے ساتھ تعامل کی وضاحت ہو سکے۔

(۲)تمام لوگوں کو ایک کلمہ پر جمع کرنے کے معاملہ کو فوقیت دی جائے، اور اُن تمام اسلوب کو اپنایا جائے جس سے اِس طریقے پر جانے میں معاونت ہوسکے، اور اسلام کے ساتھ ولاء کو فوقیت دی جائے ،چاہے وہ کسی بھی وجود یا جماعت کے ساتھ ہو، اور تمام کے ساتھ سچائی کے ساتھ تعامل کیا جائے، حسنِ ظن رکھا جائے، اور کسی مصیبت پہنچنے پر صبر سے کام لیا جائے۔

(۳)مسلمانوں کے علاقوں میں اس خبیث شجر کے خاتمے کے لیے مکمل عزم اور ارادہ ہو، اور اس میں کسی بھی قسم کے تردد سے پرہیز کیا جائے، اور موجودہ صورتِ حال اور حسبِ حال کیفیت کو سامنے رکھتے ہوئے ان (داعش) کے خلاف قتال اور دشمنوں کے خلاف قتال میں ایک متوازن ملاحظہ برقرار رکھا جائے، اور ان پر ظاہری حکم کے فریب سے بچنے میں احتیاط ہو یا اِن کی فکراور روابط جس کے ذریعے جہاد اور اہل جہاد کو نقصان پہنچتا ہو، اس سے غفلت برتنے میں پرہیز کیا جائے۔

سوم: ہم امت کے غیور نوجوانوں کو اللہ تعالیٰ کے لیے ان امور میں نصیحت کرتے ہیں:

(۱) اس امر سے متعلق غوروفکر کریں، اور اہل علم سے سوال کریں جب ان کو کوئی اشکال ہو جائے، اور یہ بات جان لیں کہ صفِ بغدادی میں کوئی بھی مشہور عالم نہیں ہے، جس کا مسلمانوں نے نزدیک مقام ہو، جیسا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ نےاِن (داعش)کے اسلافِ خوارج سے ان کی جہالت کی وضاحت کرتے ہوئے یہ بات بیان کی تھی:

[ ہم تمہارے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحابؓ کی طرف سے آئے ہیں، جو مہاجرین اور انصار میں سے ہیں؛ تاکہ تم پر یہ بات واضح کریں جو وہ صحابہؓ بیان کرتے ہیں، اور تمہیں وہ بات پہنچائیں جس کی وہ خبر رکھتے ہیں، اور اِن صحابہؓ کے دور میں قرآن اترا، اور وہ تم سے زیادہ وحی کا علم رکھتے ہیں، اور اُن کے عہد میں وحی کا نزول ہوا ہے، اور تمہارے درمیان اِن صحابہ ؓ میں سے کوئی بھی نہیں ہے] (حاکم نے اس کی تخریج کی ہے)

(۲) ان کی طرف کسی بھی قسم کی موافقت سے اجتناب برتا جائے، یا ذرائع ابلاغ میں ان کو کسی قسم کا فروغ دیا جائے یا اِن کے حق میں کسی بھی قسم کی مبالغہ آرائی کے ذریعے معاملہ کو ابھارا جائے، اور لوگوں کو اس بات کا ادراک کروایا جائے کہ جماعت الدولۃ جھوٹ اور جعل سازی سے کام لیتی ہے، اور اپنی حقیقت کو چھپانے اور تقیہ کرنے کے معاملہ میں روافض کی تقلید کرتی ہے۔

(۳)جماعت الدولۃ کے اعلانِ خلافت کے باطل ہونے پر کسی قسم کا شائبہ نہ رکھا جائے، کیونکہ بلاشبہ یہ کہیں سے بھی منہجِ نبوت پر اپنی ہیت، نہ ہی معنی کے اعتبار سے قائم ہے، کہ جماعت الدولۃ ایک باغی ظالم تنظیم ہے جو اللہ کے رستے سے منحرف ہو چکی ہے، اور بلاشبہ اللہ تعالیٰ انہی لوگوں کو اپنے دین کی حفاظت کی جانشینی عطا فرماتے ہیں جو ایمان لائیں اور نیک عمل کریں، نہ کہ وہ جو ( اہل اسلام کو قتل کریں اور اہل شرک کو چھوڑ دیں)۔

(۴) اہل علم کی توقیر کی جائے اور ان کی عزت کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے، اور اُن پر تہمتیں لگانے سے گریز کیا جائےکہ وہ جماعت ِ بغدادی سے حسد کرتے ہیں یا اُس کی مخالفت کرتے ہیں، یا یہ کہ وہ اقامتِ خلافت کے خلاف ہیں، یا یہ کہ وہ طواغیت کے سامنے جھکتے ہیں اور اُن سے راضی ہیں، بلاشبہ یہ سب بہتان باتیں ہیں۔

(۵)اللہ کے حکم کے معاملہ میں اپنے نفس کی حفاظت کی جائے، اور کسی مصیبت پر صبر سے کام لیا جائے، اور باطل کے خلاف اپنا دفاع کیا جائے، اور شیطان کے ان وسوسوں سے بچا جائے کہ اللہ کے امر کو موت فی سبیل اللہ سے ہی باندھ دیا جائے، اور زندگی فی سبیل اللہ گزارنے کے معاملہ کو وقعت نہ دی جائے، کیونکہ شہادت کا انتخاب تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتا ہے، نہ کہ وہ کوئی ایسی چیز ہے جس کے بارے میں آپ خود انتخاب کرنے لگ جائیں۔

چہارم: عامۃ المسلمین کو، جو امت کا حصہ ہیں، اس کا جزو ہیں، اس کو قائم رکھنے والے ہیں، اُن سے ہم کہتےہیں:

(۱)اس تنظیم کو بے نقاب کریں اور اس کے خطرے کو واضح کریں اور عامۃالمسلمین پر اِن کی حقیقت کو آشکار کریں، اس کی مسوؤلیت اُن تمام لوگوں پر ہے، جو اس کی استطاعت رکھتے ہیں۔

(۲)آپ سب اپنے اموال کے بارے میں خود ذمہ دار ہیں،اس لیے اِن اموال کو سچےعملی کام کرنے والوں کو دیجیے، اور وہ الحمدللہ کثرت سے ہیں، اور وہ کسی خاص معین تنظیم تک محدود بھی نہیں ہیں۔

(۳)آپ کے بیٹے بھی آپ کی گردنوں پر ایک ذمہ داری ہیں اور (ہر کوئی شخص اپنی رعایا سے متعلق ذمہ دار ہے)، اس لیے انہیں اہل غلو کے دھوکہ میں جانے سے روک لیجیے، جو یہ دھوکہ خلافت کے دعوی سے کر رہے ہیں، ایسا نہ ہو کہ وہ ان مجرمین کے ہاتھوں میں ایسا آلہ بن جائیں، جس کے ذریعے یہ مسلمانوں کے خلاف قتال کریں۔

اے اللہ، ان شریر لوگوں کے شر کو روک دیجیے، فاجر لوگوں کے غدر سے ہمیں بچا لیجیے، کفار کے فریب سے ہمیں نجات دیجیے، اے عزیز، اے غفار۔ (آمین)

الحمدللہ رب العالمین

مصدر(عربی):
http://islamicsham.org/letters/1892


جمعہ، 6 مارچ، 2015

جماعت ’’الدولۃ‘‘ اوراس سے متعلق شرعی حکم از جبھۃ النصرہ

بسم اللہ الرحمن الرحیم
جماعت ’’الدولۃ‘‘ اوراس سے متعلق شرعی حکم

جبھۃ النصرہ، ولایت درعا


الحمدللہ رب العالمین والصلاۃوالسلام علی نبینا محمد و علی آلہ وصحبہ اجمعین و من تبعھم باحسان الی یوم الدین و بعد:

ایسے وقت میں جب اہل شام، شام کے اندر نصیری طاغوت کو گرانے کی سعی کر رہے، جو کئی دہائیوں سے یہاں فساد پھیلانے میں مصروف رہا، ایسے وقت میں مسلمانوں کی امیدیں دوبارہ جاگ اٹھیں، جب ارضِ شام میں اسلامی مجاہد قوت کا ظہور ہوا ، جو امت کو اس کی عزت اور کرامت کو واپس دلا نے میں مصروف ہو گئی ،اور اس سائے تلے جب مجاہدین مسلسل کامیابیاں حاصل کر رہے تھے، ان ساحاتِ جہاد میں ایک نئی تنظیم کا ظہور ہوا، اور وہ ہے (جماعت الدولۃ)، اور اُس دن سے مسلمان تنزلی کی طرف جا رہے ہیں اور مجاہدین میں تفریق پیدا ہونی شروع ہوئی ہے، الا اس پر جس پر اللہ تعالیٰ نے رحم فرما دیا۔ دوسری طرف نصیری نظام پیش قدمی کرتے ہوئے آگے بڑھنے لگا ہے، تمام مسلمانوں پربیانات اور ان کے اعمال کی وجہ سے حقیقت واضح ہوئی، جن کا علماء،قیادت عامہ اور عوام الناس نے مکمل رد کیا۔

بہت سے لوگوں نے اس جماعت کے حکم سے متعلق استفسار کیا، اور ہم اللہ تعالیٰ سے مدد مانگتے ہوئے اس کی وضاحت کریں گے اور اس کے لیے راسخین علمائے متقدمین اور متاخرین کے اقوال کے ذریعے اس کی وضاحت کریں گے۔ اس بات پر تنبیہ ضروری ہے کہ کسی بھی فرد یا جماعت سے متعلق حکم بیان کرتے ہوئےضروری ہے کہ وہ حجت اور دلائل کی بنیاد پر قائم ہو، اور ہوائے نفس اور تعصب کا اس سے دور کا بھی تعلق نہ ہو، پس ہم اس بارے میں یہ کہتے ہیں، اور تمام قسم کی توفیق اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے:

اس جماعت(الدولۃ) کے اصول اور خصائل کا اطلاق کلی طور پر غالی خوارج کے اصول اور خصائل سے کیا جا سکتا ہے، خوارج کے فرقہ کا شمار اولین گمراہ فرقوں میں ہوتا ہے، جو اسلام میں ظاہر ہوا اور جس کی شناخت غلو اور شدت پسندی بنی،ا ور اس وقت سے اُن کا خروج ہوتا رہا ہے، بلکہ اِن کا خروج دجال کے دور تک ہوتا رہے گا جیسا کہ حدیث میں بیان ہوا ہے، اور انہوں نے جدید وقدیم جہادی ساحات کو فتنہ زدہ کیا ہے، اوریہ بات معلوم ہے کہ یہ خوارج کے اصول اور خصائل ہیں جن کو معتبر اہل علم نے واضح کیا ہے۔

ان کو یہ نام(خوارج) اس وجہ سے دیا گیا کیونکہ انہوں نے سنت سے بدعت کی راہ اپنائی، جماعت المسلمین کے خلاف خروج کیا، اور دین سے نکل گئے، اور ان کے کچھ نمایاں خصائل یہ ہیں:

(۱) امامت اور بیعت کے مسئلہ میں غلو:
خوارج اپنے امیر کی بیعت کو واجب جانتے ہیں اور اُسے امامِ اعظم کے طور پر تعبیر کرتے ہیں، اور اُن سب کے خون کا بہانا جائز سمجھتے ہیں جو ان کے امیر کی بیعت نہیں دیتا، اس حجت کے ساتھ کہ اس نے کفر کیا یا بغاوت اختیار کر لی ہے:

شھرستانی کہتے ہیں:
[جس کو یہ (خوارج) اپنی رائے کے ذریعے انتخاب کرتے ہیں، اور جو لوگوں کے درمیان وہ عدل قائم کرتا ہے جس کو یہ (خوارج)عدل سمجھتے ہیں، اور اُس چیز سے روکتا ہےجسے یہ (خوارج) ظلم سمجھتے ہیں، وہ ان کا امام بن جاتا ہے، اور جو کوئی بھی اس امام کے خلاف خروج کرتا ہے، تو اُس کے خلاف قتال کرنا واجب ہوجاتا ہے]

ان کی یہ صفت روافض سے مشابہت رکھتی ہے جو یہ سمجھتے ہیں کہ امامت دین کا ایک رکن ہے، اسی لیے وہ امامت کو واجب قرار دیتے ہیں چاہے وہ تمکین یا مسلمانوں کے مشورے کے بغیر ہی کیوں نہ ہو۔

اور اس صفت کی تطبیق جماعت الدولۃ پر بھی ہوتی ہے کیونکہ ان کا نام امامت کے معاملہ میں غلو کی طرف نشاندہی کرتا ہے جس سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ صرف ان کی جماعت میں ہی شامل ہوا جانا چاہیے۔ انہوں نے اپنی اس دولت(ریاست) کا اعلان کیا جبکہ اس وقت یہ فقط ایک وہمی، الیکٹرونک دولت تھی اور ان کا امیر اُس وقت اَن دیکھا، ضعف میں اور چھپا ہوا تھا، اور انہوں نے اس کی بیعت کرنے کو دورِ حاضر کا واجب جانا اور ان سب کے خون کو بہانا حلال جانا جو اُس کی بیعت نہ کرے، اور کہا کہ ایسے افراد کو دماغ میں گولیوں مار کرسر کو کھول دیا جائے، جیسا کہ ان کے ترجمان نے بیان میں کہا، اور انہوں نے اپنی دولت کو ’باقیہ‘(باقی رہنے والی) سے متصف کیا جبکہ باقی رہنے والی ذات صرف اللہ تعالیٰ کی ہے، بلکہ اس جملے (باقیہ) کو اپنے شعار کے طور پر لیا ہے، اور اِن کی طرف کسی بھی شخص کی فقط بیعت کر لینے سے اس کے باقی سابقہ گناہوں کی تلافی ہو جاتی ہے، چاہیے وہ کوئی شبیحہ(کٹر نصیری فوجی) ہو، کوئی مجرم ہو یا کوئی نشہ آور آدمی ہی کیوں نہ ہو، انہی وجوہات کی بنیاد پر ان کے کثیر امراء بعثی ، راہزن، مجرم یا خفیہ کارندے ہیں جن کو پناہ اورجائے امن ان کے گروہ میں ہی ملا ہے، پھر اس کے بعد ان کا معاملہ اس سے بھی آگے بڑھ جاتا ہے جس سے یہ خلافت کا اعلان تمام مسلمانوں پر کرتے ہیں اور جو خلافت دنیا میں جاری باقی تمام جماعتوں کے جہاد کو باطل قرار دے دیتا ہے۔

(۲) علمائے امت اور قیادتِ امت کے اوپر طعن و تشنیع کرنا:
ان خوارج کے جدِ امجد ذوالخویصرہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر طعن کیا اور انہیں ناانصافی اور ظلم سے متصف کیا، اور یہی اِن کا طریقہ سابقہ بھی تھا اور حالیہ بھی یہی ہے، انہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور باقی صحابہؓ کی تکفیر کی، اور آج یہ علمائے امت اور ائمہ جہاد کی قیادت اور ان کے موقف پر طعن و تشنیع کر رہے ہیں، جیسا کہ شیخ الظواہری پر ان کے بےوقوف شام کے زوابری (جماعت المقاتلہ الجزار کے خوارج کے امیر کا نام)کے بیان سے واضح ہے، اور اسی طرح انہوں نے کثیر مشائخ پر طعن کیا جیسا کہ شیخ ابو محمد المقدسی، شیخ ابوقتادۃ فلسطینی، شیخ ھانی السباعی اور دیگر اہل علم کے خلاف بھی یہی کام کیا، حتی کہ لوگوں کے سامنے کوئی قیادت نہ بچی سوائے ان کے اپنے جہلاء اور کم عمر بےوقوفوں کے، اور یہ بات کسی سے مخفی نہیں ہے کہ علماء اور اہل فضل پر طعن کرنا یہ روافض کا منہج ہے جس کے ذریعے وہ امت کا سقوط کرتے ہیں؛ امت کے پاس اپنے علماء کے بعد باقی ہی کیا بچتا ہے؟ پھر ہمارے لیے یہ کیسے ممکن ہو پائے گا کہ ہم اپنے دین کو وضاحت کے ساتھ ان علم اٹھانے والوں کےبغیر سمجھ سکیں جنہوں نے غالیوں کی تحریف کو واضح کیا،شریعت کا انکار کرنے والوں کا رد کیا اور جہلاء کی تاویلات کا جواب دیا؟

(۳) تکفیر میں غلو:
تکفیر(کسی کلمہ گو کو کافر قرار دینا) ایک خطرناک شرعی حکم ہے، جو کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف لوٹتا ہے، اس لیے تکفیر معین کرنا تب تک جائز نہیں جب تک کہ ان لوگوں کی طرف سے جو اس تکفیر کے معاملہ میں قابلیت و مہارت رکھتے ہیں، وہ تکفیر کی شروط اور موانع کی تحقیق نہ کر لیں۔ ایک ہزار کافروں کو چھوڑ دینے کی غلطی اس خطا کی نسبت بہت ہلکی ہے جو ایک مسلمان(جس کا خون حرام ہے) کے خون بہانے میں واقع ہو جائے۔ خوارج تکفیر کے معاملہ میں بہت شدت پسند تھے یہاں تکہ وہ اسی صفت کی وجہ سے مشہور بھی ہو گئے کہ انہوں نے سیدنا علیؓ اور صحابہؓ کی پہلے تکفیر کی، پھر اس کے بعد امت کی تکفیر کی، سوائے ان لوگوں کے جو اُن کی جماعت میں شامل ہو گئے، ان کا یہ غلو فقط کبیرہ گناہ کے مرتکب تک ہی محیط نہ تھا بلکہ ان کا مذہب اِس سے بھی آگے بڑھا، اور وہ ایسے امور کچھ خاص معین صورتوں کے ذریعے اعتقاد کے طور پرلائے، اور پھر ان اعتقادات کو ایمان کی اصل بنا دیا، اور جس کسی نے ان کی ان معاملات میں مخالفت کی اسے کافر مرتد قرار جانا۔

ابن تیمیہؒ بیان کرتے ہیں:
[خوارج وہ پہلا فرقہ ہے جس نے مسلمانوں کی تکفیر ان کے گناہوں کی وجہ سے کی، اور جس کسی نے ان کی بدعت کی مخالفت کی ان کو بھی کافر جانا اور ان کے خون (کو بہانا) اور مال(کو لوٹنا) حلال قرار دیا، اور یہی حال اہل بدعت کا ہوتا ہے، وہ بدعت کی ابتداء کرتے ہیں، اور جو کوئی اس بدعت کی مخالفت کرے اس کی تکفیر کرتے ہیں]

انہیں وجوہات کی بنا پر وہ ظن ،تنائج اور احتمالات کی بنیاد پر تکفیر کرتے ہیں، جس میں وہ چستی اور جرأت دکھاتے ہیں ، جس میں نہ ہی معاملہ ثابت ہوتا ہے اور نہ ہی اس کی وضاحت ہوتی ہے، بالکل ویسے ہی جیسا کہ انہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی تکفیر مسئلہ تحکیم کی وجہ سے کی تھی، اور اسی طرح جماعت الدولۃ کی جانب سے بہت صراحت سے تکفیر میں غلو کو نشر ہوتے ہوئے دیکھا گیا ہے، انہوں نے عمومی طور پر جماعتوں کی تکفیر کی ہے، جس میں جبھۃ النصرہ بھی شامل ہے، اور انہیں صحوات(مرتدین) کے نام سے متصف کیا ہے، جس میں بیان کی گئی حجت مکڑی کے جالے کے گھر سے بھی زیادہ کمزور ہیں، اور یہ شیخ الظواہری کی تکفیر تک اس حجت کے ساتھ کر گئے ہیں کہ انہوں نے منہج سےانحراف اختیار کر لیا ہے، انہوں نے ایمان کے ساتھ بہت ہی عجیب شروط کو لگا دیا ہے۔

انہوں نے مشرکین کی اعانت کرنے اور ان کے ساتھ جائز معاملات کرنے کے معاملہ کو خلط ملط کیا، حتی کہ ان کے نزدیک تکفیر کرنے کا معاملہ پانی بہانے سے بھی آسان ہو گیا، انہوں نے شام کے مشرقی علاقہ میں جملۂ امور میں مسلمانوں کی تکفیر کی اور انہوں نے یہ اعتقاد رکھاکہ ان اہل علاقہ کی اصل کفر ہے اور انہوں نے وہاں اوراق نشر کیے جس کو انہوں نے ’توبہ کی دعوت‘ کا نام دیا، جو لوگوں پر لازم کرتی ہے کہ وہ اپنی ذات پر اس بات کی شہادت دیں کہ وہ کفر اور ارتداد پر تھے، واللہ المستعان۔

(۴) جماعت المسلمین کے خلاف خروج کرنا اور انکے جان و مال کو جائز قرار دینا:
تکفیر میں غلو کا حتمی نتیجہ جماعت المسلمین کے خلاف خروج اور ان کے جان و مال کو جائز قرار دینے کی طرف لے جاتا ہے،جب بھی کوئی قوم بدعت کی ابتداء کرتی ہے تو ضرور ساتھ تلوار اٹھانے کو بھی جائز قرار دیتی ہے، اور تاریخ میں کوئی بھی ایسی تلوار نہیں ہے جو امت پر خوارج کی تلواروں سے زیادہ میان سے باہر آئی ہو، انہوں نے دو خلفائے راشد سیدنا عثمان ؓو علیؓ کو قتل کیا اور بہت سے امت کے محترم لوگوں کا خون بھی بہایا۔

امام ابن تیمیہؒ کہتے ہیں:
[کوئی بھی گروہ خوارج کی تلواروں سے زیادہ(قتال و فساد میں) بڑا ہونے میں معرفت نہیں رکھتا]

اور ادھر یہی جماعت الدولۃ ہے جو اہل شام کو تباہ کر رہی ہے بلکہ مجاہدین میں بہترین لوگوں کو قتل کرتی ہے، ان کے اموال، اسلحہ اور مراکز پر قبضہ جماتی ہے اور مجاہدین کے گھروں کو دھماکوں سے اڑاتی ہے۔ نصیری نظام کے اندر بھی وہ استطاعت نہ تھی کہ وہ ان مجاہدین کو قتل کرتے، جن کو جماعت الدولۃ نے قتل کیا، بلکہ یہ تو مردہ لاشوں کے مناظر پر فخر کرنے لگے اور خون پینے پر اترانے لگے، اور ہر کسی کو جو ان کی مخالفت کرے کو وحشت ناک ذبح کے طریقہ سے دھمکانے لگے، ولا حول ولاقوۃ الا باللہ۔

(۵) جہالت، قلتِ علم و تفقہ کا نہ ہونا:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان (خوارج) کے بارے میں فرمایا:
[کم عمر،بےوقوف لوگ، یہ قرآن کو پڑھیں گے لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا]

ان کی بدعت کی اصل ان کا قرآن و سنت سے لاعلم ہونا ہےبجز اس کے جو اس گروہ کی طرف سے جو ظاہر ہوتا ہے، اُس میں عبادت، نیکی اور دھوکہ دینے والے شعارات شامل ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے ان پر جہالت غالب ہے، نہ ہی فقہ جانتے ہیں نہ ہی علم رکھتے ہیں اور نہ ہی علماء میں سے کوئی ان کو لے کر چل رہا ہے، بلکہ یہ بے وقوف غیر معروف افراد کا مجموعہ ہے، اور یہی حالت دولۃ کی آج ہے، یہی حالت ان کی شرعی عدالتوں کی ہے اور ان کے شرعی طلباء کی ہے، جہل مرکب ہیں، بےوقوف ہیں اور عجیب و غریب فتاوی دیتے ہیں۔ واللہ المستعان۔

(۶) غداری، خیانت اور جھوٹ:
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
[جو لوگ اللہ تعالیٰ کے مضبوط عہد کو توڑ دیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے جن چیزوں کے جوڑنے کا حکم دیا ہے، انہیں کاٹتے اور زمین میں فساد پھیلاتے ہیں، یہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں ]

مصعب بن سعد بن ابی وقاص ؓسے روایت ہے کہ انہوں نے اپنے والد سے اس آیت کریمہ کے معانی سے متعلق استفسار کیا، تو آپ نے جواب دیا: ان سے مراد حروریہ ہیں ؛ یعنی خوارج۔

جو کچھ بھی جماعت الدولۃ سے متعلق معروف ہوا ہے اس میں غداری، عہد شکنی اور میثاق کو توڑنا اور امانت میں خیانت کرناہے۔ اور کتنے ہی ایسے معاہدے ہیں جو انہوں نے مجاہدین کے ساتھ کیے، سوائے اس کے کہ آخر میں اُن کو توڑ دیا گیا، چاہے وہ حلب میں ہوئے یا البادیہ میں یا الشرقیہ میں، اور ان کی یہ خصلت روافض سے مشابہت رکھتی ہے جو کہ غدر اور خیانت میں معروف ہیں۔

(۷) بڑائی، غلاظت اور سوئے اخلاق کا منبع ہونا:
خوارج مسلمان پر اپنی شدت کی وجہ سے معروف ہیں کیونکہ وہ انہیں کفار مرتدین سمجھتے ہیں اور کفارِ اصلی کو اس حجت کے ساتھ چھوڑ دیتے ہیں کہ مرتدین سے قتال کو باقی جماعتوں سے قتال کی نسبت فوقیت حاصل ہے،جیسا کہ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’یہ اہل اسلام کو قتل کرتے ہیں اور اہل شرک کو چھوڑ دیتے ہیں‘‘، اور اب یہاں جماعت الدولۃ کے سپاہی بھی ارضِ شام میں فساد پھیلارہے ہیں اور لوگوں کے ساتھ معاملات میں شدت اور سختی دکھاتے ہیں۔ اللہ کے بندے ان کے جرائم اور رکاوٹوں کے سبب اللہ تعالیٰ سے مدد کی فریاد کر رہے ہیں، اور یہ بہت جلدی اور آسانی سے اپنے مخالف سے برات کا اظہار کرتے ہیں،اور سوئے ظن بھی کثرت سے رکھتے ہیں، ایسے وقت میں نصیری اور روافض ان خوارج سے محفوظ ہیں؛ اے اللہ، سوائے ان امثال کے جو الدولۃ کا جھوٹا دھوکے باز میڈیا لوگوں کے سامنے ظاہر کرتا ہے۔

خوارج کا حکم:
امت کا اس بات پر اجماع ہے کہ جب خوارج کی بدعت ظاہر ہو جائے اور وہ مسلمانوں کی جماعت کے خلاف خروج کریں اور ان کی جان اور اموال کو حلال و جائز قرار دیں، تو خوارج کےخلاف قتال کے وجوب کی اجازت ہے۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ فرماتے ہیں:

[مسلمان خوارج، روافض اور ان جیسے دیگر گروہوں کے خلاف قتال کے وجوب پر جمع ہیں، جبکہ وہ جماعتِ مسلمین سے نکل جائیں،جیسا کہ سیدنا علیؓ نے اُن (خوارج) کے خلاف قتال کیا تھا، اور عمر بن عبدالعزیزؓ سے روایت ہے: انہوں نے خوارج کے متعلق حکم دیا کہ ان کے خلاف قتال سے باز رہا جائے جب تک کہ وہ ناحق خون نہ بہائیں یا ناحق مال کو نہ لوٹیں، پس اگر وہ ایسا کریں، تو اِن (خوارج) سے قتال کیا جائے،اگرچہ وہ میرا بیٹا ہی کیوں نہ ہو]

جماعت الدولۃ کے خلاف قتال کے وجوب میں کوئی شک نہیں ہے کیونکہ انہوں نے یہ تمام کام کیے ہیں، اس بات کی حقیقت کو بھی ساتھ رکھتے ہوئے کہ یہی وہ حملہ آور معتدی ہیں جنہوں نے مجاہدین کے مراکز اور ان کے رباط کے علاقوں پر بھی مستقل حملے کیے ہیں، اس لیے یہ ضروری ہے کہ ان کے حملے کے خلاف اپنا دفاع کیا جائے اور ان کے حملے کو پسپا کیا جائے۔ اس معاملہ میں بڑھ کر بات یہ ہے کہ،انہوں نے شریعت کی حاکمیت کا انکار کیا ہے، چاہے وہ غیر جانبدار شرعی عدالت کے ذریعے ہو یا مشترکہ شرعی عدالت کے قیام کے ذریعے ممکن ہو، جو کہ شام اور جہادِ شام کو ایک بہت بڑے فساد کی صورت میں ان کی طرف سے ملا ہے، نصیریوں اور روافض کا ظلم اہل سنت پر کم نہ تھا کہ انہوں نے بھی اُس ظلم پر ظلم کا اضافہ کر دیا، واللہ المستعان۔

ابن حجر ابن ھبیرہ سے روایت کرتے ہیں:
بلاشبہ خوارج کے خلاف قتال مشرکین کے خلاف قتال پر فوقیت رکھتا ہے، اور اس میں حکمت یہ ہے کہ خوارج کے خلاف قتال سے اسلام کے بیت المال کی حفاظت ہو پاتی ہے، جبکہ مشرکین کے خلاف قتال کے ذریعے فائدے کو حاصل کیا جاتا ہے،اور اِس وجہ سے بیت المال کی حفاظت کو فوقیت حاصل ہے؛ ( پس اس کے لیے بشارت ہے جو اِن(خوارج) کو قتل کرے یا اِن خوارج کے ہاتھوں قتل ہو)، جیسا کہ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب سے ارشاد ہوا ہے۔

معاصر اہل علم کا جماعت الدولۃ سے متعلق اقوال:

شیخ ڈاکٹر ایمن الظواہری:
اِن سے اور اِن کی جماعت سے برات کا اظہار کیا اور انہیں ابن ملجم (خارجی) کے جانشین قرار دیا، اور ان سے اختلاف کو منہج اور عقیدے کا اختلاف قرار دیا، نہ کہ اسے کوئی سیاسی اختلاف جانا۔

شیخ ابو قتادۃ فلسطینی:
مجھ پر یہ بات یقینی طور پر واضح ہو چکی ہے، اور اس میں کوئی شک نہیں ہے، کہ یہ گروہ (الدولۃ) اپنی عسکری قیادت اور شرعی لوگوں سمیت، جو کہ ان کے افعال پر فتوی دیتے ہیں، وہ جہنم کے کتے ہیں، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کے اندر یہ داخل ہونے کے حقدار ٹھہرتے ہیں:
[یہ اہل اسلام کو قتل کریں گے، اور اہل شرک کو چھوڑ دیں گے، اگر مجھے اِن کا ادراک ہو جائے، تو میں انہیں قومِ عاد کی طرح قتل کروں گا]

شیخ ابو محمد المقدسی:
تنظیم الدولۃ برائے عراق و شام، ایک ایسی تنظیم ہے جو حق کے رستے سے منحرف ہو گئی ہے، جومجاہدین کے خلاف بغاوت کرتی ہے، غلو کی طرف گئی ہے، اورانہوں نے معصوم خون بہانے کے کام میں حصہ ڈالا ہے، اور یہ ان اموال، اموالِ غنیمت اور علاقوں پر قبضہ گیری کر رہی ہے جو مجاہدین نے نصیری نظام سے چھڑائے ہیں، اور یہ جہاد کو مسخ کرنے کا سبب بنے ہیں، اور مجاہدین کی صفوں میں تفریق ڈالی ہے، اور اپنے اسلحے کا رخ مرتدین اور محاربین کی بجائے مجاہدین اور مسلمانوں کے سینوں کی جانب کر دیا ہے۔

اور انہوں نے اس جماعت کے بارے میں یہ بھی کہا کہ:
یہ ایسا گروہ ہے جس کا غالب حصہ غالی منہج پر ہے، اور ایسا منہج رکھتے ہیں جس سے دوسروں کو دور کرتے ہیں اور جو ان کی مخالفت کریں اُن کو قتل کرتے ہیں، اور علمائے امت اور کبارِ امت پر اعتبار نہیں کرتے، یہ تحکیمِ شریعت کی بات امت پر کرتے ہیں، لیکن یہ خود پر شرعی محاکمے (جانبدار یا مشترکہ) کا انکار کر تے ہیں، اُن اختلافات میں بھی جو اموال اور خون بہا اور دیگر معاملات سے متعلق اِن سے سرزد ہوا ہے۔

شیخ ھانی السباعی اورشیخ طارق عبدالحلیم:
اِن(الدولۃ) کو خوارج ، مارقہ،حروریہ،قرامطہ،باطنیہ گروہوں سے متصف کیا۔

اختتاماً:
ہم تمام مسلمانوں اور مجاہدین کو اِن(الدولۃ) سے متعلق تنبیہ کرتے ہیں کہ وہ اس جماعت کے دھوکہ میں نہ آئیں اور ان کے اندر شمولیت اختیار کرنے سے گریز کریں کیونکہ پھروہ بھی ظالموں کی معاونت کرنے والوں میں سے بن جائیں گے، اور اس سے مسلمانوں کا ناحق خون بہے گا اور اُن کی تکفیر کا سبب بنے گا، اور اللہ تعالیٰ اپنے تمام امر پر غالب ہیں لیکن اکثر لوگ شعور نہیں رکھتے۔

(۱) زوابری:
انتار الزوابری جماعتِ اسلامیہ المقاتلہ الجزائر کا امیر تھا، جس کو اپنے شدت پسند تکفیری نظریات اور مسلمانوں کے قتل کرنے کی وجہ سے خوارج کے فرقے کے ساتھ متصف کیا گیا تھا۔

(۲) مارقہ:
خوارج کے ناموں میں سے ایک نام ہے جو مستعمل ہے، جس کا مطلب وہ جو( دین سے) نکل گئے، جو کہ خوارج سے متعلق حدیث سے اخذ کیا گیا ہے، (وہ دین سے ایسے نکل جائیں گے جیسے ایک تیر کمان سے نکل جاتا ہے)

(۳)حروریہ:
خوارج کے حوالے سے ہی ایک دوسرا نام ہے۔

(۴)قرامطہ:
عباسی خلافت کے دورِ حکومت میں خروج کرنے والے خوارج کے گروہ کا نام ہے۔

متن(عربی):
https://ia902602.us.archive.org/25/items/byanaat/42.pdf

ترجمہ (انگریزی):
http://justpaste.it/RegardingDawlah

جمعہ، 27 فروری، 2015

شیخ ایمن الظواہری حفظہ اللہ کا شام کے تنازعہ پردولتِ اسلامیہ عراق اور جبھۃ النصرہ کے درمیان فیصلہ

بسم اللہ الرحمن الرحیم
شیخ ایمن الظواہری حفظہ اللہ کا
شام کے تنازعہ پردولتِ اسلامیہ عراق اور جبھۃ النصرہ کے درمیان فیصلہ


الحمدللہ الذی نصرہ عبدہ و اعز جندہ و ھزم الاحزاب وحدہ، والصلاۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ، و آلہ و صحبہ حملۃ الاسلام و جندہ،


محترم بھائی / فضیلۃ الشیخ ابو بکر بغدادی حسینی، اور ان کی شوریٰ دولتِ اسلامیہ عراق کے بھائیو حفظہم اللہ
محترم بھائی / فضیلۃ الشیخ ابو محمدجولانی، اور جبھۃ النصرہ برائےاہلِ شام کی شوریٰ کے بھائیو حفظہم اللہ

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ،

میں امید رکھتا ہوں کہ آپ اور آپکے ساتھی بھائی بہترین حال میں ہوں گے، اوردعاگو ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اور آپ کو اس بات پر جمع فرمائیں جو ذاتِ باری تعالیٰ کو محبوب ہو، اور جس سے دنیا کی بھلائی بھی نصیب ہو اور آخرت میں بھی کامیاب ہوں، بعدازاں،

(۱)
تمام اہل ِ جہاد کی(اس وقت) حوصلہ شکنی ہوئی جب تنازعہ (شام میں) وقوع پذیر ہوا اور ذرائعِ ابلاغ پر اس کی نشرواشاعت ہوئی اور جو ہمارے محبوب بھائیوں دولتِ اسلامیہ عراق اور جبھۃ النصرہ برائے اہل شام کے مابین برپا ہوا۔

(۲)
ہمیں نہ ہی اس معاملہ پر آگاہی دی گئی اور نہ ہی ہم سے نصیحت (مشورے)کے لیےپوچھا گیا، اور نہ ہی ہمیں دونوں جماعتوں کے درمیان ہونے والے تنازعہ سے آگاہ کیا گیا۔ قابلِ افسوس بات یہ ہے کہ ہم نے اس معاملہ کو ذرائع ابلاغ کے ذریعے سنا۔

(۳)
ابتداً، میں تمام مجاہدین اور مسلمانوں کو یاد دلانا چاہوں گا کہ دولتِ اسلامیہ عراق نے صلیبی حملے کی سازش کو ناکام بنانے میں ایک بہت اہم کردار ادا کیا ہے، جو مسلمانوں کی سرزمین کے قلب میں قابض ہو کر عالمِ اسلام کو تقسیم کرنا چاہتے تھے، او ر جو اس معتدی صفوی رافضی منصوبے کو پھیلا کرعراق، شام اور جزیرۂ عرب تک توسیع دینے کا ارادہ رکھتے تھے۔

اسی طرح ہمیں اپنے دولتِ اسلامیہ عراق کے بھائیوں کےفضل کا بھی اعتراف کرتے ہیں، اور ان میں سب سے اوپر ان کے امیر شیخ ابو بکر بغدادی کا فضل کا اعتراف، جنہوں نے اپنےاموال کے ایثار اور بہترین رجال(مجاہدین) کے ذریعے جہادِ شام کی مدد کی،جب وہ شدت سے اس ظلم کو برداشت کر رہے تھے ، بلکہ ہم نے اس بات کو سراہا جب ہمارے احباب اور جبھۃ النصرہ کے بھائیوں نے شیخ ابو بکر بغدادی کی تعریف کی، اور (ابوبکربغدادی) کے ساتھی بھائیوں نے جبھۃ النصرہ اور انکے امیر شیخ ابو محمد جولانی کی تعریف کی۔

(۴)
میں تمام مجاہدین اور مسلمانوں کو یہ بھی یاد دلاتا ہوں کہ جبھۃ النصرہ میں ہمارے بھائیوں کا بھی اہل شام پر فضل ہے جنہوں نے رباط و جہاد کی سرزمین شام میں فریضہ جہاد کا احیاء کیا اور امت کی اس امید کو زندہ کیا کہ وہ بیتِ المقدس کو آزاد کروائیں گے اورمستقبل قریب میں، باذن اللہ، خلافتِ راشدہ کا قیام کریں گے۔ ہم ان کی بھی تعریف کرتے ہیں کہ انہوں نےلادینی صفوی باطنی رافضی حملے کا محبوب شام کے اسلامی محاذوں سے دفاع کیا۔ہم جبھۃ النصرہ کی طرف سے بھی دولتِ اسلامیہ عراق کے بھائیوں کو دی گئی مدد و نصرت و تائید کے بھی معترف ہیں اور اس کا تذکرہ بھی ضروری سمجھتے ہیں۔

(۵)
جب ان دو مجاہد،مرابط، فاضل گروہوں میں تنازعہ ظاہر ہوا، تو اس مسئلہ کو حل کروانے کے لیے میں نے جمادی الثانی ۱۴۳۴ھ کی پہلی تاریخ کو دونوں فاضل شیوخ ابو بکر بغدادی حسینی اور ابو محمد جولانی کو پیغام بھیجا کہ وہ اس تنازعہ کو واپس اسی جمود کی طرف لے جائیں، جودونوں گروہوں کےتنازعہ سے قبل حالت تھی ۔

(۶)
مجھے دونوں جانب سے خطوط موصول ہوئے اور اس کے علاوہ بھی دوسری اطراف سے بھی پیغامات پہنچے۔ میں نے اس پس منظر میں خراسان میں اپنے بھائیوں اور (خراسان سے) باہر بھائیوں سے مشورہ کیا، اور اپنے رب سبحانہ و تعالیٰ سے بھی استخارہ کیا، تاکہ وہ مجھے اپنے ضعف کے پیش نظراس فتنہ کی وجہ سے لگی آگ کو بجھانے میں مدد فرمائیں، جو ان شریف محترم گروہوں کی درمیان واقع ہوا، میں اس معاملہ پر اللہ تعالیٰ کی مدد کے بعد اس امر(حکم) تک پہنچا ہوں، جو آگے بیان ہو رہا ہے:

(ا)
شیخ ابو بکر بغدادی حسینی نے اعلان دولتِ اسلامیہ عراق و شام کر کے غلطی کی، جس میں انہوں نے نہ ہی ہم سے اجازت لی یا ہم سے مشورہ طلب کیا، بلکہ یہ کام ہمارے علم میں لائے بغیر کیا گیا۔
(ب)
شیخ ابو محمد جولانی نے دولتِ اسلامیہ عراق و شام کےاعلان کو مسترد کرتے ہوئے القاعدہ کے ساتھ اپنے تعلق کا اظہار کرتے ہوئے غلطی کی، جس میں نہ ہی ہم سے اجازت لی گئی یا ہم سے مشورہ طلب کیا گیا، بلکہ یہ کام ہمارے علم میں لائے بغیر کیا گیا۔
(ج)
دولتِ اسلامیہ عراق و شام کو منسوخ کیا جاتا ہے، اور دولتِ اسلامیہ عراق کے نام سے (جہادی) عمل کو جاری رکھنے کی ہدایت کی جاتی ہے۔
(د)
جبھۃ النصرہ برائے اہل شام جماعت القاعدۃ الجہاد کی خودمختار فروع (شاخ) ہے جو قیادتِ عامہ کے تابع ہوگی۔
(ھ)
دولتِ اسلامیہ عراق کے کام کرنے کا علاقہ (ولایت) عراق ہے۔
(و)
جبھۃ النصرہ برائے اہل شام کے کام کرنے کا علاقہ(ولایت) شام ہے۔
(ز)
شیخ ابو بکر بغدادی حسینی کو دولتِ اسلامیہ عراق کے امیر کی حیثیت سے اس فیصلے کی تاریخ کے اجراء کے بعد ایک سال کی مدت تک کے لیے منظور کیا جاتا ہے، جس کے بعد دولتِ اسلامیہ عراق کی مجلسِ شوریٰ جماعت قاعدۃ الجہاد کی قیادتِ عامہ کو جہاد ی عمل سے متعلق باضابطہ بیان بھیجے گی، جس کے بعد قیادتِ عامہ فیصلہ کرےگی کہ ابو بکر بغدادی کی امارت بطور امیر بحال رکھی جائے یا نئے امیر کا انتخاب کیا جائے۔
(ح)
شیخ ابو محمد جولانی کو جبھۃ النصرہ برائے اہل شام کے امیر کی حیثیت سے اس فیصلے کی تاریخ کے اجراء کے بعد ایک سال کی مدت تک کے لیے منظور کیا جاتا ہے، جس کے بعد جبھۃ النصرہ برائے اہل شام جماعت قاعدۃ الجہاد کی قیادتِ عامہ کو جہادی عمل سے متعلق باضابطہ بیان بھیجے گی، جس کے بعد قیادتِ عامہ فیصلہ کرے گی کہ ابو محمد جولانی کی امارت بطور امیر بحال رکھی جائے یا نئے امیر کا انتخاب کیا جائے۔
(ط)
دولتِ اسلامیہ عراق جبھۃ النصرہ برائے اہل شام کو اپنی استطاعت کے بقدر وسائل مہیا کرے گی، جو بھی جبھۃ النصرہ برائے اہل شام نفری، اسلحہ، مال،پناہ گاہوں اور حفاظتی امور سے متعلق طلب کرے گی۔
(ی)
جبھۃ النصرہ برائے اہل شام دولتِ اسلامیہ عراق کو اپنی استطاعت کے بقدر وسائل مہیا کرے گی، جو بھی دولتِ اسلامیہ عراق نفری، اسلحہ، پناہ گاہوں اور حفاظتی امور سے متعلق طلب کرے گی۔
(ک)
دونوں فریق ایک دوسرے پر قول اور فعل کے ذریعے حد سے متجاوز ہونے کو روک دیں گے۔
(ل)
دونوں فریقین اور تمام مجاہدین حرمتِ مسلم سے متعلق ان کی جان، عزت اور اموال کا پاس رکھیں گے، اور کوئی بھی فریق کسی بھی دوسرے مسلمان یا مجاہد پر ظلم نہیں کرے گا، سوائے جبکہ شرعی فیصلہ کے ذریعے اس کا حکم صادر ہو، اور اس کی تفصیل کی وضاحت نیچے ہے۔
(م)
ایک مسلمان (کا خون) دوسرے مسلمان پر حرام ہے،اسی لیے وہ شخص (اسلام سے) خارج نہیں ہوتا جو ایک جہادی جماعت سے دوسری جہادی جماعت یا دیگر جماعت میں چلا جائے، بلکہ اس کی حرمت بطور مسلمان اور مجاہد بحال رہتی ہے، حتی کہ اگر وہ دوسری جماعت میں جا نے پر خطا پر ہی کیوں نہ ہو۔
(ن)
جو کوئی بھی دوسرے مسلمان اور مجاہد بھائیوں کے خون کی حرمت کی پامالی کرے گا، جماعت اس سے متعلق امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے تحت سخت موقف اختیار کرے گی۔
(س)
فضیلۃ الشیخ ابو خالد السوری وہ بہترین شخص ہیں جن کے بارے میں ہم معرفت اور خبر رکھتے ہیں اور وہ مجاہدین کے درمیان رہے ہیں، اور ہم اللہ تعالیٰ کے آگے کسی کی بڑائی بیان نہیں کرتے، وہ ہمارے شام میں مندرجہ ذیل امور میں نمائندے ہیں:
اول:
اس حکم نامہ کی تفسیر(تاویل) میں پیدا ہونے والے کسی بھی خلاف کو وہ حل کریں گے۔
دوم:
اگری کوئی فریق دوسرے فریق پر ظلم و زیادتی کرے، تو میں ان کو اس بات کا مکلف کرتا ہوں کہ وہ اُس تنازعے کے حل کے لیے شرعی عدالت کا قیام کریں۔
(ع)
جماعت قاعدۃ الجہاد کے بھائیوں پر لازم ہے اور اسی طرح میں تمام مسلمانوں اور مجاہدین سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ اس تنازعہ کے اوپر جھگڑے کو روک لیجیے، اور مجاہدین کے درمیان تفرقہ مت ڈالیں، اور محبت و الفت اور تالیفِ قلب کی کوشش کریں اور مسلمانوں اور مجاہدین کی صفوں کے درمیان اتحاد کی کوشش کریں۔

اور ان دونوں محترم مجاہدین گروہوں کے قدر وفضل کو جانیں اور ان دونوں کا ذکرخیر کے علاوہ نہ کریں۔

(۷)
اس فیصلے کے نسخہ کو مندرجہ ذیل تک بھیجا جاتا ہے:

(ا) دولتِ اسلامیہ عراق
(۲) جبھۃ النصرہ برائے اہل شام
(۳) فضیلۃ الشیخ ابو خالد السوری

إِنْ أُرِيدُ إِلَّا الْإِصْلَاحَ مَا اسْتَطَعْتُ وَمَا تَوْفِيقِي إِلَّا بِاللَّهِ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْهِ أُنِيبُ (ھود: ۸۸)
] میں تو اصلاح کرنا چاہتا ہوں جہاں تک بھی میرا بس چلے اور یہ جو کچھ میں کرنا چاہتا ہوں اس کا سارا انحصار اللہ کی توفیق پر ہے، اُسی پر میں نے بھروسہ کیا اور ہر معاملہ میں اسی کی طرف میں رجوع کرتا ہوں[

آپ کا بھائی،
ایمن الظواہری
۱۳ رجب، ۱۴۳۴ھ

مصدر:
مرکز الفجر للاعلام

عربی متن:
https://s3.amazonaws.com/s3.documentcloud.org/documents/710586/ayman-zawahiri.pdf

ترجمہ (انگریزی):
http://s3.documentcloud.org/documents/710588/translation-of-ayman-al-zawahiris-letter.pdf

ترکی فوج خلیفہ کی نگہداشت میں!

بسم اللہ الرحمن الرحیم
ترکی فوج خلیفہ کی نگہداشت میں!


اس واقعہ نے ان لوگوں(دولۃ) کی غلطیوں کو بہت سے لوگوں پر ظاہر کر دیا ہے، سبحان اللہ!

اس واقعہ نے ان کے شرعی حضرات(دینی طالب علم) کے جھوٹ کو سب کے سامنے ظاہر کر دیا ہے۔ وہ کہتے تھے کہ اس مزار میں قبر نہیں ہے، اور یہ کہ بغدادی نے وہاں ایک وفد بھیجا تھا اور انہوں وہاں کسی قبر کو نہ پایا۔ یہ صاف ظاہر کرتا ہے کہ یہ جو تکفیر کر تے ہیں یہ صرف اور صرف ’سیاسی تکفیر‘ ہے یعنی یہ ہر اس کی تکفیر کرتے ہیں جو اِن کی مخالفت کرے تاکہ ان کا خون بہانے کو جائز قرار دیا جائے، نہ کہ اس کی بنیاد دین کی نصرت ہے۔ انہوں نے دیگر جماعتوں اور ان کی افواج پر اس کے کم معاملہ پر تکفیر کا حکم لگایا۔ ان جماعتوں کی تکفیر سے ان کا مقصد ان کے ساتھ جنگ کو جائز کرنا اور اس کے ذریعے حکومت اور غلبہ حاصل کرنا تھا۔



اس واقعہ کے بعد وہ کہتے ہیں کہ دولۃ کےپاس اتنی طاقت نہیں ہے کہ وہ ترکی فوج سے لڑتے۔ اس معاملہ پر غیر جانبدار رہنا چاہیے اگرچہ اس سے دین اور توحیدپر سمجھوتا ہوتا ہے ۔ اوریہاں پر بھی یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ یہ اللہ کے دین کے ساتھ کھیلتے ہیں، اور دین کو اپنی خواہشات کے موافق بناتے ہیں۔

تم نے ترکی سے قوت سے بڑھ کر ممالک کو شام میں داخل ہونے کا سبب فراہم کیا، اور اس بات کی کوئی پرواہ نہ کی جب مشائخ اور علماء یہ بات کہہ رہے تھے کہ ان ممالک کو غیر جانبدار سمجھا جائے۔ تم نے اس کے جواب میں کہا کہ یہ گمراہ ہیں اور صلیبیوں سےڈرتےہیں۔

کیا تم نے امریکہ کو اس جنگ میں داخل نہ کیا جب تم نے اس کے شہریوں کو ذبح کیا؟
اور یہ تمہاری زمینوں پر کوئی بھی شرک پر مبنی قبر بھی نہیں رکھتے؟
کیا تم نےمصر کےغریب قطبی (عیسائی) شہریوں کو قتل کر کے مصر کو لیبیا کی جنگ میں نہیں کھینچا ؟
تمہارا اس سے مقصود یہ تھا کہ یہ کہا جائے: کہ امریکہ اور اسکے اتحادی تمہاری دولۃ کے خلاف جمع ہو ئے ہیں، اور تم اس پر فخر کر سکو۔ تم نے مسلمانوں کی کسی بھی مصلحت کا نہ سوچا کہ اس سے اس مسلمانوں پر طیارے بمباری کریں گے اور تنازعہ کا دائرہ وسیع ہو جائے گا۔

کل تم کہتے تھے کہ ہم نے سایکس پیکو حدود کو ختم کر دیا ہے، اور یہی وہ حجت تھی جب کے سبب بغدادی نے اپنے امیر شیخ الظواہری کے حکم کا انکار کیا، لیکن آج اسی سایکس پیکو حدود کو عذر بناتے ہوئے تم اس شرک پر مبنی قبر کے معاملہ کی حمایت کر رہے ہو۔ اللہ تعالیٰ تمہاری پکڑ کریں!



کیا شیخ ایمن کے سایکس پیکو پر مبنی حکم اس بات کا زیادہ مستحق نہیں تھا کہ اس پر عمل کر لیا جاتا ، اس بات کی نسبت کہ ایک شرک پر مبنی قبر کے معاملہ پر یہی سایکس پیکو حدود کی حمایت کو قبول کیا جا رہا ہے؟

پس غوروفکر کرو، اللہ تعالیٰ تمہاری حفاظت فرمائیں!

یہ تمام قسم کا پراپیگنڈہ جو دولۃ کر رہی ہے وہ صرف اور صرف اس لیے کہ اپنی حکومت اور سلطہ کے لیے ذریعے اپنی مصلحت کی خدمت ہو سکے، نہ کہ اس کا مقصد کچھ اور ہے۔



یہ بات دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے کہ یہ کیسے دولۃ کے لیے احکامات کے ساتھ کھیلتے ہیں، اور جہاں چاہتے ہیں اور جیسے چاہتے ہیں، اس کا اطلاق کر دیتے ہیں۔

لیکن تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے لوگوں کے سامنے ان کی حقیقت کو واضح کیا۔

اور جو لوگ کل تک اس بات پر فخر محسوس کرتے تھے وہ تو فقط حق کی پیروی کرتے ہیں نہ کہ لوگوں کی پیروی کرتے ہیں، آج وہ خود عذر اور معذرت پر مبنی مباحثہ کر رہے ہیں،اگرچہ یہ وہ لوگ ہیں جو دوسروں کی تکفیر کرتے ہوئے بھی ہچکچاہت محسوس نہیں کرتے، اُس حجت پر بھی جو ثابت نہیں ہوتیں۔

ایڈیٹر نوٹ:



یہ وہ جگہ ہے جہاں سلمان شاہ کا مزار نام خلافتِ بغدادی کی حفاظت میں قائم رہا اور پھر اس نام نہاد خلافت کی زمین پر نیٹو ترکی فوج کے ناپاک قدم بھی داخل ہوئے لیکن اِن خوارج العصرنے ثابت کر دیا کہ کفار کو چھوڑیں گے اور مسلمانوں کو ماریں گے۔ ایک گولی بھی نہ چلائی گئی۔

آج کس نے ان کی حقیقت کو ظاہر کیا؟
وہی تو اللہ رب العزت غالب حکمت والا!

مصدر (عربی):
http://justpaste.it/jkkf

ترجمہ(انگریزی):
http://justpaste.it/jkxx

ترجمہ(جرمن):
http://justpaste.it/jlg1

ہفتہ، 21 فروری، 2015

عاصی مخطی خطیبِ غالی (داعش)کے قول کے متعلق ابہام کا شکار ہونے والوں کے لیے دوٹوک رد

بسم اللہ الرحمن الرحیم
عاصی مخطی خطیبِ غالی (داعش)کے قول کے متعلق ابہام کا شکار ہونے والوں
کے لیے دوٹوک رد

شیخ ابو قتادہ فلسطینی حفظہ اللہ

الحمد لله والصلاة والسلام على رسول الله وعلى آله ومن والاه،

بعدازاں:

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَىٰ عَلَى اللَّهِ كَذِبًا أَوْ كَذَّبَ بِآيَاتِهِ إِنَّهُ لَا يُفْلِحُ الظَّالِمُونَ ﴿الأنعام: ٢١﴾
[اور اُس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹا بہتان لگائے، یا اللہ کی نشانیوں کو جھٹلائے؟ یقیناً ایسے ظالم کبھی فلاح نہیں پا سکتے ]

مزید فرمایا:
فَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَىٰ عَلَى اللَّهِ كَذِبًا أَوْ كَذَّبَ بِآيَاتِهِ إِنَّهُ لَا يُفْلِحُ الْمُجْرِمُونَ ﴿يونس: ١٧﴾
[پھر اُس سے بڑھ کر ظالم اور کون ہو گا جو ایک جھوٹی بات گھڑ کر اللہ کی طرف منسُوب کرے یا اللہ کی واقعی آیات کو جھُوٹا قرار دے یقیناً مجرم کبھی فلاح نہیں پا سکتے]

یہ بات خلقِ خدا پر ظاہر ہوئی ہے جو کہ جماعت دولتِ بغدادی کے خطیب نے بیان کی ہےکہ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آج حیات ہوتے اور (لوگوں کے درمیان) داخل ہوتے، تو وہ ان کی دولتِ باطل کی اتباع کرتے، اور یہ قول ان جہلاء اور ان کے اقوال کے فجور پر تکبر کی ایک بین دلیل ہے۔

اس قول پر صحیح بات یہ ہے کہ اس پر صرف حکمِ شرعی فقط یہ نہیں ہے کہ یہ قول ایک صریح کفری قول ہے، جس کے لیے ضروری ہے کہ اس قول کو بیان کرنے والا تائب ہو۔ اگر ہم ان متشدد غالیوں (داعش)کے طریقہ کار کو لوگوں پر حکم لگانے کے معاملہ میں اپنائیں، تو ہم تمام جماعتِ بغدادی پر یہی حکم لگائیں کہ یہ طائفۃٔ کفر اور ارتداد ہے، بالکل انہی کے اس تکفیر کے طریقہ کار پر جیسا کہ ان (داعش) کے بارے میں معلوم ہے کہ یہ جبھۃ النصرہ کی تکفیر اسی قسم کے لوازمات اور باطل تاویلات کی بنیاد پر کرتے ہیں لیکن ہمارا دین ہمیں حق کی طرف رہنمائی کا حکم دیتا ہے، ضروری ہے کہ یہ شخص اپنے خبیث قول سے تائب ہو، یہی مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ گرامی کے لیے حق پر مبنی بات ہو گی، مسلمانوں پر واجب ہے کہ وہ ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے معاملہ میں اس باطل کا رد کریں، اور ادھر اس معاملہ میں بیان کیا جانے والا باطل ایسا امرہے جس پر سب جمع ہیں نہ کہ یہ ظن پر مبنی ہے، اور وہ یہ تصور ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی اور کے تابع ہو ں گے، اور یہ ایک واضح کفر ہے جو کوئی بھی عاقل مسلمان بیان نہیں کر سکتا۔ پس اس لیے ہم یہ کہتے ہیں کہ یہ ایک بہت عظیم بات ہے اور اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے توبہ کرے، اور اپنی دولتِ(باطل) سے متعلق جیسی مرضی بڑائی بیان کرے، لیکن یہ تمام کام ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر طعن کر کے نہ ہو اور نہ ہی اس قسم کی باطل مثالوں کےطریقہ پر کارفرما ہو۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
فَلَا تَضْرِبُوا لِلَّهِ الْأَمْثَالَ إِنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ وَأَنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ ﴿النحل: ٧٤﴾
[پس اللہ کے لیے مثالیں نہ گھڑو، اللہ جانتا ہے، تم نہیں جانتے]

اور یہ الفاظ کے معانی ہمارے رسول اللہ علیہ وسلم کی تحقیر کے مترادف ہیں، کوئی بھی الفاظ جو اس قسم کی باطل مثالوں پر مبنی ہو وہ ہمارے دین میں ایک بہت بڑی بات ہے، اور یہ تصور کہ ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم جملۂ امور کے معاملات میں کسی اور کے تابع ہوں گے یا کسی اور قیادت کے امر کے تابع ہوں گے، یہ سوائے گمراہ قسم کے کفری قول کے کچھ بھی نہیں ہے، پھر یہ بات تو معلوم ہے جو کوئی بھی اب عمل کرتا ہے وہ ثواب اورخطا کا مرکب ہوتا ہے، اور یہ ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سے ایسا ہی معاملہ ہے، اور علماء اجتہاد کرتے ہیں اور وہ یہ نہیں کہتے کہ ان کی اختیار کی گئی اجتہادی رائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اختیار کردہ ہے ،سوائے تب جب کہ نصوص کسی مسئلہ پرواضح اور صراحت کے ساتھ پائی جائیں، اور ان کی دولتِ باطل سے متعلق کسی بھی قسم کی واضح نصوص موجود نہیں ہیں جیسا کہ اس شخص نے اپنے بیان میں کہا، اور ان(دولۃ) کا یہ عمل بھی اجتہادی نوعیت کا ہی ہے اور کثیر اہل علم نے یہ بیان کر دیا ہے کہ یہ باطل(مردود) ہے، تو پھر اس (کو سامنے رکھتے ہوئے) کیسے یہ سوء پر مبنی بیان دیا جا سکتا ہے؟ اگر تمام لوگوں کو اس قسم کے قول کو اختیار کرنے اجازت دے دی جائے، جیسا کہ اس شخص نے بیان کی، تو پھر اس سے ہمارے رسول صلی اللہ علی وسلم کی بہت عظیم اہانت ہو جائے گی، اگر ہر کوئی ایسا تصور(خود سے یا جماعت سے متعلق) ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے متعلق بیان کرنے لگے اور ایسے اقوال کہے اور ان کی تنقیص کرے ،تو یہ ضلات اور کفر ہے، جس پر سب ہی جمع ہیں۔

اس جاہل خطیب کی جانب سے اس قسم کا مقالہ اور وہ بھی اُن کی دولت کے کبار میں سے ایک بڑے کی طرف سے بیان ہون، ان کی جہالت پر ہونے کی دلالت کرتا ہے، اور اگر ہم اس معاملہ کو صحیح نکتہ نظر سے دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ انہوں نے خود کو ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام پر کھڑا کر دیا ہے،جس کسی نے ان سے دشمنی کی اس نے گویا ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے دشمنی کی اور جس کسی نے ان سے موافقت کی گویا اس نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی موافقت کی(والعیاذ باللہ)، اگرچہ وہ اس کو اپنی زبان سے ادا نہیں کرتے لیکن ان کی حقیقتِ حال اسی پر گواہ ہے۔

اس لیے اس کاتب (یعنی شیخ ابو قتادۃ) کے نزدیک ان کی گمراہی انہی اسباب کی وجہ سے معلوم ہوئی، انہیں کلمات کی وجہ سے جو ان کی طرف سے پائے گئے ، ان کی خصوصیات دوسرے لوگوں کے ذریعے نقل ہوئیں جس میں لوگوں نے ان کے امارت سے متعلق احکامات کو نقل کیا، جس میں انہوں نے بابِ اعتقاد و تکفیر کے متعلق خود کو اس پر حق بجناب جانا، اور یہ ابواب تو کسی بھی طالب علم کے لیے بہت بڑا باب ہے، جس کے ذریعے یہ جانا گیا کہ یہ غالی ہیں، اور اس پر میں یہ استطاعت بھی نہیں رکھ پا رہاکہ ان کے بارے میں کہوں کہ یہ خوارج ہیں، کیونکہ خوارج اہل صدق اور اہل شرافت تھے جبکہ یہ (دولتِ بغدادی) اہل خبث، اہل مکروفریب اور اہل کذب ہیں، اس لیے جب میں نے ان کے جہلاء میں سے ایک جاہل کو سنا جب اس نے کہا:

یہی وہ خلیفہ(ابراہیم عواد) ہے جس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
[آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی فرمانبرداری کرنے والوں کے ساتھ ان لوگوں کے خلاف قتال کیجیے جو آپ کی نافرمانی کرتے ہیں]

اور یہ جو بیان ہوا وہ ایک عمومی طریقہ پر بیان ہوا جو اس پر دلالت کرتا ہے کہ وہ اس کبیر کلام کا اطلاق خود پر کرتے ہیں، اور یہ جاہل یہ نہیں جانتا کہ یہ الفاظ حدیثِ قدسی میں بیان ہوئے جو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تبارک وتعالیٰ نے ارشاد فرمایا، وہ اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت سے مقصود اسلام کے اندر داخل ہونا تھا اور اُن کی مخالفت کرنا کفر پر باقی رہنے والی بات تھی، لیکن انہوں نے اس مطلب کو اپنے خلیفہ پر اتار لیا، اور یہی معاملہ اس جھوٹے خطیب نے اپنے قول کے ذریعے کیا، اور یہی ان کے غلو کا سبب ہے اور اسی سبب مجاہدین کے خون کو خصوصی طور پر اپنے لیے حلال جانا ہے، پھر ان لوگوں کے ساتھ کیا معاملہ رکھیں گے جو مجاہدین نہیں ہیں جو اہل قبلہ (مسلمان) ہیں، جنہوں نے اِن کےگمراہ کذاب خلیفہ کی بیعت میں داخل ہونے سے انکار کر رکھا ہے؟

یہ معاملہ کوئی ایسا نہیں ہے جس کے ذریعے اس جاہل کلمہ کہنے والے کی وجہ سے کوئی چھوٹی سی منفعت حاصل کی جائے بلکہ یہ تو ہر عاقل کے لیے اب فرصت ہے جو یہ گمان رکھتا ہے کہ یہ دولتِ خلافت ہے جس کے لیے مسلمان کوشش کر رہے ہیں اور جس کے اندر اللہ تعالیٰ کی شریعت کو قائم کیا جا رہا ہے بلکہ یہ تو حقیقت میں مسلمانوں کے لیے شر کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے، اور یہی معاملہ اس شخص کا ہو گا جو عقل کے ذریعے اس بات کا ادراک کر لے گا اور وہ شخص یہ جان لے گا کہ اِس دولۃ کی نصرت کرنے والوں کی کیفیت بھی کچھ ایسی ہی ہے، اور امت اپنے ضعف کے سبب دشمنوں کی جانب سے بھی برداشت کر رہی ہے اور پھر اُس کے بارے میں خیال کیسا ہو گا جوان دشمنوں کو مزید شر اور ظلم پھیلانے کا وجوب بھی فراہم کرنے لگے!

یہی دولت(بغدادی) اپنی اصلیت کے اعتبار سے خود کو مقامِ شریعت کی منزل پر فائز کرتی ہے اور خود کی حالت کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حالت کے مصادق قرار دیتی ہے جبکہ یہ تو ایسی دولت ہے جو توفیق اور ہدایت سے دور ہو چکی ہے، ہم ان کے چناؤ اور ان کی موافقت کرنے میں اس کے علاوہ کچھ نہیں دیکھتے جیسا کہ کتبِ توحید میں ان کی کیفیت سے متعلق اہانت کا تذکرہ کیا جاتا ہے، ان سے کس قسم کے احترام کی توقع کی جائے جبکہ کرامت تو اس صالح شخص کے ہاتھ میں ہوتی ہے جو کسی مریض کے سر پر اپنا ہاتھ رکھے اور مریض شفاء یاب ہو جائے، جہاں تک تو اس اہانت کا تعلق ہے جیسا کہ یہ مجرم اپنےسطحی طالب علم کے سامنے لا رہا ہے ،اس کی مثال ایسے ہی ہےجیسے کہ سر کے بال (اس بھاری بات کی وجہ سے)گر جائیں، اور یہی حالت اس مبتدی مجرم گمراہ دولت کی ہے، یہ اپنا ہاتھ جس جگہ بھی رکھتے ہیں، سوائے فساد کے کچھ نہیں ہوتا۔

اور جو ان کا رستہ اختیار کرے وہ اپنے مقصد سے پلٹ جاتا ہے اور تباہی اور باطل کی طرف بڑھتا ہے، اور یہ ایک سقوط سے دوسرے سقوط کے طرف جاتے ہیں، ایک بے ادبی سے دوسری بے ادبی کی طرف قدم رکھتے ہیں، اور اگر کسی شخص پر ان غالیوں کی کیفیت اور ان کے چناؤ کا طریقہ کار معلوم ہو جائے، اور وہ اسے لوگوں کے درمیان اس حقیقت کو منکشف کرنے لگے، تو وہ پہلے مرحلے میں سننے والوں کی آنکھوں میں فتورڈالنے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان کا یہ آج کا مرض اب ہر کسی پر واضح ہے سوائے اس کے جو انہی کی مثل مصائب میں مبتلا ہے، اور وہ مرض ہے، باولے کتے کاٹنے کی بیماری جب وہ مریض کے جسم میں داخل ہوتی ہے تو ہر رگ کے اندر گھوم جاتی ہے، اور انہی کی مثل سے متعلق ہم اللہ تعالیٰ سے سوال کرتے ہیں کہ اِن کے شر سے ہمارے لیے کافی ہو جائیں۔ آمین۔

ہمارے دین کا طالب علم یہ اچھی طرح جانتا ہے کہ دین میں سب سے بڑا جرم اللہ تعالیٰ کی ذات کی طرف جھوٹ منسوب کرنا ہے، اور اس خطیب نے ایسا کہا ہے، اور ان کا اس نوعیت کا فعل جو انہوں نے دین سے منسوب کیا وہ دین کے معاملہ میں بہت بڑا قضیہ ہے، جو کہ ایمان اور کفر (کے فیصلہ کے متعلق) ہے، جیسا کہ انہوں نے اس زمانہ میں خیارِامت کی تکفیر کی ہے اور وہ (خیارِ امت) مجاہدین ہیں، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَىٰ عَلَى اللَّهِ كَذِبًا أَوْ كَذَّبَ بِآيَاتِهِ إِنَّهُ لَا يُفْلِحُ الظَّالِمُونَ ﴿الأنعام: ٢١﴾
[اور اُس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹا بہتان لگائے، یا اللہ کی نشانیوں کو جھٹلائے؟ یقیناً ایسے ظالم کبھی فلاح نہیں پا سکتے ]

اللہ تعالیٰ نے اللہ پر جھوٹا بہتان باندھنے کے جرم کو اللہ کے قول کی تکذیب کرنے سے پہلے بیان کیا ہے، اسی طرح شر والے کاموں میں سورۃ الاعراف میں اس میں ذکر بھی ہوا، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

قُلْ إِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّيَالْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ وَالْإِثْمَ وَالْبَغْيَ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَأَن تُشْرِكُوا بِاللَّهِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِهِ سُلْطَانًا وَأَن تَقُولُوا عَلَى اللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ﴿الأعراف: ٣٣﴾
[اے محمدؐ، اِن سے کہو کہ میرے رب نے جو چیزیں حرام کی ہیں وہ تو یہ ہیں: بے شرمی کے کام خواہ کھلے ہوں یا چھپے اور گناہ اور حق کے خلاف زیادتی اور یہ کہ اللہ کے ساتھ تم کسی کو شریک کرو جس کے لیے اُس نے کوئی سند نازل نہیں کی اور یہ کہ اللہ کے نام پر کوئی ایسی بات کہو جس کے متعلق تمہیں علم نہ ہو کہ وہ حقیقت میں اسی نے فرمائی ہے]

میں وہی بات کہتا ہوں جو ہمارے سلف نے بیان کی جب انہوں نے شر والے کاموں کے بارے میں ادنیٰ سے اعلیٰ کی طرف اس کو بیان فرمایا، اور انہوں نے اللہ تعالیٰ کے انکار کے بعد جس کو عظیم شر جانا وہ اللہ تعالیٰ پر ایسی بات کہنا ہے جس کا اُن کے پاس علم نہیں، پھر یہ خطیب بھی اسی جرم کو اپنے اوپر لے کر آیا، اور یہی وہ کام ہے جو اس دولتِ مزعمومہ اپنےعمل سے اپنے مخالفین پر اپنے اختیار اور اپنے احکامات کے نفاذ کے ذریعے کرتی ہے، اور اس قسم کے جرم کے ارتکاب کی وجہ سے اللہ تعالیٰ ایسے شخص کو سزا دینے میں جلدی کرتے ہیں،جبکہ اللہ تعالیٰ عذر اور درگزر کرنے کو پسند فرماتے ہیں جیسا کہ بخاری اور مسلم کی صحیح احادیث میں ابو عبدالرحمن عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ سے روایت ہوتا ہے، جوکہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

[اللہ تعالیٰ سے زیادہ اور کوئی غیرت مند نہیں، یہی وجہ ہے کہ اس نے بےحیا کاموں کو حرام قرار دیا ہے، خواہ وہ ظاہر ہوں خواہ پوشیدہ اور اللہ کو اپنی تعریف سے زیادہ اور کوئی چیز پسند نہیں، یہی وجہ ہے کہ اس نے اپنی خود مدح بیان فرمائی ہے،اللہ تعالیٰ سے زیادہ عذر کو پسند کرنے والا کوئی نہیں، یہی وجہ ہے کہ اس نے نبیوں کو مبعوث فرمایا جو بشارت دینے والے اور ڈرانے والے ہیں]

اور یہ عذر کو متعطل کر دینے اور اس کے لیے مفسد ہ بنا دینے والا معاملہ ہے، اور یہی وہ بات ہے جو میرے سابقہ قول کی وضاحت کرتا ہے کہ یہ ’غبارے‘ کی مانند ہیں، اپنے علم اور اپنے اس یقین پر کہ یہ اس مکروہ جرم (اہانت ِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم)کو اٹھانے کے متحمل نہیں ہو سکتے۔

اس خطیب نے اپنے لیے ایک بہت عظیم عنوان سامنے رکھا ہے، اور اپنے قول کے ذریعے عامۃ الناس کی آنکھیں اِن(داعش) کی گمراہی اور ان کے منہج کی گمراہی پر کھول دی ہیں، جو صرف ایک شخص کے اسقاط سے نہیں جڑی ہوئی، بلکہ حقیقت میں اس کلام کا تعلق ان کے منہج کے ساتھ ہے، جس میں یہ خود کو اور ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام کو اختیار اور افعال کے ذریعے تصور میں رکھتے ہیں، جو کوئی ان کی موافقت کرے گا وہ مسلمان ہو گا اور جو کوئی ان کی مخالفت کرے گا وہ کافر ہو گا، ہم اللہ تعالیٰ کی طرف اس افتراء کو منسوب کرنے والوں سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں ۔

اے اللہ! آپ کے لیے ہی تمام تعریفیں ہیں کہ آپ ہی اپنی مخلوق پر ،ایسے لوگوں کے ذریعے جو آپ پر، آپ کے دین پر، آپ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے دین پر جھوٹ گھڑتے ہیں حجت قائم کرتے ہیں۔

اس فتنہ نےان لوگوں (داعش) کے علم کو منکشف کیا، ان کے دعوے اور جھوٹ بے نقاب ہوئے، اور مسلمانوں کی صفوف ان کے کثیر امراض اور مفسدے سے صاف ہو گئیں، اور اب یہ زوال اورنشیب کی طرف گامزن ہیں، اور یہ خوف کہ ان کے جانے کے بعد اہل اسلام پر مصیبتیں آئیں گی کا حال تو ہر مصیبت کی طرح ہی ہے جو کہ ہر دور ِ انتشار میں ایسی ہی ہوتی ہیں جس میں علم اور معرفت پھیل جاتا ہے۔

اے اللہ، اہلِ اسلام اور فی سبیل اللہ مجاہدین کے لیےکافی ہو جائیں اور ان کو ہر خیروبھلائی عطا فرما دیجیے، والحمدللہ رب العالمین۔

اس (بیان) پر توجہ اور نشر کرنے کے ذمہ دار: ابو عبداللہ قتادۃ

مصدر (عربی):
http://justpaste.it/jh65

حوالہ(انگریزی):
http://justpaste.it/jhbb


ہفتہ، 14 فروری، 2015

جماعت الدولۃ اور ان کا نہ ختم ہونے والا تکفیری سلسلہ!

بسم اللہ الرحمن الرحیم
جماعت الدولۃ اور ان کا نہ ختم ہونے والا تکفیری سلسلہ!
المعتصم بالله المدنی
[شرعی جیش المہاجرین والانصار]

الحمد لله والصلاۃ والسلام علی من لا رسول بعدہ أما بعد:

مجھے یہ بات ان بھائیوں کی طرف سےپہنچی جو جماعت الدولۃ کے دھوکے کا شکار ہوئے اور یہ گمان کیا کہ وہ میدانِ جہاد میں تمام جماعتوں سے افضل جماعت ہے، اور اسی لیے تمام ملتِ کفر ان کے خلاف جمع ہوئی ہے، گو کہ وہ اس چیز کا علم بھی رکھتے تھے کہ ان کے اندر غلو موجود ہے، لیکن انہوں نے ارادہ کیا کہ وہ اُن صفِ اول کے معرکوں میں جا کر قتال کریں گے جو رافضیوں اور ملحدوں کے خلاف موجود ہیں، اور جیسا کہ مشہور ہے کہ جماعت الدولۃ اپنے افراد کو یہ اختیار دیتی ہےکہ وہ نظام ِنصیری یا ملحدین (PKK) یا جن کو وہ’ صحوات‘ (مرتدین) کا نام دیتے ہیں کے خلاف قتال میں سے محاذ کو چن سکتے ہیں۔

عجیب یہ کہ جب وہ پہلی مرتبہ وہاں پر پہنچے تو اُس کا استقبال مسوؤلِ حدود نے کیا، اور اُس سے کہا کہ اللہ کا شکر ہے جس نے تمہیں چنا اور تمہیں دیارِ اسلام میں زندہ رکھا (وہ یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ جو علاقہ جبھۃ النصرہ، جبھۃ الشامیہ، جبھۃ انصار الدین نے آزاد کروائے ہیں وہ دارالکفر ہیں)، پس انہوں نے آپس میں گفتگو کی، اُس مسوؤل نے اُس سے کہا کہ اگر تمہارے سامنے ایک جبھۃ النصرہ اور ایک نظامِ نصیری کا فرد پیش کیا جائے، تو تم کس کو پہلے قتل کرو گے؟

تو انہوں نے بلا شک و شبہ جواب دیا کہ وہ نظامِ نصیری سے تعلق رکھنے والے شخص کو قتل کریں گے، تو اُس مسوؤل نے جواب دیا کہ :

تم نے غلط کہا، یہ لازم ہے کہ تم جبھۃ النصرہ کے فرد کو پہلے قتل کرو کیونکہ وہ مرتدین ہیں اور مرتدین سےقتال کفارِ اصلی سے قتال سے اولیٰ ہے۔

اور اس بات میں اضافہ کرتے ہوئے کہا:
تمہارے عقیدے میں بہت سے اشکال ہیں اور تمہارے لیے شرعی دورہ بہت ضروری ہے، اور اس شرعی دورے کے بعد ہم تمہیں صحوات کے خلاف قتال کے لیے بھیجیں گے، خصوصی طور پر جبھۃ النصرہ کے خلاف!

اُس بھائی نے جواب دیا:
میں چاہتا ہوں کہ میں عراق میں روافض کے خلاف قتال کروں، تو اُس کے مسوؤل نے جواب دیا کہ نہیں! تمہیں عین العرب(کوبانی) میں جا کر لڑنے کی اجازت ہے، مسوؤل نے اس شخص سے کہا کہ تم نے بیعت کی ہے اور ضروری ہے کہ تم سمع و طاعت کے تابع رہو اور تمہیں جہاں بھی کہا جائے، وہیں پر جا کر قتال کرو!

اور پھر اس کے بعد اُس کی ملاقات منبج(شہر) کے شرعی سےہوئے، اور اس کے ساتھ اس ضمن میں مسائل پر گفتگو ہوئی تو اس نے کہا کہ جبھۃ انصار الدین مرتدین ہیں! پس وہ نوجوان اس پر حیران ہوئے اور اُس سےاِس تکفیر کا سبب پوچھا!

تو جواب دیا:
وہ (جبھۃ انصارالدین) مرتدین کو ان محاذوں(علاقوں) میں تقویت دیتے ہیں ، جوہم سے ریف شمالی (حلب) میں لڑ رہے ہیں۔

ہم نے کچھ سوچا اور کچھ اور دیکھا اور یہ قوم (جماعت الدولۃ) اپنے غلو اور تکفیر میں تمام جہادی جماعتوں کے معاملہ میں پھیل رہی ہے۔

حسبنا اللہ و نعم الوکیل
المعتصم بالله المدني
شرعی (جیش المہاجرین والانصار)

مصدر ( عربی):
http://justpaste.it/aldolhda3sh

منگل، 20 جنوری، 2015

کیا آپ کے نزدیک شہرحلب اور ریف حلب (حلب کے گردونواح کے علاقہ) میں چوری کی حد کا نفاذ درست ہے؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم
کیا آپ کے نزدیک شہرحلب اور ریف حلب (حلب کے گردونواح کے علاقہ)
میں چوری کی حد کا نفاذ درست ہے؟

شیخ ابو بصیر الطرطوسی


سوال:
ہمارے محترم شیخ، السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ، ہم حلب اور ریف حلب (حلب کے گردونواح کے علاقے)میں محکمہ شریعہ رکھتے ہیں ، ہم آپ سے یہ سوال کرنے کی خواہش رکھتے ہیں کہ فالوقت ان ایام میں چوری کی حد کی تطبیق کرنا (حلب میں) آپ کی نظر میں کیسا ہے؟ اگراس چوری کی حد کا نفاذ کیا جائے تو اس پر آپ کی کیا رائے ہے؟


جواب:
الحمدللہ رب العالمین، وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ، وبعد،

ہم حلب اور اس کے گردونواح (ریف حلب کے علاقے)میں رہنے والوں کے حالات کو مدِنظر رکھتے ہوئے چوری کی حد کی تطبیق کو (اس وقت) درست نہیں جانتے ہیں اور اس کی دو وجوہات ہیں:

ا)اس کی پہلی وجہ اِس کا ’دارالحرب‘ ہونا ہے، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ’دارالحرب‘ میں اقامتِ حدود سے منع فرمایا ہے۔
۲)عمومی طور پر اہل شام پر غربت اور قحط سالی کی آفت کا شبہ ہونا اور حدود کے نفاذ کو شبہات کی بنیاد پر روک دیا جاتا ہے۔

تاہم اگر چوری کرنے والا پیشہ ور مجرم ہے اور مالدار بھی ہے، اور اس چرانے کے عمل کے ساتھ ساتھ اس نے خود کو صفتِ محاربہ(راہزنی) کے عمل پر بھی جمع کیا ہوا ہے اور راستے بھی منقطع کرنےکا سبب بن رہا ہے، اور لوگوں کو ڈراتا دھمکاتا بھی ہے، تواس قسم کی مثل کے افرادکے لیے جی ہاں! میں ان کے اوپر چوری کی حد کی تطبیق کو درست سمجھتا ہوں،اور اِس کے ساتھ ساتھ اِن پر دوسری سزائیں اور حدود کے نفاذکو بھی جمع کیا جا سکتا ہے جس کے وہ مستحق ہوں، جیسا کہ آیتِ حرابہ میں مذکور ہے۔

واللہ اعلم۔

آیتِ حرابہ:
’’جو لوگ اللہ اور اس کے رسول سے لڑتے ہیں اور زمین میں اس لیے تگ و دو کرتے پھرتے ہیں کہ فساد برپا کریں اُن کی سزا یہ ہے کہ قتل کیے جائیں، یا سولی پر چڑھائے جائیں، یا اُن کے ہاتھ اور پاؤں مخالف سمتوں سے کاٹ ڈالے جائیں، یا وہ جلا وطن کر دیے جائیں، یہ ذلت و رسوائی تو اُن کے لیے دنیا میں ہے اور آخرت میں اُن کے لیے اس سے بڑی سزا ہے۔‘‘
(المائدہ: ۳۳)

عبدالمنعم مصطفی حلیمہ
ابو بصیر الطرطوسی
15.01.2015

مصدر:
http://www.altartosi.net/forum/upload/showthread.php?694