بدھ، 1 اپریل، 2015

شیخ ابو ھمام السوری کی گواہی ، گواہیوں کا سلسلہ (۴)

بسم اللہ الرحمن الرحیم



البصیرۃ میڈیا برائے نشرواشاعت
گواہیوں کی سلسلہ(۴)
شیخ ابو ھمام السوری
- حفظہ اللہ -



[ویڈیو کا آغاز ہوتا ہے]

قُلْ هَـٰذِهِ سَبِيلِي أَدْعُو إِلَى اللَّـهِ ۚ عَلَىٰ بَصِيرَةٍ أَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِي ۖ وَسُبْحَانَ اللَّـهِ وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِين
[آپ کہہ دیجئے میری راه یہی ہے۔ میں اور میرے متبعین اللہ کی طرف بلا رہے ہیں، پورے یقین اور اعتماد کے ساتھ۔ اور اللہ پاک ہے اور میں مشرکوں میں نہیں] (۱۲:۱۰۸)

• جماعت الدولۃ کے عہداور معاہدوں کے توڑنے پر گواہ ہونا
• جماعت الدولۃ سے متعلق اس بات پر گواہ ہونا کہ انہوں نے اپنے سپاہیوں کو نصیریوں کے خلاف صفِ اول کے محاذوں سے ہٹا دیا تاکہ اس قوت کے ذریعے دیگر مسلمان جماعتوں سے دوسری جگہوں پر لڑا جائے یا (دوسری جگہوں پر) صفِ اول کے خطوط کو بغیر کسی دفاع کے ہی چھوڑ دیا، اس بات کا مکمل ادراک رکھتے ہوئے کہ اس سے مسلمانوں کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔
• جماعت الدولۃ سے متعلق اس بات پر گواہ ہونا کہ انہوں نےثالثی اور مصالحت کی کوششوں میں رکاوٹ ڈالی یا اپنے معاملہ کو شرعی عدالت میں حل کرنے سےروکے رکھا اور قتال کرنے پر اصرار کیا حالانکہ ہر طرف سے مسلمانوں کا ناحق خون بہہ چکا تھا۔


[قندھار میں قائم معسکر الفاروق کے تدریبی مناظر فوٹیج میں دکھائے جا رہے ہیں]
[عربی نظم پڑھی جا رہی ہے]
[شیخ فاروق ابو ھمام السوری کی مختصر سوانح حیات]


شیخ ابو ھمام السوری (شامی) جو فاروق السوری کی کنیت سے معروف ہیں نےافغانستان ۹۰ کی دہائی میں سفر کیا، ۱۹۹۸ء سے ۱۹۹۹ء کے دوران انہوں نےشیخ ابو مصعب السوری کے الغرباء عسکری مرکز میں ایک سال کے لیے شمولیت اختیار کی، پھر اس کے بعد قندھار کے معروف الفاروق تربیتی مرکز میں چلے گئے، جو ’ائرپورٹ مرکز‘ کے نام سے بھی معروف ہے، جہاں پر افغانستان مجاہدین کے خصوصی دستوں کو تربیت دی جاتی تھی۔ شیخ ابو ھمام نے معسکر الفاروق سے باقی ساتھیوں کے ہمراہ تربیت کو مکمل کیا، اور بہترین تربیت یافتہ تلمیذ کے طور پر دوسرے نمبر پر آئے جبکہ بھائی ابو العباس الزہرانی پہلے نمبر پر رہے ، جو کہ ۹۱۱ کے حملوں میں شامل ہونے والے ابطال میں سے تھے۔

اپنی تربیت مکمل کرنے کے بعد اُن کو شیخ سیف العدل ، جو تنظیم قاعدۃ الجہاد کی مجلس شوری کے رکن ہیں، کی جانب سے قندھار ائرپورٹ کے علاقہ کا امیر مقرر کیا گیا۔ شیخ ابو ھمام السوری نے معسکر الفاروق میں ایک مدرب(تریب کار) کی حیثیت سے بھی کام کیا، جہاں انہوں نے شیخ اسامہ بن لادنؒ سے ہاتھ ملاتے ہوئے اُن کی بیعت کی۔

شیخ ابو ھمام السوری کو شام کی طرف افغانستان آئے مہاجرین کا ذمہ دار مقرر کیا گیا، جہاں وہ خراسان میں اُن کے معاملات کی نگرانی کرنے کے ذمہ دار تھے۔ انہوں نے زیادہ تراُن معرکوں میں حصہ لیا جو صلیبیوں کے افغانستان پر حملے کےوقت پیش آئے۔

وہ شیخ سیف العدل کے ساتھ تھے، جب شیخ مصطفی ابو الیزید نے انہیں سقوطِ بغداد سے قبل عراق میں کام کرنے کا حکم دیا، جہاں وہ تقریباً ۴ ماہ تک مقیم رہے، اور خراسان میں تنظیم القاعدۃ الجہاد کی قیادت کے باضابطہ نمائندے رہے۔

اس عرصہ میں، اُن کی ملاقات شیخ ابو مصعب الزرقاویؒ اور شیخ ابو حمزہ المہاجرؒ دونوں سےہوئی۔ جب وہ عراق میں مقیم تھے، تو انہیں عراقی خفیہ ادارے نے گرفتار کر لیا اور انہیں شامی حکومت کے حوالے کر دیا، جنہوں نے بعد میں انہیں اس بنیاد پر چھوڑ دیا کہ اُن کے خلاف کوئی چیز ثابت نہیں ہو سکی ہے۔

جہادِ عراق کے شروع ہونے کے بعد،آپ کو عسکری مسوؤل کی حیثیت سے مکتبِ خدماتِ مجاہدین میں ذمہ داری دی گئی، ابو مصعب زرقاویؒ اپنے امراء کو شیخ ابو ھمام السوری کے پاس تربیت کے لیے بھیجتے تھے، اور تربیت ختم ہونے کے بعد وہ واپس ہو لیتے۔

نصیریوں کے ہاتھوں شام میں ۲۰۰۵ء کے عرصے میں گرفتاریوں کی ایک وحشی مہم شروع ہوئی، تو آپ لبنان چلے گئے، اور پھر مشائخ کے حکم پر وہاں سے واپس افغانستان آ گئے۔ اس کے بعد اُن کو شیخ عطیۃ اللہ اللیبیؒ نے حکم دیا، جو کہ بیرونی عملیات کے ذمہ دار تھے، کہ وہ شام میں جا کر کام کا آغاز کریں اور براہِ راست القاعدۃ کو اس سے آگاہ کریں۔

اُن کو لبنان میں گرفتار کر لیا گیا اوراُن کو ۵ سال کی قید ہو گئ۔ جب انہیں قید سے رہائی ملی، تو وہ القاعدۃ الجہاد برائے شام، جبھۃ النصرہ میں شامل ہو گئے۔ وہ اب جبھۃ النصرہ میں عسکری امیرِ عامۃ کی حیثیت میں کام کررہے ہیں، اللہ تعالیٰ اُن کی مدد فرمائیں۔


[گواہی کا آغاز ہوتا ہے]


بسم الله الرحمن الرحيم

بسم اللہ والحمدللہ والصلاۃ والسلام علی رسول اللہ و علی الہ و صحبہ و من ولاہ،

اے اللہ! کوئی کام آسان نہیں سوائے وہ جس کو آپ آسان بنا دیں، اور آپ مشکلوں کو اپنی مشیت سے آسان فرما دیتے ہیں، اے اللہ! ہمیں حق کو حق دکھائیں، اور ہمیں اس کی اتباع کی توفیق دیں، اور باطل کو باطل دکھائیں اور اس سے دور رہنے کی توفیق دیں، اے اللہ! ہماری اپنے اذن کے ذریعے(تنازعہ کے معاملہ میں) حق کی طرف رہنمائی فرما دیجیے، بے شک، آپ جسے چاہتے ہیں صراطِ مستقیم کی طرف ہدایت دے دیتے ہیں۔

جب ابتداء میں شہر ’اورم‘ میں مسائل ہونا شروع ہوئے، تو میں ابو عمر تونسی کے پاس گیا، کیونکہ وہ’ اورم الکبری‘ کی عملیات کے ذمہ دار تھے۔ وہ اپنے(دولۃ کے) سپاہیوں کو ’فوج 46‘ (سابقہ نصیریوں کے مرکز کا نام ہے جس کو آزاد کروانے کے بعد مجاہدین وہاں پر قیام پذیر تھے) پر حملہ کرنے کے لیے جمع کر رہا تھا۔ میری اُس سے ملاقات ہوئی، اور یہ ملاقات بہت شدید بے اضطرابی اور ذہنی تناؤ میں ہوئی۔ میں یہ سمجھنا چاہ رہا تھا کہ ہو کیا رہا ہے، اور وہ(جماعت الدولۃ) کیوں اُن پر حملہ کر رہی ہے، اور اس کے پیچھے کیا وجوہات ہیں۔

تاہم، اس نے مجھ پر تہمتیں لگانا شروع کردیں اور مجھ پر چیخنا چلانا شروع کر دیا:
’’تم کس طرح جش الحر (FSA) کے ساتھ تعامل و تعاون کر سکتے ہو؟! تم مرتدین کے ساتھ ہو! تم مرتدین کی حفاظت کررہے ہو! تم مرتدین کے ساتھ کھڑے ہو!‘‘

میں نے سوال کیا:
’’تمہاری مرتدین سے کیا مراد ہے؟‘‘

اس نے جواب دیا:
’’تم کس طرح جیش الحر (FSA) سے بیعات لے سکتے ہو، جس میں ابو جلال شامل ہے؟!‘‘

پھر اُس کے بعد میری اس کے ساتھ ایک طویل بحث ہوئی۔ میں اس جنگ کو (مسلمانوں کے) ناحق خون بہنے کے سبب روکنا چاہتا تھا لیکن (دولۃ) اُس کو جاری رکھنے پراصرار کر رہی تھی، میں اُس جنگ کو نہ روک سکا۔

میں نے اُس سے کہا:
’’میں تمہارےمسوؤلِ اعلی سے ملنا چاہتا ہوں ‘‘

اس نے مجھے ابو اسامہ مغربی کے پاس بھیج دیا۔ اب یہاں پر اُن کی طرف سےتکبر اورخودپسندی نظر آئی۔ میں دروازے کے سامنے تین گھنٹے تک انتظار کرتا رہا تاکہ میں ابو اسامہ مغربی سے ملاقات کر سکوں۔

بے شک اس وقت کافی دیر ہو چکی تھی۔ شام کے وقت ایک بھائی آئے اور انہوں نے ابو اسامہ مغربی سے ملاقات کی۔ اُن کے ہاں اس جنگ کو روکنے کی کوئی بھی فکر موجود نہ تھی۔ ہم نے دولۃ کی قیادت سے رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن ایسا ممکن نہ ہو سکا۔

رات گئے کافی دیر بعد ہم ابو الاثیر سے رابطہ کرنے میں کامیاب ہوئے۔ میں نے اپنے وفد کے بھائیوں کے ساتھ اُس سے ملاقات کی۔ وہ بہت ہی غصے اورتشنج زدہ حالات میں تھا۔ میں اپنے وفد کے بھائیوں کے ساتھ ابو الاثیر سے ملاقات کے لیے داخل ہوا، اور اس سے ’فوج 46‘ سے متعلق معرکے سے متعلق گفتگو شروع کی۔

میں نے اُس سے کہا:
’’چلیں اب سمجھتے ہیں کہ مسئلہ ختم ہو گیا ہے۔ تم نے اُن کی عمارتوں پر حملہ کیااور تم نے اُن کا اسلحہ اور سامانِ جنگ کو لے لیا ہے۔ چلیں، جنگ بندی کرتے ہیں اور اس جنگ کو روک دیتے ہیں تاکہ ناحق خون بہنے سے رک جائے اور فتنہ کو مزید بڑھنے سے بچایا جا سکے اور قتل و غارت ختم کی جا سکے‘‘

اس لمحے تک کسی بھی بہن کے اغواء یا قید ہونے یا عصمت دری کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا تھا ، اِن تمام افواہوں سے متعلق کوئی بھی دلیل ابھی تک ثابت نہیں ہو سکی ہے، اوراس دعوی کی کوئی توثیق اور تصدیق بھی نہیں ہو سکی(کہ کسی بہن کو قید میں لیا گیا یا اس کی عصمت دری ان جھڑپوں کی وجہ سے کی گئی)، میں فقط اس (خصوصی) ملاقات تک کا ذکر کر رہا ہوں، کہ اس طرح کا کوئی بھی واقعہ پیش نہیں آیا۔

ابو الاثیر سخت غصے میں تھا۔ وہ (وائرلیس) ریڈیو کے ذریعے کسی سے گفتگو کر رہا تھا اور اُس سے کہا:
’’جتنے بھی صفِ اول کے خطوط پر افراد ہیں ، انہیں حکم دو کہ وہ پسپائی اختیار کر لیں۔ آج میں الاتارب(ایک گاؤں جو اس مرکز کے قریب تھا) پر حملہ کروں گا، میں انہیں مکمل طور پر ختم کر دینا چاہتا ہوں!‘‘

میں نے اُس سے کہا:
’’اللہ سے ڈرو! تم کس طرح(نصیریوں کے خلاف) صفِ اوّل کے خطوط پر مقاتلین اور مرابطین کو پسپائی اختیار کرنے کا کہہ سکتے ہو تاکہ تم اِن جیش الحر (FSA) کے ایک چھوٹے سےمجموعہ سے لڑ سکو؟ اگر(نصیری) فوج داخل ہو گئی، تو وہ حرمات کی پامالی کرے گی، اور خواتین کی عصمت دری کرے گی، اور سب کو قتل کر دے گی، چاہے وہ دولۃ سے ہوں یا غیر دولۃ سے!‘‘

اس نے کہا:
’’(نصیری) فوج کو آنے دو اور خواتین کی عصمت دری کرنے دو!‘‘

میں نے کہا:
’’اللہ سے ڈرو! جو تم نے کہا ہے وہ(شریعت میں) جائز نہیں ہے ‘‘

اس نے جواب دیا:
’’(نصیری) فوج کو داخل ہونے دو، اور اِن کی خواتین کی عصمت دری کرنے دو، وہ جائیں اور اپنی خواتین کا دفاع کریں!‘‘

میں نے کوشش کی کہ اُس سے گفتگو کروں تاکہ وہ میری بات کو سمجھ سکے؛ تاہم میں نے اُس کو ایک ذمہ دار شخص نہ پایا اور نہ ہی میں سمجھتا ہوں کہ ایسے(غیرذمہ دار)شخص کو مسلمانوں کی، اُن کے جانوں اور عزتوں کی حفاظت کرنےکی مسوولیت دینی چاہیے۔

میں نے ابو الاثیر سے کہا:
’’ہمارا(جبھۃ النصرہ) کا فوج (46) میں مرکز ہے۔ کیا تمہارے علم میں نہیں ہے کہ ہم وہاں پر قیام پذیر ہیں؟‘‘

اُس نے جواب دیا:
’’ہاں، ہم جانتے ہیں‘‘

میں نے کہا:
’’کیا تم نے وہاں پر جبھۃ النصرہ کا جھنڈا اُن کے مرکز کے اوپر نہیں دیکھا تھا؟ کیا تمہیں علم نہیں کہ وہاں پر ایک فوجی دستہ ہے جس نے جبھۃ النصرہ کو بیعت دی ہے اور ہمارے بھائی وہاں پر موجود ہیں اور وہاں پر ہمارے شرعی طلباء ہیں ، جو ہمارےاِن بھائیوں کو وہاں پر تعلیم دے رہے ہیں؟‘‘

اس نے جواب دیا:
’’ہم جانتے ہیں‘‘

میں نے کہا:
’’مطلب کہ تمہیں علم تھا کہ فوج 46 میں جبھۃ النصرہ کا مرکز موجود ہے؟‘‘

اس نے کہا:
’’ہاں، جو پہلے جبھۃالنصرہ تھی، اس سے اب ہماری بیعت کر لی ہے، اور اب وہ دولۃ بن گئی ہے‘‘

میں نے جواب دیا:
’’کیسے؟ مجھے تمہاری بات سمجھ نہیں آئی؟‘‘

اس نے کہا:
’’جس شخص نے تمہیں (جبھۃ النصرہ) بیعت دی تھی، اس نے ایک ہفتے بعد ہماری بیعت کر لی ہے، وہ میرا پرانا دوست ہے اور ہم نے بہت سے معرکوں میں اکٹھا حصہ لیا ہے۔ ہمیں تعجب ہوا جب ہمیں معلوم ہوا کہ اُس نے جبھۃ النصرہ کو بیعت دے دی ہے، پھر میں نے اُس کے ساتھ ملاقات کی اور اسے تب تک نہ چھوڑا جب تک اُس سے دولۃ کی بیعت نہ کر لی‘‘

میں نے اُس سے کہا:
’’سبحان اللہ! تم نے ہمارے اوپر الزامات لگائے جب ہم نے (جیش الحر) کے ایک فوجی دستے سے بیعت لی، اور جیش الحر (FSA) کو مرتدین قرار دیا، اور ہم پر ’مرتدین‘ کی ’مدد‘ کرنے کی تہمت لگائی، اور ہمیں ’مرتدین‘ کا ’اتحادی‘ قرار دیا، اور اب یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ وہی شخص تمہار ا سابقہ دوست ہے، اور تم نے اس سے بیعت لے لی ہے ‘‘

ابوالاثیر نے کہا:
’’وہ میرا پرانا دوست ہے اور اب بھی ہے!‘‘

میں نے ابو الاثیر سے کہا:
’’اگر تم اب یہ جنگ روک دیتے ہو، تو تمام (FSA) کے مجموعے جنگ بندی کے لیے تیار ہیں، اور اُس کی شرط یہ ہے تم ’فوج 46‘ سے پسپائی اختیار کر لو‘‘

اس نےجواب دیا:
’’ہم پسپائی اختیار نہیں کریں گے اور ہم ایک قدم بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے!‘‘

میں نے کہا:
’’ناحق خون روکنے کے لیے بھی نہیں، تمہارے اور ہمارے بھائیوں کا خون، مسلمانوں کا خون؟‘‘

اس نے جواب دیا:
’’اب ہم (نصیریوں کے خلاف) صفِ اول کے خطوط سے تمام مرابطین کو اِدھر جمع کریں گے، اور ان (جیش الحر)کے مراکز پر حملہ کریں گے اور اُن کو نیست و نابود کر دیں گے‘‘

بے شک اس کے بعد اگلے دن ہم ابو اسامہ مغربی کے پاس گئے۔ ہم نے جنگ بندی کروانے کے لیے مذاکرات کیے، کیونکہ وہ اُس علاقہ میں عسکری عملیات کا مسوؤل تھا ۔

ہم نے کہا:
’’تم نے کس طرح اس مرکز پر حملہ کیا اور ہمارے بھائی(جبھۃ النصرہ) اُس کے اندر موجود تھے اور تم نے انہیں قتل کر دیا؟‘‘

اُس نے کہا:
’’ہمیں علم نہیں تھا کہ آپ کے بھائی اندر موجود ہیں اور ہمیں علم نہیں تھا کہ وہاں پر جبھۃ النصرہ موجود ہے‘‘

میں نے کہا:
’’کیسے؟ وہاں پر (جبھۃ النصرہ کا )جھنڈا بھی موجود تھا؟‘‘
اس نے کہا:
’’ہم نے رات کے وقت حملہ کیا۔ ہمارا جھنڈے کی طرف دھیان نہیں گیا‘‘

میں نے کہا:
’’ہمارے بھائی وہاں موجود تھے، کسی نے بھی اُ ن سے گفتگو نہیں کی؟ کسی نے بھی انہیں اطلاع نہیں دی؟‘‘

اس نے جواب دیا:
’’نہیں، حملہ آور تمام کے تمام عجمی تھے اور وہ عربی نہیں بولتے اور نہ ہی سمجھتے ہیں، اور وہ رات کے وقت داخل ہوئے اور اُن لوگوں کو قتل کر دیا جو اندر موجود تھے۔اس طرح یہ معاملات ہوئے، یہ ایک چھوٹا سا مسئلہ ہے!‘‘

میں اس وفد کا حصہ تھا جو دولۃ اور دوسرے مسلح (جہادی)جماعتوں کے درمیان جنگ بندی کی کوشش کر رہے تھے۔ ہم دولۃ کے اندر کسی بھی ایسے مسوؤل تک پہنچنے میں ناکام رہے، جو صاحبِ فیصلہ ہو، یہاں تک کہ ہم ابو علی انباری کے پاس پہنچ گئے۔

ہم نے اس سے کہا :
’’ہمیں صاحبِ فیصلہ شخص کی تلاش ہے‘‘

اس نے جواب دیا:
’’میں یہاں پر صاحبِ فیصلہ ہوں، اور دولۃ کےاندرتمام افراداُس فیصلے کےپابند ہیں، حتیٰ کہ(ابوبکر) بغدادی بھی!‘‘

ہم نے کہا:
’’بہترین، ہمارے پاس ہر جماعت سے ایک نمائندہ موجود ہے، اور جبھۃ النصرہ کو بعض جماعتوں نے یہ اختیار دیا ہےکہ اِن مذاکرات میں اُن کی نمائندگی کریں۔ہم نے ابو علی انباری سے بہت گفتگو کی، لیکن ہم کسی نتیجہ تک نہیں پہنچ سکے ‘‘

ہم نے اُس سے کہا:
’’اب خبردار ہونے کی ضرورت ہے، لوگوں نے تمہارے خلاف بغاوت کر دی ہے‘‘

اس نے کہا:
’’نہیں، انہوں نے بغاوت نہیں کی، بلکہ اِس کے برعکس لوگ ہم سے محبت کرتے ہیں‘‘

میں نے کہا:
’’تمہیں علم نہیں ہے کہ حقیقت میں کیا ہو رہا ہے، لوگ تمہارے خلاف مسلح جنگ کے لیے تیار ہو چکے ہیں‘‘

اس نے کہا:
’’پھر ہم ہر اس شخص سے لڑیں گے جو ہمارے خلاف اسلحہ استعمال کرے گا‘‘

میں نے کہا:
’’ اس میں مسلح جماعتیں(مجاہدین) اور عامۃ الناس ہیں ، اور ہر کوئی جو یہ کہہ رہا ہے تم نے اُن پر ظلم کیا ہے‘‘

اُس نے جواب دیا:
’’ہم اُن سب سے لڑیں گے۔ ہم انہیں نیست و نابود کر دیں گے؛ یا ہم انہیں نیست و نابو د کر دیں گے یا وہ ہمیں! ہم ہر اس کو تباہ وبرباد کر دیں گے، جو ہمارے خلاف اسلحہ اٹھائے گا، دولۃ کے خلاف اسلحہ اٹھائے گا‘‘

اپنی اس پوری تقریر میں وہ ویہ باتیں دہرا تا رہا:
’’یہ صحوات ہیں، یہ مرتدین ہیں، ہم اِن سب کو نیست و نابود کر دیں گے، جو ہمارے خلاف اسلحہ اٹھائے گا!‘‘

اور ہماری یہ ملاقات بغیر کسی نتیجہ کے برخاست ہو گئی۔

ہم اس تنیجہ پر پہنچے کہ یہ شخص غیر ذمہ دار ہے، ایسا شخص جو دولۃ کے اندر نائب کا عہدہ رکھتا ہے، وہ لوگوں کو نیست و نابود کرنا چاہتا ہے، اور ہر کوئی جو اُن کے خلاف اسلحہ اٹھائے، اُس کو تباہ وبرباد کرنا چاہتا ہے،۔

حتیٰ کہ مصالحتی وفد نے اس سے کہا:
’’ تمام جماعتیں اور کتائب محکمہ شریعہ (شرعی عدالتوں)کے سامنےسرتسلیم خم کریں گی‘‘

اس نے میرے سامنے یہ بات کہی، اور اللہ اس بات پر گواہ ہیں جو میں بیان کرنے لگا ہوں۔

ابو علی انباری نے کہا:
’’جب ہم یہ تمام کام ختم کر لیں(یعنی سب کو قتل کر لیں)، اس کے بعد شرعی عدالتیں سامنے آ سکتی ہیں‘‘

اُس کی باتوں اور گفتگو نےاِسی بات کو ثابت کیا کہ وہ ایک غیرذمہ دار شخص ہے۔

انہوں(دولۃ) نے نوجوان افراد اور مجاہدین کا استعمال دوسری جماعتوں کے خلاف کیا، چاہے وہ جماعتیں اسلامی ہوں یا غیر اسلامی، اور مجاہد کی اِن کے نزدیک کوئی قیمت نہیں ہے۔ یہ اُس مجاہد کے بارے میں جو اِن کے پاس آئے ، یہی سمجھتے ہیں کہ وہ شخص مرنے کے لیے آیا ہے، پس اسے جانے دو اور مرنے دو۔

کچھ فاضل بھائیوں کے ساتھ میں عمر شیشانی سے ملنے گیا، تاکہ جنگ بندی کے معاہدہ پر پہنچا جا سکے۔ ہماری اُس سے طویل ملاقات ہوئی۔ یہ بہت تھکا دینے والی ملاقات تھی، اور ہم آخر کار ایک جنگ بندی کے معاہدے پر پہنچ گئے، اِس شرط پر کہ دولۃ اپنا (متجاوزانہ وجابرانہ و جارحانہ) رویہ اور قتل وغارت ترک کر دےگی، اور دوسری طرف، ہم نے تمام (جہادی)قتالی جماعتوں کے ساتھ یہ کوشش کی کہ وہ بھی جنگ بند ی پر آ جائیں ، اور پھر اُس کے بعد شرعی عدالتوں میں اپنے فیصلے کروائے جائیں۔ جب محکمہ شریعہ (غیر جانبدار شرعی عدالتیں) کا قیام عمل میں آ جائے گا، پھر اُس کے بعد تمام فریقین کے درمیان تنازعات اور اختلافات کے فیصلے ہوں گے۔

میں نے عمر شیشانی سے کہا:
’’ہم اس معاہدے کو معتبر و تصدیق شدہ بنانا چاہتے ہیں، تاکہ باقی جماعتیں اور کتائب ہمارے اوپر یقین کر سکیں‘‘

بے شک، عمر شیشانی اس سے متفق ہوئے حالانکہ اس کے اردگرد موجود بہت سے ساتھی اس معاہدے پر معترض تھے، اور وہ بہت اضطراب کا شکار تھےکہ ہم کیوں مل بیٹھے ہیں اور اس معاہدہ کی توثیق کی جا رہی ہے اور یہ معاہدہ(اتفاق) جبھۃ النصرہ کے عسکری مسوولِ عامہ کا دولۃ کے عسکری مسوولِ عامہ کے ساتھ تھا، جس میں اتفاق ہوا کہ اُن تمام جگہوں پر جنگ بندی کی جائے گی، جہاں پر دولۃ اور باقی جماعتوں کے درمیان جنگ ہو رہی ہے۔

اور ہم نے اُس سے سوال کیا:
’’کیا اِس معاہدہ کی دولۃ پابند ہو گی؟‘‘

عمر شیشانی کے جواب دیا:
’’جی ہاں! پابند ہو گی‘‘

میرے ساتھ ایک بھائی نے اُس سے پوچھا:
’’جو بات تم کہہ رہے ہو کیا دولۃ اُس کی پابند ہو گی؟‘‘

عمر شیشانی نے جواب دیا:
’’جی ہاں! دولۃ اس معاہدہ کی ہر جگہ پابند ہو گی،میں دولۃ کا عسکری مسوؤلِ عام ہوں، اور دولۃ اس معاہدہ کی پابند ہے‘‘

بے شک، عمر شیشانی جنگ بندی کے لیے بہت جلدی میں تھے، اور مجھ سے کہا:
’’یہ جنگ بندی کب شروع ہو گی؟‘‘

میں نے اُس سے کہا:
’’مجھے قیادتِ عامہ تک اس بات کو پہنچانا ہے اور باقی جماعتوں اور کتائب کو بھی اِس سے آگاہ کرنا ہے‘‘

اُس نے جواب دیا:
’’اِس میں تو (بہت) وقت لگے گا، ہمیں جلدی کرنے کی ضرورت ہے‘‘

میں نے کہا:
’’اس معاملہ کوتقریباً دو دن لگ جائیں گے‘‘

اس نے جواب دیا:
’’نہیں، یہ تو بہت لمبا عرصہ ہے۔ بھائی، تمہیں جلدی کرنی چاہیے‘‘

میں نے کہا:
’’کم از کم دو دن، میں اِس معاملہ کو دو دن سے پہلے حل نہیں کر سکتا، مجھے جبھۃ النصرہ کی قیادتِ عامہ کو مطلع کرنا ہے، اور پھر اس کے بعد باقی جماعتوں کو بھی اس معاملہ سے آگاہ کرنا ہے‘‘

عمر شیشانی مجھے تحریض دلا رہے تھے کہ میں ان اُمور میں عجلت دکھاؤں۔ عمر شیشانی کے ساتھ کچھ افراد موجود تھے جو اس معاملہ پر اعتراض کر رہے تھے، اور وہ اسے تحریض دلا رہے تھے کہ جنگ کو جاری رکھا جائے اور کسی بھی معاہدہ پر متفق نہ ہوا جائے۔

اگلے دن، اپنے حسنِ نیت کے پیش نظر(طنز)، انہوں نے ایک کار بم انادان (علاقہ کا نام) میں بھیج دیا اور ایک عسکری قافلہ منبج (علاقہ کا نام) کی طرف بھیج دیا۔ مجھے نہیں علم کہ دولۃ کے اندر فیصلہ ساز شخص کون ہے، جنگ بندی پر اتفاق ہوا تھا، اور اگلے دن،کار بم اورگاؤں پر حملہ کر دیا جاتا ہے۔ یہ اتفاق (معاہدہ) سوائے کاغذ پر سیاہی کے علاوہ کچھ نہ تھا، اور ہم دولۃ میں کسی ایک بھی شخص تک نہ پہنچ سکے جو صاحبِ فیصلہ ہو۔

ہم دولۃ میں کسی بھی ایسے صاحبِ فیصلہ شخص تک نہ پہنچ سکے، جو کہ جنگ بندی کے لیے کوشش کرے اور مسلمانوں اور ہمارے بھائیوں کے بہتے خون کو روکنے کے لیےجدوجہد کرے۔ سبحان اللہ، ہم تو اِس بات کے حریص تھے کہ مسلمانوں اور مجاہدین کے بہتے خون کو روکا جائے، چاہے ان کا تعلق دولۃ سے ہو یا غیر دولۃ سے!

ہم نے بہت سے علاقوں میں جنگ بندی کے لیے کوشش کی حتی کہ تب بھی جب جیش الحر (FSA) صنعائیہ (صنعتی شہر) میں داخل ہو گئی، ہم نے خبر سنی کہ دولۃ نے اپنے مرکز سے پسپائی اختیار کر لی ہے، ہم نے اپنے (جبھۃ النصرۃ) کے بھائیوں کو پیغام بھیجا کہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ بھائی اِن مراکز میں احتیاط سے داخل ہوں، پس وہ بھائی داخل ہوئے۔ ان مراکز میں سوائے نصب کیے گئے باردو اور دھماکہ خیز مواد کے کچھ نہ تھا۔ وہ بھائی واپس ہوئے اور ہمیں اس بات کی خبر دی، پھر ہم نے ایک بھائی کو بھیجا جو دھماکہ خیز مواد میں مہارت رکھتا تھا، جس نے وہاں جا کر اس دھماکہ خیز مواد کے فیوز کو علیحدہ کیا۔ انہوں نے بارود کے ڈرم کا جال بچھا رکھا تھا اور اس کے پیچھے کلورین(گیس) کے ڈرم موجود تھے۔ اگر وہ دھماکہ خیز مواد پھٹ جاتا، تو وہ زہریلی جان لیوا گیس کلورینیٹ کو پیدا کر دیتا۔

شہر صنعائیہ (صنعتی شہر) میں شہری، عورتیں اور بچے اس وقت موجود تھے، اگر یہ دھماکہ خیز ڈرم اور کلورین گیس ڈرم پھٹ جاتے، تو عظیم قتلِ عام ہوتا، اور اس سے بہت سے بچے اور عورتیں جاں بحق ہوتے، جو کہ باقی علاقوں سے ہجرت کر کے آئے تھے ، اور شہر صنعائیہ میں پناہ لے رکھی تھی، وہ سب قتل ہو جاتے، ولا حول ولا قوۃ الا باللہ۔

جہاں تک کار بم کا تعلق ہے، میں نے اپنی آنکھوں سے اس عملیات کو المسحت (علاقہ کا نام) میں ہوتے ہوئے دیکھا۔ ایک کار بم کا حملہ آور آیا، اور اس نے اس کو المحست کے دروازے پر اڑا دیا، پھر اس کے بعد دوسرے کار بم کے حملہ آور نے خودکو فافین گاؤں کے اندر جا کر اڑا دیا، اس سے پہلے کہ وہ گاؤں سے باہر نکلتا اور المحست کے قریب پہنچتا۔ دوسرے حملہ آور سے۱۰۰ میٹر کی دوری پر تیسرےکار بم کے حملہ آور نے خود کو گیس سٹیشن کے قریب جا کر اڑا لیا۔

اِن میں دو کار بم کے حملہ آوروں نے اپنی گاڑی کو گاؤں کے اندر شہریوں کے درمیان اڑا دیا، اور وہاں پر کوئی بھی فرد ایسا نہیں تھا جس کا تعلق جیش الحر (FSA) سے ہو، یا جبھۃ النصرہ سے یا کسی اور دوسری جماعت سے! دونوں گاڑیاں گاؤں کے اندر اڑا دی گئیں۔ میں نے یہ سب اپنی آنکھوں سے دیکھا اور اُس دھماکے کی باقیات اورتباہی کو جو لوگ دیکھنا چاہتے ہیں ، وہ ابھی بھی وہاں جا کر دیکھ سکتے ہیں۔ حسبنا اللہ و نعم الوکیل۔ جہاں تک ابو الاثیر، ابو علی انباری ، عمر شیشانی سے ملاقات کا تعلق ہے،اور اسی طرح کاربم حملے جو فافین کے گاؤں میں کیے گئے اور صنعائیہ(صنعتی علاقہ) کے کلورنیٹ کے بیرل بم کا معاملہ، میں اس پر اللہ کو گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اس کو اپنی آنکھوں سے ہوتے ہوئے دیکھا، اور اللہ تعالیٰ اس بات پر گواہ ہیں جو میں بیان کر رہا ہوں۔۔۔!



[گواہی ختم ہوئی]
[ویڈیو اختتام پذیر ہوتے ہوئے]




’’فقط کاغذ پر سیاہی۔۔۔!!‘‘



جہاد بصیرت پر!

ویڈیو لنک:
http://vimow.com/watch?v=Jp97Oxgn8T8 (حصہ اول)
http://vimow.com/watch?v=6hqngopoRCA (حصہ دوم)

انگریزی ترجمہ:
http://justpaste.it/hamam14



شیخ ابو حفص بنشی اور دیگر بھائیوں کی گواہی، گواہیوں کا سلسلہ (۳)

بسم اللہ الرحمن الرحیم



البصیرۃ میڈیا برائے نشرواشاعت
گواہیوں کی سلسلہ(۳)
شیخ ابو حفص بنشی اور دیگر بھائیوں کی گواہی
- حفظہ اللہ -







شیخ ابو فراس السوری کی گواہی ، گواہیوں کا سلسلہ (۲)

بسم اللہ الرحمن الرحیم



البصیرۃ میڈیا برائے نشرواشاعت
گواہیوں کی سلسلہ(۲)
شیخ ابو فراس السوری
- حفظہ اللہ -



[ویڈیو کا آغاز ہوتا ہے]

قُلْ هَـٰذِهِ سَبِيلِي أَدْعُو إِلَى اللَّـهِ ۚ عَلَىٰ بَصِيرَةٍ أَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِي ۖ وَسُبْحَانَ اللَّـهِ وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِين
[آپ کہہ دیجئے میری راه یہی ہے۔ میں اور میرے متبعین اللہ کی طرف بلا رہے ہیں، پورے یقین اور اعتماد کے ساتھ۔ اور اللہ پاک ہے اور میں مشرکوں میں نہیں] (۱۲:۱۰۸)

اہم نکات جو شیخ نے اپنی اس گواہی میں بیان کیے درجہ ذیل ہیں:

• جماعت الدولۃ کی طرف سے شیخ خالد السوری کو قتل کی دھمکی دینے پر گواہ ہونا
• جماعت الدولۃ کا لوگوں کی تکفیر ایسے اعمال کی بنیاد پر کرنا جو گناہ نہیں ہیں ، بلکہ نیک اعمال ہیں، اور اِس پر گواہ ہونا


[شیخ ابو فراس السوری کی مختصر سوانح حیات]

شیخ ابو فراس السوری (شامی) ۱۳۶۹ ھ (۱۹۴۹ء) میں دمشق کے مضافاتی علاقہ میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے ملٹری یونیورسٹی میں شمولیت اختیار کی اور وہاں سے سیکنڈ لیفٹیننٹ کے عہدے پر سند حاصل کی۔ اُن کو اسلامی نظریات کی بنیاد پر اُن کےعسکری منصب سے ۱۹۷۹ءمیں ہٹا دیا گیا، جس کی وجہ توپ خانہ سکول میں پیش آنے والے حادثات تھے۔

افغانستان میں قیام کے دوران، شیخ ابو فراس نے ۱۹۸۳ ء میں شیخ عبداللہ عزام ؒ اور شیخ اسامہ بن لادنؒ سے ملاقات کی، جہاں پر آپ مجاہدین کی تربیت اُن مخصوص تربیتی مراکز میں کرواتے رہے جو انڈیا، انڈونیشیا، برما اور ایران میں عملیات کرنےکے لیے قائم کیے گئے تھے۔

وہ شیخ اسامہ بن لادنؒ کی طرف سے پاکستان میں جہاد کی دعوت دینے کے لیے نمائندہ تھے، اور اُنہوں نے پاکستان میں امرائے جہاد کے وفد سے ملاقات کی، جن میں سمیع الحق شامل ہیں، جو حقانی مدرسہ کے مہتمم اعلیٰ تھے، جہاں سے بہت سےافغانی اور طالبان علماء نے سندِ فراغت حاصل کی۔

انہوں نے جماعت اہلحدیث کوایک جہادی جماعت کا قیام عمل میں لانے پر قائل کرنے کے لیے بھی ایک کلیدی کردار ادا کیا، اور اُن کی بعض قیادت سے ملاقات کی۔ علاوہ ازیں، بعض اُن کے کردار کی وجہ سے راغب ہوئے اور ایک نئی جماعت کا قیام عمل میں لائے، جماعت الدعوۃ اورعسکری جماعت لشکرِ طیبہ، جس کو شیخ ابو فراس نے تربیت دی جبکہ اُس کی مالی معاونت شیخ اسامہؒ کی طرف سے آتی رہی اور جس کی قیادت زکی الرحمٰن کر رہےتھے۔

شیخ ابو ابراہیم عراقی اور شیخ ابو فراس نے حکمت یار کے لیے’ تندرفتار جوابی قوت‘کا لشکر تیار کیا۔ شیخ ابو فراس، شیخ ابو عبیدہ بنشیری اور شیخ ابو حفص مصری مل کر ’ماسدہ مجلس عسکری شوری ‘کا قیام عمل میں لائے۔ انہوں نے شیخ ابو مصعب زرقاویؒ سے بھی ملاقات کی اور ارضِ شام میں اپنی(جہادی) کاوشوں کے خطوط کو استوار کرنے کے حوالے سےاکٹھا کام کیا۔ امریکی مداخلت کےوقت، انہوں نے پاکستانی مجاہدین کےاہلِ خانہ کو محفوظ جگہوں پر منتقلی کےلیے بھی کام کیا۔

۲۰۰۳ء میں آپ یمن ہجرت کر گئے، اور وہاں پر ۲۰۱۳ء تک سکونت اختیار کی اور پھر شام کی طرف ہجرت کر گئے، جہاں جبھۃ النصرہ اور جماعت الدولۃ کا آپس میں تنازعہ شروع ہوا۔ انہوں نے شیخ ابو خالد السوریؒ کے ساتھ مل کر اِن تنازعات کو حل کرنے کے لیے بے تحاشا کوششیں صرف کیں، تاہم اُن کی یہ کاوشیں جماعت الدولۃ کی ہٹ دھرمی کے سبب ناکام ہو گئیں۔ وہ تنظیم القاعدۃ الجہاد کی شام میں شاخ جبھۃ النصرۃ میں شامل ہیں اور اُس کے رسمی ترجمان ہیں،اور اب تک تنظیم میں موجود ہیں۔


[گواہی کا آغاز ہوتا ہے]


بسم الله الرحمن الرحيم

الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على سید المرسلین، نبینا محمد، وعلى آله وصحبه أجمعين، اما بعد

میں نے اس بات سے متعلق نہیں سوچا تھا کہ میں دولۃ کے متعلق گفتگو کروں گا اور جو اس نے امتِ مسلمہ پر جرائم کیےہیں، اس پر بات کروں گا، بلکہ یہ تعارض اسلام کے خلاف بھی کیا گیا ہے، لیکن عدنانی کے بیان کے بعد، جس میں اس نے ہمارے بھائی ابو عبداللہ شامی پر جھوٹ اور بہتان کی تہمت لگائی اور انہیں دعوتِ مباہلہ دیا، پس اِس کو دیکھتے ہوئے میں اس معاملہ پردو نکات سے متعلق بات کروں گا، اس میں پہلا نکتہ شیخ ابو خالدؒکا قضیہ ہے، اور دوسرا قضیہ اِن سے متعلق یہ بیان کروں گا کہ یہ نیک اعمال کی بنیاد پر تکفیر کرتے ہیں۔

جہاں تک شیخ ابو خالد السوریؒ کی تکفیر کرنے کا قضیہ ہے:

اسی جگہ پر، میری شیخ ابو خالد السوری(رحمہ اللہ) سے ملاقات اُن کی شہادت سے کچھ گھنٹےقبل ہوئی،
اور انہوں نے مجھ سے کہا:
انہوں(دولۃ) نے مجھے(شیخ ابو خالد السوری) کو اپنی ’سیاہ فہرست‘ میں ڈال دیا ہے اور وہ مجھے قتل کرنا چاہتے ہیں۔
میں نے اُن کو مسکرا کر دیکھا اور کہا:
’زندگی اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے‘ (آپ کی موت کا وقت معین ہے)
انہوں نے جواباً کہا:
’اور آپ بھی احتیاط کریں کیونکہ آپ بھی اُن کا ہدف ہیں‘
میں نے اس پر بہت زیادہ تبصرہ نہ کیا اور انہیں جواب دیا:
’ہم اس کی پرواہ نہیں کرتے، ہماری زندگی کے معاملات اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں۔‘
لیکن اُن کو میری طرف سےیہ ٹھنڈا مزاج پسند نہ آیا، اور مجھ سے اصرار کیا کہ ہم اپنی احتیاط کریں اور کہا کہ ہم لوگ اِن(دولۃ) کا ہدف ہیں اور اس فہرست میں سب سے اوپر ہیں۔

میں نے اُن سے کہا:
’ہم اللہ تعالیٰ پر توکل کرتے ہیں اور آپ اپنا خیال رکھیں‘

اور انہوں نے اس بات کی تائیدکرتے ہوئے کہا کہ:
’مجھ تک اُن (الدولہ) کی طرف سے بہت سی دھمکیاں پہنچیں ہیں۔ میں یہ بات کسی ظن کی بنیاد پر نہیں کر رہا، بلکہ اُن کی طرف سے مجھے کثیر تعداد میں دھمکیاں ملی ہیں اور انہوں نے مجھے اس معاملہ پر تنبیہ کی ہے‘

اس کے اگلے دن، صرف کچھ گھنٹوں بعد ہی، مجھے اُن کی شہادت کی خبر ملی، اللہ تعالیٰ اُن پر رحم فرمائیں۔

جہاں تک دوسرےنکتہ کا تعلق ہے، جس کا قضیہ یہ ہے کہ وہ نیک اعمال پر تکفیر کرتے ہیں:

پہلے دن سے جب سے یہ تنازعہ دوسری جماعتوں اور اِن (دولۃ)کے مابین شروع ہوا، شیخ ابو محمد جولانی اور ہماری طرف سے کوششیں شروع ہوئیں تاکہ سب کے ساتھ مل کر کسی مصالحت کی طرف جایا جائے اور ان تمام تنازعات کو حل کیا جائے، ہم جماعت الدولۃ کے پاس گئے تاکہ صلح کی جا سکے اور مسئلہ کو ختم کیا جا سکے،
اور میری پہلی ملاقات میں ابو علی انباری(عراقی) نے کہا:
’آپ لوگ کیا چاہتے ہو؟‘ ہم نے اُس سے کہا :
’ہمارے پاس تین نکات ہیں، جوکہ ایک حل کی شکل پیش کرتے ہیں۔
اول: فریقین آپس میں جنگ بندی کر لیں۔
دوم: قیدیوں کا تبادلہ کریں۔
سوم: غیر جانبدار شرعی عدالتوں کا قیام کیا جائے، جو کہ تمام تنازعات میں اپنا فیصلہ کرے۔‘

لیکن اس معاملہ کو (انباری نے) مسترد کر دیا۔

اور یہ معاملہ اُس لجنہ(کمیٹی) کے سامنے ہوا جس میں جبھۃ النصرہ کی جانب سے چار (4) بھائی شامل تھے، جس میں ابو حسن تفتنازی، بندۂ فقیر(شیخ ابو فراس السوری)،ابو ھمام الشامی اور ابو عبیدہ تونسی(جو مکتبِ عسکری میں مسوؤلِ شرعی ہیں) تھےاور اس میں بھائی ابو عبداللہ تھے جن کا تعلق ’الفاروق‘ سے تھا، بھائی منصور جن کا تعلق ’اجناد الاقصٰی‘ سے تھا اور شیخ عبداللہ محیسنی، یہ تمام افراد اس میں موجود تھے۔

پھر اِس(ابو علی انباری) نے ہم پر ملامت کی
کہ ہم کس طرح اُن(دولۃ) اور ’مرتدین‘ کے درمیان مصالحت کروا سکتے ہیں؟

ہم نے جواب دیا:
’ہم اُن کو مرتدین نہیں سمجھتے‘

اُس نے جواب دیا:
’اسی نکتہ پر ہمارا اور تمہار اختلاف ہے‘ (مطلب کہ اُن پر یہ حکم لگانا کہ آیا یہ مسلمان ہیں یا مرتدین) اور ہم سے اصرار کیا کہ ہمیں اِن (الدولۃ) اور’’مرتدین‘‘ کے درمیان مصالحت کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔

اس موضوع پر طویل بحث و مباحثہ کے بعد اُس نے کہا:
’مجھے چھوڑ دو تاکہ میں (اپنے بڑوں سے) مشاورت کر لوں‘

پھر وہ ڈیڑھ گھنٹے کے بعد آیا اور کہا:
’ہم آپ کو اپنے فیصلے سے صبح آگاہ کریں گے‘

اگلے دن ہم صبح اُس کے پاس گئے، اور اُن کی جانب سے یہ اعلان کیا گیا کہ انہوں نے ابو سعد حضرمی کو قتل کر دیا ہے، جو کہ جبھۃ النصرہ کے رقہ (شام کا شہر) کے امیر تھے۔

ہم نے اس (ظلم کے) معاملہ کو جانے دیا اوراس کو بات چیت کا موضوع نہ بنایا، تاکہ ہم مصالحت کی طرف اپنی توجہ کو مرکوزکر سکیں، لیکن اس کے بعد اُس(ابو علی انباری) نے مداخلت کی اور کہا کہ وہ جبھۃ النصرہ کے ارکان کے ساتھ اکیلے ملاقات کرنا چاہتا ہے، پس ہم ایک دوسرے کمرے میں گئے،

اور اُس نے کہا:
’تم نے کیا کیا؟ ‘

ہم نے کہا:
’ہم نے کیا کیاہے؟‘

اس نے کہا:
’تم نے کیا کیا؟ کیا تمہیں نہیں پتہ تم کیا کر رہے ہو؟‘

ہم نے کہا:
’ہم نے کیا کیا؟ آپ ہی ہمیں بتا دو!‘

اُس نے کہا:
’تم کس طرح اپنا جھنڈا ہمارے دار عزہ(علاقہ کا نام) کے مرکز پر لہرا سکتے ہو؟‘

ہم نے جواب دیا:
’ہم نے دار عزہ(علاقہ کا نام) میں اپنا جھنڈا اس لیے بلند کیا تاکہ تمہارے عناصر(سپاہیوں) کی حفاظت ہو سکے،کیونکہ جیش الحر نے یہ طے کر لیا تھا کہ وہ اس مرکز پر حملہ کرے گی اور تمہارے سارے عناصر کوقتل کر دے گی یا قیدی بنا لے گی، لیکن جبھۃ النصرہ کے وہاں کے مسوؤلِ عسکری نے مداخلت کی اور جیش الحر کوایسا کرنے سے روکا، اور وہاں سے بھائیوں(جماعت الدولۃ کے سپاہیوں) کو لے گئے اور انہیں تمہاری طرف حفاظت کے ساتھ احترام و عزت سے بھیج دیا۔‘

اس نے کہا:
’ہمیں اِس کی کوئی حاجت نہیں ہے، حتیٰ کہ اگر وہ تمام دولۃ کے سپاہی بھی ماردیں، ہمیں تمہاری مصالحت کی کوئی ضرورت نہیں ہے، اور تمہارا ہمارے مراکز پر جھنڈے لہرانا قابلِ قبول نہیں‘

ہم نےکہا:
’ایک جھنڈے کی خاطر تم لوگوں کو مرنے کے لیے چھوڑ دو گے؟ وہ تمہارے بھائی ہیں، ہم اُس جھنڈے کو نیچے اتار لیتے ہیں، تم اپنے لوگوں کو وہاں بھیج دو۔‘

پھر میں نے اُس سے کہا:
’یہ صورتحال حکمت کا تقاضا کرتی ہے‘

اس نے کہا:
’ہم اِس کی کوئی پرواہ نہیں کرتے، ہم انہیں فنا کر دیں گے یا خود فنا ہو جائیں گے‘

میں نے کہا:
’یا شیخ، یہ صورتِ حال حکمت کا تقاضا کرتی ہے، میں تم سے سوال کرتا ہوں، کیا یہ چیز حکمت میں سے کہ آپ ابو سعد حضرمی جو الرقہ(شہر) کے جبھۃ النصرہ کے امیر ہیں کو قتل کرنے کا اعلان کریں؟‘

اس نے جواب دیا:
’ہمیں اس کی کوئی پرواہ نہیں، یہ معاملہ ہمارے لیے اہمیت نہیں رکھتا‘

میں نے پھر کہا:
’اس معاملہ کو چھوڑو کہ یہ تمہارے لیے اہم ہے یا نہیں ہے۔ میں تم سے سوال کر رہا ہوں کہ کیا یہ چیز حکمت یا سیاستِ شریعہ میں سے ہے کہ آپ اس قتل کا اعلان کریں؟‘

اس نے جواب دیا:
’ہمارے لیے یہ معاملہ اہم نہیں ہے‘

پھر بھائی ابو عبیدہ تونسی نے اُس سے سوال کیا:
’تم نے اسے کیوں قتل کیا؟‘

اس(ابو علی انباری) نے جواب دیا:
’کیونکہ وہ مرتد ہے اور اُس نے اعتراف کیا کہ وہ مرتد ہے۔‘

ابو عبیدہ نے پھر سوال کیا:
’تم نے اسے کس چیز کی بنیاد پر مرتد قرار دیا؟‘

اس(ابو علی انباری) نے جواب دیا:
’وہ جیش الحر (FSA)سے بیعت لے رہا ہے۔‘

میں نے کہا:
’اے ابو علی! کیا جیش الحر (FSA) سے بیعت لینا ارتداد ہے؟ وہ لوگوں کو(دعوت کے ذریعے) بلا رہا، تاکہ وہ جہاد پر بیعت کریں، یہ تو نیک(قابلِ محمود) عمل ہے۔

اُس(انباری) نے جواب دیا:
’ہاں، وہ مرتد ہے کیونکہ اس نے جیش الحر (FSA)سے بیعت وصول کی ہیں۔‘

اِس تکفیر کی بنیاد نہ ہی گناہوں پر ہے اور نہ ہی کبائر گناہوں پر ہے، بلکہ اِس تکفیر کی بنیاد نیک اعمال پر ہےاور یہ بیان اس نے ابو عبیدہ تونسی، ابو الحسن تفتنازی اور میری موجودگی میں دیا۔

اور میں اپنی اِس شہادت پر اللہ تعالیٰ کو گواہ بناتا ہوں، اور میں اِس گواہی کو اللہ تبارک و تعالیٰ اور تمام مخلوقات کے سامنے دینے کے لیے تیار ہوں۔

جو بھی میں نے بھائی ابو خالد(رحمہ اللہ) اور بھائی ابو سعد الحضرمی(رحمہ اللہ) سے متعلق بیان کیا اور اس کی وضاحت کی کہ کیسے اُن(سعد الحضرمی) کو جیش الحر(FSA) سے بیعت لینے کی وجہ سے (دولۃ) نے قتل کیا، میں اس پر قسم اٹھاتا ہوں، اور اس بات پر زور دیتا ہوں، اور اللہ کی قسم اٹھاتا ہوں کہ انہوں نے یہ بات بیان کی، اور میں نے ابو خالدالسوریؒ اور ابو علی انباری کی طرف سے کہی گئی باتوں کو اپنے کانوں سے سنا اور یہ کسی کی جانب سے نقل نہیں کی جا رہیں، اور میں اس تمام (گواہی) پر اللہ کی قسم اٹھاتا ہوں۔

وصلی اللہ وسلم علی سیدنا محمد و علی الہ و صحبہ اجمعین


[گواہی ختم ہوئی]


شیخ ابو عبداللہ شامی حفظہ اللہ کے بیان سے صوتی اقتباس جس میں وہ جماعت الدولۃ کی تکفیر کا تذکرہ کرتے ہیں:

[اولین خوارج کبائر گناہوں کی بنیاد پر تکفیر کرتے تھے، لیکن آج جماعت الدولۃ تکفیر کبائر گناہوں کے بغیر ہی کر رہی ہے، بلکہ ایسے اعمال پر جن کے ساتھ کوئی گناہ بھی منصوب نہیں ہے، بلکہ یہ تکفیر توجائز اعمال حتیٰ کہ نیک اعمال کی بنیاد پرکی جا رہی ہے۔]

اور ابو عبداللہ شامی حفظہ اللہ نے یہ بھی کہا:

[ان کی تکفیر کی ایک مثال جو یہ نیک اعمال کی بنیاد پر کرتے ہیں، وہ ان کی شیخ سعد الحضرمی (رحمہ اللہ)کی تکفیر ہے، کہ جب بغدادی کے نائب(ابو علی انباری) سے شیخ سعد الحضرمی(رحمہ اللہ) کے ارتداد کی وجہ سے متعلق سوال کیا گیا، تو جواب دیا گیا: ’’ کہ وہ جیش الحر(FSA) سے (جہاد پر) بیعت لے رہے تھے، تو کیا جیش الحر(FSA) سے بیعت لینا ارتداد ہے؟‘‘، تو کون سا ایسا غلو ہے جو اِس سے بڑھ کر ہو؟]



[ویڈیو اختتام پذیر ہوئی]


جہاد بصیرت پر!

ویڈیو لنک:
http://vimow.com/watch?v=6ExHdjGPF1c

انگریزی ترجمہ:
http://justpaste.it/firas3






شیخ ابو سلیمان مہاجر کی گواہی ، گواہیوں کا سلسلہ (۱)

بسم اللہ الرحمن الرحیم



البصیرۃ میڈیا برائے نشرواشاعت
گواہیوں کا سلسلہ (۱)
شیخ ابو سلیمان المہاجر
- حفظہ اللہ -



[ویڈیو کا آغاز ہوتا ہے]

قُلْ هَـٰذِهِ سَبِيلِي أَدْعُو إِلَى اللَّـهِ ۚ عَلَىٰ بَصِيرَةٍ أَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِي ۖ وَسُبْحَانَ اللَّـهِ وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِين
[آپ کہہ دیجئے میری راه یہی ہے۔ میں اور میرے متبعین اللہ کی طرف بلا رہے ہیں، پورے یقین اور اعتماد کے ساتھ۔ اور اللہ پاک ہے اور میں مشرکوں میں نہیں] (۱۲:۱۰۸)

اہم نکات جو شیخ نے اپنی اس گواہی میں بیان کیے درجہ ذیل ہیں:

• شیخ بغدادی کاشیخ ایمن الظواہری حفظہ اللہ کی محکم بیعت سے انکار
• جماعت الدولۃ کا اس بات کا اقرارکرنا اور اس بات کو تسلیم کرنا کہ تنازعہ کو شیخ ایمن الظواہری حفظہ اللہ پرفیصلہ پر چھوڑ دیا جائے اور اُن کی جانب سے فیصلے کا انتظار کیا جائے
• شدت پسندی اور باطل تاویلات کی بنیاد پر اسلامی اصولوں کو وضع کرتے ہوئے مسلمانوں کوقتل کرنے کے لیےحجت قائم کرنا


[گواہی کا آغاز ہوتا ہے]


بسم الله الرحمن الرحيم

الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على اشرف الانبیاء و سید المرسلین، نبینا محمد، وعلى آله وصحبه أجمعين

اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتے ہیں:
[مگر جو ظالم ہیں بےسمجھے اپنی خواہشوں کے پیچھے چلتے ہیں تو جس کو خدا گمراہ کرے اُسے کون ہدایت دے سکتا ہے؟ اور اُن کا کوئی مددگار نہیں] (٣٠:٢٩)

اور فرمایا:
[اور اس طرح ہم اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان کرتے ہیں (تاکہ تم لوگ اُن پر عمل کرو) اور اس لئے کہ گنہگاروں کا رستہ ظاہر ہوجائے] (٦:٥٥)

یہ میری شہادت(گواہی) ہے اُن واقعات سے متعلق جو میں نے شام میں دیکھی اور سنی ہیں ، اور اِس سے متعلق مجھ سے قیامت کے دن سوال کیا جائے گا، جہاں پر کسی کو مال اور نہ ہی اولاد کوئی فائدہ دے گی، بلکہ وہی وہاں کامیاب ٹھہرے گا، جو اللہ تعالیٰ کے سامنے قلبِ سلیم لے کر آئے۔

یہ شہادت اپنے مسلمان بھائیوں کے لیے دیتا ہوں تاکہ بدگمانی دور ہواور حجت قائم ہو سکے، اور لوگوں پر حق بات کو واضح کیا جا سکے، تاکہ وہ سچے اور جھوٹے میں تمیز کرسکیں، مصلح اور مفسد میں تفریق کر سکیں، اور اللہ تعالیٰ جانتے ہیں کہ مفسد اور مصلح کون ہے!

میں نے یہ گواہی اُس وقت تک نہ دی جب تک مجھ پر اِس کی ضرورت واضح نہ ہو گئی، جب میں نے دیکھا کہ لوگوں کے درمیان ، عمومی طور پرمسلمانوں سے متعلق اور خصوصی طور پر مجاہدین سے متعلق کثرتِ کلام بڑھ گیا ہے، جو میدانِ شام اور اِن ساحاتِ شام سے باہر بھی گفتگو کا موضوع بننے لگا ہےکہ جماعت الدولۃ سے متعلق ارضِ واقعہ اور مبارک ارضِ شام میں کیا واقعات رونما ہو رہے ہیں! میں نے اس پر تب تک فیصلہ نہ کیا جب تک مجھ سے بھائیوں نے اِس شہادت دینے کا مطالبہ نہ کیا، جو عدنانی کے مباہلہ کے بعدہمارے سامنے پیش آیا۔ اس لیے مجھ پر لازم تھا کہ میں اس بات کی وضاحت کروں جس کا میں علم رکھتا ہوں۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
[اور گواہی کو نہ چھپاؤ اور جو اسے چھپالے وه گنہگار دل والا ہے اور جو کچھ تم کرتے ہو اسے اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے] (۲:۲۸۳)

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
[کیامیں تمہیں سب سے بڑا گناہ نہ بتاؤں؟ ہم نے عرض کیا ضرور بتائیے یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کے ساتھ شرک کرنا اور والدین کی نافرمانی کرنا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت ٹیک لگائے ہوئے تھے اب آپ سیدھے بیٹھ گئے اور فرمایا آگاہ ہو جاؤ جھوٹی بات بھی اور جھوٹی گواہی بھی (سب سے بڑے گناہ ہیں) آگاہ ہو جاؤ جھوٹی بات بھی اور جھوٹی گواہی بھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسے مسلسل دہراتے رہے اور میں نے سوچا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش نہیں ہوں گے]

ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:
[گواہی دینے والے پر لازم ہے کہ وہ جب بھی اس کوشہادت دینے کا کہا جائے تو ضرور دے]

پس میں اللہ عزوجل سے مدد مانگتے ہوئے یہ بیان کرتا ہوں:
سب سے پہلے جماعت الدولۃ کی شیخ ایمن الظواہری حفظہ اللہ ورعاہ سے متعلق بیعت کے معاملہ میں بیان کرتا ہوں۔

میں اُس قصہ کا ذکر کرنے لگا ہوں جو میرے سامنے کچھ بھائیوں کی ملاقات میں پیش آیا، جب جماعت الدولۃ نے مجھے جماعت الدولۃ اور جبھۃ النصرہ کے درمیان ثالث کے طور پر قبول کیا، جب پہلا فتنہ ظاہر ہوا جب انہوں نے اپنی دولت کا اعلان(شام میں) کیا، جب یہ خبر پھیلنا اور نشر ہوناشروع ہوئی کہ بغدادی کی بیعت شیخ ایمن الظواہری کے ساتھ ایک کامل(مکمل) بیعت نہیں ہے، جیسا کہ اُن کی جانب سے دعوی کیا جا رہا تھاکہ یہ بیعت فقط ’نصرت و محبت‘ کی بیعت ہے، جیسا کہ ان کے شرعی ابو بکر قحطانی نے اُس کی تفصیل بیان کی، اور مجھے نہیں علم وہ کس’ قسم‘ کی بیعت کی بات کر رہا تھا۔ ہم اِس معاملہ میں تعجب میں مبتلا ہوئے اور ہم نے اِس معاملہ کو بغدادی اور اُن کے شرعی (ابو بکر قحطانی) کے سامنے بیان کیا، اور بغدادی نے اس کا رَد کرتے ہوئے جواب دیا: ’’معاذ اللہ، ہماری گردنوں پر شیخ ایمن الظواہری کی سمع و طاعت پر ، مشکل اور آسانی میں، حقیقی(کامل) بیعت موجود ہے۔‘‘ہم پر اُسی بات کی تصدیق ہوئی جس کا ہمیں شروع سے ہی علم تھا، کہ وہ (بغدادی) تنظیم قاعدۃ الجہاد(مرکزی) کے ایک سپاہی ہیں، اور وہ بھی اسی طرح اپنے امیر(شیخ ایمن الظواہری) کی اطاعت کے پابند ہیں ، جس طرح دیگر علاقوں کے مسوؤلین پابند ہیں۔

اے اللہ میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے بغدادی کو یہ بات خود کہتے ہوئے سنی جب اُس نے کہا: اُ ن(جماعت الدولہ) کی گردنوں پر شیخ ایمن الظواہری کی (کامل) بیعت ہے۔

دوسرا معاملہ جبھۃ النصرہ اور جماعت کے درمیان تنازعہ کا ہے کہ اِس معاملہ کا فیصلہ شیخ ایمن الظواہری حفظہ اللہ و رعاہ کریں اور یہاں پر میں ایک اور واقعہ بیان کرنا چاہوں گا جو پہلی ثالثی کے وقت پیش آیا۔ جب ہم اس مسئلہ کو حل کرنے سےمتعلق بحث کر رہے تھے۔

تو بغدادی نے مجھ سے کہا:
اگر شیخ ایمن الظواہری حفظہ اللہ مجھے حکم دیں کہ شام کے معاملہ کو کسی دوسرے شخص کے سپرد کر دو، تو میں اُس پر عمل کروں گا۔

اس معاملہ پر جواب کے انتظار کا سب کو علم تھا اور لوگوں میں بھی یہ خبر پھیل چکی تھی اور تمام مجاہدین اِس سے متعلق سوچ رہے تھے، کہ’ کب اِس کا فیصلہ نشر کیا جائے گا‘

اس معاملہ سے متعلق دوسری دلیل یہ ہے کہ یہ ہمارے(جبھۃ النصرہ) اور اِن (جماعت الدولۃ)کے امیر شیخ ایمن الظواہری کے فیصلہ پر راضی تھے، کہ اِن سے جب پہلے فتنے کے دوران مطالبہ کیا گیا کہ شرعی عدالت قائم ہو جائے، جو جبھۃ النصرہ اور جماعت الدولۃ کے درمیان فیصلہ کرے، تو انہوں نے اِس شرعی عدالت کا انکار کیا اور واپس ہو گئے، اور اپنے اِس فعل کی تائید میں یہ دلیل پیش کی کہ وہ شیخ ایمن الظواہری حفظہ اللہ ورعاہ کے جواب کا انتظا ر کر رہے ہیں، اس لیے کسی دوسرے حکم کی کوئی حاجت نہیں ہے۔

اے اللہ میں گواہی دیتا ہوں کہ بغدادی نے صراحت سے اِس بات کی وضاحت کی کہ وہ شیخ ایمن الظواہری کے قاضی اور حکم ہونے پر راضی ہے، اور عدنانی نے اس کے برعکس بیان دیا۔

اے اللہ، ہم میں سے جو بھی جھوٹا ہو، اس پر آپ اپنی لعنت کیجیے، اور اس سے متعلق ہمیں اپنی نشانی دکھائیں اور اُسے عبرت کا نشان بنا دیں۔

تیسری بات، اِن کا غلو جس میں وہ مسلمانوں کے قتل کا جواز پیش کرتے ہیں۔

بغدادی کے ساتھ ایک دوسری ملاقات میں( شاید یہ وہی ملاقات تھی جس میں اُس سے اعتراف کیا کہ اُس کی بیعت شیخ ایمن کےساتھ ہے یا اُس سے قبل ملاقات میں یہ بات بیان ہوئی)، بغدادی نے شیخ ابو ماریہ (قحطانی)کو قتل کرنے کی دھمکی دی، اور مجھ سے مطالبہ کیا کہ میں یہ پیغام ابو ماریہ(قحطانی) تک پہنچا دوں:
اللہ کی قسم، ہم ابو ماریہ (قحطانی) کو اُسی طرح قتل کریں گے جیسا کہ ہم نے اُس کے چچا کے لڑکے ناظم الجبروی کی قتل کیا ہے۔

پھر اُس(بغدادی) نے شیخ ابو ماریہ (قحطانی)کے بارے میں کہا:
وہ ہمارے پاس تائب شُرطہ(عراقی سیکورٹی کارکن) کی حیثیت سے آئے تھے، اور بھائیوں نے اُس کی توبہ کو قبول کیا، اور میں اُس کے ساتھ شُرطہ کا معاملہ ہی کروں گا (یعنی مرتد کے طور پر)، اگر وہ اِن میں سے کوئی کام کرے گا: اگر وہ دولۃ سے قتال کرے، اگر وہ لوگوں کو دولۃ سے قتال کی طرف ابھارے یا اگر وہ لوگوں کو دولۃ سے متعلق ’علم وآگاہی‘ دے۔

میں نے بغدادی سے سوال کیا کہ تمہارا ’علم و آگاہی‘ دینے سے کیا مرادہے تو جواب دیا گیا کہ ’اگروہ (دولۃ سے متعلق) گفتگو کرے‘۔

اور بغدادی نے کہا:
میں اللہ کی قسم اٹھاتا ہوں، اگر مجھ پر یہ ثابت ہو گیا کہ وہ اِس فتنہ کے پیچھے ہے، اور خروج کرنے کا سبب بناہے، جس کی وجہ سے جبھۃ النصرہ اور خراسان میں (قاعدۃ الجہاد) کی قیادتِ عامہ کے ساتھ ربط کیا گیا ہے، تو میں اُس کے ساتھ وہی معاملہ کروں گا، جو ناظم الجبروی کے ساتھ کیا۔

اور بغدادی نے شیخ فاتح (ابو محمد جولانی حفظہ اللہ و رعاہ) کو بھی دھمکی دی اور کہا:
اللہ کی قسم! اگر ہم پر یہ ثابت ہو گیا کہ وہ جماعت (جبھۃ النصرہ) کو خراسان کے ساتھ ملانے والوں میں شامل ہے، تو اُس کو قتل کر دیں گے۔

پھر بغدادی نے مزید اس مجرمانہ اقدام کی تائید میں دلائل دیتے ہوئے کہا:
مگر اللہ کی قسم میں اُن کے ساتھ غداری نہیں کروں گا، اگر میں نے یہ ارادہ کیا کہ اِن میں سے کسی کو قتل کروں، تو میں اسے تین دن دوں گا کہ وہ اپنی محافظت اور امنیت کے معاملات کو تبدیل کر لے اور تیاری کر لے۔ بہت عجیب ہے کہ کس طرح یہ لوگ مسلمانوں کو اس اِنداز سےقتل کرنے کی تائید میں ایسے دلائل دیتے ہیں، اور یہ گمان کرتے ہیں کہ وہ بہت اچھا کام کر رہے ہیں۔

اور جب میں نے اُن کے اِس کلام پراعتراض کیا اور کہا:
تم کس طرح مسلمان مجاہدین کو قتل کر سکتے ہو؟
تو اس (بغدادی)نے جواب دیا:
لا حول ولا قوۃ الا باللہ!
پھر اپنے نائب ابو علی انباری سے کہا کہ وہ جواب دے:
تو اس نے جوابا ً کہا:
امام نوویؒ صحیح مسلم کی شرح میں بیان کرتے ہیں، جس کسی کا شر بھی اُس کو قتل کیے بغیر ختم نہ کیا جا سکے، تو اسے قتل کر دیا جانا چاہیے۔

میں اِس جواب کو سن کو دہل گیا کہ کس طریقے سےیہ فاسدتشریح و تفسیر کی گئی ہے۔

بغدادی نے کہا:
میں شامی لوگوں کے ساتھ وہ معاملہ نہیں کروں گا جو میں عراقی لوگوں کے ساتھ کرتا ہوں، کیونکہ عراقی جماعت (الدولۃ) کی سیاست سے واقف ہیں (یعنی منہج دولۃ کو سمجھتے ہیں)۔

سبحان اللہ! پھر یہ لوگ سامنے آتے ہیں اور شیخ ایمن الظواہری حفظہ اللہ و رعاہ کے فیصلے کا انکار کرتے ہیں، اور یہ متنازعہ دعوی کرتے ہیں کہ شیخ ایمن حفظہ اللہ سایکس پیکو کی حدود کو مانتے ہیں، پھر آپ دیکھیں کہ (اِدھر) یہ کیا معاملہ کر رہے ہیںَ!

اور ہم یہ قابلِ توجہ بات ذکر کرنا چاہتے ہیں کہ جو شیخ ابو عبداللہ الشامی حفظہ اللہ و رعاہ نے بیان کیا ہے، وہ اُس شرعی موقف کو بیان کرتا ہے جس کی جبھۃ النصرہ تائید کرتی ہے، اور اُن کا یہ بیان جبھۃ النصرہ کی شرعی لجنۃ (شرعی کمیٹی ) نے نشر کیا ہے۔

اے زمین و آسمان کے رب، اے قوت والے، اے عزیز اللہ،اے جبار، اے متکبر، آپ کے بندے ابو محمد عدنانی نے آپ کے بندے ابو عبداللہ شامی کی تکذیب اپنےبیان میں کی، اور میں نے اِس پر گواہ ہوں جو میں نے دیکھا اور جس کا مجھے علم تھا، اگر میں نے لوگوں پراپنی شہادت میں جھوٹ بولا یا تلبیس یا تدلیس سے کام لیا، جس کا تذکرہ میں نے اپنی اِس شہادت میں کیا، تو اے اللہ، آپ اُس جھوٹے پر اپنی لعنت فرما دیجیے اور اسے دوسروں کے لیے عبرت کا نشان بنا دیجیے۔

[جنہوں نے ظلم کیا ہے وه بھی ابھی جان لیں گے کہ کس کروٹ الٹتے ہیں] (۲۶:۲۲۷)

والحمدللہ رب العالمین


[گواہی ختم ہوئی]


شیخ ایمن الظواہری حفظہ اللہ کے صوتی پیغام سے ایک صوتی اقتباس، جہاں وہ اِس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ جماعت الدولۃ نے اِ س معاملہ کو اُن کی طرف اٹھایا، اِس کے قبل کہ وہ اِس امر کا فیصلہ کرتے:

ششم: مجھے دونوں جانب سے خطوط موصول ہوئے اور اِس کے علاوہ دوسری اطراف سے بھی پیغامات پہنچے۔ میں نے اس پس منظر میں خراسان میں اپنے بھائیوں اور (خراسان سے) باہر بھائیوں سے مشورہ کیا، اور اپنے رب سبحانہ و تعالیٰ سے استخارہ کرنے کے بعد۔۔(آواز ماند پڑنا شروع ہوتی ہے)

شیخ ابو عبداللہ شامی حفظہ اللہ کے بیان سے صوتی اقتباس جس میں وہ شیخ ایمن الظواہری حفظہ اللہ کے فیصلہ سے متعلق بیان کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اُس پر دونوں فریقین راضی تھے۔

پس ہم (شوریٰ جبھۃ النصرہ) نے اطاعت(بغدادی) کے معاملہ میں توقف اختیار کیا اور اس معاملہ کو شیخ ایمن الظواہری حفظہ اللہ کے فیصلے پر موقوف کر دیا، جس پر دونوں فریق اس مسئلہ پر اُن کے حکم(فیصلہ کرنے والے) اور قاضی ہونے پر راضی تھے۔اس پر مزید یہ بھی کہ شیخ (ایمن الظواہری) دونوں فریقین کے مطلقاً امیر ہیں، پس اس وجہ سے اُن کےفیصلے کو تسلیم کرنے پر ہم سب دو جانب سے پابند تھے۔۔۔(آواز ماند پڑنا شروع ہوتی ہے)


[ویڈیو اختتام پذیر ہوئی]

جہاد بصیرت پر!
منگل 17 جمادی الاوّل،1435ھ بمطابق 18 مارچ، 2014ء

ویڈیو لنک:
http://vimow.com/watch?v=7ulvj6ym7Ko

انگریزی ترجمہ:
http://justpaste.it/esbi






پیر، 23 مارچ، 2015

شرانگیز فکرِ حروریہ(خوارج) کی دس خطرناک قسم کی خامیاں

بسم اللہ الرحمن الرحیم
شرانگیز فکرِ حروریہ(خوارج) کی دس خطرناک قسم کی خامیاں
ڈاکڑ طارق عبدالحلیم


الحمد لله والصلاة والسلام على رسول الله صلى الله عليه وعلى آله وصحبه وسلم، وبعد

قارئین کے لیے یہ بہت فائدہ مند ہوتا ہے کہ اُن کو فکرِ بدعت کے انحراف اور نقائص سے متعلق آگاہی دی جاتی رہے، تاکہ اس بدعت کی اصلیت ہمیشہ اہل سنت کے سامنے واضح طور پر موجود رہے، خاص طور پر اُن لوگوں کے سامنے ضرور اس کا بیان ہو جو اہل تخصص(جو دینی علم میں مہارت رکھتے ہیں) نہیں ہیں۔ یہی ہم نے تقریباً ۳۵ سال سے زائد عرصہ پر محیط فکرِ ارجاء کے ساتھ عملی طور پر کیا ہے، مثلاً جیسا کہ جماعت اخوان المسلین کی فکر، جو خاص طور پر پچھلے ۳ سال کے عرصے میں میں سامنے آئی جب سے ۲۵ جنوری، ۲۰۱۱ء کا انقلابِ مصر میں شروع ہوا، جس میں ہم روزانہ کی بنیاد پر ایک یا دو مقالے منظر عام پر لاتے رہے، تاکہ اُن کی سیاسی مصلحت اندیشی کے نقائص کو واضح کیا جائے، جو کہ عقیدۂ ارجاء کے خلل کی وجہ سے نسل در نسل وراثت میں ملے ہیں۔

ہم نے اس سے قبل بھی فکرِحروریہ کی خطرناکی سے متعلق متعدد مختلف فارم پر آگاہی دی، تاہم [نصیحت کرتے رہیں یقیناً یہ نصیحت ایمان والوں کو نفع دے گی ] (الذاریات: ۵۵)

(۱)
مسلمانوں کی تکفیر کرنا اور احکاماتِ ارتداد کا اطلاق بغیر شرعی وجوہات کی بنیاد پر کرنا، جس کی معرفت تحقیق اور اِن مسائل کی گہرائی میں جا کر ہی کی جاسکتی ہے جو اہل علم اور اہل عدل ہی صحیح طور پر انجام دے سکتےہیں، نہ کہ اہل جہل اور اہل ظلم!

(۲)
قتل اور ذبح کی اشاعت ایسے احکامات کی بنیاد پر کرنا جو غیر شرعی ہیں، اُن بناوٹی جعلی طلباء، قاضیوں کی جانب سے جو احکامات کی صحیح تنفیذ نہیں کرتے، اگر یہ واقعی جانتے اُس عذاب کے بارے میں جو یہ اپنے اعمال کی وجہ سے کما رہے ہیں، تو یہ خون کے آنسو روتے اور خوشی محسوس نہ کرتے، حتیٰ کہ اب اہل سنت کے منہج پر قائم مجاہدین اِن کی دغابازیوں کے سبب ویسے ہی یا اس سے بھی زیادہ خوف محسوس کرتے ہیں ، جو کہ یہ مجاہدین حکومتی نظام(اسد) کی غداریوں کے سبب کرتے ہیں یایوں کہہ لیں کہ کم از کم اتنا خوف ضرور محسوس کرتے ہیں۔

(۳)
اس ہستی کی تقدیس کرنا جس کی انہوں نے منادی کی ہے، اور اسے ’الدولۃ‘ (ریاست) کا نام دیا ہے، اور اس کو ایک صنم(بت) بنا لیا ہے، اور اس کی عبادت بھی وہ بت کے ہر مفہوم کو سامنے رکھتے ہوئے کرتے ہیں، بلکہ وہ اِس بت (دولۃ) کی عبادت کرنے میں، اہل جمہوریت کی پارلیمنٹ کی عبادت کرنے سے بھی زیادہ آگے نکل گئے ہیں یا پھر اُن کے برابر تو کم از کم ضرور یہ عبادت پہنچ چکی۔

(۴)
علم اور علماء کی تحقیر کرنا، اور جہلاء کو احکاماتِ شریعہ کا اطلاق کرنے کے لیے چھوڑ دینا جو کہ حلال و حرام اور خون کے احکامات کے متعلق فیصلہ کرتے ہیں، تاکہ اُس کے ذریعے وہ دیگر عامی لوگوں کے سامنے مقبولیت حاصل کر سکیں، اور اُن کی قیادت کے اہل ہونے کو مقبولیت دے سکیں۔ بلاشبہ آپ(مجاہدین) ہی میدانِ جہاد میں اُن کے سامنے اکیلےکھڑے ہوئے ہیں، جس میں آپ کا کوئی ثانی نہیں، اور بلا شبہ آپ اس معاملہ میں ابطالِ حق ہیں!

(۵)
اہل رویبضات(نااہل گھٹیا لوگ جو لوگوں کے اہم معاملات میں گفتگو کرتے ہیں) کو علماء کا قائم مقام ٹھہرانا، جب اُن کو علماء کی طرف سے کسی کی بھی تائید حاصل نہ ہوئی، تو سوائے رویبضہ کے کسی نے اُن کی نصرت نہ کی،جو نہ ہی کوئی علمی ، جہادی یاتدوینِ کتب کے حوالے سے کوئی تاریخ رکھتے ہیں،اِن تمام نے فقط اِس لیے انحراف اختیارکیا کیونکہ یہ اُن کی نصرت و حمایت کرتے ہیں اور ان کے (باطل) طریقوں سے متفق ہیں۔

(۶)
انہوں نے غلاظت، مرعوب کُن اخلاقِ رزیلہ، اوچھے پن کی تائید کے لیے دلائل پیش کیے، جس کو شیطان نے حق کے مقابلہ میں اِن کی آنکھوں پر تکبیر کے سبب مزین کر دیا، یہ تکبر فقط اِن کی بےوقوفی کے علاوہ کچھ نہ تھا، اور یہ (بےوقوفی) ’ران‘ (زنگ چڑھ جانے) کی مثل ہے۔

(۷)
جھوٹ، خیانت اور غداری سے کام اس وجہ سے لینا کہ کہ یہ مسلمان مرتدین ہیں، اور یہ حروریہ اُن مجاہدین کے ساتھ جنگ میں ہیں، اور اُن سے جنگ کے سبب جھوٹ اور غداری حلال ہے۔

(۸)
سابقہ بعثی نظام کے کارکنان کے ساتھ تعامل اور تعاون اس حجت کے ساتھ کرنا کہ انہوں نے توبہ کر لی ہے، بلکہ اُن ارکان کو مرکزی قیادت میں اہم مناسب دیے تاکہ وہ اپنی مرضی سے تمام گروہ پر اپنی عملی اجارہ داری قائم کر سکیں۔ بعثی گروہ کے لیے یہ چیز اہم نہیں ہے کہ کون سے جھنڈے تلےلڑا جائے جب تک کہ وہ اس گروہ پر عملی اجارہ داری کا مکمل اختیار رکھتے ہوں۔

(۹)
عالمی قوتوں کو موقع فراہم کرنا جن کے پاس کسی بھی اسلامی جماعت کی نسبت اِس وقت حقیقی سلطہ اور قوت موجود ہے۔ یہ حقیقت ہم سےاِس چیز کا تقاضا کرتی ہے کہ ہم اِس (جارحیت) کا جواب ایک واضح حکمتِ عملی کے ذریعے دیں،نہ کہ اس کی بنیاد عاقبت نااندیش طریقے پر ہو، خاص طور پر تب جبکہ اس کی بنیاد شرعی تصرفات پر ہو،جس کے لیے کوئی نص بھی موجود نہیں اور نہ ہی کوئی قاعدہ اِس سلسلے میں اِس عمل کی توثیق کرتا ہو،مثلاً صحافیوں کو ذبح کرنا، بلکہ اس کے برعکس یہ ایک بےوقوفی پر مبنی تصرف ہے، جوکہ عالمی طاقتوں کو حملے کرنے کےلیے حق بجانب ثابت کرنے کے لیے ایک منصوبہ بندی ہو گی، اور اللہ تعالیٰ اُن کے اس منصوبہ بندیوں پر اُن پر کافی ہو جائیں۔(آمین)

(۱۰)
اور آخر میں، جو کہ اِن سے فکری انحراف پر حرفِ آخر نہیں ہے،یہ تمام(باطل) عقائد عامۃ الناس میں پھیلا ئے جا رہے ہیں ، جبکہ اِن لوگوں کے پاس جن تک یہ بات پہنچ رہی ہے(دینی) علم نہیں ہے، جو کہ اُن کے انحراف کو دیکھ سکیں، اور نہ ہی وہ عقل رکھتے ہیں، اور یہ معاملہ حقیقت میں سب سے خطرناک ہے، اور باقی چیزوں کی نسبت فتنہ میں شدید تر ہے۔ امت کے پہلے سے بیمار جسم میں اِس قسم کے خبیث مرض کو داخل کرنا، جس میں مسلمانوں کی(ناحق) تکفیرکرنے کی بیماری ہو ، ناحق خون بہانے کی روش ہو، وہ امت کے لیے بہت ہی ضرر کا باعث ہے،جو کہ عصرِ حاضر اور آنے والی نسلوں کے لیے تباہ کن اثرا ت سامنے لائے گا۔ ہماری امت اپنے جسد پر پہلے سے ہی بہت سی بیماریاں عملی طور پر برداشت کر رہی ہے، جس میں طواغیتِ عرب اور عجمی کفار کی سازشیں شامل ہیں، جو امت کی سانس روکنے کی کوشش میں ہیں، جبکہ یہ لعنت شدہ سرطان(کینسر) اِس کو اس جگہ پر زخم لگا رہا ہے، جس سے متعلق اِس سے قبل کسی نے بھی متنبہ اِس انداز سے نہ کیا تھا، جہاں پر ہمارے علماء اُس کے سامنے حقیقی طور پر بَروقت کھڑے ہونے سے عاجز ہوئے، جو کہ حقیقت میں اصل معالجین میں سے تھے، اور صرف وہی اِس سرطان سے نجات دلا سکتے ہیں۔جب اس کینسر کو چھوڑا گیا اورعلماء کی طرف سے مزاحمت اُس انداز سے نہ دکھائی گئی، تو یہ بدن میں بغیر روک ٹوک کے داخل ہو گیا، جیسا کہ ہم اس قضیہ کو اپنے دوسرے مقالہ میں ظاہر کریں گے۔ ان شاء اللہ!

جو کچھ ہوا، اور جو آج بھی شام میں جاری ہے،یہ فقط اس آفت کا آغاز ہے، جیسا کہ اِس سے قبل بھی امت مصائب سے کافی دفعہ گزاری گئی ہے ، یہ عمل آنے والی نسلوں کے لیے بھیانک انجام لے کر آئے گا،جبکہ ہماری امیدیں اسلام کی واپسی سے جڑی ہوئی ہیں، الا یہ کہ اگر ہمیں اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے اِس کا تدارک نہ کروایا۔


ڈاکٹر طارق عبدالحلیم
16 ذوالحجۃ 1435 ھ بمطابق 10 اکتوبر، 2014ء

مصدر:
http://tariqabdelhaleem.net/new/Artical-72784




ہفتہ، 21 مارچ، 2015

ابراہیم بن عواد کی قیادت میں تنظیم الدولۃ کی حقیقت

بسم اللہ الرحمن الرحیم

لَتُبَيِّنُنَّهُ لِلنَّاسِ وَلَا تَكْتُمُونَهُ
کہ تم اسے سب لوگوں سے ضرور بیان کرو گے اور اسے چھپاؤ گے نہیں (۳:۱۸۷)


ابراہیم بن عواد کی قیادت میں تنظیم الدولۃ کی حقیقت
تنظیم کی خصوصیات اور عقائد کی اصلیت
شیخ ڈاکٹر طارق عبدالحلیم / شیخ ڈاکٹر ھانی السباعی

الحمد لله، والصلاة والسلام على رسول الله وعلی آلہ و اصحابہ، وبعد:

جس تنظیم کو ’دولتِ اسلامیہ عراق و شام‘ کہا جاتا ہے کا تنازعہ جنگل کی آگ کی طرح پھیل گیا ہے اور یہ ایک تلخ حقیقت کے اندر مختلف عوامل اور وجوہات کی وجہ سے داخل ہو گیا ہے جن عوامل کا احاطہ کرنا ہمارے اس بیان کا مرکزی نکتہ نہیں ہے۔ بہت سی جانیں لاپرواہی کی بنا پر ضائع ہوئیں، بہت سے خاندان اور گھر تباہ ہوئے، بہت سے مخلص مجاہدین کو قتل کیا گیا، اسلام کے تصور کو مسخ اور تباہ کیا گیا، اور بہت سے عامی مسلمانوں کو تنظیم الدولۃ کے غلغے نے متذبذب چھوڑ دیا ۔ تنظیم الدولۃ نے جہاد کے تصور کو بدترین انداز میں دنیا کے سامنے پیش کیا اور اسلام کا عالمی سطح پرمذاق اڑایا گیا جبکہ اسلام اور جہاد تنظیم الدولۃ کے اُن تمام اعمال سے بری ہیں جو یہ پیش کرتے ہیں یا جس کی یہ حمایت کرتے ہیں ،اسلام اور جہاداُس سے بری ہیں۔ اس گروہ کی اصل کامیابی یہی رہی ہے کہ اس نے حقیقی دولتِ اسلامیہ اور اسلام کے تصور کو مسخ کیا ہے! حقیقت یہ کہ اس جماعت ’’دولتِ اسلامیہ جس کی قیادت ابراہیم عوادی کے سپرد ہے اور جس کو خلیفہ کے منصب پر فائز کیا گیا‘‘نے مغرب کے اُن اہداف کو پورا کیا جن کو حاصل کرنے سے وہ خود عاجز آ چکا تھا اوراس حوالہ سے اُن کی خدمت کی ہے، جو کہ اصل میں اسلام کے تصور کو مسخ کرنا ہے اور لوگوں کے سامنے اسلام کا مسخ شدہ اور بھیانک چہرہ سامنے لانا ہے، ایسی چیز جو مغرب اپنی تمام تر طاقت، ذرائع ابلاغ اور غداری کے باوجود بھی اپنے طور پر اُس کو حاصل کرنے میں ناکام رہا تھا۔

ہم نے متعدد مقالات،ویڈیوز اور صوتی پیغامات کے ذریعےاس تنظیم کی حقیقت کو پیش کرنے کی کوشش کی اور یہ تنظیم الدولۃ تاریخ میں سابقہ مشہور فرقہ خوارج یا حروریہ کی نئی شکل ہے، یا یہ انہی سابقہ شرپسند غالی خوارج کی نئی قسم ہے جو اپنی وحشت اور شدت پسندانہ نظریے کی بنا پر مسلمانوں کو قتل کرتے ہیں اور اہل شرک کو چھوڑ دیتے ہیں۔ ہم نے اس چیز کو محسوس کیا کہ بہت سے امتِ مسلمہ کے حالات پر مباحثہ کرنے والے اِن کے منہج کی نوعیت سے متعلق گفتگو کر رہے ہیں، اور ہم نے بغیر ہچکچاہت کے یہ طے کیا کہ اس سے متعلق بالکل واضح موقف دیا جائے، جس میں کسی بھی قسم کا شائبہ نہ ہو۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم یہ اس بات کی وضاحت کریں کہ اہل سنت کے عقیدے کے مقابلہ میں یہ تنظیم کہاں کھڑی ہے اور اِن کے ساتھ تعامل سے متعلق احکاماتِ شریعہ کو واضح کیا جائے اور اِن کے اعمال سے متعلق آگاہی دی جائے اور خود کو گمراہ کن تحمل کے تناظر میں خاموش نہ رکھا جائے جبکہ بہت سے نوجوانانِ شام اور نوجوانانِ عالم اِن سے متعلق حکم کے بارے میں افراتفری کا شکار ہیں۔ اس قسم کا گمراہی پر مبنی تحمل جبکہ خاص طور پر اِن کا شر پھیل چکا ہو اور بہت سے مخلص مسلمان اور مجاہدین قتل کیے جا چکے ہیں کو سامنے رکھتے ہوئے کسی بھی صورت اِن علمی حضرات کو پیچھے نہیں ہٹنا چاہیے اور نہ ہی خود کو روکنا چاہیے، اہل علم کے لیے ضروری ہے، جن کو علم کی امانت دی گئی ہے تاکہ وہ کھول کر (عامۃ الناس کے سامنے) بیان کر دیں کہ وہ اس تنظیم ’دولتِ اسلامیہ عراق و شام‘ سے متعلق حق بات کی وضاحت کریں اور اِن سے متعلق صحیح حکم کو بیان کریں جنہوں نے اپنی تلواروں،خنجروں اور اسلحے کا رخ مجموعی اور عمومی طور پر مسلمانوں کی طرف کر رکھا ہےاور خصوصی طور مجاہدین کی طرف اِن کا رخ ہے

اس لیے ہم نے فیصلہ کیا کہ اس بیان کو نشر کریں تاکہ اپنے موقف کو واضح کریں اور بغیر کسی شک و شبہ کے اپنے موقف کی وضاحت کردیں تاکہ ہم قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے سامنے جوابدہ ہو سکیں، جب ہم سے پوچھا جائے کہ کیا ہم نے اپنے علم میں سے دنیاوی مفادات کے لیے کہیں کتمانِ حق تو نہ کیا تھا ؟ کیا ہم نے واضح طور پر لوگوں کے سامنے حق کو بیان کر دیا تھا؟ اور کیاتمام قسم کی جماعت الدولۃ اور انصارانِ الدولۃ کی طرف سے دھمکیوں کے باوجود اِس علم کو بیان کرنے کے لیےتمام اسباب کے ذریعے کوشش کی تھی یانہیں؟

مزید براں، اِس بیان کو ہم تمام قسم کے فقہی اورمدلل حوالہ جات کو بیان کرنے کے لیے استعمال نہیں کر رہے، بلکہ اس کا واضح مقصد اصولوں کو بیان کرنا ہے اور اُن اصولوں کو دلائل کے ذریعے اور فقہ اور واقعات کو کلی طور پر استعمال کرتے ہوئے سامنے لانا ہے تاکہ ہمارے پچھلے دیے گئے بیانات کے ذریعے حتمی نتیجے پر پہنچا جا سکے۔ [تاکہ جسے ہلاک ہونا ہے وہ دلیلِ روشن کے ساتھ ہلاک ہو اور جسے زندہ رہنا ہے وہ دلیل روشن کے ساتھ زندہ رہے] ( سورۃ الانفال: ۴۲)

ضروری ابتدائیہ:

اپنے دلائل کو مستحکم کرنے کے لیے ہم اس سے متعلق کچھ ضروری ابتدائیہ دینا چاہیں گے جس کے ذریعے عقلی، شرعی اور تاریخی حقائق کو قائم کیا جا سکے:

(۱)
سب سے اہم اُصول اور لازمی بنیاد تمام ایمان کے معاملات میں کتاب اللہ اور سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع ہے۔ یہی منہجِ سنتِ نبویﷺ ہے جو کہ صحابہؓ کے فہم پر کھڑا ہے جیسا کہ محترم علمائے امت نے اس کی وضاحت کی ہے، جن سے علم لینے پر سب متفق ہیں اور وہی اصل صاحبِ علم ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: [اہل ذکر (علم) سے پوچھ لو اگر تم لوگ خود علم نہیں رکھتے] (۱۶:۴۳)؛ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ اُن علماء سے پوچھا جائے جو حق کو جانتے ہیں تاکہ اس مسئلہ کو سمجھا جا سکے؛پس چاہیے کہ معاملہ کو اہل حق کی معرفت کے ذریعے جاننے کے لیے رجوع کیا جائے اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:[کیا جاننے والے اور نہ جاننے والے دونوں کبھی یکساں ہو سکتے ہیں؟] (۳۹:۹)؛ مزید ارشاد ہوتا ہے: [اللہ نے خود شہادت دی ہے کہ اس کے سوا کوئی خدا نہیں ہے، او ر (یہی شہادت) فرشتوں اور سب اہلِ علم نے بھی دی ہے](۳:۱۸)، پس اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو پابند کیا ہے کہ وہ اہل علم اور اہل ذکر کی اتباع کریں، نہ کہ اہلِ باطل اور اہل ہوائے نفس کی پیروی کریں۔

رسول اللہ ﷺ نے بہت سے صحیح احادیث میں خوارج کی صفات سے آگاہ کیا کیونکہ یہ وہ پہلا فرقہ تھا جو عہدِ نبوی ﷺمیں ظاہر ہوا۔صحیح بخاری میں ابو سعید الخذریؓ کی طرف سے روایت میں ذی الخویصرۃ التمیمی کا تذکرہ ہے، کہ جب رسول اللہ ﷺ مالِ غنیمت کی تقسیم فرما رہے تھے، تو ذی الخویصرہ ، جس کا تعلق بنو تمیم قبیلے سے تھا، رسول ﷺ کے پاس آیا اور کہا: ’اے اللہ کے رسول ﷺ، عدل کیجیے‘۔ رسول اللہ ﷺ نے جواب دیا: ’تمہاری بربادی ہو، اگر میں عدل نہیں کروں گا تو کون عدل کرے گا؟ تم یقیناً تباہ اور گمراہ ہو جاؤ گےاگر میں عدل سے کام نہ لوں‘۔ سیدنا عمرؓ نے کہا: ’اے اللہ کے رسول ﷺ، مجھے اجازت دیجیے کہ میں اس کا سرقلم کر دوں‘۔ رسول اللہ ﷺ نے سیدنا عمرؓ کو جواب دیا: ’’ اس کو چھوڑ دو کیونکہ اِس کے ساتھی ہیں جن کے مقابلے میں تم اپنی نماز وں کو کمتر جانو گے، جن کے روزوں کو تم اپنے روزوں کے مقابلہ میں کمتر جانو گے، یہ قرآن پڑھیں گے لیکن وہ اِن کے حلق کے نیچے نہیں اترے گا، یہ دین سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر کمان سے نکل جاتا ہے۔‘‘

ان کی ایک صفت جو کہ تقریباً ہر کسی میں ہی پائی جاتی ہے، وہ امام بخاری نے حضرت علی بن طالبؓ کی طرف روایت کی ہے ، جو انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنی جب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: [آخری زمانے میں ایک قوم ظاہر ہو گی جو کم عمر ناپختہ ذہن ہوں گے ،جو انسانیت میں بہترین لوگوں کی بات کو بیان کریں گے، یہ دین سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر کمان سے نکل جاتا ہے، اِن کا ایمان اِن کے حلق کے نیچے نہیں اترےگا، پس تم انہیں جہاں بھی پا ؤ، انہیں قتل کر دو، کیونکہ قیامت کے دن اِن کو قتل کرنے والوں کو اجر سے نوازا جائے گا]

جیسا کہ سنن نسائی میں ابو سعید الخدری ؓ سے بھی ان کی ایک صفت کو روایت کیا گیا ہے کہ جو اِن (خوارج) سے متعلق مشہورہے[یہ اہل اسلام کو قتل کریں گے اور اہل شرک کو چھوڑ دیں گے، اگر (میں اس وقت تک زندہ رہوں) اور ان کا تدارک کر لوں(کہ یہ خوارج ہیں) ، تو میں انہیں اسی طرح قتل کروں گا جس طرح قومِ عاد کو قتل کیا گیا تھا]

اِن احادیث سے اس بات کی وضاحت ہوتی ہے کہ یہ ناپختہ،بےعقل اور بے پرواہ کم سن لوگ ہیں، جن کے اندر حق بات کے سامنے جرات دکھانے کا مادہ آ چکا ہو گاکہ جیسا کہ ان کے جدِ امجد ذوالخویصرہ نے حدود سے تجاوز کیا اور اس نے رسول اللہ ﷺ کو انصاف کرنے کا کہا، اور اسی طرح انہوں نے تب بھی اپنی حدود سے تجاوز کیا ، جب انہوں نے کبار صحابہؓ کے سامنے جرات دکھائی اور اِن(خوارج) کے نامرادلوگوں نے امیر المومنین سیدنا علی بن طالبؓ کے ساتھ مباحثہ کیا اور اُن کی بھی تکفیر کی اور خیارِ امت اور ائمہ امت کی بھی تکفیر کی! اسی طرح اِن کی یہ صفت بھی ہے کہ ’ یہ انسانیت میں بہترین کے کلمات کو بیان کریں گے‘، جیسا کہ یہ قرآن کو پڑھیں گے اوربعض احادیث ِ نبوی پر حجت بیان کریں گے لیکن یہ تمام معاملہ اِن کی طرف سے فقط ظاہری نصوص پر ہی ہو گا! اِن کی عبادت میں بہت ریاضت ہو گی ، یہاں تک کہ ایک سنی مسلمان اِن سے خوف کھائے گا، اور اپنی نماز کو اِن کے مقابلے میں حقیر جانے گا، اس خارجی کے روزوں کو اپنے روزوں کے مقابلہ میں حقیر سمجھے گا! اور یہی بہت سے نوجوانوں کو اِن(خوارج) سے متعلق دھوکہ دینے کا باعث ہو گا! اور ان تمام صفات پر علماء نےصراحت کے ساتھ وضاحت کی ہے، جو اُن کی طرف سے کی گئی شرح میں دلائل کے ساتھ موجود ہے۔

امت پر ان حروریہ(خوارج) عقیدے کے خطرے کو دیکھتے ہوئے، علماء نے اس مذہبِ خارجی کی اتباع کرنے والوں کی سختی سے نکیر کی ہے، جن میں کچھ کو مثال کے طور پر بیان کیا جا رہا ہے:

علامہ الآجری (متوفی: ۳۶۰ھ) کہتے ہیں:
[علمائے متقدمین و متاخرین نے اس بات پر بالکل اختلاف نہیں کیا ہے کہ خوارج (اصل میں )قومِ سوء ہے، جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی نافرمان ہے، اگرچہ وہ نماز پڑھیں، روزے رکھیں یا اپنی عبادت میں ریاضت سے کام لیں، اِن کے یہ اعمال ان کے لیے فائدہ مند نہیں ہیں، اور اگر وہ امر بالمعروف و النہی عن المنکر کو بھی ظاہر کریں تب بھی اِن کے لیے اس میں نفع نہیں، اور اللہ تعالیٰ نے ہمیں ان سے متعلق خبردار کیا ہے، اور نبی ﷺنے بھی اِن سے ہمیں خبردار کیا ہے، اور اِن کے بعد خلفائے راشدین نے بھی اِن سے خبردار کیا ہے، اور اسی طرح صحابہؓ نے بھی تنبیہ کی ہے اور اس کے بعد آنے والوں نے بھی جنہوں نے احسان کے ساتھ اِن صحابہؓ کی پیروی کی، اِن(خوارج) سے متعلق آگاہ کیا ہے، اور خوارج قدیم وجدید شریر اور سفاک ہیں، اور وہ تمام بھی جو خوارج کے مذہب کی پیروی کریں،اور یہ ائمہ اور امراء کے خلاف خروج کرتے ہیں، اور مسلمانوں کو قتل کرنے کو حلال قرار دیتے ہیں]

ابن تیمیہؒ (متوفی: ۷۲۸ ھ) کہتے ہیں:
[یہ(خوارج) مسلمانوں پر شرکے معاملہ میں سب سے بڑھ کر ہیں، مسلمانوں پر خوارج سے زیادہ ضرر پہنچانے والا کوئی گروہ نہیں ہے؛ یہود و نصاری بھی نہیں ہیں، کیونکہ یہ(خوارج) ہر اس مسلمان کو قتل کرنے کی سعی کرتے ہیں جو ان کی موافقت نہیں کرتا، وہ مسلمانوں کے خون بہانے اور(ناحق) لوٹنے اور اُن کی اولاد کے قتل کو حلال قرار دیتے ہیں اور اُن سب کی تکفیر کرتے ہیں، اور یہ اپنی کثیرجہالت اور گمراہ کن بدعت کے پیشِ نظر اِس (تکفیر کرنےاورناحق خون بہانے) کو نیک اعمال میں گردانتے ہیں]

علمائے حدیث تو خوارج کے معاملہ میں بہت سخت موقف رکھتے تھے جیسا کہ امام بخاری، ابن عربی،قرطبی( المفہیم کے مؤلف)، سبکی،امام مالک اور دیگر علماءکی طرف سے بھی ایسا ہی (سخت موقف) بیان کیا گیا ہے۔

علامہ ابن قدامہ المقدسی( متوفی: ۶۲۰ھ) کہتے ہیں:
ہمارے اصحابِ متاخرین فقہاء کا قول اِن(خوارج) سے متعلق قول یہ ہے کہ یہ جابرظالم ہیں، ان کا حکم بھی ظالم کے حکم جیسا ہی ہے، اور یہ قول ابو حنیفہ،شافعی اور جمہور فقہاء کا بھی ہے اور کثیر علمائے حدیث کا بھی ہے۔ امام مالکؒ کی رائے یہ ہے کہ اِن کو توبہ کی دعوت دی جائے، اگر وہ اسے قبول نہ کریں، تو پھر انہیں قتل کر دیا جانا چاہیے، اور اِس قتل کی وجہ اُن کا فساد ہے نہ کہ اُن کا ارتداد۔ علمائے اہل حدیث کے ایک دوسرے گروہ کی رائے یہ ہے کہ خوارج کفار مرتدین ہیں ، اور ان کا حکم مرتدین کے حکم جیسا ہے یعنی کہ ان کا خون بہانا اور اموال لوٹنا حرام نہیں ہے۔ مزید براں، اگر یہ کسی جگہ پر جمع ہو کر خود کو مضبوط کر رہے ہوں اور ان کے پاس قوت وشوکت بھی ہو، تو پھر یہ اہل حرب (حربی) گردانے جائیں گے بالکل ویسے ہی جیسے محارب کفار سے جنگ کی جاتی ہے]

ایک اور جگہ علامہ ابن قدامۃ ایک مزید سخت موقف بیان کرتے ہوئے کہتےہیں:
[ اس معاملہ میں صحیح رائے یہ ہے کہ خوارج کے خلاف قتال کی ابتداء کی جا سکتی ہے اور ان کے زخمیوں کو بھی قتل کیا جا سکتا ہے جیسا کہ نبیﷺ کا اِن سے متعلق قتل کرنے کا حکم موجود ہے اور اُس شخص سے ثواب کا وعدہ کیا گیا ہے جو اِن خوارج کو قتل کرے گا، جیسا کہ علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہوتا ہے جب انہوں نے کہا: اگر آپ لوگ کے جذبات کی لہروں میں جوش پیدا نہ ہو، تو میں آپ کو اس چیز کا بیان کروں گا جس کا وعدہ اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ کی زبانِ مبارک سے اِن خوارج کو قتل کرنے والوں کے لیے بیان فرمایا ہے، کیونکہ ان کی بدعت او ر بداعمالیاں اِس چیز کا تقاضا کرتی ہیں کہ ان کے خون بہانے کو جائز قرار دیا جائے؛ جس کی دلیل نبی ﷺ کا اِن کے گناہِ عظیم کی خبر دینا ہے، اور یہ خوارج مخلوق میں سب سے بدترین ہیں، اوریہ دین سے نکل جائیں گے، اور یہ جہنم کے کتے ہیں، اور رسول ﷺ نے اِن کے خلاف قتال کرنے تحریض دلائی اور اس چیز کی خبر دی کہ اگر وہ اُس وقت تک زندہ رہیں اور اِن خوارج کا تدارک کر لیں، تو وہ انہیں قومِ عاد کی طرح قتل کریں گے، اس لیے یہ بات جائز نہیں کہ ان خوارج کو ان لوگوں میں سمجھا جائے جن کو(قتال کرنے کے معاملہ میں) معاف کر دیا جائے گا، اور اصحابِ رسول ﷺسے کثیر تعداد نے اِن کے خلاف قتال سے اجتناب کیا ہے، اور اس میں کوئی بدعت نہیں ہے]

ہم یہ بات واضح کر دیں کہ ہم یہ اپنی آراء بیان نہیں کر رہے ہیں اور نہ ہی کسی ایک رائے کی طرف جھکاؤ رکھ رہے ہیں بلکہ آپ کے سامنے فقط وہ تمام آراء جوعلمائے اہل سنت کی طرف سے نقل ہوئی ہیں، اُس کو بیان کر رہے ہیں تاکہ یہ واضح کیا جا سکے کہ امت پر خوارج کا فرقہ کتنا خطرناک ہے! ہم اس بات کی بھی وضاحت کرنا چاہیں گے کہ خوارج کے خلاف قتال کے وقت اُن کو قتل کرنا جب کہ وہ خود کو مضبوط ومنظم کر رہے ہوں یا کسی حملے کی تیاری کر رہے ہوں کا معاملہ اُن کے کسی قیدی پر قدرت پانے کے بعد قتل کرنے سے مختلف ہے کیونکہ اِن کے قیدیوں سے متعلق علماء میں دو رائے پائی جاتی ہے کہ اِن (خوارج)کے قیدیوں پر قدرت پا لینے کے بعد قتل کیا جانا چاہیے یا نہیں!

(۲)
تمام بدعتی فرقے شروع میں ایک محدودفکر سے شروع ہوتے ہیں، یا پھر جیسا کہ اصحاب اصول اسے بیان کرتے ہوئے’کلّی اصل‘ کا نام دیتے ہیں، پھر وہ پھلتی پھولتی ہے، اور اس سے مزید فروع اور شاخیں مختلف طریقے سے سامنے آتی ہیں، حتی کہ بعض یہ گمان کرنے لگتے ہیں کہ اس فرقہ کا اصل فرقے سے کوئی تعلق نہیں ہے یا اس کے برعکس بھی گمان کیا جا سکتا ہے۔ حقیقت میں، یہ ذیلی فرقے آپس میں بھی بحث ومباحثہ کچھ امورپر کرتے ہیں، بلکہ خوارج کے فرقے کا معاملہ یہاں تک گیا کہ بعض خوارج کے فرقوں نے دوسرے خوارج کے فرقوں کی تکفیر کی، اور بعض فرقوں نے ایک دوسرے سےبھی قتال کیا۔ یہاں خوارج کی ایسے بھی فرقے ہیں جو اِس بات کا اعتراف نہیں کرتے کہ وہ خارجی ہیں! جیسا کہ فرقہ اباضیہ کا معاملہ ہے جو کہ خود فرقہ خوارج میں سے نہیں سمجھتے! جبکہ اس بات سے اُن کی مراد یہ ہوتی ہے کہ وہ فرقہ ازارقہ میں سے نہیں ہیں، یہ وہ لفظ ہے جوخوارج کی اصطلاح کے طور پر پہلی صدی ہجری کے نصف تک مستعمل رہا، پس جب اُن کو خوارج کہا جاتا ہے تو وہ اِس سے فرقہ ازارقہ،نجدات اور محکمِ اولیٰ میں مستعمل اصطلاحات کو مراد لیتے ہیں، اس لیےفرقہ اباضیہ کا یہ قول صحیح ہے کہ وہ اپنی اساس لے لحاظ سے عملی طور پر فرقہ ازارقہ نہیں ہیں! لیکن وہ خوارج کے فرقہ میں ضرور داخل ہیں! پھر اس کے بعد یہ فرقہ بھی مزید تقسیم ہوا اور مزید ذیلی فرقے اِن سے سامنے آئے۔

(۳)
فرقہ حروریہ(خوارج) سے متعلق جامع متفق بنیادی اصول یہ ہے، جو کہ ان خوارج فرقے کی اصل ہے، اس سے قبل کہ ہم ان کے مزید فرقوں کے اعتقاد کی طرف جائیں، وہ بنیادی اصول یہ ہے[مسلمانوں کی تکفیر ایسے اصولوں کی بنیاد پر کرنا جو اہلسنت والجماعت کے نزدیک کفر نہیں ہے، پھر اُس کے بعد اُن کے خون بہانے کو حلال جاننا اور اُن کے خلاف قتال کرنے کی غرض سے خروج کرنا] یہی وہ اصول ہے جس کی بنیاد اُن کے اصل فرقہ خوارج نے رکھی، جب انہوں نے سیدنا علی بن طالب رضی اللہ عنہ کے خلاف خروج کیا، اور سیدنا علیؓ اور سیدنا معاویہؓ کی تکفیر کی، اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ نہروان اور حروراء کے مقام پر لڑے(اسی وجہ سے حروریہ کہلائے)۔ یہ بنیادی اصول کو پھر مزید وسعت دی گئی اور اُس میں مختلف صدیوں کے درمیان ترمیم ہو تی رہیں اور یہی وہ بنیادی اصول ہے جس کی بنیاد پر تنظیم الدولۃ نے بھی جہالت کی بنیاد پر عذر دینے والوں کی تکفیر کی ہے۔

(۴)
نافرمانی اور کبائر گناہوں کی بنیاد پر تکفیر کرنا، جیسا کہ چوری، قتل، زنا وغیرہ، یہ خوارج کے خروج کرنے سے متعلق جامع صفت نہیں ہے، بلکہ یہ فروعی اختلافات تو اولین حروریہ(خوارج) کے ظاہر ہونے کے بعد کے زمانہ کے ہیں، جن کو حروریہ کے نام سے صحابہؓ نے متصف کیا،جیسا کہ صحیح بخاری کی حدیث میں ام المومنین سیدنا عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف سے روایت ہوتا ہے: [ایک عورت نے حضرت عائشہؓ سے سوال کیا کہ کیا خواتین کو (حیض سے)طہارت حاصل کرنے کے بعد اپنی چھوڑی گئی نمازوں کی قضاء دینی چاہیے؟ حضرت عائشہ ؓ نے جواب دیا: کیا تم حروریہ ہو؟ ہم رسول اللہ ﷺ کے وقت حیض کی حالت میں ہوتی تھیں،انہوں نے کبھی ہمیں ایسا حکم نہیں دیا یا انہوں نے ایسا کہا کہ ہم ایسا نہیں کیا کرتی تھیں]۔ خوارج کے بیس(۲۰) سے زائد فرقہ ہیں ، اُن خوارج کے فرقوں نے سیدنا علیؓ کی بھی تکفیر کی کیونکہ انہوں نے ایک شخص کی تحکیم کو قبول کیا اور ان پر یہ تہمت لگائی کہ انہوں نےاللہ کی شریعت کے مطابق فیصلہ نہیں کیا۔

اور اسی طرز پر فرقہ تنظیم الدولۃ سرزمینِ شام میں موجود اسلامی جماعتوں پر یہ تہمت لگاتی ہے کہ یہ حدود کی تطبیق نہیں کرتے ہیں اور نہ ہی اللہ کی شریعت کے مطابق فیصلہ کرتے ہیں یا یہ صحوات ہیں، اس لیے یہ مرتدین ہیں! بجز اس کے یہ فرقہ اس بات کا علم رکھتا ہے کہ علمائے سنت کے درمیان دار الحرب کے اندر تطبیقِ حدود کے درمیان بھی اختلاف ہے!! نجدات (فرقہ خوارج) نے ازارقہ(فرقہ خوارج) کی تکفیر اس بنیاد پر کی کیونکہ ازارقہ نے قعدہ فرقہ(جو لوگ ازارقہ کے ساتھ جہاد نہیں کرتے) کی تکفیر کی تھی! اسی طرح نجدات فرقہ کی تکفیر عطویہ(فرقہ خوارج) نے اس بنیاد پر کی نجدات احکامات کی تطبیق میں جہالت کا عذر دیتے تھے!

جو کوئی بھی فرقہ قعدۃ کی رائے کو دیکھے گا تو یہ گمان کرے گا کہ یہ خوارج کے فرقہ میں سے نہیں ہیں کیونکہ وہ ایسا گروہ تھا جو (خوارج) کی نصرت کرنے سے دور رہا، اور انہوں نے امیر المومنین سیدنا علیؓ کے خلاف بھی قتال نہیں کیا، اور وہ تحکیم کے معاملہ کو بھی حق بجانب سمجھتے تھے سوائے یہ کہ انہوں نے لوگوں کے خلاف خروج نہیں کیا۔ نجدات(فرقہ خوارج) نے فرقہ قعدۃ کی تکفیر نہیں کی لیکن نافع بن الازرق(فرقہ ازارقہ کا بانی) نے اُن کی تکفیر کی؛ حالانکہ وہ خود بھی خوارج کے گروہ سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کے جتنے بھی ذیلی فرقے تھے وہ ایک دوسرے سے کسی نہ کسی رائے سے ممتاز ہوتے رہے، لیکن اِس کے باوجود وہ تمام کے تمام کو ایک ہی عنوان خوارج یاحروریہ یا شراۃ یا غالیہ (غالی) کے تحت رکھا گیا! ان خوارج کی کسی بھی شکل میں خوارج سے متعلق اصل بنیادی قول یہ ہے جو کہ علامہ ابو الحسن عشری (متوفی: ۳۲۴ھ) نے بیان کیا : [خوارج کے عقائد کی اصل بنیاد وہ ازارقہ،اباضیہ، صفریہ، نجدیہ کے اقوال ہیں، اور باقی قسمیں سوائے ازارقہ اور اباضیہ کے، وہ فرقہ صفریہ کی فروع میں سے ہیں]

اس کو بیان کرنے کے بعد ہم اِس نتیجہ پر پہنچ سکتے ہیں کہ یہ بات لازم نہیں ہے کہ اہل علم کےفہم کو جمود کی طرف لے جایا جائے اور حروریہ کی صفت کو صرف گناہ ِ کبیرہ کی بنیاد پر تکفیر کرنے والوں یا نہ کرنے تک محدود کر دیا جائے! یہ بہت بڑی منہج میں غلطی ہو گی! بلکہ اِس فرقہ خوارج کی اصل بنیاد یہ ہے کہ یہ ایسے اعمال کو ارتداد سمجھتے ہیں جو اصل میں گناہ نہیں ہوتے، چاہے وہ معصیت میں سے ہوں یا نہ ہوں، پھر اس کے بعد یہ اپنے فاسد قواعد کی بنیاد پر اس فاعل کی تکفیر کرتے ہیں، اور ناحق خون بہانے کا حلال قرار دیتے ہیں،اپنی تلواروں کو بلند کرتے ہیں اور اس کے ساتھ اہل اسلام کو قتل کرتے ہیں۔

(۵)
خوارج کی صفات میں سے ایک اصل یہ بھی ہے کہ مسلمانوں کے خلاف خروج قتال کی غرض سے کرتے ہیں، جیسا کہ عہدِ علیؓ میں واقع ہوا تھا، اور ایسا ہی خوارج سے متعلق حدیثِ رسول ﷺ میں بیان ہوا ہے کہ (یہ اہل اسلام کو قتل کریں گے)، پس جو کوئی بھی خوارج کی طرف نسبت کرے لیکن قتال نہ کرے، اس کے باوجود بھی خوارج کی اصلی صفت سے علیحدہ نہیں ہو گا، اور وہ ہے کہ ایسی چیز کی بنیاد پر تکفیر کرنا جو اصلاً کفر نہیں ہے، پھر اس کے بعد اُس بنیاد پر قتال کرنا،جیسا کہ حدیثِ صحیحہ میں رسول اللہ ﷺ کی طرف سے اِن کی صفات بیان ہوئی ہیں۔

(۶)
اختلاف اور انحراف کا ہونا بدعت کی وجہ سے ایک قدرتی عمل ہے، کیونکہ بدعت ہمیشہ ہوائے نفس کے تابع ہوتی ہے، جو شخصیت کی پیروی کرتی ہے نہ کہ اس کی بنیاد راسخ العقدۃ منہج پر ہوتی ہے۔

(۷)
یہ بدعت ارتقاء کے منزال طے کرتی ہے حتی کہ عہدِ حاضر میں بھی یہ عمل جاری ہے، غفلت میں سے ایک بات یہ ہو گی کہ ہم یہ خیال کریں کہ جو فرقے کتبِ تاریخ میں ذکر کیے گئے ہیں صرف وہی اصل بدعتی فرقے ہیں اور کسی دوسرے فرقہ کو اُن کے منہج کے ساتھ منسوب نہیں کیا جا سکتا، اور یہ کہ جو نام ان فرقوں سے متعلق موجود ہیں جیسا کہ طربانی، ابن حزم، شھرستانی، بغدادی اور دیگر کتب میں بیان ہوئے ہیں کے علاوہ کسی دوسرے فرقے کا ظہور نہیں ہو گا۔ مثلاً فرقہ معتزلہ، اس کی بنیاد اس بات پر رکھی گئی کہ عقل شریعت پر فوقیت رکھتی ہے، پھر اس فکر نےدوسری صدی میں ارتقاء کرتے ہوئے اپنے نئے پانچ اصول وضع کر لیے، چونکہ منہج وفکر کی موت اُن کے بانیوں کی موت سے واقع نہیں ہوتی، پس عہدِ حاضر میں یہی فکر مختلف ’فارم‘ اور ’افراد‘ کے اندر پھر سے واقع ہوئی ہے، جو اپنے اصل بنیادی فرقہ کی بنیاد پر ہی کھڑی ہے، جس کا پہلابنیادی کلیہ یہ ہے کہ عقل شریعت پر فوقیت رکھتی ہے، اگرچہ کہ وہ اصل فرقے سے اختلاف رکھیں یا اس میں موجود بعض تفصیلات اور تقسیم سے متفق نہ بھی ہوں، مثال کے طور پر، بعض معاصرمصنفین جنہوں نے مدرسہ معتزلہ کو اپنایا کا معاملہ ایسا ہی ہے، بلکہ یہاں کچھ باقاعدہ مراکز ہیں جو اسی معتزلہ فکر کے ساتھ متفق ہیں جیسا کہ ’عالمی مرکز برائے فکرِ اسلامی‘ جو واشنگٹن میں موجود ہے۔

(۸)
رسول اللہ ﷺ کی طرف سے اِس فرقہ کی خصوصیات اِن کے اصلی بنیادی امور سے متعلق تھیں، اور اس سے متعلقہ دیگر شکلیں دوسرے فرقوں کی نشاندہی کے لیے ہیں۔ اس فرقہ خوارج کی اصل بنیاد یہ ہے کہ ’یہ اہل اسلام کو قتل کریں گے اور اہل شرک کو چھوڑ دیں گے‘؛ اسے ابو داؤد نے روایت کیا ہے، اور یہ قرآن کو اس کے سطحی فہم پر ہی دیکھیں گے اور ’یہ قرآن اِن کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا‘؛ اسے مسلم نے روایت کیا ہے(جس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کا مفہوم اِن کے دلوں میں داخل نہیں ہو گا)۔

جہاں تک دوسری صورتوں کا تعلق ہے، جس میں وہ سر کے بال منڈواتے ہیں اور عبادت میں ریاضت کرتے ہیں! تو یہ خصوصیات خوارج سے متعلق اہل سنت نے اضافی طور پر بیان کی ہیں، جو اِن کی اصل خصوصیت کے علاوہ ہیں، جیسا کہ سچائی اور امانت داری، لیکن جو اِن کا اصل بنیادی اصول ہے وہ کسی بھی خارجی (فرقہ) میں موجود ہونا چاہیے۔

جہاں تک دیگر خصوصیات کا تعلق ہے تو وہ وقت اور جگہ کے ساتھ تبدیل ہوتی ہیں۔ مثلاً ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہر کوئی جو اپنے بالوں کو نہیں منڈواتا وہ حروریہ(خوارج) نہیں ہو سکتا، یہ واضح جہالت ہو گی! رسول اللہ ﷺنے یہ خصوصیت اُن سے متعلق بیان کی جو ان کے عہد میں پہلے ظاہر ہوئے، اور یہی اِس کی غالب تفسیر سب (علماء)نے بیان کی ہے، مزید یہ کہ دولتِ خوارج اور اِن خوارج کا ظہور فقط مشرق کی طرف سے نہیں ہوا بلکہ مغرب سے بھی اِن کا ظہور ہوا، اس لیے رسول اللہﷺکا تمام خوارج کے لیے قیامت تک کے لیے سر منڈوانے کی صفت کو خاص کرنا ،ان فرقوں سے متعلق صحیح تشریح نہیں ہو گی۔

(۹)
جب ہم کسی گروہ کو کسی فرقہ سے منسوب کرتے ہیں، تو اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہوتا ہے یہ فرقہ اُن تمام صفات کا حامل ہو گا جو ان کے اول فرقہ میں پائی جاتی تھیں، بلکہ اس نام کی تطبیق ہر اس فرقہ کے ساتھ کی جا سکتی ہے جو اس کی کچھ صفات رکھتے ہوں یا کلی طور پر تمام صفات رکھتےہوں، اور بعض دفعہ اس نام کا استعمال دوسرے فرقہ پر مجازی طور پر بھی کیا جاتا ہے، جس سے تنبیہ کرنا مقصود ہوتا ہےیا اصل نص کی طرف منسوب کرنا بھی مقصودِ نظر ہو سکتا ہے، اور اس کے لیے دلیل سیدۃ عائشہ رضی اللہ عنہاکی طرف سے بیان کی گئی بات ہے جو بخاری اور مسلم میں معاذۃ العدویہ کی طرف سے روایت ہوئی ہے۔[ایک عورت نے حضرت عائشہؓ سے سوال کیا کہ کیا خواتین کو(حیض سے) طہارت حاصل کرنے کے بعد اپنی چھوڑی گئی نمازوں کی قضاء دینی چاہیے؟ حضرت عائشہ ؓ نے جواب دیا: کیا تم حروریہ ہو؟ ہم رسول اللہ ﷺ کے وقت حیض کی حالت میں ہوتی تھیں،انہوں نے کبھی ہمیں ایسا حکم نہیں دیا یا انہوں نے ایسا کہا کہ ہم ایسا نہیں کیا کرتی تھیں]۔ سیدۃ عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف سے یہ سوالیہ خطابت کا انداز جب وہ حروریہ(خوارج) کے دور میں زندہ تھیں، اور جبکہ وہ اس بات کا علم رکھتی تھیں کہ اس نام کا کون حقدار ہے، ہمارے سابقہ نکتہ کی وضاحت کرتا ہے،جبکہ اُس عورت کا سوال تو حائضہ عورت کی نماز دہرانے سے متعلق تھا، پھر اُس شخص کا معاملہ کیا ہو گا جو کہ مسلمانوں کے خون کو حلال قرار دے اور انہیں مرتد ہونے کے شبہ پر قتل کرے؟

(۱۰)
غلبہ،پھیلاؤ، اختیار،تمکین، حکومت کسی کے منہج کے درست ہونے کے لیے لازمی دلیل نہیں ہوتی اور نہ ہی اس کے اعتقاد کے سالم ہونے پر دلالت کرتی ہے، بعض اہل بدعت نے مسلمانوں کے مختلف علاقوں میں مختلف تاریخی عہد میں حکومت کی ہے، جیسا کہ عہدِ خلافتِ عثمانی کے وقت میں خلیفہ مامون سے لے کر خلیفہ متوکل تک معتزلہ کی حکومت تھی! اسی طرح عبیدیہ اسماعیلیہ کی حکومت ڈھائی صدی تک محیط رہی۔ اسی طرح خوارج نے مشرق کے علاقوں پر حکومت کی اور عبداللہ بن وہب الراسبی کو اپنا امام بنا لیا اور اُس کی بیعت ازارقہ قطری بن الفجاء نے کی اور اسے امیر المومنین کا خطاب دیا!! اسی طرح خوارج کی کچھ ریاستیں مغربِ اسلامی میں اہل سنت کے کھنڈرات پر قائم کی گئیں، جب خوارج نے کچھ بربر قبائل کو قائل کر لیا، جو کہ حال ہی میں مسلمان ہوئے تھے اور انہوں نے پھر اہل سنت کی قائم ولایتِ خلافت کے خلاف خروج کیا، اس طرح بربر قبائل کو مذہب خوارج صفریہ اور اباضیہ سے معرفت حاصل ہو گئی، اور پھر اِس منہج(خوارج) کو قبائل زناتہ،ہوارۃ، مکناسہ، مغراوہ وغیرہ نے قبول کیا، حتی کہ انہوں نے اپنی سلطنت کو مغربی صحراء اورکچھ پہاڑی علاقوں تک وسعت دے دی۔

الجزائر اور وسطی افریقہ میں، خوارج اباضیہ نے دولتِ رستیہ (۱۴۴ھ سے ۲۹۶ھ) کی بنیاد ڈالی جو کہ ڈھائی سال کی مدت تک حکومت کرتی رہی۔ اسی طرح دولتِ بنی مدرار (۱۴۰ھ سے ۲۹۷ ھ) جو صفریہ خوارج میں سے تھے نے حکومت کی، اور خوارج صفریہ خوارج اباضیہ کی نسبت بہت زیادہ شدت پسند تھے، اور انہوں نے مراکش کے شہر سجلماسۃ کو اپنا دارالحکومت بنایا۔

اس طرح خوارج صفریہ کی دولتِ برغواطۃ نے دو صدیوں تک حکومت کی! پھر یہ تمام ریاستیں ناپید ہوئیں، جب اُن کے مخالفین نے ان پر ضربیں لگائیں اور جب ان کے اعتقادات میں تبدیلی پیدا ہوئی اور یہ بہت سے خوارج کے عقائد سے دستبردا ر ہو گئے!

اس طرح اِن تمام دولتِ خوارج کا ظہور ہوا اور وہ پھر زوال کا شکار ہوئیں اور اُن کا اثر کچھ وقت بعد زائل ہو گیا! اور مذہبِ اہل سنت قائم و دائم رہا اور آج بھی اس فکری انحراف کے خلاف مزاحمت کر رہا ہے۔ کسی نے بھی یہ رائے پیش نہیں کی کہ خوارج اباضیہ کو جن کے پاس سلطنتِ عمان (کے احاطہ )میں دولت حاصل تھی یا جو زنجبار، الجزائر وغیرہ میں خوارج رہتے تھے! ان کو خوارج کی اصطلاح سے متصف نہ کیا جائے! حقیقت یہ ہے کہ سلطان قابوس بن سعید جو حاکمِ عمان ہے اس کا تعلق مذہبِ اباضیہ خوارج سے ہے، لیکن اپنے ہی منہج سے مخالفت کرتے ہوئے وہ خودسیکولر لادین ہے اور شریعت کے مطابق حکمرانی نہیں کرتا! پس وہ بھی باقی حکام کی طرح خود کو اہل سنت سے منسوب کرتا ہے، لیکن وہ سب سیکولر لادین ہیں جو اسلام کے خلاف جنگ کرتے ہیں اور شریعت کے مطابق فیصلہ نہیں کرتے!

خوارج سے متعلق تاریخی حقیقت یہ ہے کہ ان کی تمام ریاستیں جن کی بنیاد ڈالی گئی وہ اہل سنت کے خون اور لاشوں کے اوپر قائم کی گئی! جس کی مثال بالکل اسماعیلیہ فرقے جیسی ہے جس نےرعب، دھمکیوں، قتل و غارت کے ذریعے عالم اسلام میں موجود بہت سے مسلمانوں کی قیادت کو نشانہ بنایا! آج وہ کہاں ہیں! وہ ایک قسم کا ناپید فرقہ بن چکا ہے جس کے امراء اب مغرب کے تابع ہیں اور اُن کے بعض امراء اقوامی متحدہ کے ادارے میں خدمات سرانجام دے رہے ہیں! تو پھر کیا اس حقیقت کو سامنے رکھتے ہوئے ہم انہیں قرامطہ فرقہ کہنا چھوڑ دیں جن کامذہب اسماعیلی شیعہ مسلک کی بنیاد پر ہے ؟

اب جب کہ ہم اس مسئلہ سے متعلق ضروری ابتدائیہ بیان کر چکے ہیں، تو اب آئیں ایک نظر اِس تنظیم کی طرف ڈالتے ہیں جس کی قیادت ابراہیم بن عوادعراقی کر رہا ہے، ہم اس پر یہ بیان کرتے ہیں:

(ا)
تنظیم الدولۃ نے مسلمانوں کی تکفیر اس بنیاد پر کی ہے جو اصلاً کفر نہیں ہے،جس میں انہوں نے عمومی آیات کی تاویلات کی ہیں اور اُن سے متعلق عملی شبہات کا شکار ہوئے ہیں، پھر اُس کے بعد انہوں نے اہل اسلام کے خلاف قتال کیا اور اُن کو بدترین انداز سے قتل کیا! اِن سے متعلق تواتر کے ساتھ بیان ہوا کہ انہوں نے لاتعداد مجاہدین کو مذہب اور(مخالف) رائے کی بنیاد پر قتل کیا، مثلاً انہوں نےابو سعد الحضرمی،ابو خالد السوری، ابو محمد فاتح اور دیگر سینکڑوں مجاہدین کو قتل کیا، خصوصی طور پر شام میں اور لوگوں نے ان کے جرائم کو اپنی آنکھوں سے دیکھا۔

(ب)
تنظیم الدولۃ نے نصیریوں اور روافض کے خلاف قتال ترک کیا اور اعلان کیا کہ ’مرتدین‘ سے قتال اِن نصیریوں اور روافض سے قتال پر فوقیت رکھتا ہے۔ انہوں نے پہلے دیر الزور کے گاؤں میں دہشت پھیلائی، اور قبیلہ شعیطات کو دربدر کیا، اور اُن کی لاشوں کا مثلہ کیا، جیسا کہ انہوں نے کبھی اہل شرک کے ساتھ وہ معاملہ نہ کیا، اور اہل ِ شام پر مصائب وآلام کو دیگر (علاقوں)کے مقابلہ میں مخصوص کیا، یہاں تک کہ یہ مقولہ بھی نقل ہونے لگا کہ ان کی بعض قیادت کے اندر بعثی عراقی خفیہ طور پر داخل ہو گئے ہیں۔

(ج)
ہمیں اس چیز کا یقین ہے کہ ان کے اپنے اعمال کی بنیاد پر اِن کے اندر اولین خوارج کے اصول و ضوابط کی اصل بنیاد موجود ہے، جیسا کہ عہدِ علیؓ کے خوارج میں موجود تھیں۔

(د)
ان کی طرف سے تواتر جھوٹ، بہتان، تقیہ،اخلاقِ رزیلہ سامنے آئے ہیں، جیسا کہ ان کے بڑے عدنانی نے شیخ ڈاکٹر ایمن الظواہری پر جھوٹ اور بہتان باندھا اور خود کو شیخ اسامہ بن لادن رحمہ اللہ کی طور منسوب کیا، حتیٰ کہ ہم پریہ بھی واضح ہو گیا اور باقی افراد پر یہ بات عیاں ہو گئی کہ انہوں (شیخ اسامہؒ) نے اِن(تنظیم الدولۃ) کی مخالفت کی تھی اور ان سے متعلق تنبیہ کی تھی اور انہوں(شیخ اسامہؒ) نے عرب انقلابات کی پزیرائی کی تھی جس کویہ تنظیم ارتداد سمجھتی ہے! اِن صفات کی وجہ سے یہ اپنے اسلاف خوارج سے بھی مخالفت پر ہیں، لیکن اس کا قطعاً یہ مطلب نہیں ہو گا کہ انہیں اس صفتِ حروریہ (خوارج) سے متصف نہ کیا جائے، بلکہ یہ تو سابقہ خوارج کی نسبت ذلالت اور سفلہ پن میں اُن سےبھی بڑھ کر ہیں۔

(ہ)
ان کی طرف سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ انہوں نے ان علماء پر خروج کیا ہے جن کے بارے میں ہم یہ گمان رکھتے ہیں کہ نہ وہ تبدیل ہوئے اور نہ ہی بدلے ہیں، اور ہم اُن کو اسی طرح علمائے ربانین میں گردانتے ہیں، جس پر تنظیم الدولۃ نے دلیل یہ پیش کی [ہم بھی انسان ہیں، جس طرح یہ(علماء) انسان ہیں] اور اصل بات ’اتباعِ دلیل‘ ہے، یہ بات بھی اُن کی طرف سے بیان ہوئی جنہوں نے ایک کتاب بھی کھول کر نہیں دیکھی،بجز یہ کہ اُس کو پڑھ کر دیکھا ہو، یا اس کو سمجھا ہو، یا اس سے مستفید ہوئے ہوں! یہی باتیں اُن کی طرف سے انحراف کا باعث بنی ہیں، جس میں سب سے اوپر اِن کا سربراہ ابراہیم بن دعواد ہے،جس کو کوئی بھی دینی علم،مقالات یا کتب کے ذریعے نہیں جانتا، بلکہ یہ نام توشیخ ابو عمر بغدادی کے ایام میں بھی نہ سنا گیا تھا حتی کہ(بعد میں) یہ اس جماعت کے ساتھ منسلک ہو گیا! پھر اس کے بعد اِن کا ترجمان عدنانی ہے! جو کہ اپنے نام اور کام کی وجہ سے مجہول ہے، خصوصی طور پر اس عجیب و غریب ترجمہ کے بعد جوالدولۃ کے متبعین میں سے کسی نے(اس سے متعلق) لکھا ؛ مرجیہ خوارج!
الغرض،

اول:
ہم پر یہ بات ثبوت،دلائل، تحقیق اور انصاف پسند شہادت دینے والوں سے پچھلے سال سے اب تک یقین کے ساتھ ثابت ہو چکی ہے کہ تنظیم دولتِ اسلامیہ عراق و شام نے، جس نے حالیہ ہی خلافت کا دعوی کیا ہے، نے بہت ہی منظم انداز سے جرائم کا ارتکاب کیا ہے، نہ کہ یہ کسی ایک فرد کی طرف سے کیا جانے والا جرم ہے جیسا کہ بعض لوگوں نے شروع میں ایسا گمان رکھا تھا! جیسا کہ انہوں نے شام میں مجاہدین کی قیادت کےناحق خون کو بہانے کو حلال کیا اور جنہوں نے بھی اِن کی مخالفت کی، اس کے ساتھ بھی یہی معاملہ کیا، مثلاً

• ہسپتال میں داخل ہوئے جہاں پر محمد فارس کا علاج ہو رہا تھا، جو کہ احرار الشام کے ایک مجاہد تھے، اور ان کا سر چھری سے کاٹ دیا۔
• شیخ ابو سلیمان الحموی کو قتل کیا جو جندالشام کے امیر تھے
• ڈاکٹر ابو ریان کو تعذیب کا نشانہ بنایا اور اُن کا قتل کیا جو کہ احرار الشام سے تعلق رکھتے تھے
• رقہ شہر کے جبھۃ النصرہ کے امیرابو سعد الحضرمی کو قتل کیا
• جبھۃ النصرہ کے قائد ابو حذیفہ المشھدانی کو گھات لگا کر قتل کیا
• اہل سنت مجاہدین کی قیادت میں سے شیخ ابو خالد السوری جوقیادتِ احرار الشام میں سے بھی تھے کو قتل کیا
• والی ادلیب ابو محمد، ان کی زوجہ اور بچوں اور دیگر افراد جو گھر میں موجود تھے، اُن کو قتل کیا
• علاقہ مرکدۃ اور دیگرعلاقوں میں قتلِ عام کیا
• مسلمانوں کو تعذیب کا نشانہ بنایا، جس میں خصوصی طور پر مجاہدین کی قیادت شامل ہے، اور بعض شرعی رہنماؤں کے ساتھ بھی یہ سلوک کیا، اور پھر انہیں ذبح کیا اور ان کے سروں کو کاٹ دیا!
• اور اس کے علاوہ بھی بہت جرائم ہیں جن کا انہوں نے ارتکاب کیا، جس میں سے کچھ کو ہم نے اِس بیان کےضمیمہ کا حصہ بنایا ہے، اور جن اعمال کی بنیاد پر مسلمانوں کی صفوف میں تفریق پیدا ہوئی،جس سے انہوں نے جہاد کو داغدار کیا اور اسلام کو مسخ کیا! ولا حول ولا قوۃ الا باللہ!

دوم:
ہم پر یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ جماعت الدولۃ مسلمانوں کو قتل شک و شبہ اور منحرف تاویلات کی بنیاد پر کرتی ہے، اور ایسے بے بنیاد قواعد و ضوابط کی بنیاد پر تکفیر کرتی ہے جو اِن کے مخالفین نے آج تک کبھی قبول بھی نہیں کیے ہیں،ہم پریہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ یہ جب اپنے مخالفین کے گاؤں میں داخل ہوتے ہیں تو سوائے ناحق خون بہانے کے اور کوئی کام نہیں کرتے! اور جماعت الدولۃ نے ذبح کرنے اور سروں کو کاٹنے میں شہرت حاصل کر لی ہے بلکہ اِن کٹے ہوئے سروں کو عام چوراہوں پر لٹکاتے بھی ہیں جیسا کہ دیر الزور اور رقہ شہروں میں واقعہ ہوا اور جیسا کہ انہوں نے شعیطات قبیلہ کے ساتھ کیا اور ریف حلب شمال اور دیگر جگہوں پر بھی یہی کام کیا گیا۔

سوم:
ہم پر یہ بھی واضح ہے کہ تنظیم الدولۃ کے کارکنان ناپختہ کم عمر نوجوان ہیں جو کہ خونِ مسلم کی حرمت کے معاملہ میں تخفیف سے کام لیتے ہیں اور اسے بڑا معاملہ نہیں جانتے۔ یہ کسی بھی عالم کا احترام نہیں کرتے، نہ ہی اُس قائد کا احترام کرتے ہیں، چاہےوہ شخص تاریخی تجربہ ٔجہاد کی کاوش میں بہت آگے ہی کیوں نہ ہو ، چاہےاس کا علم کے معاملہ میں یا جہاد میں حصہ لینے میں کیسی ہی قدرو منزلت کیوں نہ ہو، یہاں تک کہ ’دولت‘(جماعت الدولۃ) ان کے نزدیک ایک صنم (بت) کی حیثیت اختیار کر گئی ہے، جس کا یہ احترام اور تعظیم کرتے ہیں! ان کی تمام ولاء (دوستی)تنظیم الدولۃ کے ساتھ ہے جو کہ اپنے آپ کو خلافت گمان کرتی ہے اور اِن کی تمام براء(دشمنی) اُن کے ساتھ ہے جو اِن کے خلیفہ کو بیعت نہیں دیتے، اِس سے قطع نظر کہ کسی شخص کی علمی حیثیت، تقوی اور جہاد کا مقام کیسا ہے!!

چہارم:
ہم پر یہ بات ثابت ہے کہ تنظیم الدولۃ کی قیادت جھوٹ اور افتراء سے کام لیتی ہے، اور جو بھی اِن کی مخالفت کرتا ہے اس کی بالواسطہ اور بلا واسطہ تکفیر کرتی ہے، جیسا کہ ان کے رسمی ترجمان نے اپنے بیان میں واضح کیا جس کا عنوان ہے [یہ ہمارا منہج نہیں تھا] (تاریخ: ۱۸ جمادی الثانی ۱۴۳۵ھ بمطابق ۱۸ اپریل ۲۰۱۴ء)؛ اس بیان کے رد میں میں ہم نے بیان نشر کیا جس کا عنوان تھا [اظہارِ برات اور دست برداری کا اقرار] (تاریخ:۱۹ جمادی الثانی، ۱۴۳۵ھ بمطابق ۱۹ اپریل، ۲۰۱۴ء)، اور پھر اس کے بعد جب تنظیم الدولۃ نے ایک اور بیان نشر کیا جس کا عنوان تھا [معذرت ، اے امیر القاعدہ]، اس سے متعلق رد بھی ہم نے اپنے ریڈیو اسٹیشن، المقریزی پر نشر کیا، اور اس سے متعلق کچھ عدد مقالات بھی لکھے۔

پنجم:
ہم پر یہ بات واضح ہے کہ ان کی خلافت جس کا اعلان انہوں نے پہلی رمضان، ۱۴۳۵ھ میں کیا ، ایک باطل خلافت ہے، اس سے متعلق بھی ہم نے رد میں بیان نشر کیا، جو مقریزی ریڈیو نے ۳ رمضان، ۱۴۳۵ھ کو نشر کیا اور اس سے متعلق متعدد مقالات اور مضا مین بھی دیگر فاضل مشائخ نے تحریر کیے، جس میں انہوں نے اِس خلافت کے دعوی کا جواب دیا، ہم نہیں سمجھتے کہ یہ خلافت مسلمانوں کے لیے رحمت اور سلامتی ہے! بلکہ ہم اس کو مسلمانوں کے اوپر دہشت گرد خلافت کے طور پر دیکھتے ہیں، اور اِن کے بیعت یافتہ افراد کی جانب سےمسلمانوں کے دلوں میں اِن کا رعب بھی موجود ہے، اور جو کوئی اِن کی صف سے خروج کرے گا، اس کے سر میں صرف گولی ماری جائے گی! جیسا کہ اِن کے رسمی ترجمان نے پہلی رمضان کی تاریخ میں بیان کیا! اس بیان میں دھمکیاں اور وعید بھی سنائیں جو اس (نام نہاد خلافت) کی بیعت نہ کرے، جو پورے عالم میں موجود جماعتوں اور تنظیموں کو کی گئیں ، اگرچہ وہ جماعتیں حملہ آور دشمن کو ہی اپنے علاقہ میں کیوں نہ پچھاڑ رہی ہوں!منہج ِ خلافتِ بغدادی کے لحاظ سے ان کے پاس انتخاب کے لیے کوئی گنجائش نہیں، سوائے اِن کے خلیفہ کی بیعت میں داخل ہونے کے!

ششم:
ہم اس بیان کے ساتھ ضمیمہ بھی نشر کر رہے ہیں جو تنظیم الدولۃ کےاُن جرائم کو واضح کرتا ہے جو انہوں نے مسلمانوں اور مجاہدین کے خلاف سرانجام دیے، جس سے اِن کے مسلمانوں کوذبح کرنے کے منہج کے ثبوت ملتے ہیں، جو کہ رسول اللہﷺکے اِس فرمان کی خوارج سے متعلق تصدیق کرتا ہے [یہ اہل اسلام کو قتل کریں گے] الغرض، غالب اکثریت جن کو یہ قتل کرتے ہیں وہ اہل اسلام ہیں، اگرچہ یہ کبھی کبھار کفار کے ساتھ بھی محاذوں پر قتال کرتے ہیں۔

ہفتم:
اس جماعت کی سیاست وہ سیاستِ حروریہ جیسی ہے،اور یہ قرامطہ کے نہج کی پیروی بھی کرتے ہیں، اور جماعت قلعہ ’موت‘ کے ساتھ بھی مطابقت رکھتے ہیں، جن کو تاریخی طور پرحشاشین کے لقب سے پکارا جاتا تھا، جو فدائیوں کے دستے رکھتے تھے! یا ’انغماسیین‘(فدائی) کی اصطلاح بھی اب تنظیم الدولۃ کے دستے استعمال کر رہے جو انتقامی کارائیوں کے ذریعے مومنین کے دلوں میں رعب ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں! ان انغماسی(فدائی) دستوں کو یہ مسلمانوں کی صفوف اور قیادتِ مجاہدین کو گھات لگا کر قتل کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں، جس میں یہ خود کش بمبار کا کام کرتے ہیں، اور معصوم لوگوں کو قتل کرتے ہیں جن کا خون بہانا اللہ تعالیٰ نےحرام قرار دیا ہے، اور نہ ہی کوئی بچے ، عورت ، بوڑھے اِن کے دھماکوں اورخاموش اسلحے کی زد سے محفوظ ہیں، یہ تمام کام یہ اس دعوی پر کرتے ہیں کہ یہ(مجاہدین) صحوات مرتدین ہیں۔

ہشتم:
ہم اس بات کی گواہی دیتے ہیں، ایسی گواہی جس سے متعلق ہم اللہ تعالیٰ کے سامنے خود کو جوابدہ سمجھتے ہیں، کہ جو بھی اس تنظیم جو دولتِ اسلامیہ کے نام سے معروف ہے ، کے ساتھ الحاق اور منسوب ہوتا ہے، اُن کا منہج مذہب خوارج جیسا ہے، خصوصی طور پر مسئلہ تکفیر اور ناحق خون بہانے کے معاملہ میں۔

نہم:
ہم اس بات کی تاکید کرتے ہیں کہ چیزوں کو ان کی اصل صفت کے ساتھ ہی متصف کیا جائے، اور اس کی نسبت سے ہی ان کو نام دیےجائیں اور اسی سے پکارا جائے،جبکہ معاملہ حق کو ظاہر اور واضح کرنے کا بھی درپیش ہو، اور باطل کی نفی کی جائے اور اُسے ترک کیا جائے، جو کوئی ایسا نہیں کرے گا، اس نے لوگوں کے سامنے حق کو نظرانداز کیا اور لوگوں کی گمراہی کا سبب بنا!

دہم:
ہم امت کو بھی تنبیہ کرتے ہیں، خاص طور پر علماء اور داعی حضرات کو کہ وہ اس منحرف فکر کو نشر کرنے سے گریز کریں، نہ صرف تنظیم الدولۃ کے انصاران کے درمیان، بلکہ دیگر جماعتوں کے درمیان بھی،جو کہ اہل سنت کے صافی عقیدےکوڈھانے کا سبب بنے گا اور حرکتِ جہاد کی کمزوری کا باعث ہو گا اور اُن کے اہداف کو منحرف کر دے گا۔ اس لیے سب پر واجب ہے کہ وہ ا س تنظیم کو ہر دعوتی منبر اور ذرائع ابلاغ کو بقدراستطاعت استعمال کرتے ہوئے اِن کے باطل کو رد کریں۔

یاز دہم:
ہم تنظیم الدولۃ کی قیادت کو کہتےہیں کہ فکرِغلو اور منہجِ خوارج سے توبہ کریں جن کو انہوں نے اختیار کر رکھا ہے اور اُن کو اس بات کا کوئی فائدہ نہیں ہے کہ وہ خوارج ہونے سے انکار کریں کیونکہ اباضیہ خوارج اور دیگر بعض خوارج کے فرقوں نے بھی اس بات سے انکار کیا کہ وہ خوارج ہیں! ہم انہیں اللہ کی طرف رجوع کرنے کی طرف بلاتے ہیں ، اور کہتے ہیں کہ وہ مسلمانوں کے ناحق خو ن بہانے سے توبہ کریں، اور لوگوں پر کیے گئے ظلم سے متعلق صاحبِ حق کے حقوق کو واپس لوٹا دیں ، ہمیں انہیں اِس بات کی طرف بھی دعوت دیتے ہیں کہ وہ ناحق خونِ مسلم سے متعلق شریعت کے تحاکم کی طرف آئیں، جس کو انہوں نے اور اُن کے انصاران نے بغیر حق کے بہایا ہے۔ اور ہم جو بات بیان کر رہے ہیں اس پر اللہ تعالیٰ گواہ ہیں۔

ہم اللہ تعالیٰ سے توفیق، رشد وہدایت کا سوا ل کرتے ہیں۔
کیا ہم نے پہنچا نہیں دیا! اے اللہ، آپ گواہ رہیے گا!

۲۹ شوال ۱۴۳۵ ھ بمطابق ۲۵ اگست ۲۰۱۴ء

ضمیمہ:
یہ ایک جامع لنک ہے جوخلافتِ بغدادی کےخوفناک جرائم کی نشاندہی کرتا ہے:
http://justpaste.it/gtdq

مقریزی ویب سائٹ پر بیان کا لنک:
http://www.almaqreze.net/ar/news.php?readmore=2505