جمعرات، 13 نومبر، 2014

شام میں بہتا خون روکنے کی خاطر ایک شہادت

شام میں بہتا خون روکنے کی خاطر ایک شہادت
شیخ ایمن الظواہری حفظہ اللہ

بسم اللہ والحمدللہ والصلاۃ والسلام علیکم رسول اللہ وآلہ وصحبہ ومن والاہ
دنیا بھر میں بسنے والے میرے مسلمان بھائیو!

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ،

میں یہ فیصلہ کرچکا تھا کہ شام میں مجاہدین کی صفوں میں پھیلنے والے فتنے سے متعلق جو کچھ میں ابھی تک کہہ چکا ہوں اسی پر اکتفاکروں گا لیکن پھر میں نے دعوت و ابلاغ اورنصیحت وخیر خواہی کے محاذ پر صبر کے ساتھ کاربنداپنے قابل قدر اور محبوب مہاجر بھائی،محترم شیخ،ابوکریم ڈاکٹر ہانی السّباعی کی اپیل سنی۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہرقسم کے شر سے ان کی حفاظت فرمائے،حق پر انہیں ثابت قدم فرمائے اور مسلمانوں،بالخصوص مجاہدین کی اصلاح کرنے میں ان کی مدد فرمائے۔چنانچہ میں نے استخارے اور مشورے کے بعد دوبارہ اس موضوع کو کھولنے اور بالخصوص اُن سوالات کے جوابات دینے کا فیصلہ کیا جو انہوں نے مجھ سے جمادی الاولیٰ کی پچیس تاریخ کو مقریزی ریڈیو پر نشر ہونے والے اپنے ایک خطاب میں پوچھے ہیں۔

میں یہ واضح کرتا چلوں کہ اس مسئلے پر دوبارہ بات کرنے کے پیچھے دو بنیادی وجوہات ہیں۔
پہلی وجہ تو محترم شیخ ہانی السّباعی کی یہ امید ہے کہ ان سوالات کا جواب مجاہدین کے درمیان پھیلے فتنے کی آگ بجھانے میں مددگار ہوسکتا ہے،لہٰذا میں نے سوچا کہ اگر میری چند باتوں سے مسلمانوں کا بہتا خون رک جائے تو اس سے بہتر بات اور کیا ہوسکتی ہے۔

جب کہ دوسری وجہ یہ ہے کہ میں اپنے شفیق اور خیرخواہ بھائی کی اِس طلب پر انکار نہیں کرسکتا اور ان کی باتوں کا جواب دینا ان کا مجھ پر حق ہے۔میری گفتگو درج ذیل امورپر مبنی ہوگی:

ایک گواہی
ایک عدد حکم
ایک ہمدردانہ اپیل
اورایک یاددہانی اورنصیحت

سب سے پہلے،جس بات کی میں گواہی دینا چاہتا ہوں وہ دولۃ عراق الاسلامیہ اور اس کے قابل احترام امیر شیخ ابوبکرالحسینی البغدادی حفظہ اللہ کے جماعت قاعدۃ الجہاد کے ساتھ تعلق سے متعلق ہے۔

اللہ تعالیٰ کی مدد کے بعد اور اللہ تعالیٰ کو گواہ ٹھہراتے ہوئے میں یہ شہادت دیتا ہوں کہ دولۃ عراق الاسلامیہ ‘جماعت القاعدۃ الجہاد کی تابع ایک ذیلی شاخ تھی۔میں یہ چاہتا ہوں کہ یہاں اس سلسلے میں کچھ مزید تفاصیل بھی بیان کردوں:

1۔جس وقت دولۃ عراق الاسلامیہ کا اعلان ہواتو جماعت القاعدۃ الجہاد کی قیادت اور ان میں سرفہرست شیخ اسامہ بن لادن رحمہ اللہ سے نہ تو اس سلسلے میں اجازت لی گئی اور نہ ہی ان سے مشورہ کیا گیا۔اس کے بعد شیخ ابوحمزہ المہاجررحمہ اللہ نے جماعت القاعدۃ الجہاد کی قیادتِ عامہ کے نام ایک خط بھیجا جس میں انہوں نے دولہ کے قیام کے اسباب اور وجوہات بیان کیے اور ساتھ ہی تاکید کے طور پر یہ بات بھی واضح کی کہ دولہ الاسلامیہ مرکزی جماعت القاعدۃ الجہاد کے تابع ہی رہے گی۔انہوں نے مزید یہ بھی کہا کہ دولہ کی شوریٰ نے شیخ ابوعمر البغدادی رحمہ اللہ سے یہ عہد لیا ہے کہ اُن کے امیر شیخ اسامہ بن لادن ہی ہوں گے اور دولہ الاسلامیہ ‘جماعت القاعدۃ الجہاد کے تابع ہوگی۔لیکن اس وقت عراق والے بھائیوں کی رائے یہ تھی کہ عراق کے مخصوص حالات اوربعض سیاسی مصلحتوں کی بنا پر اس بات کا اعلان نہ کیا جائے اور اس تفصیل کو صرف اپنے بھائیوں تک ہی محدود رکھا جائے۔

جماعت القاعدہ الجہاد اور دولہ عراق الاسلامیہ کی قیادت اسی قاعدے پر باہمی معاملات چلاتے رہے کہ دولہ عراق الاسلامیہ‘قاعدۃ الجہاد کا ایک جزو ہے۔اس کی کچھ مثالیں درج ذیل ہیں:

الف: شیخ اسامہ رحمہ اللہ کے گھر سے ملنے والے وہ خطوط جو امریکیوں نے نشرکیے تھے،ان میں سے خط نمبر:SOCOM-2012-0000011 Orig

جوکہ شیخ عطیہ رحمہ اللہ نے شیخ مصطفی ابوالیزیدرحمہ اللہ کے نام لکھا تھا۔اس خط میں شیخ عطیہ نے شیخ مصطفی ابوالیزیدرحمہ اللہ کو شدت سے یہ تاکید کی تھی کہ وہ ’کرّومی‘ (جس سے ان کی مراد شیخ ابوحمزۃ المہاجر ہیں)،شیخ ابوعمراوران کے ساتھیوں کے نام واضح ہدایات اورنصیحتیں لکھیں کیونکہ اُنہیں عراق میں سیاسی غلطیاں ہونے کا شدید اندیشہ تھا۔

ب۔ جب شیخ ابوبکر الحسینی البغدادی،اللہ انہیں خیر کی توفیق دے،تنظیم قاعدۃ الجہاد کی اجازت کے بغیردولہ الاسلامیہ کے امیر بنے تو شیخ عطیہ رحمہ اللہ نے دولہ عراق الاسلامیہ کی قیادت کے نام بروز۷جمادی الأولیٰ ۱۴۳۱ ہجری کو خط لکھا جس میں اُنہیں نے کہا:

’’قیادت میں موجود ہمارے بھائیوں کے سامنے ہم یہ تجویز رکھتے ہیں کہ جب تک اس موضوع پر مشاورت جاری ہے،اس وقت تک ایک عارضی قیادت متعین کردی جائے، ہمارے رائے میں بہتر یہی ہے کہ اس معاملے میں جلد بازی نہ ک جائے ،الاّ یہ کہ ایسی شدید نوعیت کی ضرورت ہو جس کی وجہ سے باضابطہ طور پر ایک مستقل قیادت کا اعلان کرنا ناگزیر ہوجائے۔ چنانچہ فی الحال قیادت کے لیے جتنے مجوزہ افراد ہیں ان کے نام اور ان کے مکمل تعارف اور صلاحیتوں پر مبنی ایک رپورٹ بھیج دی جائے۔ہم یہ رپورٹ شیخ اسامہ کو بھیجیں گے تاکہ وہ اس معاملے میں فیصلہ کریں‘‘۔

ٍج: شیخ اسامہ رحمہ اللہ نے شیخ عطیۃ اللہ رحمہ اللہ کے نام ۲۴رجب ۱۴۳۱ہجری کو ایک خط لکھا جس میں انہوں نے کہا:

’’بہت اچھا ہواگر آپ ہمارے بھائی ابوبکر البغدادی،جوہمارے بھائی ابوعمرالبغدادی رحمہ اللہ کی جگہ امیر بنے ہیں،ان کا تفصیلی تعارف بھجوا دیں۔ اسی طرح ان کے نائبِ اول اورابوسلیمان الناصرلدین اللہ کا بھی تفصیلی تعارف بھجوا دیں۔بہترہوگا کہ عراق میں موجود ہمارے دیگر بااعتماد ساتھیوں سے بھی ان کے متعلق پوچھیں اوران کی رائے ہم تک پہنچائیں تاکہ معاملات ہمارے سامنے اچھی طرح واضح ہوسکیں‘‘۔

یہ خط امریکیوں کو شیخ اسامہ رحمہ اللہ کے گھر سے ملا اور اس خط کو درج ذیل نمبر کے تحت امریکیوں نے نشرکیا:SOCOM-2012-0000019 Orig

د۔ شیخ عطیۃ رحمہ اللہ نے انہیں اپنا جواب مورخہ ۵شعبان ۱۴۳۱ہجری کو لکھ بھیجا جس میں آپ نے کہا : ’’ہم ان شاء اللہ ابوبکر بغدادی اوران کے نائب اورابوسلیمان الناصرلدین اللہ کے متعلق معلومات اورمزید تفصیلات طلب کررہے ہیں،تاکہ ہمارے سامنے صورت حال مکمل طورپر واضح ہوسکے‘‘۔

ھ۔ شیخ عطیۃ اللہ نے دولہ عراق الاسلامیہ کی وزارتِ اعلام کے نام مورخہ ۲۰ شوال۱۴۳۱ہجری کو ایک خط لکھا جس میں انہوں نے کہا:

’’مشائخ نے آپ کی جدیدقیادت(اللہ تعالیٰ انہیں خیر کی توفیق دے)کے متعلق تعارف پر مبنی ایک مختصر رپورٹ مانگی ہے جن میں دولہ عراق الاسلامیہ کے امیر المومنین شیخ ابوبکر البغدادی ،ان کے نائب،وزیر حرب، اوراگرآپ چاہیں تو دیگر مسئولین کا ایک تعارف طلب کیا گیا ہے۔یہ بات آپ اپنے مشائخ تک پہنچا دیں۔وہ چاہیں تو خود اپنا ایک تعارف لکھ کے بھیج دیں یا پھر صوتی انداز میں ریکارڈ کرکے ہمیں بھیج دیں‘‘۔

و۔ اس پر دولہ عراق الاسلامیہ کی شوریٰ کے نمائندے نے ذوالقعدۃ ۱۴۳۱ہجری کی اوّل تاریخ کو ایک جوابی خط بھیجا جس میں انہوں نے کہا:

’’محترم بھائی!آپ کا خط ہمیں رجبِ حرام ۱۴۳۱ہجری میں موصول ہوا جس کے ساتھ ہی آپ کا ایک پچھلا خط بھی تھا جس میں مشائخ کرام(اللہ تعالیٰ ان کی حفاظت کرے) کی جانب سے یہاں دولہ کی صورت حال اور نئے امیر کے متعلق حتمی فیصلے میں کچھ عرصہ انتظارکی تاکید تھی۔لیکن ہمیں یہ خط نئی امارت کے اعلان کے بعد ملا۔بہرصورت،یہاں پہلے دن سے بھائی یہ طے کرچکے ہیں کہ آپ کے یہاں مشائخ کو یہاں کی صورت حال اور اصل حقائق سے مکمل طورپرآگاہ رکھا جائے۔ہمارے مشائخ اورمحترم امرائے کرام!ہم آپ کو آگاہ کرتے چلیں کہ عراق میں آپ کی دولہ الاسلامیہ خیریت سے ہے اور مضبوطی سے قائم ہے‘‘۔

اس کے بعد وہ کہتے ہیں:
’’ہمارے محترم مشائخ!دونوں شیوخ(شیخ ابوعمر البغدادی اور شیخ ابوحمزۃ المہاجر) کی شہادت کے بعد شوریٰ نے کسی نئے امیر کی تقرری کااعلان آپ کی جانب سے کسی محفوظ رابطے کے ذریعے امر آنے تک موخر کرنے کی کوشش کی،لیکن مختلف وجوہات کی بنا پر بالخصوص عراق اور عراق سے باہر دشمنوں کی چالوں کے پیش نظر،انتظار کی یہ مدت طویل کرنا ہمارے لیے ممکن نہیں تھا‘‘۔

اس کے بعد وہ مزید کہتے ہیں:
’’یہاں موجود تمام بھائی،بالخصوص شیخ ابوبکرحفظہ اللہ اور مجلس شوریٰ اس بات پر متفق ہیں کہ اس بات میں کوئی حرج نہیں کہ یہ امارت عارضی نوعیت کی ہو۔اور اگر آپ کے یہاں مشائخ کی جانب سے کسی شخص کو یہاں امیر مقرر کرکے بھیجا جائے اور اگر آپ اسی میں مصلحت دیکھتے ہیں تو ہمیں اس بات پر کوئی اعتراض نہ ہوگا اور اگر آپ نے عراق کے محاذ کے لیے کسی کو امیر بنا کر بھیجا تو ہم سب اس کے وفادار سپاہی ہوں گے جن پہ امیر کی سمع و طاعت واجب ہوگی۔مجلس شوریٰ او رشیخ ابوبکر حفظھم اللہ سب اس بات پر متفق ہیں‘‘۔

ز۔ شیخ اسامہ بن لادن رحمہ اللہ کی شہادت کے بعد محترم شیخ ابوبکر الحسینی البغدادی نے ایک بیان جاری کیا جس میں انہوں نے کہا:

’’مجھے اس بات کا مکمل یقین ہے کہ شیخ اسامہ کی شہادت ہمارے بھائیوں کے لیے اس راہ میں مزید ثابت قدمی کا باعث بنے گی،میں ساتھ ہی تنظیم القاعدہ میں موجود اپنے بھائیوں ، اوربالخصوص مجاہد شیخ ایمن الظواہری حفظہ اللہ اور تنظیم کی قیادت میں موجود ان کے بھائیوں کو یہ کہنا چاہوں گا کہ اللہ تعالیٰ آپ کے اجر کوبڑھائے اور مشکل کی اس گھڑی میں آپ کے لیے آسانی فرمائے۔اللہ تعالیٰ کی برکت سے اپنے معاملات کو جاری رکھیے۔ ہماری طرف سے آپ کے لیے یہ خوش خبری ہے کہ دولہ عراق الاسلامیہ میں آپ کے ایسے وفادار سپایہ موجود ہیں جو حق کے راستے پر رواں دواں ہیں،نہ وہ ہمت ہارتے ہیں اور نہ ہی اس راستے سے پیچھے ہٹتے ہیں۔اللہ کی قسم خون کا ہم خون سے لیں گے اور تباہی کا بدلہ تباہی سے‘‘۔

ح۔ اس بیان کے فوراً بعد دولہ عراق الاسلامیہ کے رابطہ کار نے شیخ عطیۃ اللہ رحمہ اللہ کے نام مورخہ ۲۰ جمادی الثانی ۱۴۳۲ہجری کو ایک خط بھیجا جس میں انہوں نے کہا:

’’شیخ نے یہ پیغام بھیجا ہے کہ ہم یہاں کے حالات سے متعلق آپ کو اطمینان دلائیں۔الحمدللہ یہاں معاملات نہ صرف مضبوط بنیادوں پر چل رہے ہیں بلکہ مزید بہتری کی جانب گامزن ہیں۔شیخ نے تنظیم کے نئے امیر کے متعلق آپ کا نقطۂ نظرجاننا چاہا ہے۔کیا دولہ الاسلامیہ ‘تنظیم کے ساتھ اپنی بیعت کی اعلانیہ تجدید کرے یا یہ معاملہ پہلے کی طرح مخفی ہی چلتا رہے جیسا کہ معلوم ہے اور اس پر عمل جاری ہے؟یہ بات بھی مدنظر رہے کہ یہاں موجود ہر بھائی بہرحال آپ کے ترکش میں موجودتیروں کی مانندہیں اوران کا آپ کے ساتھ تعلق اسی طرح ہے جس طرح شیخ ابوبکرالبغدادی نے اپنے بیان ’’الدم الدم والہدم الہدم‘میں بیان کیا ‘‘۔

ط۔ شیخ اسامہ رحمہ اللہ کی شہادت کے بعد جب میں نے ان کی جگہ امارت کی زمام کار سنبھالی تو شیخ ابوبکرالبغدادی الحسینی مجھے اپنے خطوط میں اپنا ’امیر‘ کہہ کر ہی مخاطب کرتے رہے۔حتیٰ کہ ۲۹ جمادی الأولیٰ ۱۴۳۴ہجری کو اُن کا جو آخری خط مجھے ملا اس کی ابتدا بھی ان الفاظ سے ہوتی ہے ’ہمارے محترم و مہربان امیر کے نام‘۔



اس خط کا اختتام انہوں نے کچھ یوں کیا:

’’مجھے ابھی یہ خبر ملی ہے کہ جولانی نے ایک صوتی بیان میں آپ کے ساتھ بلاواسطہ بیعت کا اعلان کیا ہے۔یہی وہ بات تھی جس کے لیے وہ پہلے سے تیاری کررہا تھا،تاکہ اپنے اور اپنے گرد موجود افراد کی اُن غلطیوں کا خمیازہ بھگتنے سے بچا سکے جو اس نے کیں۔شام میں یہاں موجود میرے بھائیوں اور اس بندۂ فقیرکی رائے یہ ہے کہ خراسان میں ہمارے مشائخ پر لازم ہے کہ وہ ایسے واضح موقف کا اعلان کریں جس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہ ہو،تاکہ اس سازش کو یہیں ختم کیا جاسکے،قبل اس کے کہ خون بہے اور ہم امت کے لیے کسی نئے المیے کا سبب بن جائیں۔ہمارے رائے میں اس خائن کی اس اقدام کی تائید…چاہے وہ اشارے کنایے کی صورت میں ہی کیوں نہ ہو…کسی بہت بڑے فتنے کا پیش خیمہ بن سکتی ہے،جس کے نتیجے میں شامہ جہاد کے وہ ثمرات ضائع ہوجائیں گے جن کی خاطر اتنا خون بہہ چکا ہے۔لہٰذا اس عاملے میں درست موقف بیان کرنے میں کسی قسم کی تاخیر موجودہ صورت حال کو نا صرف مزید گھمبیر بنادے گی بلکہ مسلمانوں کی صفوں میں پھوٹ بھی پڑجائے گی،جماعت کا رعب ختم ہوجائے گااورمزید خون بہائے بغیر اس معاملے کا تدارک نہ ہوسکے گا‘‘۔

ی: اسی طرح شیخ ابومحمد العدنانی نے بھی مجھے اس معاملے میں اپنی گواہی بھیجی جس کے اختتام پر انہوں نے لکھا:

’’یہ گواہی بندۂ فقیرابومحمد العدنانی نے بروز۱۹جمادی الاولیٰ ۱۴۳۴ہجری کو اللہ تعالیٰ کے حضور،اپنی امت کے سامنے اور اپنے امرا کے سامنے اپنا عذر پیش کرنے کے لیے تحریر کی جن میں سرفہرست شیخ ڈاکٹر ایمن الظواہری حفظہ اللہ اور شیخ ابوبکر البغدادی حفظہ اللہ شامل ہیں‘‘۔

ک۔ شیخ ابوبکرالحسینی البغدادی حفظہ اللہ نے مورخہ ۲۱رمضان ۱۴۳۴ھ کو جماعت کے ایک مسئول کے نام خط لکھا ،جس میں انہوں نے کہا:

’’شیخ ظواہری کے آخری خط پر غوروفکر تین مراحل سے گزرا:

۱۔شام میں موجود دولہ الاسلامیہ کی قیادت کے ساتھ مشاورت۔
۲۔شام کی مختلف ولایات میں موجودہ امرا جو کہ وہاں ہماری مجلسِ شوریٰ کے بھی رکن ہیں،ان کے ساتھ مشاورت۔
۳۔دولہ الاسلامیہ میں موجود لجنہ شرعیہ کی جانب سے اس خط کے مندرجات پر غوروفکر۔

ہم نے شام میں ٹھہرنے کا فیصلہ تب ہی کیا جب ہمیں یہ واضح نظر آیا کہ ہمارے امیر کی اطاعت میں ہمارے رب کی معصیت اور ہمارے ساتھ موجود مجاہدین اوربالخصوص مہاجرین کی ہلاکت ہے۔لہٰذا ہم نے اپنے رب کی اطاعت کی اور اس کی اطاعت کو اپنے امیر کی مرضی پر ترجیح دی۔اورجوکوئی اپنے امیر کے کسی ایسے امر کی مخالفت کرے جس میں اسے مجاہدین کی ہلاکت اور رب کی نافرمانی نظرآتی ہو،اس کے بارے میں یہ کہنا مناسب نہیں کہ اس نے بے ادبی کا مظاہرہ کیا‘‘۔

اس مسئلے پر میں انہی مثالوں پہ اکتفا کرتا ہوں۔

2۔ باقی جہاں تک اس سوال کا تعلق ہے کہ اس مشکل کے حل کے لیے جو فیصلہ جاری کیا گیا اس کی نوعیت کیا ہے؟کیا وہ ایک امیر کا حکم ہے جو اپنے ماتحت افراد کے مابین فیصلہ کررہا ہے،یا اس کی نوعیت ایک ایسے مقدمے کی ہے جس میں دو فریقین نے ایک قاضی کی طرف معاملہ لوٹایا ہو؟اس حوالے سے میں دولہ میں اپنے بھائیوں کے نام مورخہ ۲۸شوال۱۴۳۴ہجری کے اپنے طویل خط میں اس امر کی وضاحت کرچکا ہوں کہ یہ ایک امیر کی جانب سے اپنے ماتحت افراد کے مابین فیصلہ ہے کسی قاضی کا حکم نہیں جودوفریقین کے مابین کسی خاص مشکل میں فیصلہ کررہا ہو۔

3۔ اسی طرح بعض اوقات یہ سوال بھی اٹھایا جاتا ہے کہ کیا وجہ ہے کہ جماعت اور اس کی قیادت دولہ عراق الاسلامیہ کی تو تعریفیں کرتی رہی اور اس پر راضی بھی رہی جب کہ عراق اور شام میں دولہ پر وہ راضی نہیں؟

اس سوال کا جواب یہ ہے کہ اگر دولہ عراق الاسلامیہ کے اعلان سے پہلے جماعت القاعدہ الجہاد کی قیادتِ عامہ اور جماعت کے امیر شیخ اسامہ بن لادن رحمہ اللہ سے نہ تو اجازت لی گئی تھی نہ ان سے مشورہ کیا گیا تھا اور نہ ہی اس ضمن میں انہیں کوئی اطلاع ہی کی گئی تھی،لیکن پھر بھی قیادت نے دولہ عراق الاسلامیہ کو قبول کرنے کا فیصلہ کیا۔اس کی وجہ وہ بہت سے فروق ہیں جو دولہ عراق الاسلامیہ اوردولہ اسلامیہ عراق وشام کے مابین پائے جاتے ہیں،جن میں سے چند ایک درج ذیل ہیں

الف: دولہ عراق الاسلامیہ ایسے کسی فتنے کی بنیاد پر قائم نہ ہوئی تھی جس میں جبہہ کی تائید کی صورت میں خون بہانے کی دھمکیاں دی جاررہی ہوں۔

ب: دولہ عراق الاسلامیہ مجاہدین کی شوریٰ اور اہل سنت کے قبائل کے ساتھ وسیع مشاورت کے بعد قیام پذیر ہوئی تھی،جیسا کہ شیخ ابوحمزہ المہاجررحمہ اللہ نے ہمیں اس حوالے سے تفاصیل بتائی تھیں اور شیخ ابوحمزہ کے ساتھ طویل تعلق کی بنا پر ہم اُن کی سچائی پر مکمل یقین رکھتے ہیں کہ انہوں نے دولہ کے قیام کے لیے تمام جہادی جماعتوں کے ساتھ رابطے کیے تھے،جب کہ دولہ الاسلامیہ عراق وشام کے اعلان سے پہلے سوائے جماعت کے اندر کے کچھ لوگوں کے کسی سے مشورہ نہیں کیا گیا،یہاں تک کہ خود جبہۃ النصرہ نے یہ اعلان کیا کہ اس ضمن میں ان سے کسی قسم کی مشاورت نہیں کی گئی۔

ج: عراق وشام میں دولہ کا اعلان جماعت قاعدۃ الجہادکی قیادت کے اس حکم کی صریح نافرمانی میں کیا گیا جس میں قیادت نے یہ ہدایت دے رکھی تھی کہ شام میں القاعدہ کے ساتھ منسوب کسی قسم کے وجود کا اعلان نہ کیا جائے،بلکہ جماعت قاعدۃ الجہاد کی قیادت کا عمومی موقف یہ ہے کہ اس مرحلے میں کسی قسم کی امارت کااعلان نہ کیا جائے۔اس امر کی وضاحت شیخ اسامہ بن لادن رحمہ اللہ ‘شیخ عطیۃ اللہ رحمہ اللہ کے نام اپنے خط میں بھی اچھی طرح کرچکے ہیں جسے بعد ازاں امریکیوں نے درج ذیل نمبر کے تحت نشرکیا:
SOCOM-2012-0000019 Orig

اس امر کی تاکید شیخ ابویحییٰ رحمہ اللہ دولہ عراق کے اپنے بھائیوں کے نام اپنے ایک خط میں کرچکے تھے جس کے بعد میں نے اسی بات کا اعادہ شیخ ابوبکرالحسینی البغدادی کے نام اپنے ۲۵جمادی الثانی ۱۴۳۴ہجری کے خط میں بھی کیا تھا،جس میں مَیں نے ان کو لکھا تھا کہ :

’’اگر اس دولہ کے اعلان سے پہلے آپ ہماری رائے پوچھتے تو ہم آپ کے ساتھ ہرگز اتفاق نہ کرتے ،کیونکہ میں اور میرے بھائی یہ دیکھتے ہیں کہ اس اعلان کے نقصانات اس کے فوائد سے کہیں زیادہ ہیں،کیونکہ شام میں دولہ کے قیا م کے بنیادی عناصر ابھی میسر نہیں‘‘۔

د: عراق وشام میں دولہ الاسلامیہ کا اعلان اہلِ شام کے لیے سیاسی طور پر ایک حادثہ ثابت ہوا،چنانچہ ایک ایسے وقت میں جب کہ اہلِ شام جبہۃ النصرہ کی تائید میںاور امریکہ کے خلاف مظاہرے کررہے تھے کہ اس نے جبہۃ النصرہ کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں کیوں شامل کیا؟وہی لوگ دولہ کے اس اعلان کی مذمت کرنے لگے جسے دولہ نے بشارالاسد کو سونے کی طشتری میں رکھ کرپیش کردیا اورشام میں موجود دیگر جہادی جماعتیں بھی یہ سمجھنے لگیں کہ دولہ ان پر بغیر مشورے اور بغیران کی رضا کے خود کو مسلط کرنا چاہتی ہے۔

ھ: عراق وشام میں دولہ کے اعلان کے سبب ایک ہی جہادی جماعت کے درمیان شدید اختلاف نے جنم لیا،جس کی نوبت بالآخر آپس کے قتال تک جا پہنچی۔جب کہ شیخ ابوبکر الحسینی البغدادی نے خود یہ دھمکی دی تھی کہ جبہۃ النصرہ کی کسی قسم کی تائید یا جس موقف کو وہ درست سمجھتے ہیں اس کے اعلان میں تاخیر کا نتیجہ بہتے خون کی صورت میں نکلے گا اور جوکہ بعدازاں بالفعل بہنے لگا۔

و: شام میں ابھی تک خون کی آبشاریں بہہ رہی ہیں جب کہ اگر ودلہ اس حکم کو مان لیتی جو اس مشکل کے حل کے لیے جاری کیا گیا تھا اور جس کا مقصد کسی قسم کی خوں ریزی سے بچنا تھا،تو اس متوقع فتنہ سے بچا جاسکتا تھا۔اگر دولہ کے بھائی عراق کے لیے فارغ ہوجاتے جسے اُن کی مجموعی قوت سے کہیں زیادہ قوت کی اب بھی ضرورت ہے اور اس امر کو قبول کرلیتے اورشوریٰ اورامیر کی سمع وطاعت کی پاس داری کرتے ہوئے اپنی قیادت اور امیر کی صریح خلاف ورزی نہ کرتے،تو وہ مسلمانوں کو اس بہتے خون سے بچا سکتے تھے۔اس صورت میں وہ رافضی صفوی حکومت کو بھی ناکوں چنے چبواتے اورعراق میں اہل سنت کی نصرت کا حق بھی کہیں بڑھ کر ادا کرپاتے۔تاہم ہر حال میں اللہ تعالیٰ کا شکر اور اسی کی تعریف ہے۔

یہ ایک گواہی تھی جس کے بعد میں ایک حکم دینا چاہوں گا اور ایک اپیل کرنا چاہوں گا۔

حکم شیخ فاتح ابومحمد الجولانی حفظہ اللہ اور جبہۃ النصرہ کے تمام محترم سپاہیوں کے لیے ہے جب کہ اپیل ارضِ رباط،شا کے تمام جہادی مجموعات اور جماعتوں کے لیے ہے کہ وہ فوری طور پر ایسے کسی بھی قتال سے رک جائیں جس میں ان کے مجاہد بھائیوں اور دیگر مسلمانوں کی جان اور عزت وناموس پر ظلم وزیادتی کا اندیشہ ہو اور اپنی تمام تر قوت بعثی نُصَیری اوران کی حامی رافضی قوتوں کے خلاف قتال پر مرکوز کریں۔

اسی طرح میں اس امر کا بھی اعادہ کرتا ہوں جس کا میں پہلے بھی متعدد دفعہ ذکر کرچکا ہوں کہ سب لوگ اپنے باہمی اختلافات اور جھگڑوں کے فیصلے کے لیے ایک مستقل اور خودمختار شرعی عدالت کی جانب رجوع کریں۔

اسی طرح میری سب سے یہ درخواست ہے کہ وہ ذرائع ابلاغ اور سماجی رابطوں کے وسائل پر کھلے بندوں ایک دوسرے پر الزام تراشی،غیر مناسب القاب اور فتنے کو ہوا دینے والے الفاظ استعمال کرنے سے مکمل اجتناب کریں اور خیر کی کنجیاں اور شرکو روکنے والے بنیں۔

اورآخر میں رہ گئی ایک نصیحت اور یاددہانی جوکہ شام میںموجود تمام مجاہدین کے لیے ہے کہ امت مسلمہ کے معصوم خون کے ساتھ ہولی کا یہ کھیل اب بہت ہوچکا! جہادی قیادت اور ان کے مشائخ کا قتل بہت ہوچکا!بس اب بہت ہوچکا!کیونکہ آپ کا خون ہم سب کے لیے حددرجہ قیمتی اورگراں قدر ہے ،جس کے بارے میں ہم سب کی یہ خواہش تھی کہ یہ اسلام کے دشمنوں کے خلاف دین کی نصرت کی خاطر بہتا۔

اورایک نصیحت اور یاددہانی خصوصی طور پر محترم ومکرم شیخ ابوبکر الحسینی البغدادی اور ان کے ساتھیوں کے نام،کہ اپنے امیر کی سمع وطاعت کی جانب لوٹ آئیے!اس مقصد کی جانب لوٹ آئیے جس کے حصول کے لیے آپ کے مشائخ،امرا اور ہجرت وجہاد کے رستے پر آپ سے پہلے چلنے والوں نے اپنی کوششوں کو صرف کیا۔زخموں سے چُور عراق کے لیے خود کو فارغ کرلیجیے جسے اس سے کہیں بڑھ کر آپ کی کوششوں کی ضرورت ہے۔ اپنی توجہ کو اس جانب مرکوز کرلیجیے تاکہ اس خونی قتل گاہ کو بندکیاجاسکے اورعراق میں اسلام اور اہل سنت کے دشمنوں کا رخ کیجیے!چاہے آپ یہ سمجھیں کہ آپ پر ظلم ہوا یا آپ کی حق تلفی ہوئی۔مسلمانوں کے بہتے خون کو روکنے ،ان کی صفوں میں اتحاد پیدا کرنے اور دشمن کے خلاف ان کی نصرت کرنے کی خاطر میری اس نداپر لبیک کہیے!چاہے آپ اسے خود پر ظلم وزیادتی اور ناانصافی ہی کیوں نہ سمجھتے ہوں۔

اورایک نصیحت میں خصوصی طور پر محترم ومکرم شیخ ابوبکر الحسینی البغدادی کوکرنا چاہوں گا کہ آپ اپنے دادا،سیدنا حسن السبط رضی اللہ عنہ کی پیروی کیجیے!جنہوں نے اپنے حقِ خلافت سے دست بردار ہوکر مسلمانوں کے بہتے خون کو روک لیا،چنانچہ اُن کے اس اقدام سے وہ اپنے نانا،محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس بشارت کے حق دار ٹھہرے جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا:

اِنَّ ابْنِی ھَذٓاسَیِّدٌ وَلَعَلَّ اللَّہَ أَنْ یُصْلِحَ بِہِ بَیْنَ فِئَتَیْنِ عَظِیْمَتَیْنِ مِنَ الْمُسْلِمِینَ
’’میرا یہ بیٹا سردار ہے اور قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے مسلمانوں کے دو عظیم گروہوں کے مابین صلح کروا دیں گے‘‘۔

کیاآپ کے لیے یہ بشارت کافی نہیں ؟اور کیا آپ اس عظیم سرداری پر راضی نہیں؟کیا آپ کو ایک ایسا فیصلہ پسند نہیں جس کے سبب اللہ تعالیٰ اپنے اذن وتوفیق سے دنیاوآخرت میں آپ کا مقام ومرتبہ بلند فرمادیں اور آپ عراق میں دشمنان اسلام کے مقابلے پر پوری قوت سے کھڑے ہوسکیں جسے اس سے کہیں بڑھ کر کوششوں کی ضرورت ہے۔اپنے اس اقدام سے آپ مسلمانوں کے مابین فتنے کی آگ بجھا کر ان کے مابین محبت واخوت کے جذبے کو دوبارہ زندہ کردیں گے۔پس آپ اللہ تعالیٰ پر توکل کیجیے! اوریہ فیصلہ کرگزریے!آپ اپنے تمام مجاہد بھائیوں اور تمام انصارِجہاد کو اپنا حامی و ناصراورمددگار دیکھیں گے!

اے محترم ومکرم شیخ!آپ اپنے داد کے اسوہ کو اختیار کریں اور اپنے بہترین اسلاف کے بہترین جانشین بن کرخانوادۂ نبوت کے عظیم کارناموں میں ایک اور عظیم کارنامے کا اضافہ کردیجیے!اللہ کی توفیق سے دنیاوآخرت کی کامیابی آپ کے قدم چومے گی۔

من معشرٍحبُھم دینٌ وبغضُھم
کفرٌوقربُھم منجیً ومعتصمُ

یہ وہ خانوادۂ نبوت ہے جس کی محبت جزوِ دین اور جس سے بغض کفر ہے
ان کی قربت باعث نجات اور ان کے چمٹ رہنا ہدایت کا سبب ہے

وآخر دعوانا ان الحمدللہ رب العالمین،وصلی اللہ علی سیدنا محمدوآلہ وصحبہ وسلم
والسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

منگل، 11 نومبر، 2014

جماعتِ بغدادی کےاعلانِ خلافت سے متعلق موقف

جماعتِ بغدادی کےاعلانِ خلافت سے متعلق موقف

اس سے قبل جماعت البغدادی سے متعلق موقف میں اس گروہ سے متعلق ملاحظات کو بیان کیا گیا تھا، تاہم اب ایک نئی صورتحال سامنے آئی ہے جو اپنے نتائج کے اعتبار سےبہت بڑھ کر ہے، ہم اللہ تعالیٰ سے سوال کرتے ہیں کہ وہ مجاہدین کی معاملات کو آسان بنا دیں۔ اس معاملے کا تعلق جماعت الدولۃ کے خلافت کے اعلان سے ہے، کچھ بھائیوں نے مجھ سے اس امر سے متعلق شرعی موقف بیان کرنے کوکہاہے، جو کسی بھی جذبات سے آزاد ہو۔

دین کا امر اس معاملہ میں کیا ہے، اس کو ہم نے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرنے کے بعد مندرجہ  ذیل عنوان کے ذریعے بیان کرنے کی کوشش کی تھی:
نريدها على منهاج النبوة
[ ہمیں یہ (خلافت) منہج ِنبوت پر مطلوب ہے]

شروع میں منہج نبوت کےاوپر قیام ِ خلافت  کے سلسلے میں کوشش ایک ضروری امر ہے ،جو خلافت  امتِ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) سے چھینی گئی تھی، صرف اس وجہ سے کہ امت ’وہن‘ (زندگی سے محبت اور موت سے نفرت) کی بیماری میں مبتلا ہو گئی، جب انہوں نے جہاد فی سبیل اللہ کو چھوڑ دیا اور امت نے ایسے علماء اور حکمرانوں کے آگے خود کو جھکا دیا ،جو فقط حکام کی مرضی کے مطابق بیان کرتے ہیں اور انہی حکام کے  لیے فتاوی دیتے ہیں اور امت کے لیے حق کو باطل کے ساتھ ملاتے ہیں، واللہ المستعان۔ اس لیے خلافت کے قیام اور اس کیلئے کوشش واجبات میں سےہے، اورامت کی شان و شوکت ان کے متحد ہونے اور دین سے جڑ جانے میں ہے۔

اسی غرض سے یورپی ممالک نے مسلمانوں کی وحدت کو پارہ پارہ کرنے کے لیے ’سایکس پیکو‘ کی فرضی حدود کا اہتمام کیا، اسی لیے اقامتِ دین اور احکاماتِ شریعت  کامکمل نفاذ اسی خلافت سے منسوب ہے، اور مسلمانوں کے لیے مکمل امن خلافت کے قیام کے بغیر ممکن نہیں۔

میں ہر اس شخص سےجو ’وہن‘ کی بیماری میں مبتلا ہے اورجو مغرب کی  قوت و شوکت کو دیکھ کر یہ گمان کرتاہے کہ خلافت کی کوشش فقط ایک خیال اور وہم ہی ہے، بلکہ یہ توراہِ جنون ہے،اس سے یہی کہوں گا کہ جان لو، خلافت یقیناً ضرور قائم ہونے والی ہے، اور میں  اس ذاتِ واحد کی قسم اٹھا کر کہتا ہوں جس کے علاوہ کوئی عبادت کے لائق نہیں کہ امت کی عزت اور خلافت ضرور بضرور۔۔رغبتی  یا بے رغبتی سے۔۔۔ ضرور واپس آئے گی۔ یہ وعدہ تو ہمارے نبی ﷺ کا ہے، اور ایسے وہن میں مبتلا افرادتو اسے دور دیکھتے ہیں جبکہ ہم اس امر کو قریب دیکھ رہے ہیں۔

آپ اس امر کو دنیاوی پیمانے پر تولنے کی کوشش کرتے ہیں جبکہ ہم اس امر کو تیونس میں ایک بدلتی رات کے موافق حالات کی طرز پر دیکھتے ہیں، اسی طرز پر حاکمِ مصر (حسنِ مبارک) کا معاملہ جبکہ وہ قیدی بن گیا، اور ایک قیدی(مرسی)  حکمران بن گیا، اور پھر اس کے بعد حکمران پھر سے قیدی بنا لیا گیا۔

جو ذات ان تمام حالات کو بدلنے پر اسطرح قادر ہے، وہ امت کے حالات بھی اسی طرز پر بدل دینے کی باکمال صلاحیت فقط اپنے ایک قول سے رکھتی ہے، (کن فیکون)، پس ہو جا! اور وہ اسی وقت ہو  جاتی ہے۔ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم فقط اس  خلافت کے لیے کوشش کریں،جبکہ تنائج کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔

لیکن ہم  اس با ت کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی ضرور بیان کرتے ہیں کہ جس خلافت کے لیے ہم کوشش کر رہے ہیں جس کا گھونٹ ہم اپنی گردنوں سے اتارنے کے  خواہشمند ہیں، وہ رسول اللہ(صلی اللہ علیہ وسلم) کی طرف سے وعدہ کی گئی وہ خلافت ہے جو (علی منھاج النبوۃ)،منہجِ نبوت کی طرز پر، قائم ہو ۔ اس کے علاوہ باقی اقسام ِخلافت فقط ملوکیت ہے جو امت پر سابقہ  بھی موجود رہی ہیں اور جس کا ذائقہ دوسرے علاقوں نے بھی چکھا ہے۔

کوئی  اعلان ِ خلافت جوشروط کا لحاظ رکھے بغیر ہی کر دیا جائے، ایک ایسی کیفیت  کو جنم دیتا ہےجس میں جذبات کے ذریعے خوشگوار بے چینی کا ماحول بنادیا جاتا ہے یا ناجائز طور پر جذبات سے فائدہ اٹھایا جاتا ہے۔ایسے اعلانات دین کے لیے فائدے سے زیادہ نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں۔

جماعت بغدادی کا خلافت کا اعلان کوئی پہلا امر نہیں ہے بلکہ اس سے قبل ایسے اعلان الجزائر میں بھی ہو چکے ہیں۔ اس الجزائر گروہ نے ناجائز قتل و غارت کی، امت افراتفری کا شکار ہوئی اور مغرب اور انکے آلہ کار اس  سے خوش ہوئے۔ یہ اس سبب ہوا کہ اس گروہ نے خلافت کے اعلان میں تمکن (غلبہ) سے قبل ہی عجلت دکھائی۔

دو دسال پہلے، ابو البنات اور انکے حواریوں نے شام میں خلافت کا اعلان کیا اور بیعت کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے خود کو شورائیتِ امت سے علیحدہ کیا، پس وہ نیست ونابود ہو گئے۔

کچھ نوجوانوں نے افغانستان میں  خلافت کا اعلان کیا اور مجاہدین کے خلاف برسرِ پیکار ہوئے، اور امت پر اپنے گروہ کی بیعت کو لازم کیا اور اس بنیاد پر قتال کیا اورخود بھی قتل ہوئے اور دوسروں کو بھی قتل کیا۔

پس ان واقعات سے یہ عبرت حاصل ہوئی کہ خلافت کے شعار کا اعلان فقط اُس سے وابستہ شروط کے بغیر  نہیں کیا جانا چاہیے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ یہ خلافت  منہجِ نبوت پر قائم ہو، اگر ایسا نہ ہوا تو جو چیز حاصل ہو گی، وہ بے سود ہی ہو گی۔

 آج ہم اسی پس منظر میں مجاہدین کے درمیان ایک اور تفریق کے شاہد ہیں،جس میں اختلاف رائے بڑھ رہا ہے، جہاد  کونقصان ہو رہا، فرقہ بندی کی بنیاد پڑ گئی اور ناحق خون بہایا جا رہا۔

اے اللہ! ہم آپ کے سامنے ہی یہ تمام شکایات کوبیان کرتے ہیں۔

آج جماعت ِبغدادی نے خلافت کا اعلان کیا ہے، جسکو صرف عراق وشام تک محدود نہیں رکھا ہے بلکہ اس کا اطلاق پوری امت پر مشرق سے لے کر مغرب تک کر دیا ہے، اور وہ بھی بغیر مشورے  اور شورائیت کے، اور اس امر میں کسی ایک معتبر عالم ِ دین سے مشورے کی حاجت ضروری نہیں جانی ہے!

ہر راست باز شخص سے میں یہ کہوں گا، اللہ سے ڈریں، یہ معاملہ فقط جہاد کی صفوں میں تفریق پیدا کرنے والا وہی سابقہ  واقعات  (الجزائر، شام اور افغانستان میں  اعلانِ خلافت )جیسا تکرار  ہی ہے، جس میں عجلت پسندی غالب آ رہی ہے، جس میں باقی جہادی جماعتوں، انکے علماء، اہل عقل اور امت کے  اہل حل وعقد سے رجوع کیے بغیر تمام معاملا ت کیے گئے ہیں۔آپ لوگ اللہ کے سامنے ان افعال  کا بوجھ ضرور اٹھانے والے ہیں۔

اے حق کے متلاشی،
اہل علم نے کسی حاکم کی امامت کے لیےتین صورتیں بیان کی ہیں:

۱)   استخلاف (سابقہ حاکم کی طرف سے  ولی عہد کا انتخاب ہونا)
۲)  شوری  (منہج نبوت کی طرز پر)
۳)  متغلب (جو حکومت پر غلبہ پا لے)

جہاں تک معاملہ استخلاف سے امام بننے کا ہے تو وہ وقوع پذیر نہیں ہوا ہے، پس جہاں تک بغدادی کا معاملہ ہے تو اب صورت متغلب کی بچتی ہے یا منہج نبوت پر شورائیت کی۔

اب جہاں تک معاملہ  شوری کا ہے، تو ہمیں جو مطلوب  خلافت ہےوہ  منہجِ نبوت کے اوپر ہے جسکا ہم سے  وعدہ  رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے کیا ہے اور اسی خلافت کے لیے ہم فی سبیل اللہ اپنے خون کا نذرانہ پیش کر رہے ہیں تاکہ اس مطلوبہ خلافت کا احیاء ہو سکے۔ پس یہ وہ خلافت ہرگزر نہیں ہے جس کا اعلان بغدادی نے (بغیر شوری) کے کیا ہے۔

شریعت نے تمام اعمال سے متعلق شروط و موانع سمجھانے کا اہتمام کیا ہے تاکہ کسی بھی عبادت سے متعلق خطا ہونے کی غلطی کے احتمال کو روکا جا سکے، پس اسی طرح نقصان پہنچانے والا اور فائدےسے روکنے والا شخص اس گمان میں ہوتا ہے کہ وہ تو خیر اور اچھائی پر ہے۔اہل بدعت اور اہل تصوف جب اپنی بدعت پر مبنی تسبیحات اور نمازوں کو دیکھتے ہیں تو وہ اپنے بارے میں عند اللہ یہی گمان رکھتے ہیں کہ وہ تو خیرکا معاملہ کر رہےہیں۔

نماز کے اوقات ہیں اور اس کی قبولیت کی شرائط ہیں، اسی طرح دیگر فرض عبادات کا احوال ہے جیسے حج، روزہ، زکوۃ؛  ہماری نماز، روزے، حج، خلافت سے محبت ہم سے اس چیز کا تقاضا ہرگز نہیں کرتی ہے کہ ہم اس اسے جب وقت بھی چاہیں اپنی منشاء کے مطابق ان عبادات کو قائم کرلیں اور ساتھ یہ گمان بھی رکھیں کہ دین اور عملِ صالح سے محبت کے پیش نظر یہ تمام اعمال کر رہے ہیں۔ پس اس طرح تو ہم بدعت کی طرف قدم بڑھا دیں گے، اور یہی معاملہ خلافت کے ساتھ بھی ہے کہ اسے اپنی مرضی کے مطابق بغیر شروط کا اہتمام کیے قائم نہیں کیا جا سکتا ہے۔

جس طرح باقی عبادات کے لیے شروط ہیں، اسی طرز پر خلافت کے لیے بھی شرائط  موجودہیں، اور ان میں سب سے اہم ترین  شرط تمکن اور شوری کی ہے۔

[ایک حقیقی معتبر تمکن جو کسی وہم  سے بالا تر ہو اور منہجِ نبوت کی طرز پر شورائیت  پر مبنی ہو، نہ کہ کسی ایک گروہ کی نمائندگی کرتا ہو]
[خلافت امت کے لیے ہے کسی خاص جماعت کے لیے نہیں ہے]

ظہورِ بغدادی شرعی طور پر اس خلافت کے صحیح ہونے کے لیے دلیل نہیں، سب سے ضروری امر یہ ہے کہ دیکھا جائے  گاکہ شرائطِ خلافت  پوری ہوئی ہیں کہ نہیں، اور ان میں سب سے اہم شرط  جس کا پورا ہونا ضروری ہے وہ تمکن کا ہے، اور یہ اہل حل و عقد کو اختیار دینے پر منحصر ہے، جن کا انتخاب امت خلافت کے مسئلہ پر کرتی ہے۔ خلافت شرعی اور فقہی حوالے سے نمائندگی کا نام ہے، اور خلیفہ امتِ اسلامیہ کا نائب ہے، اور یہ اہل حل و عقد  ان معتمدین کی طرح ہیں جن   کی بیعتِ خاصہ کے ذریعے یہ نمائندگی خلیفہ کو منتقل ہوجاتی ہے۔

یہ نیابت  یا نمائندگی شرعی،عقلی اور روایتی طرز پر  تب ہی ثابت ہو گی ،جب تک امت (ان اہل حل و عقد  کی بیعتِ خاصہ کے ذریعے) خلیفہ کا انتخاب نہ کر لے،جبکہ یہاں  پرصرف ایک جماعت کا اعلانِ خلافت خلیفہ کے انتخاب کے لیے کافی نہیں ہے۔

کیا ملا عمر، الظواہری،امیرِ قوقاز،الوحیشی (یمن کے امیر) اور دیگر دوسرے امرائے جہاد  نے یہ انتخاب ِ خلیفہ کیا ہے؟ کیا علمائے ارض  یا دیگر دوسرے علاقوں میں موجود علماء نے اس کا انتخاب کیا ہے؟

کیا مجاہدین  میں سے موجود اہل حل و عقد (اہل شوکت) اور دیگر مجموعات نے یہ انتخاب کیا ہے؟  ہم’ مجاہدین کی خلافت‘ کے لیے کوشاں نہیں ہیں بلکہ ’امت کی خلافت‘ کے لیے کوشاں ہیں، پھر کیاخلافتِ بغدادی امت  کے لیے ہے یاصرف اپنی مخصوص جماعت کے لیے خاص ہے؟


اے حق کے متلاشی!
کسی ملک میں امارت کا قیام اہل حل وعقد(اہل شوکت) کی مشاورت (شوری) کے بغیر جائز نہیں ہے۔ 

کیا اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا ہے:
[اور ان کا کام باہمی مشورے سے ہوتا ہے]
 کیا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)  نے یہ نہیں فرمایا:
[اگر مجھے بغیر شوری(مشاورت) کے امیر بنانے کی اجازت ہوتی، تو میں ابن مسعودؓ کو امیر منتخب کرتا]

یہ بہت ضروری امر ہے کہ اہل حل وعقد ہی امتِ محمدﷺ کے اصل نمائندے ہوں۔ یہ کسی کو حق حاصل نہیں کہ وہ اپنا انتخاب خود ہی مجلس شوری میں کر لے، اور اس کو ’اہل شوری‘ کا نام دے دے، یہ تو ظالموں کا طریقہ کار ہے، خلافت کا طریقہ کار ہرگزر نہیں ہے۔

پھر ان لوگوں  کے بارے میں جنہوں نے بغدادی کا انتخاب کیا اورانکی شوری کے حوالے سے یہ بتایا جائے کہ ان  افرادکے نام کیا ہیں؟ ان کا احوال کیسا ہے؟ وہ کس کی نمائندگی کرتے ہیں؟ ان کو اس چیز کا اختیار کس نے دیا ہے؟

یہ اعلان جسے (دولۃ العراق و الشام)  کے نام نے منسوب کیا جاتا ہے ایک بہت بڑی غلطی ہے، امت کےاوپر جرأت کرنے والا معاملہ ہے اور جنہوں نے اس معاملہ میں حمایت و نصرت کی اور بیعت دی ہے، ان کے لیے ہلاکت ہے  اور  ان کو اس امر کے تباہ کن  تنائج کا بوجھ اٹھانا ہو گا۔ ہم ایک ایسی خلافت کا سامنا کر رہےہیں جو تمکن اور شوری کے بغیر قائم کی گئی ہے، جو ظلم پر قائم کی گئی ہے، منہجِ نبوت پر قائم نہیں ہوئی، اب اس استبداد پر مبنی خلافت کےلیے اور کتنا خون بہایا جائے گا؟ 

میں نے ذاتی حیثیت میں بھی اس بات کا مشاہدہ کیا ہے کہ بغدادی کو شام کے کثیر علاقوں پر غلبہ اور تمکن حاصل نہیں ہے جیسے حلب، ساحل، حمص، دمشق، غوطہ اور دیگر دوسرے علاقے۔

پھر کس طرح امت پراس خلافت کا اعلان کیا جا سکتا ہے۔ بلاشبہ ، اللہ کی قسم یہ ایک  سنگین غلطی ہے اور اندھا فتنہ ہے۔

پھر یہ غلطی مزید اسطرح بھی بڑھ جاتی ہے جب اس کے ساتھ ناحق خون بھی بہایا جائے اور عزتوں کو پامال کیا جائے، پس   بغدادی کا اپنے لیے خلافت کا اعلان کرنا اور پھر جو کوئی اس استبداد (جابرانہ طرز پر) پر مبنی بیعت کو قبول نہ کرے اس سے قتال کرنا اور اس  بیعت  کے لیےموحدین کا خون بہانا ایک بھیانک امر ہے۔

ان انصارانِ بغدادی اور بیعت دینے والوں  کے لیے ہلاکت ہے جو اس ناحق قتل میں اس کی نصرت کرتے ہیں، پس جب انہیں جبار سبحانہ تعالیٰ کے سامنے محاسبہ کے لیے پیش کیا جائے گا، ان کے لیے پھر ہلاکت و بربادی ہے۔

ان لوگوں کے لیے ہلاکت ہے جنہوں نے پورے عالمِ اسلام میں جہادی صفوں میں تفریق پیدا ک۔۔۔ ہمیں خدشہ ہے کہ یہ فتنہ یمن، مغرب، صومال اور دیگر جگہوں پر (اللہ محفوظ فرمائیں) منتقل ہو سکتا ہے، اس دن یہ لوگ امریکا اور انکے حواریوں کو کتنا خوش کر دیں گے!

اس معاملہ میں سب سے ناجائز منظرنامہ یہ بن جائے گا، جس میں خونِ مسلم ناحق بہایا جائے گا۔ جہاں تک ہمارا معاملہ ہے، اللہ کی قسم، ہم اس لیے نہیں نکلے یا مجاہدین کو اس لیے نہیں نکالا ہے کہ وہ ناحق خون بہائیں اور اُن کی عزتوں کو پامال کریں بلکہ ہم تو ان کے اوپر ڈھائے جانے والے ظلم، کفر اورفتنہ کو ختم کرنے کےلیے آئے ہیں، پس ان کے معاملے میں اللہ سے ڈرو!

مجاہدین اور علمائے امت سےبغیرمشورے کےاس شعار کا اعلان کرنا ایک شدید فتنہ ہے جو  مجاہدین کے درمیان قتال کا سبب ہے اور جس سے ناحق خون بہایا جائے گا۔ یہ اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتے جب تک یہ اللہ کے حکم کے مطابق اس معاملے کو علمائے امت کی طرف نہ لوٹا دیں۔

پس اگر یہ خلافت منہج نبوت پر نہیں ہے تو یہ لازم  بات ہے کہ یہ متغلب اور استیلاء  پر مبنی ہے، پس اس کا حکم جبری ملوکیت کا ہے نہ کہ اس خلافت کا جس کی بشارت ہمیں نبی اکرمﷺ نے دی۔

اگر وہ اس بات کاگمان رکھتے ہیں کہ بغدادی کی امامت شوری کے ذریعے نہیں تھی بلکہ استیلاء  ہے، تو اہل علم متغلب امام کے فسق پر متفق ہیں، اور یہ بات واجب ہو جاتی ہے کہ اس کوان علاقوں سے پچھاڑ دیا جائےجہاں اسکو ولایت ، سلطہ اور اختیار حاصل نہیں ہے۔

اگر وہ تم سے کہیں کہ وہ متغلب ہے، اور اس کی بیعت  اہل رقہ (شام کا شہر)پر درست ہے اور اس کو بطور متغلب اہل رقہ نے بیعت دی ہے،توپھر باقی علاقوں اور ملکوں میں جو اسےبغیر مشاورت (شوری) کے امام  (خلیفہ) نہیں مانتے کیونکہ وہ  متغلب ہے اور اس وجہ سے فاسق ہے ، تو باقی علاقوں کے لیے اس کو بیعت دینا جائز نہیں ہے بلکہ ان کو چاہیے کہ وہ اپنا دفاع کریں۔

جس طرح پہلے بیان کیا گیا ہے کہ بیعت بغداد ی خلافت کے لیے درست نہیں، بلکہ یہ ایک باطل بیعت ہے جس میں امت کے اوپر جرأت دکھائی گئی ہے، صفوں میں تفریق پیدا کی گئی ہےاور ناحق خون بہایا گیا ہے۔


آخر میں، 
اے حق کے متلاشی،
یہ اعلانِ خلافت جو باقی اہل حق جماعتوں  کو چھوڑ کر فقط ایک جماعت نے کیا ہے، یہ اس کے باطل ہونے پر دلیل ہے اور مسلمانوں کے حق میں ظلم پر مبنی ہے۔

امام اعظم (خلیفہ) کو نصب کرنے کا مقصود تو وحدتِ کلمہ، وحدت ِ امت، اقامت دین اور احکاماتِ الہی کا نفاذ، ظلم کو دور کر کے انصاف کوپھیلانا ہے۔ میں تم سے اللہ کے لیے سوال کرتا ہوں، تم نے اپنے افعال سے امت کو کلمۂ حق پر جمع کیا ہے یا اس کو سیپارہ کر ڈالا ہے؟

اے حق کے متلاشی،
جو اپنے سلطہ کو تمام اسلامی ممالک تک وسعت دینے پر قادر ہو ، اسی کے لیے ہی  امامت کا انتخاب کیا جائے گا، پھر اس کے بعد ہی اس کو بیعت دی جائے گی۔

جس کے پاس قدرت نہیں ہے نہ ہی اکثر مسلمانوں، انکی بری، بحری، فضائی، وسائل،خدمات پر سلطہ حاصل نہیں ہے، اس کے پاس خلافت میں سے کوئی بھی چیز نہیں ہے سوائے ایک نام کے۔
اسلام کے اندرکسی  والی(خلیفہ) کے فرائض کی ادائیگی بہت عظیم معاملہ ہے اور یہ ان  شرعی القابات کو اپنی ذات کے لیے مخصوص کر لینے سے بہت بڑا معاملہ ہے۔

کیا اس خلیفہ کے پاس جس کا انتخاب تم لوگوں نے کیا ہے کویمن یا صومال یا دوسرے دیگرشہروں میں موجود مسلمانوں کے دفاع کا اختیار حاصل ہے؟ پھر یہ کس طرح خلیفہ ہو سکتا ہے جبکہ حدیث میں بیان ہوتا ہے [امام  ڈھال ہے]؟

کیا یہ اپنی بیعت یافتہ رعایا کے لیے عملی طور پر ایک ڈھال ہے اور ان سے منسلک نقصان اور خوف کو دور کر سکتا ہے جبکہ رسول اللہﷺ نے فرمایا  [امام ڈھال ہے]؟

بیعت دینے کا مطالبہ کرنا اور جسکی بیعت دی جا رہی اس کی عدم استطاعت کہ وہ ان کے احوال کی درستگی کر سکے جو اسکے علاقوں سے دور ہیں کے اندر واضح نشانی موجود ہے کہ خلافت کے معاملات اور اختیار میں غفلت پائی جاتی ہے۔

یہ اعلانِ خلافت جوتم لوگوں نے کیا ہے  یہ فقط اہل سنت کا مزید خون بہانے کی تیاری ہے اور بغاوت کومزید بڑھکانے کے لیے اس کا سنگِ بنیاد ڈالا گیا ہے، اور اس خلافت کوجواز بنا کراپنے مخالفین کے قتل کی راہ ہموار کی جائے گی۔

یہ تمام جہادی جماعتوں اور دیگر افراد جو انکی خلافت سے موافقت کا اظہار نہ کریں گے کے خلاف لڑنے اور انہیں قتل کرنے کا ایک  وسیلہ ہے۔

یہ القاعدہ اور اس سے وابستہ تمام فروع کے خلاف جنگ ہے، اس امر سے مغرب اور اسکے حواری خوفزدہ ہو گئے ہیں کہ القاعدہ نے اس (خلیفہ) کی تابعداری قبول نہیں کی ہے، اور یہ اس جنگ کو اہل سنت پر  باقی رکھنے کے لیے اہل سنت کے نام سے ہی  سامنے لائےہیں۔

یہ خلافت کا اعلان جہادی تنظیموں کےلیے خلافتِ موعود کے مرحلے سے قبل ہی ایک حصار اور جال ہے، جو دین کا نام استعمال کرتے ہوئے ہی   ایک جنگ مجاہدین پر مسلط کر دی گئی ہے۔

اے حق کے متلاشی،
یہ خلافت صرف اپنے مخالف کو گمراہی کی تہمت بلکہ اسے قتل کرنے کی تحکیم کا نام ہے،یہ تحکیم بھی اس کے اوپر ہو گی  جو سچا سنی مسلمان ہے۔۔۔یہ  بات ان کی گمراہی پر سب سے بڑی دلیل ہے۔



اے جماعت بغدادی اور انصارانِ بغدادی،
یہ حق بات ہم آپ کے سامنے بیان کرتے ہیں اور اس کی تصدیق کرتے ہیں جیسا کہ پہلے بھی علماء نے اس حق بات کی تصدیق کی ہے:

بلاشبہ امت اور اسلامی ریاست فقط رقہ (شام کا شہر) یا موصل(عراق کا شہر) تک محدود نہیں ہے، یہ امت تم سے بھی اور ہم سے بھی وسعت میں ہے، پس اس معاملہ میں فتوے جاری نہ کرو اور اللہ کا تقوی اختیار کرو۔

افغانستان، یمن،چیچنیا،مغربِ اسلامی میں موجود مجاہدین کی جماعتوں کے معاملہ میں اللہ سے ڈر جاؤ، مسلمانوں پر ان کے جہاد کو فساد میں مت بدلو۔

اللہ تعالیٰ کے دین کا دفاع گونج دار نعروں اور نہ ہی رومانوی کشش رکھنے والے کلمات سے ہوتا ہے، تم ضرور اپنے اعلان کا نتیجہ دیکھ لو گے، بے شک اس میں کچھ وقت ہی کیوں نہ لگ جائے!

اور اللہ تعالیٰ کے لیے امر پہلے بھی تھا اور بعد میں بھی اسی کا امر ہے!

پیر، 10 نومبر، 2014

شہیدِ فتنہ شیخ ابو خالد السوری رحمہ اللہ کی شہادت پر شیخ ایمن الظواہری حفظہ اللہ کا تعزیتی بیان

مہاجر،مجاہد،مرابط وشہید فی سبیل اللہ …شیخ ابوخالد السوری رحمہ اللہ
شہیدِ فتنہ شیخ ابو خالد السوری رحمہ اللہ کی شہادت پر شیخ ایمن الظواہری حفظہ اللہ کا تعزیتی بیان

خونِ مسلم کی حرمت کے بارے میں شیخ عطیۃ اللہ اللیبی رحمہ اللہ کے بیان میں سے ایک اقتباس:
ایک مسلمان نفس کی عظمت و ضخامت اور خونِ مسلم کی حرمت کو بیان کرنے کے لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ہی کافی ہے :لزوال الدنیا اھون عند اللہ من قتل رجل مسلم ’’اللہ سبحانہ تعالیٰ کے نزدیک پوری دنیا کا ختم ہونا ایک مسلمان کے قتل کے مقابلے میں بہت ہلکی بات ہے ‘‘…چاہے دنیا کوزوال آجائے، ہماری تنظیمیں اور جماعتیں ختم ہو جائیں اور تمام منصوبے ناکام ہوجائیں لیکن ہمارے ہاتھوں پر کسی بے گناہ مسلمان کا خون نہیں ہونا چاہیے ۔یہ بہت واضح اور طے شدہ مسئلہ ہے ۔

بسم اللہ والحمدللہ والصلاۃ والسلام علیٰ رسول اللہ و آلہ و صاحبہ ومن والاہ۔
ساری دنیا کے مسلمان بھائیو!السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ 

اما بعد۔آج مجھے امت ِ مسلمہ کو بیک وقت مبارک باد بھی پیش کرنی ہے اور تعزیت بھی !
مبارک باد تو بطلِ عظیم ،مہاجر و مجاہد و مرابط اور قید وبند کو صبر کے ساتھ برداشت کرنے والے شیخ ابوخالد سوری (رحمہ اللہ)کی شہادت پر پیش کرنی ہے ۔اللہ سبحانہ تعالیٰ ان پر اپنی ڈھیروں رحمتیں نازل کرے اور ہمیں ذلت و ندامت اورفتنوں سے بچا کر ان سے ملادے۔

جہاں تک تعزیت کا تعلق ہے تو وہ شام کی مقدس سرزمین پر اٹھنے والے گھمبیر فتنے کے بارے میں کرنی ہے اور اس بے وقوف مجرم کے لیے جو اس فتنے میں پڑ کر دھوکہ کھا گیا۔جسے کسی اکسانے والے نے ‘جہالت ،ہوائے نفس ،دشمنی اور برتری کے لالچ میں شیوخِ جہاد میں سے ایک عظیم شخصیت کے قتل پر آمادہ کر دیا۔

وہ شیخ جنہوں نے اپنی جوانی کی بہار جہاد میں لگادی اور ساری عمر مجاہدین کی تربیت اور حق کی نشر و اشاعت میں گزار دی۔اسیری کو صبر و استقامت کے ساتھ برداشت کیا اور راہِ حق کی تکلیفوں اور آزمائشوں کی شدت ذرا بھی ان کے ارادے اور عزم کو ڈگمگا نہ سکی ۔میں ان کو روس کے خلاف جہادکے دنوں سے جانتا ہوں۔تب سے لے کر پاکستان میں ان کی گرفتاری تک سارا عرصہ انہوں نے استاد المجاہدین الشیخ ابو مصعب السوری (اللہ ان کو جلد رہائی عطا کرے)کے قریبی رفیق کے طور پر گزارا۔ دس سال قبل ان کی گرفتاری سے کچھ عرصہ پہلے ان کا آخری پیغام جو مجھے موصول ہوا وہ میرے اس بیان کی تائید میں تھا جس کا عنوان تھا:’’انما النصرصبر ساعۃ‘‘ (بے شک فتح ایک گھڑی صبر کے فاصلے پر ہے )۔ پھر جلد ہی وہ گرفتار ہوگئے اور ہمارا رابطہ منقطع ہو گیا۔یہاں تک کہ شام کی مبارک انقلابی تحریک کھڑی ہوئی اور ایسی اسلامی ریاست کے قیام کے لیے علم ِ جہاد بلندہوا جو شریعت کی حاکمیت قائم کرے ،عدل اور شورائیت کو نافذ کرے ،مسجدِ اقصٰی اور تمام مسلم مقبوضات کو آزاد کرائے ۔جو مظلوموں کی داد رسی کرے اور اسلامی ممالک کو غیروں کی غلامی اور داخلی فساد سے نجات دلائے۔شیخ ابوخالد رحمہ اللہ کو جب اللہ سبحانہ تعالیٰ نے بعثی نصیریوں کی قید سے رہائی عطا فرمائی تو اللہ کی مدد سے ہمارے درمیان دوبارہ رابطہ قائم ہو گیا۔وہ میرے اور میرے رفقا کے لیے بہترین ناصح اور مشیر تھے۔انہوں نے مجھے بتایا کہ وہ رہا ہونے تک سات سال اپنے استاذ اور رفیقِ سفر شیخ ابومصعب السوری کے ہمراہ رہے۔ہم اللہ سبحانہ تعالیٰ سے دعا گو ہیں کہ وہ ہمارے محبوب بھائی ابومصعب حفظہ اللہ کو جلد از جلد رہائی عطا فرمائے۔ انہوں نے مجھے آگاہ کیا کہ وہ شام میں اسی فتنے کو اٹھتا ہوا دیکھ رہے ہیں جسے پشاور میں کھڑا کیا گیا تھا۔جہالت،ہوائے نفس اور ظلم کا فتنہ!ایسا فتنہ جس میں محض افواہوں اور شبہات کی بنا پراور طمع اور خواہشاتِ نفس کی تسکین کے لیے جانیں ضائع اور عزتیں پامال کر دی جاتی ہیں۔اس فتنے سے مجھے پشاور کے دور کاایک کرب انگیز لطیفہ یاد آیا ۔اس کا خلاصہ یہ ہے کہ میں اپنے محبوب بھائی شیخ ابو محمد المقدسی (اللہ ان کو ہر پریشانی سے محفوظ رکھے اور جلد رہائی عطا کرے)سے ملنے گیا۔میں نے ان سے کہا کہ ’’ایک گروہ اس وجہ سے میری تکفیر کرتا ہے کہ میں افغان مجاہدین کی تکفیر نہیں کرتا‘‘۔وہ مسکرائے اور کہنے لگے:’’آپ نہیں جانتے کہ وہ میری اس وجہ سے تکفیر کرتے ہیں کہ میں آپ کی تکفیر نہیں کرتا‘‘۔

یہ وہی جہالت ،ہوائے نفس اور طمع ہے جس نے امیر المومنین ذوالنورین حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی حرمت کا بھی پاس نہیں رکھا۔جاہل اور خواہشاتِ نفس کے بندوں نے انہیں اس حال میں قتل کیا جب وہ قرآن ِ پاک کی تلاوت کر رہے تھے۔پھر انہی لوگوں نے امیر المومنین اسد اللہ الغالب سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی حرمت کا بھی لحاظ نہیں کیا اور ان میں سے ایک نے ان پر اس وقت حملہ کیا جب وہ فجر کی نماز پڑھ رہے تھے۔یہ وہ فتنہ ہے جسے شیخ ابوخالد رحمہ اللہ بھانپ گئے تھے اور اس سے خبردار کر رہے تھے ،اللہ سبحانہ تعالیٰ کی مشیت تھی کہ وہ اسی فتنے سے شہادت پاگئے۔آج اس فتنے میں احترام ،بزرگی اور سبقت کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ اس میں ہجرت و جہاد، اسیری پر صبر اور راہِ حق پر ثبات کوئی معنی نہیں رکھتے۔

آج ہر مسلمان کا فرض ہے کہ اس فتنے کا راستہ روکے اور اس کے خلاف رائے عامہ بنائے اور ہر اس فرد کے خلاف بھی جو اس فتنے میں آزاد،غیرجانب دار شرعی فیصلے پر راضی نہ ہواور میں ’’آزاد،غیر جانب دار‘‘پر زور دیتا ہوں۔کیوں کہ ایسی تحکیم کا کوئی اعتبار نہیں جس میں جھگڑنے والے فریقین خود ہی منصف ہوں۔ہر مسلمان اور مجاہد پر لازم ہے کہ ایسے لوگوں سے برأ ت کا اظہار کرے جو ایسے غیر جانب دار شرعی فیصلے سے انکار کریں۔

ہر مسلمان مجاہد کا فرض ہے کہ مجاہدین کے خون سے اپنے ہاتھ نہ رنگے اور ان کے مراکز کو تباہ کرنے اور ان کے شیوخ کو قتل کرنے سے انکار کردے۔وہ شیوخ جو اکابرمجرمین کا ہدف ہیں، جنہیں شہید کرنے کے لیے کفار ہر طریقے سے کوشش کر رہے ہیں…یہ جاہل نادان اٹھے اور ان کا ناحق خون کر دیا۔تمام مسلمانوں کو چاہیے کہ ایسے لوگوں سے ہرگز تعاون نہ کریں جو مجاہدین کے مراکز پر دھماکے کرتے ہیں یا ان کے لیے بارودی گاڑیاں یا بم بار روانہ کرتے ہیں اور اس فتنے کی کسی صورت حمایت نہ کریں۔

جو کوئی اس فتنے میں مبتلا ہو چکا ہے وہ یاد رکھے کہ وہ اپنے ہاتھوں دشمنانِ اسلام کے وہ مقاصد پورے کر رہا ہے جو وہ اپنے سارے وسائل استعمال کر کے بھی حاصل نہیں کر سکے ۔

مجاہد و مہاجر،مرابط و مصابر شیخ ابوخالد السوری رحمہ اللہ کے قتل سے مجھے ، جماعتِ اسلامیہ المقاتلہ الجزائر کے ہاتھوں دو عظیم شیوخ محمد سعید اور رجّام رحمہم اللہ کے قتل کا واقعہ یاد آگیا۔جو اس جماعت کی معنوی اور پھر مادی موت کا سبب بن گیا۔اس جرم میں کون ملوث ہے یہ معاملہ مخفی نہیں رہے گااور ابھی نہیں توکچھ عرصہ بعد پتہ چل جائے گا۔جیسے پہلے جماعت اسلامیہ مقاتلہ نے بھی شیخین محمدسعید اور رجّام رحمہم اللہ کے قتل سے انکار کیا تھا۔

اے ابوخالد ہم آپ کے رحمان و رحیم رب سے دعاگو ہیں،سوال کرتے ہیں کہ ہجرت و جہاد اور اسیری گزارتے گرازتے آپ پر آنے والے بڑھاپے پر رحم فرمائے۔آپ کے گناہوں کی مغفرت فرمائے،آپ کے درجات بلند کرے اور آپ کو اجر سے محروم نہ کرے اور آپ کے فراق میں غمگین اہلِ خانہ ،ساتھیوں ،چاہنے والوں اور تمام انصارِ جہاد کو صبر دے ۔

شیخ الوغی فارحل لربک راقیًا * * درج الشہادۃ فائزًا مأجورا
شیخِ مردِ میدان شہادت اور اجرِ عظیم پاکراپنے رب کے حضور کامیابی کے بلند مرتبے پر فائز ہوگئے۔
لیثٌ یدافع عن عرینٍ غاضبًا * * متقدمًا أشبالہ منصورا
وہ شیرجس نے دھاڑ کر اپنی کچھار کا دفاع اور اپنے بیٹوں کی نصرت کی
بدرٌ تقاصرت الدیاجی دونہ * * شمسٌ تغالب بالحقائق زورا
ایسا بدرِ روشن ‘راتیں جس کے بغیر اندھیری ہیں۔ایسا شمس جو حقائق کے اجالوں سے جھوٹ پر غالب آگیا۔
طودٌ شموخٌ طامحٌ لا ینحنی * * تنبو العواصف دونہ مقرورا
عزم و عظمت کا نہ جھکنے والاجبلِ عظیم،طوفان جس سے ٹکرا کر اپنا رخ بدل لیں۔
لم تکتسب منک النوائب ہنۃً * * أو تنتزع منک الخطوب فتورا
مصائب آپ سے کچھ چھین نہ سکے نہ ہی شدائد آپ کو کمزور کر سکے
أمضیت عمرک ہجرۃً وتزہدًا * * ورحلت عنا بالثنا موفورا
آپ نے ساری عمر ہجرت و زہد میں گزار دی اور ہم سے وافر ثنا کے ساتھ رخصت ہوئے
رافقت أستاذ الجہاد المصطفی * * فی ہجرۃٍ ومطاردًا وأسیرا
آپ نے ہجرت ،روپوشی اور اسیری میں اپنے استادِ جہاد مصطفٰی (شیخ ابو مصعب ) کی رفاقت نبھائی۔
فرقیت فی قمم الثغور مجاہدًا * * وربحت فی قید السجون أجورا
آپ نے اگلے مورچوں میں جہاد کیا اورتعذیب خانوں کی قید میں اجرِ عظیم کمایا۔
حتی أتتک من الجہالۃ غدرۃٌ * * لم ترع سبقًا أو تؤد شکورا
حتیٰ کہ جہالت کا غدر بپا ہوا جس میں نہ سبقت کی رعایت ہے نہ خدمات کا تشکر
لکنہا نالت علیًا قبلکم * * عثمان أیضًا صابرًا مغدورا
لیکن اسی فتنے نے پہلے بھی علی رضی اللہ عنہ اور عثمان رضی اللہ عنہ کو قتل کیا۔
ہذا الذی قد کنت تحذر شرہ * * فکتبت منہ محذرًا ونذیرا
اسی کے شر سے آپ پریشان تھے اور ہمیں خبردار کر رہے تھے
وخشیت عقباہ فقمت مناصحًا * * بنصوع رأیٍ مخلصًا ومشیرا
آپ اس کے انجام پر متفکر تھے اس لیے شفاف اور مخلص رائے سے نصیحت و مشورہ دے رہے تھے۔

بشکریہ: نوائے افغان جہاد



جمعہ، 7 نومبر، 2014

محترم ومکرم علماء کرام کے جواب میں!

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں جس نے اکیلے، اپنے بندے کی مدد کی،اپنے لشکر کو عزت بخشی اور تمام لشکروں کو شکست دی، صلٰوۃ وسلام ہو اس ذاتِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم پر جن کے بعد کوئی نبی نہیں اور ان کی آل و اصحاب اور دینِ اسلام کا دفاع کرنے والے سپاہیوں پر؛


برادران محترم ڈاکٹر طارق عبدالحلیم، ڈاکٹر ھانی السباعی، ڈاکٹر ایاد قنیبی، ڈاکٹر عبداللہ المحیسنی، شیخ محمد الحصم اور ڈاکٹر سامی العریدی حفظھم اللہ ورعاہم!

 السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ،

میں اللہ تعالیٰ سے آپ کی اور آپ کے ساتھیوں کی خیریت کے لیے دعاگوہوں اور دعا کرتا ہوں اللہ سبحانہ و تعالیٰ ہمیں اپنی رضا اور چاہت کے مطابق دنیوی فلاح اور اخروی کامیابی پر اکٹھا کرے۔ و بعد!


۱)  انٹرنیٹ کے کچھ مواد سے مجھے آپ حضرات کے مجھ بندہ ضعیف کے نام پیغام کی اطلاع ہوئی، تو میں نے ضروری جانا کہ آپ کے قابل احترام موقف کی تعظیم، اس توجہ اور چاہت کے احترام میں جواب عرض کروں کیونکہ مجھے آپ کی امتِ مسلمہ اور مجاہدین کی نصرت، ان کے مابین فتنہ کے خاتمے اور ان کے خون اور عصمت کے دفاع کی چاہت کا یقین ہے۔


۲)  جہاں تک جماعت دولۃ اسلامیہ فی العراق و الشام کی بابت اس کے توسیع کے اعلان سے پہلے اور بعد کی صورتِ حال اور بیعات کے بارے میں آپ کے سوال کا تعلق ہے تو میں ‘شام میں مجاہدین کا خون روکنے کے لیے ایک شہادت’ کے عنوان سے اپنے پچھلے بیان میں کافی حد تک اس مسئلے کی وضاحت کر چکا ہوں کہ دولۃ الاسلامیہ فی العراق، جماعت قاعدۃ الجہاد کی ایک تابع شاخ ہے اور اس کے امیر اور سپاہی جماعت قاعدۃ الجہاد اور اس کے امیر شیخ اسامہ بن لادنؒ اور ان کے بعد اس بندہ عاجز کی بیعت میں ہیں اور ان کی طرف سے اس (بیعت) کا تکرار کئی بار ہوا، میں نے اس کی کچھ مثالیں بیان کی تھیں، آپ کے لیے میں ایک اور مثال بیان کر دیتا ہوں۔ یہ شیخ ابو بکر البغدادی الحسینی حفظہ اللہ کے اس خط کے متعلق ہے جو انہوں نے ۷ ذی الحجۃ ۱۴۳۳ ھ کو میرے نام لکھا تھا۔ جس کا آغاز انہوں نےحمد او صلوۃ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود وسلام کے بعد ان الفاظ میں کیا ہے:

’ہمارے امیر شیخ ڈاکٹر ابو محمد ایمن الظواہری حفظہ اللہ کے نام! السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ،

پھر اس کے ضمن میں انہوں نے کہا:
ہمار ے محترم شیخ! ہم چاہتے ہیں کہ آپ پر واضح کریں اور اس بات کا اعلان کریں کہ ہم آپ کا حصہ ہیں اور ہم آپ میں سے ہیں اور آپ ہی کے لیے ہیں، ہم اللہ تعالیٰ کو گواہ بناتے ہیں کہ آپ ہمارے معاملات میں ولی الامر ہیں اور جب تک ہم باقی ہیں ہم پر آپ کی سمع و اطاعت کا حق ہے۔ اسی طرح ہماری بہی خواہی اور ہمیں نصیحت و تذکیر آپ پر ہمار ا حق ہے اور آپ کے امر کی اطاعت ہم پر لازم ہے۔ لیکن اکثر ہمارے محاذ کےکچھ مسائل ایسے ہوتے ہیں جن میں اپنی صورتِ حال کی وضاحت کی ضروری ہوتی ہے۔ لہذا ہمیں امید ہے آپ وسعتِ قلبی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہمارے نقطۂ نظر کو سنیں گے، اس کے بعد امر کا اختیار آپ کو ہی ہے اور ہم فقط آپ کے ترکش کے تیروں میں سے ایک ہیں‘۔


۳)  پھر میں نے بحیثیت امیر، شیخ ابو بکر الحسینی حفظہ اللہ کے نام، یکم جمادی الثانی ۱۴۳۴ھ کو اپنے خط میں مسئلے کے فیصلے تک دولۃ الاسلامیہ فی العراق والشام کاامیر ساقط کرنے کا حکم دیا ۔ اس کے بعد میں نے ۱۳ رجب، ۱۴۳۴ ھ کو اپنے خط میں اس امر کی دوبارہ تاکید کی کہ دولۃ الاسلامیہ فی العراق و الشام کو ختم کر کے دولۃ العراق الاسلامیہ کے طور پر اپنا کام جاری رکھا جائے۔ اس لیے ان تمام بیعات کو جو شیخ ابو بکر الحسینی البغدادی حفظہ اللہ نے جمادی الثانی ۱۴۳۴ ھ میں میرے پہلے خطاب کے بعد دولۃ الاسلامیہ فی العراق والشام کے لیے ہیں، میں باطل سمجھتا ہوں۔ اس لیے کہ موجودہ امیر کی حیثیت سے میرے حکم کی واضح مخالفت پر ان کی بنیاد ہے۔


۴) جہاں تک اس جھگٹرے کے بارے میں آپ کے سوال کا تعلق ہے:
تو میں کئی دفعہ اس بات کی وضاحت کر چکا ہوں کہ شام میں پیدا شدہ بحران کے حل کے لیے سب سے پہلا قدم فوراً مجاہدین کے مابین قتال کو روکنا ہے۔ میں نے پھلے بیان میں شیخ ابو محمد الجولانی حفظہ اللہ اور جبھۃ النصرہ کے تمام لشکروں کو امر کیا ہے اور شام میں موجود تمام جہادی مجموعات اسےاپیل کی ہے کہ فوراً ایسے ہر قتال سے رک جائیں جس میں ان کے مجاہدبھائیوں یا عامۃ المسلمین کی جانوں اور حرمتوں کا نقصان ہو اور اسلام کے دشموں کے خلاف صف آرائی کریں۔

اس طرح کئی دفعہ پہلے میں اس بات پر زور دے چکا ہوں کہ سب ایک متفقہ اور مستقل شرعی ہئیت کو حَکم بنائیں جو تمام باہمی اختلافات کا فیصلہ کرے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ آپ معزز بھائیوں اور ان سب اہل علم و فضل کی ذمہ داری ہے جو جہادِ شام کے حامی اور اس (کی حفاظت) کے لیے حرص رکھتے ہیں کہ وہ اس بات کی دعوت دیں اور پھر امت پر یہ بھی واضح کریں کہ کون شرعی تصفیے کو تسلیم کرتا ہے اور کون پہلو تہی کرتا ہے، یہ ایک امانت ہے جو میں آپ کے سپرد کر رہا ہوں کیونکہ آپ مجھ سے زیادہ (اس کے لیے)استطاعت رکھتے ہیں اور آپ میرے حالات کو جانتے ہیں۔

اس کے ساتھ میرا آپ سے اور جہادِ شام کے حامی تمام اہل علم و فضل سے مطالبہ ہے کہ آپ فریق مخالف پر خیانت، تنزل اور کفر جیسے الزامات لگا کر چڑھائی کرنے کے طوفان کا راستہ روکیں۔۔۔ آپ کی ذمہ داری ہے کہ ہر اہل ِفضل کو اس طوفان کے سامنے کھڑا ہونے کے لیے اٹھائیں۔

۵) میرے معزز بھائیو! میں آپ کو اطمینان دلاتا ہوں کہ میں اور میرے بھائی اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے فضل وکرم سے آج بھی آپ سے اپنے عہد کے مطابق اسلام کے خارجی اور داخلی دشمنوں کے خلاف جہاد اور شریعت کی کامل حاکمیت کی دعوت دیتے ہیں۔ جو کوئی اس کے علاوہ کسی دعوت کو ہمارے ساتھ منسوب کرے تو میں اللہ تعالیٰ سے اس کے لیے معافی کا سوال کرتا ہوں اور دعاگوہوں کہ اللہ ہمیں اور اسے اپنی رضا پر اکٹھا کرے۔


۶)  اس کے ساتھ مجھے امید ہے کہ شیخ ابو بکر الحسینی البغدادی حفظہ اللہ اور ان کے بھائی سمجھ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے عراق کے محاذ پر لوٹ جائیں گے جو ان کی گنی چگنی محنتوں کا محتاج ہے تاکہ شام میں مسلمانوں کا بے دریغ بہتا خون روکا جا سکے۔

آخر میں مجھے امید ہے کہ آپ میری طرف سے جواب میں تاخیر پر درگزر کا معاملہ فرمائیں گے کیونہ آپ میری اور میرے بھائیوں کی صورتِ حال سے واقف ہیں، لیکن ہم آپ کو یہ خوشخبری دینا چاہتے ہیں کہ ہم عنقریب اللہ کے اذن سے تاریخِ اسلامی کی ایک عظیم فتح اور نصرِ مجید کا استقبال کرنے والے ہیں۔

استوعکم اللہ الذی لا تضیع و دائعه

والسلام
آپ کا بھائی ایمن الظواہری
(جمعہ ۳ رجب، ۱۴۳۵ ھ)
ادارہ السحاب برائے نشرو اشاعت

بشکریہ مجلہ نوائے افغان جہاد

امرائے جہاد کے نام

امرائے جہاد کے نام
شیخ عطیۃ اللہ اللیبی رحمۃ اللہ علیہ

بسم اللہ الرحمن الرحیم
الحمد للہ رب العالمین، والعاقبۃ للمتقین ولا عدوان إلا علی الظالمین، وصلی اللہ وسلم وبارک علی نبینا محمد المبعوث رحمۃ للعالمین وعلی آلہ وصحابتہ أہلِ العزائم الطیبین الطاہرین، ومن تبعہم بإحسانٍ إلی یوم الدین.

آپ کے بھائی عطیۃ اللہ عفااللہ عنہ کی طرف سے میرے معزز بھائیوں ،امرائے مجاہدین کے نام!
معزز بھائی السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ!

میں اللہ تعالیٰ سے امید رکھتا ہوں کہ آپ خیریت سے ہوں گے اور نیکی اور تقویٰ کی توفیق میں ترقی کے لیے کوشاں ہوں گے۔امابعد۔۔۔اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں!

وَالْعَصْرِ إِنَّ الْإِنْسَانَ لَفِی خُسْرٍ إِلَّا الَّذِینَ آَمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ
’’ کہ انسان نقصان میں ہے مگر وہ لوگ جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے اور آپس میں حق بات کی تلقین اور صبر کی تاکید کرتے رہے‘‘۔

اسی طرح فرمانِ الٰہی ہے :
وَتَعَاوَنُوا عَلَی الْبِرِّ وَالتَّقْوَی وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَی الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُوا اللَّہَ إِنَّ اللَّہَ شَدِیدُ الْعِقَابِ(المائدۃ:۲)
’’اور (دیکھو)نیکی اور پرہیزگاری کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کیا کرو اور گناہ اور ظلم کی باتوں میں مدد نہ کیا کرو اور خدا سے ڈرتے رہو۔ کچھ شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ کا عذاب سخت ہے‘‘۔

اور فرمایا:
قُلْ یَا أَہْلَ الْکِتَابِ لَسْتُمْ عَلَی شَیْءٍ حَتَّی تُقِیمُوا التَّوْرَاۃَ وَالْإِنْجِیلَ وَمَا أُنْزِلَ إِلَیْکُمْ مِنْ رَبِّکُم(المائدۃ:۶۸)
’’کہو کہ اے اہل کتاب !جب تک تم تورات اور انجیل کو اور جو (اور کتابیں) تمہارے پروردگار کی طرف سے تم پر نازل ہوئی ان کو قائم نہ رکھو گے کچھ بھی راہ پر نہیں ہوسکتے‘‘۔

میں اپنی ذات کو اور آپ بھائیوں کو اللہ سبحانہ تعالیٰ کے اس احسانِ عظیم کی تذکیر کرانا چاہتا ہوں کہ اس دور میں جب دنیا اور اس کے فتنوں نے عوام کو گھیر رکھا ہے اور ھوائے نفس اور زندہ و مردہ طواغیت کی عبادت کا غلبہ ہے، اس نے مجھے اور آپ کو اپنی اطاعت نصیب فرمائی اور ہمیں اپنے دین کی نصرت اور اپنے کلمے کی سر بلندی کے لیے اپنے راستے کے مجاہدین میں شامل کیا ۔ہم اس عظیم نعمت کے لیے رب سبحانہ تعالیٰ کے شکر گزار ہیں اور دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اس نعمت کا صحیح معنوں میں شکر ادا کرنے ،اپنے ذکر اور حسنِ عبادت کی توفیق عطا فرمائے ۔

میں آپ کو مزید توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ یہ توفیق اور نعمت اللہ سبحانہ تعالیٰ کی طرف سے ایک بہت بڑی آزمائش اور امانت ہے۔۔۔ جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق خبردار فرمایا ہے ۔یہ ذمہ داری یومِ قیامت بہت بڑی رسوائی اور ندامت کا باعث بن سکتی ہے الاّ یہ کہ ذمہ دار اس کا پوراپورا حق ادا کرے اور اللہ کی قسم انسان اس ذمہ داری کو کماحقہ ادا کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا جب تک کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ اس کی نصرت نہ فرمائے ، اسے توفیق اور رشد و ہدایت عطا کرے ، اسے ظاہر و باطن میں تقویٰ وخشیتِ الٰہی اور یقین و قوت سے نہ نوازے۔اللہ سبحانہ تعالیٰ کی رحمت سے ہی ایسا ممکن ہے کہ بندے کے لیے یہ رتبہ اور ذمہ داری حق سبحانہ وتعالیٰ کی عبادت اور قربت کا ذریعہ بن جائے ۔یہ توفیق اللہ سبحانہ تعالیٰ کے حقِ بندگی کی ادائیگی میں پوری محنت کرنے سے ہی ملتی ہے کہ انسان اپنے آپ کو اس ذاتِ باری کا محتاج سمجھے ،اس کے سامنے انکساری کے ساتھ جھکا رہے اور حسبِ استطاعت ظاہر و باطن میں تواضع اور انکساری اور جواب دہی کے خوف کے ساتھ اللہ سبحانہ تعالیٰ کی اطاعت پر ڈٹا رہے ۔جو چیزیں اس کے حصول میں ممد و معاون ہو سکتی ہیں ان میں کثرتِ ذکر و دعا،قیام اللیل،نفلی روزوں کا اہتمام ،صلحا کی صحبت و مجلس اور علما ئے طیبین کا قرب شامل ہیں ۔مزید یہ کہ انسان اہلِ آخرت کو اپنا ساتھی اور رازداں بنائے اور مغرور،ریاکار ،متکبر دنیادار لوگوں کی صحبت سے دور رہے ۔

محترم بھائی !آپ کے لیے یہ سطور تحریرکرنے کا مقصد حق سبحانہ تعالیٰ کی طرف سے صبر وحق بات کی تلقین ،نیکی وتقویٰ میں تعاون ،مسلمانوں اور ان کے امرا کو نصیحت ،امربالمعروف ونہی عن المنکر اور جہاد فی سبیل اللہ کے احکامات کی تکمیل کی کوشش ہے ۔۔۔اور یہ کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے علم و معرفت اور امور کا جوتجربہ عطا کیا ہے اس کا حق ادا ہو جائے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم سب ایک ہی کشتی کے مسافر ہیں جیسا کہ صحیح بخاری اور سنن ترمذی میں حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنھما سے مروی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کا مفہوم ہے :
’’اللہ سبحانہ تعالیٰ کی حدود پر قائم لوگوں کی مثال اس گروہ کی مانند ہے جو ایک کشتی میں سوارہے ،کچھ لوگ اس کے اعلیٰ درجے میں سوار ہیں اور کچھ نچلے درجے میں۔اگر نچلے درجے والے اوپر والوں سے لاتعلق ہو کر نچلے حصے میں پانی بھرتے رہیں کہ ہمارے حصے میں پانی بھرنے سے اوپر والوں کو کچھ نہیں ہو گا اور اوپر والے انھیں اسی حال میں چھوڑ دیں تو سب ڈوب جائیں گے جب کہ اگر اوپر والے نیچے والوں کو سمجھا کر روک لیں تو سب بچ جائیں گے‘‘۔

بلاشبہ ہماری امت کا جہادی قافلہ اپنی اصلاح ودرستی کے لیے ہم سے لگاتار کوشش کا متقاضی ہے کیوں کہ انحراف کی راہیں بہت زیادہ ہیں اور کوئی اس سے محفوظ نہیں رہ سکتا ،جب تک مضبوطی سے اللہ سبحانہ تعالیٰ کے ساتھ جڑا رہے اور ظاہر وباطن میں اور سری و اعلانی اس کے سہارے کو تھام کر نہ رکھے ۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
ومَن یعتصم باللہ فقد ہُدِیَ إلی صراطٍ مستقیم
’’اور جس نے اللہ (کی ہدایت کی رسی)کو مضبوط پکڑ لیا وہ سیدھے راستے لگ گیا‘‘۔

چنانچہ اللہ وحدہ لاشریک کے علاوہ کوئی پناہ گاہ نہیں ہے جو انسان کو فتنوں سے محفوظ رکھ سکے ۔۔۔

لاَ عَاصِمَ الْیَوْمَ مِنْ أَمْرِ اللّہِ إِلاَّ مَن رَّحِمَ
’’آج اللہ کے امر سے پناہ دینے والا کوئی نہیں سوائے جس پر اللہ رحم فرمائے‘‘۔

کوئی شخص اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتا جب تک اللہ سبحانہ تعالیٰ کی پناہ میں نہ آجائے اورہمیشہ اس کے احکامات اور حقوقِ عبودیت ادا کرتے ہوئے اس کی اور اس کے اولیا کی صف میں شامل رہے ۔یہ وہ شخص ہے جسے حقیقی نصرت و توفیق نصیب ہو ئی ہے ،جو اپنے انجام کے بارے میں مطمئن ہے اور جسے اپنی تجارت میں خسارے کا خدشہ نہیں ہے ۔

اللہ سبحانہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَمَا النَّصْرُ إِلَّا مِنْ عِنْدِ اللَّہِ الْعَزِیزِ الْحَکِیمِ(آل عمران:۱۲۶)
’’اور مدد ہے صرف اللہ ہی کی طرف سے جو کہ زبردست ہے حکمت والا ‘‘۔

وَمَا النَّصْرُ إِلَّا مِنْ عِنْدِ اللَّہِ إِنَّ اللَّہَ عَزِیزٌ حَکِیمٌ(الأنفال:۱۰)
’’اور مدد نہیں مگر اللہ کی طرف سے بے شک اللہ زور آور ہے حکمت والا‘‘۔

اسی طرح ارشادِ باری ہے: 
وَمَا تَوْفِیقِی إِلَّا بِاللَّہِ عَلَیْہِ تَوَکَّلْتُ وَإِلَیْہِ أُنِیبُ(ہود:۸۸)
’’مجھے تو فیق کاملنا اللہ ہی (کے فضل)سے ہے میں اسی پر بھروسہ رکھتا ہوں اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں‘‘۔

اور فرمایا :
إِنَّ الَّذِینَ یَتْلُونَ کِتَابَ اللَّہِ وَأَقَامُوا الصَّلَاۃَ وَأَنْفَقُوا مِمَّا رَزَقْنَاہُمْ سِرًّا وَعَلَانِیَۃً یَرْجُونَ تِجَارَۃً لَنْ تَبُورَ لِیُوَفِّیَہُمْ أُجُورَہُمْ وَیَزِیدَہُمْ مِنْ فَضْلِہِ إِنَّہُ غَفُورٌ شَکُورٌ(فاطر:۲۹،۳۰)

’’جو لوگ اللہ کی کتاب پڑھتے اور نماز کی پابندی کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے اس میں پوشیدہ اور ظاہر خرچ کرتے ہیں وہ اس تجارت (کے فائدے) کے امیداوار ہیں جو کبھی تباہ نہیں ہوگی۔کیونکہ اللہ ان کو پورا پورا بدلہ دے گا اور اپنے فضل سے کچھ زیادہ بھی دے گا وہ تو بخشنے والا (اور) قدردان ہے ‘‘۔

محترم بھائی !ہمیں ہر وقت اس بات کے بارے میں متفکر رہنا چاہیے ۔۔۔ہمیں اس کا کیا فائدہ ہوگا کہ اگر ہم دشمن کو تباہ کرکے ،اس سے انتقام لے کر ،اس پر غلبہ حاصل کر کے ایک اسلامی ریاست قائم کرنے میں کامیاب ہو جائیں اور اس معرکے اور جنگ میں ہمارا اہم کردار ہو لیکن خدانخواستہ اللہ سبحانہ تعالیٰ ہمارے ظاہری و باطنی گناہوں کی وجہ سے ہمارے سب اعمال ضائع کردیں اور انجامِ کار ہم جہنم میں داخل کردیے جائیں(العیاذ باللہ)۔

کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں ہے :
’’بے شک اللہ سبحانہ تعالیٰ فاجر شخص سے بھی اس دین کی نصرت فرمائے گا‘‘۔

الغرض مختصر،اہم اور دائمی نصیحت اور وصیت یہ ہے کہ ہم اپنی ذات کے اندر، ظاہرو باطن میں ،کھلے اور چھپے ہر حال میں اللہ سبحانہ تعالیٰ کے دین ،شریعت اور اس کے احکام پر کاربند رہیں ۔اسی طرح اپنے اہل وعیال ،ماتحت اورزیرِ اتباع لوگوں میں بھی اس کا اہتمام کریں ۔ہم صرف اللہ ہی کے لیے دیں اور اس کے لیے ہی روکیں ۔۔۔ہماری دوستی ، محبت و الفت صرف اللہ کے لیے ہو اور ہماری دشمنی ،غضب و عداوت بھی اسی کی وجہ سے ہو۔

محترم بھائی چند اہم امور جنھیں ہمیں اپنے اوپر واجب کر لینا چاہیے:
ہم سب کو اس کام پر بھرپور توجہ مرکوز کرنی چاہیے کہ ہم اپنے ساتھیوں اور افرادِ جماعت کے اندر فقہ ،صحیح علمِ نافع اور ثقافتِ اسلامیہ کی نشر و اشاعت کا اہتمام کریں ۔ اس مقصد کے لیے مدارس قائم کریں ،علومِ شرعیہ کے دورہ جات اور حلقہ جاتِ علم کا انعقاد کریں ۔طلبہ کو علمِ دین کے حصول کے لیے روانہ کریں تاکہ وہ مستقبل میں علما بن سکیں ۔ اسی طرح اپنی مساجد اور مراکز میں دروس کا اہتمام کریں ،کتابیں نشر کریں اور پڑھائی و تحصیلِ علم کا اہتمام کریں تاکہ ہمیں صالح اور مخلص اہلِ علم کا قرب حاصل ہو سکے ۔یہ ایک عمومی کام ہے۔بے شک علمِ نافع اور علما و متعلمین کی کثرت جماعت اور امت کا حفاظتی حصار ہوتے ہیں۔

اس کے بعد ہمارے لیے بالخصوص بحیثیت مجاہدین جس علم کا سیکھنا اور اپنے ساتھیوں اور افرادِ جماعت کو سکھانا انتہائی اہم اور فرض ہے وہ احکامِ جہاد(قتل و قتال ) کے احکام کہ کس کا قتل ہمارے لیے جائز ہے اور کس کا نہیں ،اسی طرح کس کا مال لینا ہمارے لیے جائز ہے اور کس کا نہیں۔۔۔ اسی طرح ہمارے لیے جہاد میں کس قسم کے تصرفات اور تعلقات جائز ہیں۔ہر مجاہد کو مجملاًان اصولوں کا علم ہو نا چاہیے پھر تفاصیل بعد میں علما سے پوچھ لی جائیں اور یہ بھی حقیقت ہے کہ عامۃ المجاہدین کے لیے تمام امور کی مکمل یا اکثر تفصیل حاصل کرنا ممکن نہیں ہوتا۔

بلاشبہ جہادی تحریک جوں جوں طویل ہوتی ہے اس میں ایسے لوگ آنا شروع ہوجاتے ہیں جو مکمل طور پر جہادی سانچے میں ڈھلے ہوئے نہیں ہوتے ۔چنانچہ اصلاح و تذکیر اور محاسبے و مراقبے کی ضرورت بڑھتی جاتی ہے ۔آج ہم جس مرحلے سے گزر رہے ہیں ،ہمیں مجاہدین کی طرف سے خطا اور تجاوزات کی کثرت نظر آتی ہے ،اس کا سبب مجاہدین کی صفوں میں ایسے افراد یا گروہوں کی شرکت ہے جن کی صحیح اسلامی بنیادوں پر تربیت نہیں ہوئی ہے یا ان میں جہالت اور اخلاقی فساد پایا جاتا ہے ۔اہلِ علم انھیں فجار سے تعبیر کرتے ہیں لیکن وہ جہاد کررہے ہیں۔ہمیں سب سے زیادہ اس بات کا خوف اور فکر ہونی چاہیے کہ تحریکِ جہا د انحراف وفساد یا ہلاکت کا شکار نہ ہوجائے ۔ہم اللہ سبحانہ تعالیٰ سے سلامتی و عافیت کے خواست گار ہیں۔لیکن ضروری ہے کہ ہم اس معاملے پر خصوصی توجہ دیں اور اس کی تفصیلات پر بات کریں :وہ علم جس کی جزئیات کا سیکھنا اور اسے اپنے مجاہد ساتھیوں میں پھیلانا اور اس کی فقہ ،واضح بصیرت اور کامل التزام کو ان کے مابین یقینی بنانا ہمارے اوپر واجب ہے ،وہ خونِ مسلم کی حرمت و عظمت کا علم اور اس معاملے کی اہمیت و عظمت کو دلوں میں اجاگر کرنا ہے ۔مسلمان نفس کا قتل ‘اکبر الکبائر میں سے ہے اور ادلہ شرعیہ کی روشنی میں غالباً اللہ سبحانہ تعالیٰ کے ساتھ کفر و شرک کے بعد سب سے بڑا گناہ ہے۔کتاب و سنت میں اس بارے میں سخت ترین وعید وارد ہوئی ہے ۔جیسے اس میں مبتلا ہونے والاکبھی بھی فلاح نہیں پا سکتا ۔۔۔جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’مومن اس وقت تک دین کے دائرے سے نہیں نکل سکتا جب تک حرام خون نہ بہائے‘‘۔(بخاری)

یہ نہیں کہا جاسکتا کہ تمام مجاہدین اس بات سے اچھی طرح واقف ہیں ۔کیوں کہ افغانستان کے قبائل اور اکثر علاقوں میں اسی طرح پاکستان کے قبائلی علاقہ جات میں قتل وانتقام کی ثقافت کا غلبہ ہے ۔۔۔اور دشمنی اور بدلے کے نام پر قتل اور خون بہانے کا رواج عام ہے جب کہ اس کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ کے حکم پر چلنے والے اہلِ دیانت اور حقیقی سچی توحید پر عمل کرنے والے لوگ کم ہیں ۔خلاصہ یہ کہ ہم پر لازم ہے کہ ہم نشرِ علم کے تمام وسائل کو استعمال کرتے ہوئے مجاہدین کی صفوں میں عملی طور پر اس علم (یعنی خونِ مسلم اور مسلمان کے مال وعصمت کے تقدس کا علم )کو نشر کریں ۔اسی طرح بطورِ امیر یا مسؤل ہمارے اوپر واجب ہے کہ اپنے زیرِ دست لوگوں کے ہاتھوں کو روک کر رکھیں اور ان کا محاسبہ کریں ۔ اللہ سبحانہ تعالیٰ کے احکامات کا التزام کرتے ہوئے اس کی اطاعت میں مستقل مزاجی سے اپنے اوپر شریعت کو نافذ کریں اور جو کوئی اس کی مخالفت کرے اسے سزا بھی دیں ۔

اگر ہم نے ایسا نہ کیا اور اپنی اجتماعیت میں غفلت یا تساہل سے کام لیا یا ایک دوسرے کی رعائت کی یا امرانے اپنے مامورین کے محاسبے ،امر بالمعروف نہی عن المنکر اور اپنے متبعین کو اللہ کی شریعت اور اطاعت پر قائم رکھنے میں کمزوری دکھائی تو ہم یقینابری طرح ناکام ہو جائیں گے اور پھر ہمارا نجام ہلاکت ہی ہے (العیاذ باللہ)۔۔۔

اے اللہ ہم آپ سے آپ کی ناراضی سے پناہ میں آتے ہیں ۔میں آپ کو گواہی دیتا ہوں کہ میں ،میری قیادت اور میرے ساتھی ہر شریعت کی مخالفت کرنے والے فرد سے بری ہیں ۔ہم ہر اس اللہ کے ولی سے محبت رکھتے ہیں اور اس کے حمایتی اور قریب ہیں جو اللہ سبحانہ تعالیٰ کا مطیع و فرماں بردار ،ذاکر و شاکر اور اسی کی طرف رجوع کرنے والا ہو اور اسی طرح ہر اس شخص سے بغض اور دوری رکھتے ہیں جو اس کے متضاد ہو۔

اس سے ملتا جلتا دوسرا اہم امر جس پر ہمیں توجہ کی ضرورت ہے وہ استشہادی عملیات کی فقہ ‘جسے فقہا ئے کرام ’قاعدہ تترس ‘سے موسوم کرتے ہیں ‘اس کی حدود و قیود کو واضح کرنا ہے ۔ہم اپنے ساتھیوں کے سامنے اس کی تشریح کریں بالخصوص وہ ذمہ داران جو ان کارروائیوں کی منصوبہ بندی اور تنفیذ کرتے ہیں اور وہ فدائیین جو ‘ان عملیات میں شریک ہو تے ہیں ان پر ان مسائل کا واضح ہونا بہت ضروری ہے ۔بعض اوقات ہم دیکھتے ہیں کہ فدائی مجاہد اس حوالے سے لاپرواہ اور لاعلم ہوتے ہیں اور عوام کی کوئی پرواہ نہیں کرتے ۔بالخصوص ایسے کم سن فدائی جوعلم و معرفت سے نابلد ہوتے ہیں اور ان کی کوئی دینی تربیت نہیں ہوتی اور اس سے بھی بڑھ کر وہ خطرناک ہدایات ہوتی ہیں جو انہیں عین موقع پر دی جاتی ہیں جو العیاذ باللہ دین کے مخالف ہوتی ہیں۔جیسے مجاہدین میں سے بعض لوگ انہیں یہ پڑھا دیتے ہیں کہ ’’بازاروں میں پھرنے والے عوام چونکہ اہلِ حق اور مجاہدین کی نصرت نہیں کرتے اور طاغوت اور مرتدین کے ساتھ رہنے پر راضی ہیں اس لیے منافق ہیں۔چنانچہ ان میں سے جتنے بھی مارے جائیں فدائی پر اس کا کوئی وبال نہیں ہوگا اور نہ ہی ان کے خون کے بارے میں اس سے کوئی پوچھ ہو گی‘‘۔بلاشبہ یہ مطلقاً ایک عظیم خطا ، واضح گمراہی ہے اور ایک بڑے فساد کا پیش خیمہ بن سکتی ہے ۔

بے شک وہ مسلمان ممالک جہاں مرتد جکومتیں قائم ہیں وہاں کی عام آبادی ، ر سڑکوں اور بازاروں میں پھرنے والی عوام بالاصل اور مجموعی طور پر مسلمان ہیں۔پھر ان میں صالحین اور دیگر آپس میں ملے ہوئے ہیں، ان میں کچھ ایسے ہیں جو مرتد کافر ہیں اور ان کا خون حلال ہے ۔لیکن مسلمان ممالک میں بسنے والے عوام مجموعی طور پر مسلمان ہیں جو کتاب و سنت او ر مسلمانوں کے مشہور مذاہبِ اربعہ کے مطابق زندگی گزار رہے ہیں اور یہ مسئلہ متعدد کتب اور ابحاث سے ثابت ہے ۔جوکوئی اس کے خلاف کہتا ہے تو وہ یقیناًغلو اور گمراہی کا شکار ہے اور اہلِ علم کی متفقہ رائے کا مخالف ہے ۔

مسلمان عوا م کے فسق و فجور،کمی و تقصیر یا جہاد کی نصرت سے پیچھے بیٹھ جانے کے باوجود اگر کوئی اوپر بیان کردہ وجوہات کی بنیاد پرجان بوجھ کر ان پر قتل کاحکم لگاتاہے اور اس زعم میں ہے کہ ان کے خون کے بارے میں اس سے کوئی بازپرس نہیں ہو گی تو وہ صریح گمراہی میں مبتلا ہے اور علم و فقہ کی حدود سے خارج ہے ۔ ایسا شخص حرام کا مرتکب ہے اور اللہ سبحانہ تعالیٰ کی ناراضی ،غضب اور پکڑ کو دعوت دے رہا ہے ۔وہ اس بات کا حق دار ہے کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ اس کو ناکام کرکے دشمن کو اس پر مسلط فرما دے ۔

محترم بھائی !اگر آپ کو اپنے مامور مجاہدین میں ایسے کسی معاملے سے واسطہ پڑے تو مجھے امید ہے آپ شرعی علمی طریقے سے اسے حل کریں گے۔بلاشبہ یہ ایک ذمہ داری ہے جسے فوراً ادا کرنا چاہیے ۔آپ کو چاہیے کہ فوراً ان کا ہاتھ روکیں ،نہیں تو میں آپ کو اس کے برے انجام اور مضر اثرات سے خبردار کرتا ہوں ۔فوراً اس کی اصلاح کا اہتمام کریں اور اس مسئلے کو اولین ترجیح بنائیں۔۔۔ اللہ سبحانہ تعالیٰ آپ کے حالات کی اصلاح فرمائے اور آپ کی نصرت کرے ۔


یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا إِن تَنصُرُوا اللَّہَ یَنصُرْکُمْ وَیُثَبِّتْ أَقْدَامَکُمْ
پھر دینی و دنیوی دونوں اعتبار سے دیکھا جائے تو کسی بھی سیاسی ،عوامی انقلابی تحریک کی کامیابی کیوں کر ممکن ہے کہ اس کی قیادت اور افراد ،عامۃ الناس (عوام، اکثریت اوراپنی قوم )کی ہمدردی اورحمایت حاصل کرنے اور انہیں اپنے ساتھ ملانے کی محنت نہ کریں ۔وہ کیسے اپنی تحریک کی کامیابی کی امید رکھ سکتے ہیں جب کہ لوگ ان سے متنفر ہو اور ہر آنے والے دن کے ساتھ ان سے دور ہوتے جارہے ہوں اور ان کی زبانِ حال کہہ رہی ہو
وجدناہم اخبُرْ تَقْلُہْ۔

کسی بھی فرد کا منصوبہ کیسے کامیاب ہو سکتا ہے جب کہ لوگوں کی رائے اس کے بارے میں یہ ہو
إن ترید إلا أن تکون جبّاراً فی الأرضِ وما ترید أن تکون من المصلحین
’’تم چاہتے ہو کہ زمین میں ظلم و ستم کرتے پھرواور یہ نہیں چاہتے کہ نیکوکاروں میں ہو‘‘۔

روزبروز اس کے بارے میں یہ تاثر عام ہوتا جائے اور وہ خود بھی اپنے افعال سے اس کی تصدیق کرے اور اس کی غلطیوں کی اصلاح ہوتی ہوئی نظر نہ آئے نہ ہی اس کے اندر ،شفقت رحمت اور احسان کا کوئی مادہ پایا جائے!

جب کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جو کے اکرم الخلق ہیں ،انہیں بھی اللہ سبحانہ تعالیٰ فرمارہے ہیں :
وَلَوْ کُنتَ فَظًّا غَلِیظَ الْقَلْبِ لاَنفَضُّواْ مِنْ حَوْلِکَ
’’اور اگرآپ بدخو اورسخت دل ہوتے تو یہ آپ کے پاس سے بھاگ کھڑے ہوتے ‘‘۔

بہت ضروری ہے کہ قائدین جہاداپنے مامورین کو یہ سکھائیں ، ان کی اس نہج پرتربیت کریں اور اس سے پہلے اپنے اندر یہ صفت پیدا کریں کہ انہیں عامۃ الناس کے ساتھ مشفقانہ رویہ اختیار کرنا چاہیے ،عوام کے ساتھ رحمت اور آسانی والا معاملہ کرنا چاہیے۔قائدین اپنے ساتھیوں کی تربیت کریں کہ وہ عوام کو سزا دینے ،قتل کرنے یا ان سے انتقام لینے میں جلدی کرنے کی بجائے ان کی خطاؤں ،نقائص اور کوتاہیوں پر صبر کریں اور محبت اور رفق کے ساتھ بتدریج ان کی اصلاح کے لیے کوشاں رہیں ۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کبھی کوئی مہم روانہ کرتے یا کسی کو کسی سریہ یا جیش کا امیر مقرر کرتے تو ہمیشہ یہ نصیحت کرتے جو متعدد احادیث میں وارد ہوئی ہے:

یسّروا ولا تعسّروا وبشّروا ولا تنفّروا
’’آسانیاں پیدا کرو،مشکلیں نہ بناو،خوش خبریاں سناواور نفرتیں مت پھیلاو‘‘


کیاکبھی ہم نے اس نصیحت میں تدبر کیا ہے اور اس کا صحیح فہم حاصل کر کے اس پر عمل کی کوشش کی ہے ؟
اگلا اہم معاملہ جو توجہ طلب ہے :ہم پر واجب ہے کہ ہم مجاہدین کی نگرانی کریں کہ ان کے اندر دین کے معاملے میں ہرگز غلو پیدا نہ ہو۔بالخصوص لوگوں پر کفر کاحکم لگانے(یعنی مسئلہ تکفیر)کے بارے میں!بے شک اس مسئلے میں غلو ایک عظیم مصیبت ہے۔یہ ان خبیث ترین امراض میں سے ہے جن میں مجاہدین کے مبتلا ہونے کا خدشہ ہوتا ہے ۔اس سلسلے میں کچھ مجرب باتیں عبرت والوں کے لیے ذکر کرتا ہوں۔غلو بالعموم ہر دین میں ایک مہلک اور خطیر مرض رہا ہے جیسا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

إیاکم والغلوَّ فی الدین فإنما أہلک من کان قبلکم الغلوُّ فی الدین(رواہ أحمد والنسائی وغیرہما)
’’تم دین کے معاملے میں غلو سے بچو،بے شک تم سے پہلے والوں کو دین میں غلو کرنے ہی نے ہلاک کیا ‘‘۔

اور فرمایا:
’’ہلک المتنطعون‘‘قالہا ثلاثاً.(رواہ مسلم)
’’ہلاک ہو گئے غلو (بے جا شدت )کرنے والے اور اس کو تین دفعہ دہرایا‘‘۔

یہ ارشادات مطلق دین میں غلو کے بارے میں ہیں،جب کہ اگریہ غلو ’’مسلمانوں کی تکفیر‘‘کے مسئلے میں پیدا ہو جائے اور پھر اسے بہت ہلکا معاملہ سمجھ کر بے خطر اپنا لیا جائے تو یہ اس سے بھی کئی گنازیادہ مہلک اور تباہ کن ہوجاتا ہے ۔ہم اللہ سبحانہ تعالیٰ سے پناہ مانگتے ہیں کہ وہ ہمیں ،آپ کو یا ہمارے کسی بھائی کو اس میں مبتلا کرے ۔

اگر ہمیں پتہ چلے کہ بعض مجاہدین ،دیگر مجاہدین یا عوام کی بے دھڑک تکفیر کرنا شروع ہو گئے ہیں تو لازم ہے کہ ہم اس سے مکمل احتراز کریں اور اپنی پوری قوت سے مجاہدین کی اس مسئلے میں صحیح منہج پر تربیت کی کوشش کریں۔اس سلسلے میں میں نے کئی امور کا تجربہ کیا۔۔۔ ان میں سے ایک آزمودہ طریقہ آپ کے لیے بیان کرتا ہوں جو ان شاء اللہ نفع بخش ہو گا۔ہم اپنے بھائیوں کی تربیت اس انداز میں کریں کہ ان کی توجہ اپنے عیوب پر مرکوز رہے اور وہ اپنے نفس کی اصلاح اور تزکیہ میں اس قدر مشغول ہوں کہ ان کی نظر لوگوں کے عیوب کی طرف اٹھے ہی نہیں ۔ہم بھائیوں کی یوں تربیت کریں کہ وہ ہروقت اپنے دین کی سلامتی اور عافیت کے لیے دعا گو رہیں ،ان کے دلوں میں بغیر علم دینی معاملے میں حکم لگانے کا خطرہ واضح ہو جائے ،اس میں سے اہم ترین یہ کہ بغیر ضروری علم کے کسی مسلمان کی تکفیر کا حکم لگایا جائے ،بھائیوں کو یہ بات سکھائی جائے کہ یہ مسئلہ ایسے اہلِ علم فقہا کے سپرد کرنا چاہیے جن کی دیانت اور ورع معلوم ہو۔غیر عالم عوا م کو ان مسائل میں پڑنے سے مطلقاً روکا جائے ۔امرا کی ذمہ داری ہے کہ اگر وہ عام مجاہدین میں سے کسی کو اپنے اجتہاد سے عوام میں سے فلاں فلاں کی تکفیر پر کلام کرتا ہوا سنیں تو اس کو سختی سے منع کریں ۔اگر ہم ان بنیادوں پر کام کریں تو ان شاء اللہ پھر کامیابی یقینی ہے ۔

مجاہدین کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی اس حدیث کے معنی سمجھائیں :
طوبی لمن شغلہ عیبُہُ عن عیوب الناس
’’خوش خبری ہے اس شخص کے لیے جس کے اپنے عیوب کی مشغولیت نے اسے دوسروں کے عیب ٹٹولنے سے باز رکھا‘‘۔

اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان:
المسلمُ من سلم المسلمون من لسانہ ویدہ(رواہ البخاری و مسلم)
’’مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں‘‘۔

اسی طرح یہ حدیثِ نبوی:
المجاہد من جاہد نفسہ فی ذات اللہ
’’مجاہد وہ ہے جو اپنے نفس کو اللہ کے لیے فنا کردے‘‘

والمہاجر من ہجر ما نہی اللہ عنہ
اور مہاجر وہ ہے جو اس چیز کو ترک کردے جس سے اللہ سبحانہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہو‘‘۔

اسی طرح حضرت معاذ بن انس الجہنی رضی اللہ عنہ کی روایت جس میں وہ بیان فرماتے ہیں:
غزوتُ مع نبیّ اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غزوۃَ کذا وکذا فضیق الناسُ المنازلَ وقطعوا الطریقَ، فبعث نبیُّ اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منادیاً ینادی فی الناس أنَّ مَنْ ضیّقَ منزلاً أو قَطَعَ طریقا فلا جہادَ لہ. رواہ أبو داود وأحمد وغیرہما، وورد فی بعض ألفاظ ہذا الحدیث فی بعض المصادر ۔۔۔أو أذی مؤمناً فلا جہادَ لہ

’’میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوے میں گیا(پھر غزوے کی روداد بیان کی اور فرمایا)لوگ غزوے کے دوران لوٹ مار کرتے اور دوسروں کو پریشان کرتے رہے ،تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک منادی بھیجا جس نے لوگوں میں آکر اعلان کیا کہ جس نے لوٹ مار کی یا منزل کو تنگ کیا اس کاکوئی جہاد نہیں،بعض روایات میں یہ الفاظ ہیں ’’یا مومن کو اذیت دی تو اس کا کوئی جہاد نہیں‘‘۔

اسی طرح مجاہدین کے قائدین پر واجب ہے کہ وہ اپنی اور اپنے مامورین کے نفوس کی ان تمام روحانی بیماریوں سے حفاظت کے لیے بھرپور اور انتھک محنت کریں جس میں ان کے مبتلا ہونے کا خدشہ ہے ۔ان بیماریوں کی تعداد بہت زیادہ ہے ، ان میں سے چند ایک :عُجب ،غرور،کِبر،لوگوں سے خود کو اعلیٰ سمجھتے ہوئے ان پر ظلم کرنا ہیں ۔بے شک یہ تمام امراض ایمان کے لیے مفسد اور انسان کے لیے ہلاکت کا موجب ہیں ۔(العیاذ باللہ)

اس کا سبب یہ ہے کہ اگر مجاہد تزکیہ نفس کے علوم اور معارف نافعہ سے مسلح نہ ہوتو اس راستے کی طوالت اور وحشت ، فتح ،قوت اور غلبہ اور اس کے ساتھ ساتھ لوگوں کی طرف سے ملنے والے طعنے جو امت کے بیٹو ں کو اس کی معاونت سے پیچھے رکھتے ہیں اور پھر جہاد کے راستے میں پیش آنے واالی لگاتار لڑائیاں اور مزاحمتیں ۔۔۔یہ سب عوامل مجاہد کے ان امراض میں مبتلا ہونے کا خدشہ پیدا کر دیتی ہیں اور مجاہد کی غربت اور وسائل کی کمی کی وجہ سے شیطان کے لیے مجاہد کو ان بیماریوں میں مبتلا کرنا آسان ہو جاتا ہے ۔یوں مجاہد ایک عظیم شر کا شکار ہو جاتا ہے اور شیطان اس کے جہاد کو فاسد کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے ۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خبردار فرمایا ہے کہ شیطان ،ابنِ آدم کے لیے اللہ کی راہ میں ہر موڑ پر گھات لگا کر بیٹھتا ہے تاکہ اس کے دین ،ہجرت اور جہاد کو تباہ کرسکے ۔


نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کافرمانِ مبارک ہے:
’’شیطان ابن آدم کو گمراہ کرنے کے لیے مختلف راستوں میں بیٹھا ہوتا ہے ، پہلے اسلام کے راستے میں بیٹھتا ہے اور اس سے کہتا ہے کہ کیا تواسلام قبول کر کے اپنا اور اپنے آباؤاجداد کا دین ترک کردے گا وہ اس کی نافرمانی کر کے اسلام قبول کر لیتا ہے۔تو شیطان ہجرت کے راستے میں آ کر بیٹھ جاتا ہے اور اس سے کہتا ہے کہ تو ہجرت کر کے اپنے زمین اور آسمان کو چھوڑ کر چلا جائے گا مہاجر کی مثال تولمبائی میں گھوڑے جیسی ہے وہ پھر اس کی نافرمانی کر کے ہجرت کر جاتا ہے۔پھر شیطان جہاد کے راستے میں بیٹھ جاتا ہے اور اس سے کہتا ہے کہ اس سے جان و مال دونوں کو خطرہ ہے تو لڑائی میں شرکت کرتا ہے اور مارا جائے گا تیری بیوی سے کوئی اور نکاح کر لے گااور تیرے مال کا بٹوارہ ہو جائے گا لیکن وہ اس کی نافرمانی کر کے جہاد کے لیے چلا جاتا ہے‘‘۔

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مزیدفرمایا:
’’جو شخص یہ کام کر کے فوت ہو جائے تو اللہ کے ذمہ حق ہے کہ اس کو جنت میں داخل کرے اگروہ شہید ہو جائے یا سمندر میں ڈوب جائے یا جانور سے گر کر فوت ہو جائے تب بھی اللہ کے ذمہ حق ہے کہ اس کو جنت میں داخل کرے‘‘۔(احمد،نسائی)

اس کاسبب جیسے میں نے پہلے بیان کیا تفقہ فی الدین کی قلت ہے ،چنانچہ علاج بھی تفقہ الدین ،صحیح اسلامی علوم کے حصول اور تربیت اور تزکیہ نفس کا اہتمام ہے ، اس کے ساتھ ایسے امین و صالح،اہلِ ورع امرا کاتقرر جو معتدل مزاج و اخلاق کے حامل ہوں،صبر و درگزر اور قربانی کے ایسے پیکر کہ خالصتاً اللہ کی رضا کے لیے سب کچھ قربان کریں اور کسی اور سے کسی جزایا بدلے کے طلب گار نہ ہوں،اپنے لوگوں کے ساتھ شفقت کا معاملہ رکھنے والے جو مخلوق پر اس لیے رحم کرتے ہیں کہ الرحمن ان پر رحم فرمائے گا۔اللہ سبحانہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِیْنَ آمَنُوا بِاللَّہِ وَرَسُولِہِ ثُمَّ لَمْ یَرْتَابُوا وَ جَاہَدُوا بِأَمْوَالِہِمْ وَأَنفُسِہِمْ فِیْ سَبِیْلِ اللَّہِ أُوْلَءِکَ ہُمُ الصَّادِقُونOقُلْ أَتُعَلِّمُونَ اللَّہَ بِدِیْنِکُمْ وَاللَّہُ یَعْلَمُ مَا فِیْ السَّمَاوَاتِ وَمَا فِیْ الْأَرْضِ وَاللَّہُ بِکُلِّ شَیْْءٍ عَلِیْمٌ O یَمُنُّونَ عَلَیْْکَ أَنْ أَسْلَمُوا قُل لَّا تَمُنُّوا عَلَیَّ إِسْلَامَکُم بَلِ اللَّہُ یَمُنُّ عَلَیْْکُمْ أَنْ ہَدَاکُمْ لِلْإِیْمَانِ إِن کُنتُمْ صَادِقِیْنَ Oإِنَّ اللَّہَ یَعْلَمُ غَیْْبَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاللَّہُ بَصِیْرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ (الحجرات:۱۵۔۱۸)
’’مومن تو وہ ہیں جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے پھر شک میں نہ پڑے اور اللہ کی راہ میں مال اور جان سے لڑے یہی لوگ (ایمان کے) سچے ہیں۔ان سے کہو کیا تم اللہ کو اپنی دین داری جتلاتے ہو؟ اور اللہ تو آسمانوں اور زمین کی سب چیزوں سے واقف ہے اور اللہ ہر شے کو جانتا ہے ۔یہ لوگ تم پر احسان رکھتے ہیں کہ مسلمان ہوگئے ہیں ،کہہ دو کہ اپنے مسلمان ہونے کا مجھ پر احسان نہ رکھو بلکہ اللہ تم پر احسان رکھتا ہے کہ اس نے تمہیں ایمان کا راستہ دکھایا بشرطیکہ تم سچے (مسلمان)ہو ۔بے شک اللہ آسمانوں اور زمین کی پوشیدہ باتوں کو جانتا ہے اور جو کچھ تم کرتے ہو اسے دیکھتا ہے ‘‘۔

ان آیاتِ کریمہ میں اللہ سبحانہ تعالیٰ نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے والوں کے لیے اس صفت کو مختص فرمایا ہے کہ وہ ایمان لا کر اس کے بارے میں کسی شک میں نہیں پڑتے اور اپنے اموال اور جانوں کی قربانی سے اللہ وحدہ لاشریک کے راستے میں جہاد کرتے ہیں۔پھر اعراب کے اس گروہ کو مخاطب کر کے تنبیہ و سرزنش فرمائی ہے جو ایمان کے دعوے دار تھے اور ایمان لا کر جتلا رہے تھے جب کہ مندرجہ بالا ایمانی صفات سے متصف بھی نہیں تھے۔اللہ سبحانہ تعالیٰ نے اہلِ ایمان کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان جتلانے پر ان کی سرزنش فرمائی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ انہیں کہیں کہ اپنے اسلام کا احسان نہ جتلائیں اور انہیں خبردار کریں کہ ہدایت کا مل جانا صرف اللہ وحدہ لاشریک کا فضل و احسان ہے ۔سچے اہلِ ایمان کی صفات بیان کرنے کے بعد ایمان کے دعوے اور اس پر گھمنڈ کے عیب پر سرزنش فرمانا، اہلِ ایمان کو اس بیماری کے خطرے سے خبردار کرنا ہے ۔(واللہ اعلم)۔۔۔اسی طرح مجاہدین کی قیادت کو چاہیے کہ وہ قول و فعل کے تمام دستیاب شرعی وسائل کو استعمال کرتے ہوئے مجاہدین کی صفوں کو مضبوط کرنے اور ان کے مابین محبت و عاطفت کو بڑھانے کے لیے بھرپور محنت کریں ۔مجاہدین کے باہمی تعلق کو ایسا بنا دیں جیسا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
’’مسلمان آپس میں پیار ومحبت ،رحم وشفقت اور مہربانی برتنے میں ایک جسم کی مثال رکھتے ہیں کہ جسم کا ایک عضو بیمار پڑ جائے تو سارا جسم اضطراب اور بخار میں مبتلا ہو جاتا ہے‘‘۔ (بخاری و مسلم)

اسی طرح اللہ سبحانہ تعالیٰ کا فرمان ہے :
إِنَّ اللَّہَ یُحِبُّ الَّذِیْنَ یُقَاتِلُونَ فِیْ سَبِیْلِہِ صَفّاً کَأَنَّہُم بُنیَانٌ مَّرْصُوصٌ (الصف:۴)
’’اللہ محبت کرتا ہے ان لوگوں کو جو لڑتے ہیں اس کی راہ میں قطار باندھ کر گویا وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں‘‘۔

یہ بات اللہ سبحانہ تعالیٰ کو محبوب اور اس کی رضا کا باعث ہے اور اللہ سبحانہ تعالیٰ نے اس کا حکم فرمایا ہے اس لیے ہمیں چاہیے کہ اس کے حصول کے لیے بھرپور کوشش کریں۔ اس کی عملی شکل یہ ہے کہ اہلِ ایمان کے درمیان محبت کو بڑھانے والے اسباب کی بھرپور ترویج کی جائے اور اس کے برعکس باہم اختلاف،دوری و رنجش یا بغض و عداوت پیدا کرنے والے امور کا تدارک کیا جائے ۔شریعتِ مطہرہ نے بہت تفصیل کے ساتھ باہم محبت کے اسباب ، ان کے فضائل اور آپس میں دوری و رنجش اور بغض و عداوت کے اسباب کے خطرات کو بیان کیا ہے ۔۔۔یہ پاکیزہ ربانی شریعتِ اسلامیہ کے محاسن میں سے ہے ۔اس کی تفصیل بہت طویل ہے ،اس کے لیے سلوک واخلاق اور فضائل پر اہلِ علم کی کتب ، کتبِ احادیث اور ان کی شروحات کا مطالعہ کیا جاسکتا ہے ۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’بدگمانی سے اپنے آپ کو بچاؤ کہ بدگمانی بڑی جھوٹی بات ہے اور دوسرے کے عیوب کی تلاش میں نہ رہا کرواور جاسوسی نہ کیا کرواور نہ دوسروں سے بڑھنے چڑھنے کی ہوس کیا کرو۔نہ باہم حسد کیا کرو ، نہ بغض رکھا کرو ، نہ ایک دوسرے سے پیٹھ پھیر کر چلو ، بلکہ سب ایک اللہ کے بندے اور بھائی بھائی بنے رہو جیسا کہ اس نے حکم فرمایا ہے ،ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے نہ اس پر ظلم کرے ،نہ اس کو بے یارومددگار چھوڑے ، نہ اس کو حقیر سمجھے ۔ پھر سینہ کی طرف اشارہ کرکے فرماتے تھے :تقویٰ اس جگہ ہے ، تقویٰ اس جگہ ہے۔۔۔برائی کے لیے انسان کو اتنا ہی کافی ہے کہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر سمجھے ،مسلمان کاسب کا سب دوسرے مسلمان پر حرام ہے ،خون ہو یا آبرو یا مال‘‘۔ (مالک ،بخاری ،مسلم ابوداود،ترمذی )۔

حاصلِ کلام یہ ہے کہ یہ ان اہم ترین امور میں سے ایک ہے جس کا مجاہدین کی قیادت کو بہت زیادہ اہتمام کرنا چاہیے ۔میرے خیال میں کوئی مضائقہ نہیں ہے اگر میں یہاں اس حوالے سے مجاہدین میں پائی جانے والی چند خطاوں کا تذکرہ کردوں جن کا میں نے خود مشاہدہ کیا ، تاکہ تنبیہ کا صحیح حق ادا ہوجائے اور ہمارے عمل میں بہتری آجائے کیوں کہ علم تو عمل کی خاطر ہی حاصل کیا جاتا ہے ۔

بعض امرااپنے ماتحتوں یا ساتھیوں کو دوسرے امرایا مجاہدین کا مذاق اڑاتے ہوئے دیکھتے ہیں لیکن انہیں منع نہیں کرتے بلکہ کئی دفعہ دوسرے امیر سے کسی رنجش یا اس سے مسابقت کی خاطر اپنے ساتھیوں کو اور تھپکی دے دیتے ہیں ۔یہ انسان کی ایسی بیماری ہے کہ اس کا علاج اس کا اپنا نفس ہی کر سکتا ہے ۔بڑے امرا کو چاہیے کہ اس معاملے میں اپنے نائبین اور ساتھیوں کی نگرانی کریں اور ان کے علاج و اصلاح اور تادیب کا انتظام کریں ۔امیرکے لیے واجب ہے کہ جب وہ اپنے ساتھیوں میں سے کسی کو دوسرے مجاہدین یا امراکے بارے میں بات کرتے ہوئے سنے تو فوراً اس کو منع کرے ،ساتھیوں کو غیبت ،چغلی یا کسی مسلمان کی آبرو پر انگلی اٹھانے سمیت زبان کی تمام آفات اور ان کے مضرات سے خبردار کرے اور کوئی امیر اس وقت تک یہ کام نہیں کرسکتا جب تک اسے دین میں تفقہ حاصل نہ ہو اور وہ عارف باللہ ،متقی اور مخلص نہ ہو۔

مجاہدین کے مجموعات اور گروپوں میں یہ مرض بہت کثرت سے پایا جاتا ہے کہ وہ اپنے مجموعے ، امرا اور کارروائیوں کی مدح میں مصروف رہتے ہیں اور اس پر فخر کرتے رہتے ہیں اور دوسرے گروپوں پر یوں طعن کرتے ہیں:وہ تو بالکل فارغ ہیں ،ان کے پاس کوئی کام نہیں ہے اور ہم بہت مصروف ہیں اور ہم نے فلاں فلاں بڑی کارروائیاں کی ہیں۔ یہ رویہ بہت سی قلبی بیماریوں کی گواہی دیتا ہے ۔اللہ سبحانہ تعالیٰ ہمیں سلامتی و عافیت عطا کرے ،ذمہ داران کو چاہیے کہ وہ تواضع ، اخلاص اور سوئے خاتمہ کے خوف جیسے اخلاق کی تعلیم و تذکیر کے ذریعے اپنے ساتھیوں کی اصلاح کی کوشش کریں۔حسبنا اللہ و نعم الوکیل۔

بدگمانی ، آپ اندازہ نہیں کر سکتے کہ یہ مرض مجاہدین کے مابین کس قدر کثرت سے پایا جاتا ہے ۔ایک دوسرے کے بارے میں غلط فہمیاں پھیلانا اور تہمت لگانا ، فلاں یہ کرنا چاہتا ہے ،فلاں نے یہ کام دنیاوی شہرت ،غلبے یا جاہ کے لیے کیا ہے یا کوئی کسی پر الزام لگاتا ہے کہ وہ ایجنسی کا ایجنٹ ہے وغیرہ وغیرہ۔۔۔یہ بہت خطرناک روش ہے ۔ امرا کو چاہیے کہ اپنے مسلمان بھائیوں کے بارے میں حسنِ ظن رکھنے کے معاملے میں اپنے ساتھیوں کے لیے نمونہ بنیں اور اپنے ماتحت لوگوں کو اس عالی اسلامی اخلاق کی تعلیم دیں۔
ہم اللہ سبحانہ تعالیٰ سے دعاگو ہیں کہ وہ ہمیں اور آپ کو ایمانِ کامل اور عملِ صالح کی توفیق عطا فرمائے۔ہماری ہجرت و جہاد کی حفاظت فرمائے اور اپنے فضل و کرم اور احسان سے انہیں تکمیل تک پہنچائے ۔بے شک وہ فضل و کرم کرنے والا ولی ہے جس کے سوا کوئی الٰہ اور رب نہیں ہے ۔

والحمد للہ رب العالمین ، وصلی اللہ علی محمدٍ وآلہ وصحبہ أجمعین.
والسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
ذو الحجۃ ۱۴۳۱ھ

*****
اردو ترجمہ بشکریہ نوائے افغان
شمارہ اگست،ستمبر،اکتوبر ۲۰۱۴