جمعہ، 27 فروری، 2015

شیخ ایمن الظواہری حفظہ اللہ کا شام کے تنازعہ پردولتِ اسلامیہ عراق اور جبھۃ النصرہ کے درمیان فیصلہ

بسم اللہ الرحمن الرحیم
شیخ ایمن الظواہری حفظہ اللہ کا
شام کے تنازعہ پردولتِ اسلامیہ عراق اور جبھۃ النصرہ کے درمیان فیصلہ


الحمدللہ الذی نصرہ عبدہ و اعز جندہ و ھزم الاحزاب وحدہ، والصلاۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ، و آلہ و صحبہ حملۃ الاسلام و جندہ،


محترم بھائی / فضیلۃ الشیخ ابو بکر بغدادی حسینی، اور ان کی شوریٰ دولتِ اسلامیہ عراق کے بھائیو حفظہم اللہ
محترم بھائی / فضیلۃ الشیخ ابو محمدجولانی، اور جبھۃ النصرہ برائےاہلِ شام کی شوریٰ کے بھائیو حفظہم اللہ

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ،

میں امید رکھتا ہوں کہ آپ اور آپکے ساتھی بھائی بہترین حال میں ہوں گے، اوردعاگو ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اور آپ کو اس بات پر جمع فرمائیں جو ذاتِ باری تعالیٰ کو محبوب ہو، اور جس سے دنیا کی بھلائی بھی نصیب ہو اور آخرت میں بھی کامیاب ہوں، بعدازاں،

(۱)
تمام اہل ِ جہاد کی(اس وقت) حوصلہ شکنی ہوئی جب تنازعہ (شام میں) وقوع پذیر ہوا اور ذرائعِ ابلاغ پر اس کی نشرواشاعت ہوئی اور جو ہمارے محبوب بھائیوں دولتِ اسلامیہ عراق اور جبھۃ النصرہ برائے اہل شام کے مابین برپا ہوا۔

(۲)
ہمیں نہ ہی اس معاملہ پر آگاہی دی گئی اور نہ ہی ہم سے نصیحت (مشورے)کے لیےپوچھا گیا، اور نہ ہی ہمیں دونوں جماعتوں کے درمیان ہونے والے تنازعہ سے آگاہ کیا گیا۔ قابلِ افسوس بات یہ ہے کہ ہم نے اس معاملہ کو ذرائع ابلاغ کے ذریعے سنا۔

(۳)
ابتداً، میں تمام مجاہدین اور مسلمانوں کو یاد دلانا چاہوں گا کہ دولتِ اسلامیہ عراق نے صلیبی حملے کی سازش کو ناکام بنانے میں ایک بہت اہم کردار ادا کیا ہے، جو مسلمانوں کی سرزمین کے قلب میں قابض ہو کر عالمِ اسلام کو تقسیم کرنا چاہتے تھے، او ر جو اس معتدی صفوی رافضی منصوبے کو پھیلا کرعراق، شام اور جزیرۂ عرب تک توسیع دینے کا ارادہ رکھتے تھے۔

اسی طرح ہمیں اپنے دولتِ اسلامیہ عراق کے بھائیوں کےفضل کا بھی اعتراف کرتے ہیں، اور ان میں سب سے اوپر ان کے امیر شیخ ابو بکر بغدادی کا فضل کا اعتراف، جنہوں نے اپنےاموال کے ایثار اور بہترین رجال(مجاہدین) کے ذریعے جہادِ شام کی مدد کی،جب وہ شدت سے اس ظلم کو برداشت کر رہے تھے ، بلکہ ہم نے اس بات کو سراہا جب ہمارے احباب اور جبھۃ النصرہ کے بھائیوں نے شیخ ابو بکر بغدادی کی تعریف کی، اور (ابوبکربغدادی) کے ساتھی بھائیوں نے جبھۃ النصرہ اور انکے امیر شیخ ابو محمد جولانی کی تعریف کی۔

(۴)
میں تمام مجاہدین اور مسلمانوں کو یہ بھی یاد دلاتا ہوں کہ جبھۃ النصرہ میں ہمارے بھائیوں کا بھی اہل شام پر فضل ہے جنہوں نے رباط و جہاد کی سرزمین شام میں فریضہ جہاد کا احیاء کیا اور امت کی اس امید کو زندہ کیا کہ وہ بیتِ المقدس کو آزاد کروائیں گے اورمستقبل قریب میں، باذن اللہ، خلافتِ راشدہ کا قیام کریں گے۔ ہم ان کی بھی تعریف کرتے ہیں کہ انہوں نےلادینی صفوی باطنی رافضی حملے کا محبوب شام کے اسلامی محاذوں سے دفاع کیا۔ہم جبھۃ النصرہ کی طرف سے بھی دولتِ اسلامیہ عراق کے بھائیوں کو دی گئی مدد و نصرت و تائید کے بھی معترف ہیں اور اس کا تذکرہ بھی ضروری سمجھتے ہیں۔

(۵)
جب ان دو مجاہد،مرابط، فاضل گروہوں میں تنازعہ ظاہر ہوا، تو اس مسئلہ کو حل کروانے کے لیے میں نے جمادی الثانی ۱۴۳۴ھ کی پہلی تاریخ کو دونوں فاضل شیوخ ابو بکر بغدادی حسینی اور ابو محمد جولانی کو پیغام بھیجا کہ وہ اس تنازعہ کو واپس اسی جمود کی طرف لے جائیں، جودونوں گروہوں کےتنازعہ سے قبل حالت تھی ۔

(۶)
مجھے دونوں جانب سے خطوط موصول ہوئے اور اس کے علاوہ بھی دوسری اطراف سے بھی پیغامات پہنچے۔ میں نے اس پس منظر میں خراسان میں اپنے بھائیوں اور (خراسان سے) باہر بھائیوں سے مشورہ کیا، اور اپنے رب سبحانہ و تعالیٰ سے بھی استخارہ کیا، تاکہ وہ مجھے اپنے ضعف کے پیش نظراس فتنہ کی وجہ سے لگی آگ کو بجھانے میں مدد فرمائیں، جو ان شریف محترم گروہوں کی درمیان واقع ہوا، میں اس معاملہ پر اللہ تعالیٰ کی مدد کے بعد اس امر(حکم) تک پہنچا ہوں، جو آگے بیان ہو رہا ہے:

(ا)
شیخ ابو بکر بغدادی حسینی نے اعلان دولتِ اسلامیہ عراق و شام کر کے غلطی کی، جس میں انہوں نے نہ ہی ہم سے اجازت لی یا ہم سے مشورہ طلب کیا، بلکہ یہ کام ہمارے علم میں لائے بغیر کیا گیا۔
(ب)
شیخ ابو محمد جولانی نے دولتِ اسلامیہ عراق و شام کےاعلان کو مسترد کرتے ہوئے القاعدہ کے ساتھ اپنے تعلق کا اظہار کرتے ہوئے غلطی کی، جس میں نہ ہی ہم سے اجازت لی گئی یا ہم سے مشورہ طلب کیا گیا، بلکہ یہ کام ہمارے علم میں لائے بغیر کیا گیا۔
(ج)
دولتِ اسلامیہ عراق و شام کو منسوخ کیا جاتا ہے، اور دولتِ اسلامیہ عراق کے نام سے (جہادی) عمل کو جاری رکھنے کی ہدایت کی جاتی ہے۔
(د)
جبھۃ النصرہ برائے اہل شام جماعت القاعدۃ الجہاد کی خودمختار فروع (شاخ) ہے جو قیادتِ عامہ کے تابع ہوگی۔
(ھ)
دولتِ اسلامیہ عراق کے کام کرنے کا علاقہ (ولایت) عراق ہے۔
(و)
جبھۃ النصرہ برائے اہل شام کے کام کرنے کا علاقہ(ولایت) شام ہے۔
(ز)
شیخ ابو بکر بغدادی حسینی کو دولتِ اسلامیہ عراق کے امیر کی حیثیت سے اس فیصلے کی تاریخ کے اجراء کے بعد ایک سال کی مدت تک کے لیے منظور کیا جاتا ہے، جس کے بعد دولتِ اسلامیہ عراق کی مجلسِ شوریٰ جماعت قاعدۃ الجہاد کی قیادتِ عامہ کو جہاد ی عمل سے متعلق باضابطہ بیان بھیجے گی، جس کے بعد قیادتِ عامہ فیصلہ کرےگی کہ ابو بکر بغدادی کی امارت بطور امیر بحال رکھی جائے یا نئے امیر کا انتخاب کیا جائے۔
(ح)
شیخ ابو محمد جولانی کو جبھۃ النصرہ برائے اہل شام کے امیر کی حیثیت سے اس فیصلے کی تاریخ کے اجراء کے بعد ایک سال کی مدت تک کے لیے منظور کیا جاتا ہے، جس کے بعد جبھۃ النصرہ برائے اہل شام جماعت قاعدۃ الجہاد کی قیادتِ عامہ کو جہادی عمل سے متعلق باضابطہ بیان بھیجے گی، جس کے بعد قیادتِ عامہ فیصلہ کرے گی کہ ابو محمد جولانی کی امارت بطور امیر بحال رکھی جائے یا نئے امیر کا انتخاب کیا جائے۔
(ط)
دولتِ اسلامیہ عراق جبھۃ النصرہ برائے اہل شام کو اپنی استطاعت کے بقدر وسائل مہیا کرے گی، جو بھی جبھۃ النصرہ برائے اہل شام نفری، اسلحہ، مال،پناہ گاہوں اور حفاظتی امور سے متعلق طلب کرے گی۔
(ی)
جبھۃ النصرہ برائے اہل شام دولتِ اسلامیہ عراق کو اپنی استطاعت کے بقدر وسائل مہیا کرے گی، جو بھی دولتِ اسلامیہ عراق نفری، اسلحہ، پناہ گاہوں اور حفاظتی امور سے متعلق طلب کرے گی۔
(ک)
دونوں فریق ایک دوسرے پر قول اور فعل کے ذریعے حد سے متجاوز ہونے کو روک دیں گے۔
(ل)
دونوں فریقین اور تمام مجاہدین حرمتِ مسلم سے متعلق ان کی جان، عزت اور اموال کا پاس رکھیں گے، اور کوئی بھی فریق کسی بھی دوسرے مسلمان یا مجاہد پر ظلم نہیں کرے گا، سوائے جبکہ شرعی فیصلہ کے ذریعے اس کا حکم صادر ہو، اور اس کی تفصیل کی وضاحت نیچے ہے۔
(م)
ایک مسلمان (کا خون) دوسرے مسلمان پر حرام ہے،اسی لیے وہ شخص (اسلام سے) خارج نہیں ہوتا جو ایک جہادی جماعت سے دوسری جہادی جماعت یا دیگر جماعت میں چلا جائے، بلکہ اس کی حرمت بطور مسلمان اور مجاہد بحال رہتی ہے، حتی کہ اگر وہ دوسری جماعت میں جا نے پر خطا پر ہی کیوں نہ ہو۔
(ن)
جو کوئی بھی دوسرے مسلمان اور مجاہد بھائیوں کے خون کی حرمت کی پامالی کرے گا، جماعت اس سے متعلق امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے تحت سخت موقف اختیار کرے گی۔
(س)
فضیلۃ الشیخ ابو خالد السوری وہ بہترین شخص ہیں جن کے بارے میں ہم معرفت اور خبر رکھتے ہیں اور وہ مجاہدین کے درمیان رہے ہیں، اور ہم اللہ تعالیٰ کے آگے کسی کی بڑائی بیان نہیں کرتے، وہ ہمارے شام میں مندرجہ ذیل امور میں نمائندے ہیں:
اول:
اس حکم نامہ کی تفسیر(تاویل) میں پیدا ہونے والے کسی بھی خلاف کو وہ حل کریں گے۔
دوم:
اگری کوئی فریق دوسرے فریق پر ظلم و زیادتی کرے، تو میں ان کو اس بات کا مکلف کرتا ہوں کہ وہ اُس تنازعے کے حل کے لیے شرعی عدالت کا قیام کریں۔
(ع)
جماعت قاعدۃ الجہاد کے بھائیوں پر لازم ہے اور اسی طرح میں تمام مسلمانوں اور مجاہدین سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ اس تنازعہ کے اوپر جھگڑے کو روک لیجیے، اور مجاہدین کے درمیان تفرقہ مت ڈالیں، اور محبت و الفت اور تالیفِ قلب کی کوشش کریں اور مسلمانوں اور مجاہدین کی صفوں کے درمیان اتحاد کی کوشش کریں۔

اور ان دونوں محترم مجاہدین گروہوں کے قدر وفضل کو جانیں اور ان دونوں کا ذکرخیر کے علاوہ نہ کریں۔

(۷)
اس فیصلے کے نسخہ کو مندرجہ ذیل تک بھیجا جاتا ہے:

(ا) دولتِ اسلامیہ عراق
(۲) جبھۃ النصرہ برائے اہل شام
(۳) فضیلۃ الشیخ ابو خالد السوری

إِنْ أُرِيدُ إِلَّا الْإِصْلَاحَ مَا اسْتَطَعْتُ وَمَا تَوْفِيقِي إِلَّا بِاللَّهِ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْهِ أُنِيبُ (ھود: ۸۸)
] میں تو اصلاح کرنا چاہتا ہوں جہاں تک بھی میرا بس چلے اور یہ جو کچھ میں کرنا چاہتا ہوں اس کا سارا انحصار اللہ کی توفیق پر ہے، اُسی پر میں نے بھروسہ کیا اور ہر معاملہ میں اسی کی طرف میں رجوع کرتا ہوں[

آپ کا بھائی،
ایمن الظواہری
۱۳ رجب، ۱۴۳۴ھ

مصدر:
مرکز الفجر للاعلام

عربی متن:
https://s3.amazonaws.com/s3.documentcloud.org/documents/710586/ayman-zawahiri.pdf

ترجمہ (انگریزی):
http://s3.documentcloud.org/documents/710588/translation-of-ayman-al-zawahiris-letter.pdf

ترکی فوج خلیفہ کی نگہداشت میں!

بسم اللہ الرحمن الرحیم
ترکی فوج خلیفہ کی نگہداشت میں!


اس واقعہ نے ان لوگوں(دولۃ) کی غلطیوں کو بہت سے لوگوں پر ظاہر کر دیا ہے، سبحان اللہ!

اس واقعہ نے ان کے شرعی حضرات(دینی طالب علم) کے جھوٹ کو سب کے سامنے ظاہر کر دیا ہے۔ وہ کہتے تھے کہ اس مزار میں قبر نہیں ہے، اور یہ کہ بغدادی نے وہاں ایک وفد بھیجا تھا اور انہوں وہاں کسی قبر کو نہ پایا۔ یہ صاف ظاہر کرتا ہے کہ یہ جو تکفیر کر تے ہیں یہ صرف اور صرف ’سیاسی تکفیر‘ ہے یعنی یہ ہر اس کی تکفیر کرتے ہیں جو اِن کی مخالفت کرے تاکہ ان کا خون بہانے کو جائز قرار دیا جائے، نہ کہ اس کی بنیاد دین کی نصرت ہے۔ انہوں نے دیگر جماعتوں اور ان کی افواج پر اس کے کم معاملہ پر تکفیر کا حکم لگایا۔ ان جماعتوں کی تکفیر سے ان کا مقصد ان کے ساتھ جنگ کو جائز کرنا اور اس کے ذریعے حکومت اور غلبہ حاصل کرنا تھا۔



اس واقعہ کے بعد وہ کہتے ہیں کہ دولۃ کےپاس اتنی طاقت نہیں ہے کہ وہ ترکی فوج سے لڑتے۔ اس معاملہ پر غیر جانبدار رہنا چاہیے اگرچہ اس سے دین اور توحیدپر سمجھوتا ہوتا ہے ۔ اوریہاں پر بھی یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ یہ اللہ کے دین کے ساتھ کھیلتے ہیں، اور دین کو اپنی خواہشات کے موافق بناتے ہیں۔

تم نے ترکی سے قوت سے بڑھ کر ممالک کو شام میں داخل ہونے کا سبب فراہم کیا، اور اس بات کی کوئی پرواہ نہ کی جب مشائخ اور علماء یہ بات کہہ رہے تھے کہ ان ممالک کو غیر جانبدار سمجھا جائے۔ تم نے اس کے جواب میں کہا کہ یہ گمراہ ہیں اور صلیبیوں سےڈرتےہیں۔

کیا تم نے امریکہ کو اس جنگ میں داخل نہ کیا جب تم نے اس کے شہریوں کو ذبح کیا؟
اور یہ تمہاری زمینوں پر کوئی بھی شرک پر مبنی قبر بھی نہیں رکھتے؟
کیا تم نےمصر کےغریب قطبی (عیسائی) شہریوں کو قتل کر کے مصر کو لیبیا کی جنگ میں نہیں کھینچا ؟
تمہارا اس سے مقصود یہ تھا کہ یہ کہا جائے: کہ امریکہ اور اسکے اتحادی تمہاری دولۃ کے خلاف جمع ہو ئے ہیں، اور تم اس پر فخر کر سکو۔ تم نے مسلمانوں کی کسی بھی مصلحت کا نہ سوچا کہ اس سے اس مسلمانوں پر طیارے بمباری کریں گے اور تنازعہ کا دائرہ وسیع ہو جائے گا۔

کل تم کہتے تھے کہ ہم نے سایکس پیکو حدود کو ختم کر دیا ہے، اور یہی وہ حجت تھی جب کے سبب بغدادی نے اپنے امیر شیخ الظواہری کے حکم کا انکار کیا، لیکن آج اسی سایکس پیکو حدود کو عذر بناتے ہوئے تم اس شرک پر مبنی قبر کے معاملہ کی حمایت کر رہے ہو۔ اللہ تعالیٰ تمہاری پکڑ کریں!



کیا شیخ ایمن کے سایکس پیکو پر مبنی حکم اس بات کا زیادہ مستحق نہیں تھا کہ اس پر عمل کر لیا جاتا ، اس بات کی نسبت کہ ایک شرک پر مبنی قبر کے معاملہ پر یہی سایکس پیکو حدود کی حمایت کو قبول کیا جا رہا ہے؟

پس غوروفکر کرو، اللہ تعالیٰ تمہاری حفاظت فرمائیں!

یہ تمام قسم کا پراپیگنڈہ جو دولۃ کر رہی ہے وہ صرف اور صرف اس لیے کہ اپنی حکومت اور سلطہ کے لیے ذریعے اپنی مصلحت کی خدمت ہو سکے، نہ کہ اس کا مقصد کچھ اور ہے۔



یہ بات دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے کہ یہ کیسے دولۃ کے لیے احکامات کے ساتھ کھیلتے ہیں، اور جہاں چاہتے ہیں اور جیسے چاہتے ہیں، اس کا اطلاق کر دیتے ہیں۔

لیکن تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے لوگوں کے سامنے ان کی حقیقت کو واضح کیا۔

اور جو لوگ کل تک اس بات پر فخر محسوس کرتے تھے وہ تو فقط حق کی پیروی کرتے ہیں نہ کہ لوگوں کی پیروی کرتے ہیں، آج وہ خود عذر اور معذرت پر مبنی مباحثہ کر رہے ہیں،اگرچہ یہ وہ لوگ ہیں جو دوسروں کی تکفیر کرتے ہوئے بھی ہچکچاہت محسوس نہیں کرتے، اُس حجت پر بھی جو ثابت نہیں ہوتیں۔

ایڈیٹر نوٹ:



یہ وہ جگہ ہے جہاں سلمان شاہ کا مزار نام خلافتِ بغدادی کی حفاظت میں قائم رہا اور پھر اس نام نہاد خلافت کی زمین پر نیٹو ترکی فوج کے ناپاک قدم بھی داخل ہوئے لیکن اِن خوارج العصرنے ثابت کر دیا کہ کفار کو چھوڑیں گے اور مسلمانوں کو ماریں گے۔ ایک گولی بھی نہ چلائی گئی۔

آج کس نے ان کی حقیقت کو ظاہر کیا؟
وہی تو اللہ رب العزت غالب حکمت والا!

مصدر (عربی):
http://justpaste.it/jkkf

ترجمہ(انگریزی):
http://justpaste.it/jkxx

ترجمہ(جرمن):
http://justpaste.it/jlg1

ہفتہ، 21 فروری، 2015

عاصی مخطی خطیبِ غالی (داعش)کے قول کے متعلق ابہام کا شکار ہونے والوں کے لیے دوٹوک رد

بسم اللہ الرحمن الرحیم
عاصی مخطی خطیبِ غالی (داعش)کے قول کے متعلق ابہام کا شکار ہونے والوں
کے لیے دوٹوک رد

شیخ ابو قتادہ فلسطینی حفظہ اللہ

الحمد لله والصلاة والسلام على رسول الله وعلى آله ومن والاه،

بعدازاں:

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَىٰ عَلَى اللَّهِ كَذِبًا أَوْ كَذَّبَ بِآيَاتِهِ إِنَّهُ لَا يُفْلِحُ الظَّالِمُونَ ﴿الأنعام: ٢١﴾
[اور اُس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹا بہتان لگائے، یا اللہ کی نشانیوں کو جھٹلائے؟ یقیناً ایسے ظالم کبھی فلاح نہیں پا سکتے ]

مزید فرمایا:
فَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَىٰ عَلَى اللَّهِ كَذِبًا أَوْ كَذَّبَ بِآيَاتِهِ إِنَّهُ لَا يُفْلِحُ الْمُجْرِمُونَ ﴿يونس: ١٧﴾
[پھر اُس سے بڑھ کر ظالم اور کون ہو گا جو ایک جھوٹی بات گھڑ کر اللہ کی طرف منسُوب کرے یا اللہ کی واقعی آیات کو جھُوٹا قرار دے یقیناً مجرم کبھی فلاح نہیں پا سکتے]

یہ بات خلقِ خدا پر ظاہر ہوئی ہے جو کہ جماعت دولتِ بغدادی کے خطیب نے بیان کی ہےکہ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آج حیات ہوتے اور (لوگوں کے درمیان) داخل ہوتے، تو وہ ان کی دولتِ باطل کی اتباع کرتے، اور یہ قول ان جہلاء اور ان کے اقوال کے فجور پر تکبر کی ایک بین دلیل ہے۔

اس قول پر صحیح بات یہ ہے کہ اس پر صرف حکمِ شرعی فقط یہ نہیں ہے کہ یہ قول ایک صریح کفری قول ہے، جس کے لیے ضروری ہے کہ اس قول کو بیان کرنے والا تائب ہو۔ اگر ہم ان متشدد غالیوں (داعش)کے طریقہ کار کو لوگوں پر حکم لگانے کے معاملہ میں اپنائیں، تو ہم تمام جماعتِ بغدادی پر یہی حکم لگائیں کہ یہ طائفۃٔ کفر اور ارتداد ہے، بالکل انہی کے اس تکفیر کے طریقہ کار پر جیسا کہ ان (داعش) کے بارے میں معلوم ہے کہ یہ جبھۃ النصرہ کی تکفیر اسی قسم کے لوازمات اور باطل تاویلات کی بنیاد پر کرتے ہیں لیکن ہمارا دین ہمیں حق کی طرف رہنمائی کا حکم دیتا ہے، ضروری ہے کہ یہ شخص اپنے خبیث قول سے تائب ہو، یہی مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ گرامی کے لیے حق پر مبنی بات ہو گی، مسلمانوں پر واجب ہے کہ وہ ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے معاملہ میں اس باطل کا رد کریں، اور ادھر اس معاملہ میں بیان کیا جانے والا باطل ایسا امرہے جس پر سب جمع ہیں نہ کہ یہ ظن پر مبنی ہے، اور وہ یہ تصور ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی اور کے تابع ہو ں گے، اور یہ ایک واضح کفر ہے جو کوئی بھی عاقل مسلمان بیان نہیں کر سکتا۔ پس اس لیے ہم یہ کہتے ہیں کہ یہ ایک بہت عظیم بات ہے اور اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے توبہ کرے، اور اپنی دولتِ(باطل) سے متعلق جیسی مرضی بڑائی بیان کرے، لیکن یہ تمام کام ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر طعن کر کے نہ ہو اور نہ ہی اس قسم کی باطل مثالوں کےطریقہ پر کارفرما ہو۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
فَلَا تَضْرِبُوا لِلَّهِ الْأَمْثَالَ إِنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ وَأَنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ ﴿النحل: ٧٤﴾
[پس اللہ کے لیے مثالیں نہ گھڑو، اللہ جانتا ہے، تم نہیں جانتے]

اور یہ الفاظ کے معانی ہمارے رسول اللہ علیہ وسلم کی تحقیر کے مترادف ہیں، کوئی بھی الفاظ جو اس قسم کی باطل مثالوں پر مبنی ہو وہ ہمارے دین میں ایک بہت بڑی بات ہے، اور یہ تصور کہ ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم جملۂ امور کے معاملات میں کسی اور کے تابع ہوں گے یا کسی اور قیادت کے امر کے تابع ہوں گے، یہ سوائے گمراہ قسم کے کفری قول کے کچھ بھی نہیں ہے، پھر یہ بات تو معلوم ہے جو کوئی بھی اب عمل کرتا ہے وہ ثواب اورخطا کا مرکب ہوتا ہے، اور یہ ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سے ایسا ہی معاملہ ہے، اور علماء اجتہاد کرتے ہیں اور وہ یہ نہیں کہتے کہ ان کی اختیار کی گئی اجتہادی رائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اختیار کردہ ہے ،سوائے تب جب کہ نصوص کسی مسئلہ پرواضح اور صراحت کے ساتھ پائی جائیں، اور ان کی دولتِ باطل سے متعلق کسی بھی قسم کی واضح نصوص موجود نہیں ہیں جیسا کہ اس شخص نے اپنے بیان میں کہا، اور ان(دولۃ) کا یہ عمل بھی اجتہادی نوعیت کا ہی ہے اور کثیر اہل علم نے یہ بیان کر دیا ہے کہ یہ باطل(مردود) ہے، تو پھر اس (کو سامنے رکھتے ہوئے) کیسے یہ سوء پر مبنی بیان دیا جا سکتا ہے؟ اگر تمام لوگوں کو اس قسم کے قول کو اختیار کرنے اجازت دے دی جائے، جیسا کہ اس شخص نے بیان کی، تو پھر اس سے ہمارے رسول صلی اللہ علی وسلم کی بہت عظیم اہانت ہو جائے گی، اگر ہر کوئی ایسا تصور(خود سے یا جماعت سے متعلق) ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے متعلق بیان کرنے لگے اور ایسے اقوال کہے اور ان کی تنقیص کرے ،تو یہ ضلات اور کفر ہے، جس پر سب ہی جمع ہیں۔

اس جاہل خطیب کی جانب سے اس قسم کا مقالہ اور وہ بھی اُن کی دولت کے کبار میں سے ایک بڑے کی طرف سے بیان ہون، ان کی جہالت پر ہونے کی دلالت کرتا ہے، اور اگر ہم اس معاملہ کو صحیح نکتہ نظر سے دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ انہوں نے خود کو ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام پر کھڑا کر دیا ہے،جس کسی نے ان سے دشمنی کی اس نے گویا ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے دشمنی کی اور جس کسی نے ان سے موافقت کی گویا اس نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی موافقت کی(والعیاذ باللہ)، اگرچہ وہ اس کو اپنی زبان سے ادا نہیں کرتے لیکن ان کی حقیقتِ حال اسی پر گواہ ہے۔

اس لیے اس کاتب (یعنی شیخ ابو قتادۃ) کے نزدیک ان کی گمراہی انہی اسباب کی وجہ سے معلوم ہوئی، انہیں کلمات کی وجہ سے جو ان کی طرف سے پائے گئے ، ان کی خصوصیات دوسرے لوگوں کے ذریعے نقل ہوئیں جس میں لوگوں نے ان کے امارت سے متعلق احکامات کو نقل کیا، جس میں انہوں نے بابِ اعتقاد و تکفیر کے متعلق خود کو اس پر حق بجناب جانا، اور یہ ابواب تو کسی بھی طالب علم کے لیے بہت بڑا باب ہے، جس کے ذریعے یہ جانا گیا کہ یہ غالی ہیں، اور اس پر میں یہ استطاعت بھی نہیں رکھ پا رہاکہ ان کے بارے میں کہوں کہ یہ خوارج ہیں، کیونکہ خوارج اہل صدق اور اہل شرافت تھے جبکہ یہ (دولتِ بغدادی) اہل خبث، اہل مکروفریب اور اہل کذب ہیں، اس لیے جب میں نے ان کے جہلاء میں سے ایک جاہل کو سنا جب اس نے کہا:

یہی وہ خلیفہ(ابراہیم عواد) ہے جس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
[آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی فرمانبرداری کرنے والوں کے ساتھ ان لوگوں کے خلاف قتال کیجیے جو آپ کی نافرمانی کرتے ہیں]

اور یہ جو بیان ہوا وہ ایک عمومی طریقہ پر بیان ہوا جو اس پر دلالت کرتا ہے کہ وہ اس کبیر کلام کا اطلاق خود پر کرتے ہیں، اور یہ جاہل یہ نہیں جانتا کہ یہ الفاظ حدیثِ قدسی میں بیان ہوئے جو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تبارک وتعالیٰ نے ارشاد فرمایا، وہ اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت سے مقصود اسلام کے اندر داخل ہونا تھا اور اُن کی مخالفت کرنا کفر پر باقی رہنے والی بات تھی، لیکن انہوں نے اس مطلب کو اپنے خلیفہ پر اتار لیا، اور یہی معاملہ اس جھوٹے خطیب نے اپنے قول کے ذریعے کیا، اور یہی ان کے غلو کا سبب ہے اور اسی سبب مجاہدین کے خون کو خصوصی طور پر اپنے لیے حلال جانا ہے، پھر ان لوگوں کے ساتھ کیا معاملہ رکھیں گے جو مجاہدین نہیں ہیں جو اہل قبلہ (مسلمان) ہیں، جنہوں نے اِن کےگمراہ کذاب خلیفہ کی بیعت میں داخل ہونے سے انکار کر رکھا ہے؟

یہ معاملہ کوئی ایسا نہیں ہے جس کے ذریعے اس جاہل کلمہ کہنے والے کی وجہ سے کوئی چھوٹی سی منفعت حاصل کی جائے بلکہ یہ تو ہر عاقل کے لیے اب فرصت ہے جو یہ گمان رکھتا ہے کہ یہ دولتِ خلافت ہے جس کے لیے مسلمان کوشش کر رہے ہیں اور جس کے اندر اللہ تعالیٰ کی شریعت کو قائم کیا جا رہا ہے بلکہ یہ تو حقیقت میں مسلمانوں کے لیے شر کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے، اور یہی معاملہ اس شخص کا ہو گا جو عقل کے ذریعے اس بات کا ادراک کر لے گا اور وہ شخص یہ جان لے گا کہ اِس دولۃ کی نصرت کرنے والوں کی کیفیت بھی کچھ ایسی ہی ہے، اور امت اپنے ضعف کے سبب دشمنوں کی جانب سے بھی برداشت کر رہی ہے اور پھر اُس کے بارے میں خیال کیسا ہو گا جوان دشمنوں کو مزید شر اور ظلم پھیلانے کا وجوب بھی فراہم کرنے لگے!

یہی دولت(بغدادی) اپنی اصلیت کے اعتبار سے خود کو مقامِ شریعت کی منزل پر فائز کرتی ہے اور خود کی حالت کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حالت کے مصادق قرار دیتی ہے جبکہ یہ تو ایسی دولت ہے جو توفیق اور ہدایت سے دور ہو چکی ہے، ہم ان کے چناؤ اور ان کی موافقت کرنے میں اس کے علاوہ کچھ نہیں دیکھتے جیسا کہ کتبِ توحید میں ان کی کیفیت سے متعلق اہانت کا تذکرہ کیا جاتا ہے، ان سے کس قسم کے احترام کی توقع کی جائے جبکہ کرامت تو اس صالح شخص کے ہاتھ میں ہوتی ہے جو کسی مریض کے سر پر اپنا ہاتھ رکھے اور مریض شفاء یاب ہو جائے، جہاں تک تو اس اہانت کا تعلق ہے جیسا کہ یہ مجرم اپنےسطحی طالب علم کے سامنے لا رہا ہے ،اس کی مثال ایسے ہی ہےجیسے کہ سر کے بال (اس بھاری بات کی وجہ سے)گر جائیں، اور یہی حالت اس مبتدی مجرم گمراہ دولت کی ہے، یہ اپنا ہاتھ جس جگہ بھی رکھتے ہیں، سوائے فساد کے کچھ نہیں ہوتا۔

اور جو ان کا رستہ اختیار کرے وہ اپنے مقصد سے پلٹ جاتا ہے اور تباہی اور باطل کی طرف بڑھتا ہے، اور یہ ایک سقوط سے دوسرے سقوط کے طرف جاتے ہیں، ایک بے ادبی سے دوسری بے ادبی کی طرف قدم رکھتے ہیں، اور اگر کسی شخص پر ان غالیوں کی کیفیت اور ان کے چناؤ کا طریقہ کار معلوم ہو جائے، اور وہ اسے لوگوں کے درمیان اس حقیقت کو منکشف کرنے لگے، تو وہ پہلے مرحلے میں سننے والوں کی آنکھوں میں فتورڈالنے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان کا یہ آج کا مرض اب ہر کسی پر واضح ہے سوائے اس کے جو انہی کی مثل مصائب میں مبتلا ہے، اور وہ مرض ہے، باولے کتے کاٹنے کی بیماری جب وہ مریض کے جسم میں داخل ہوتی ہے تو ہر رگ کے اندر گھوم جاتی ہے، اور انہی کی مثل سے متعلق ہم اللہ تعالیٰ سے سوال کرتے ہیں کہ اِن کے شر سے ہمارے لیے کافی ہو جائیں۔ آمین۔

ہمارے دین کا طالب علم یہ اچھی طرح جانتا ہے کہ دین میں سب سے بڑا جرم اللہ تعالیٰ کی ذات کی طرف جھوٹ منسوب کرنا ہے، اور اس خطیب نے ایسا کہا ہے، اور ان کا اس نوعیت کا فعل جو انہوں نے دین سے منسوب کیا وہ دین کے معاملہ میں بہت بڑا قضیہ ہے، جو کہ ایمان اور کفر (کے فیصلہ کے متعلق) ہے، جیسا کہ انہوں نے اس زمانہ میں خیارِامت کی تکفیر کی ہے اور وہ (خیارِ امت) مجاہدین ہیں، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَىٰ عَلَى اللَّهِ كَذِبًا أَوْ كَذَّبَ بِآيَاتِهِ إِنَّهُ لَا يُفْلِحُ الظَّالِمُونَ ﴿الأنعام: ٢١﴾
[اور اُس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹا بہتان لگائے، یا اللہ کی نشانیوں کو جھٹلائے؟ یقیناً ایسے ظالم کبھی فلاح نہیں پا سکتے ]

اللہ تعالیٰ نے اللہ پر جھوٹا بہتان باندھنے کے جرم کو اللہ کے قول کی تکذیب کرنے سے پہلے بیان کیا ہے، اسی طرح شر والے کاموں میں سورۃ الاعراف میں اس میں ذکر بھی ہوا، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

قُلْ إِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّيَالْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ وَالْإِثْمَ وَالْبَغْيَ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَأَن تُشْرِكُوا بِاللَّهِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِهِ سُلْطَانًا وَأَن تَقُولُوا عَلَى اللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ﴿الأعراف: ٣٣﴾
[اے محمدؐ، اِن سے کہو کہ میرے رب نے جو چیزیں حرام کی ہیں وہ تو یہ ہیں: بے شرمی کے کام خواہ کھلے ہوں یا چھپے اور گناہ اور حق کے خلاف زیادتی اور یہ کہ اللہ کے ساتھ تم کسی کو شریک کرو جس کے لیے اُس نے کوئی سند نازل نہیں کی اور یہ کہ اللہ کے نام پر کوئی ایسی بات کہو جس کے متعلق تمہیں علم نہ ہو کہ وہ حقیقت میں اسی نے فرمائی ہے]

میں وہی بات کہتا ہوں جو ہمارے سلف نے بیان کی جب انہوں نے شر والے کاموں کے بارے میں ادنیٰ سے اعلیٰ کی طرف اس کو بیان فرمایا، اور انہوں نے اللہ تعالیٰ کے انکار کے بعد جس کو عظیم شر جانا وہ اللہ تعالیٰ پر ایسی بات کہنا ہے جس کا اُن کے پاس علم نہیں، پھر یہ خطیب بھی اسی جرم کو اپنے اوپر لے کر آیا، اور یہی وہ کام ہے جو اس دولتِ مزعمومہ اپنےعمل سے اپنے مخالفین پر اپنے اختیار اور اپنے احکامات کے نفاذ کے ذریعے کرتی ہے، اور اس قسم کے جرم کے ارتکاب کی وجہ سے اللہ تعالیٰ ایسے شخص کو سزا دینے میں جلدی کرتے ہیں،جبکہ اللہ تعالیٰ عذر اور درگزر کرنے کو پسند فرماتے ہیں جیسا کہ بخاری اور مسلم کی صحیح احادیث میں ابو عبدالرحمن عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ سے روایت ہوتا ہے، جوکہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

[اللہ تعالیٰ سے زیادہ اور کوئی غیرت مند نہیں، یہی وجہ ہے کہ اس نے بےحیا کاموں کو حرام قرار دیا ہے، خواہ وہ ظاہر ہوں خواہ پوشیدہ اور اللہ کو اپنی تعریف سے زیادہ اور کوئی چیز پسند نہیں، یہی وجہ ہے کہ اس نے اپنی خود مدح بیان فرمائی ہے،اللہ تعالیٰ سے زیادہ عذر کو پسند کرنے والا کوئی نہیں، یہی وجہ ہے کہ اس نے نبیوں کو مبعوث فرمایا جو بشارت دینے والے اور ڈرانے والے ہیں]

اور یہ عذر کو متعطل کر دینے اور اس کے لیے مفسد ہ بنا دینے والا معاملہ ہے، اور یہی وہ بات ہے جو میرے سابقہ قول کی وضاحت کرتا ہے کہ یہ ’غبارے‘ کی مانند ہیں، اپنے علم اور اپنے اس یقین پر کہ یہ اس مکروہ جرم (اہانت ِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم)کو اٹھانے کے متحمل نہیں ہو سکتے۔

اس خطیب نے اپنے لیے ایک بہت عظیم عنوان سامنے رکھا ہے، اور اپنے قول کے ذریعے عامۃ الناس کی آنکھیں اِن(داعش) کی گمراہی اور ان کے منہج کی گمراہی پر کھول دی ہیں، جو صرف ایک شخص کے اسقاط سے نہیں جڑی ہوئی، بلکہ حقیقت میں اس کلام کا تعلق ان کے منہج کے ساتھ ہے، جس میں یہ خود کو اور ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام کو اختیار اور افعال کے ذریعے تصور میں رکھتے ہیں، جو کوئی ان کی موافقت کرے گا وہ مسلمان ہو گا اور جو کوئی ان کی مخالفت کرے گا وہ کافر ہو گا، ہم اللہ تعالیٰ کی طرف اس افتراء کو منسوب کرنے والوں سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں ۔

اے اللہ! آپ کے لیے ہی تمام تعریفیں ہیں کہ آپ ہی اپنی مخلوق پر ،ایسے لوگوں کے ذریعے جو آپ پر، آپ کے دین پر، آپ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے دین پر جھوٹ گھڑتے ہیں حجت قائم کرتے ہیں۔

اس فتنہ نےان لوگوں (داعش) کے علم کو منکشف کیا، ان کے دعوے اور جھوٹ بے نقاب ہوئے، اور مسلمانوں کی صفوف ان کے کثیر امراض اور مفسدے سے صاف ہو گئیں، اور اب یہ زوال اورنشیب کی طرف گامزن ہیں، اور یہ خوف کہ ان کے جانے کے بعد اہل اسلام پر مصیبتیں آئیں گی کا حال تو ہر مصیبت کی طرح ہی ہے جو کہ ہر دور ِ انتشار میں ایسی ہی ہوتی ہیں جس میں علم اور معرفت پھیل جاتا ہے۔

اے اللہ، اہلِ اسلام اور فی سبیل اللہ مجاہدین کے لیےکافی ہو جائیں اور ان کو ہر خیروبھلائی عطا فرما دیجیے، والحمدللہ رب العالمین۔

اس (بیان) پر توجہ اور نشر کرنے کے ذمہ دار: ابو عبداللہ قتادۃ

مصدر (عربی):
http://justpaste.it/jh65

حوالہ(انگریزی):
http://justpaste.it/jhbb


ہفتہ، 14 فروری، 2015

جماعت الدولۃ اور ان کا نہ ختم ہونے والا تکفیری سلسلہ!

بسم اللہ الرحمن الرحیم
جماعت الدولۃ اور ان کا نہ ختم ہونے والا تکفیری سلسلہ!
المعتصم بالله المدنی
[شرعی جیش المہاجرین والانصار]

الحمد لله والصلاۃ والسلام علی من لا رسول بعدہ أما بعد:

مجھے یہ بات ان بھائیوں کی طرف سےپہنچی جو جماعت الدولۃ کے دھوکے کا شکار ہوئے اور یہ گمان کیا کہ وہ میدانِ جہاد میں تمام جماعتوں سے افضل جماعت ہے، اور اسی لیے تمام ملتِ کفر ان کے خلاف جمع ہوئی ہے، گو کہ وہ اس چیز کا علم بھی رکھتے تھے کہ ان کے اندر غلو موجود ہے، لیکن انہوں نے ارادہ کیا کہ وہ اُن صفِ اول کے معرکوں میں جا کر قتال کریں گے جو رافضیوں اور ملحدوں کے خلاف موجود ہیں، اور جیسا کہ مشہور ہے کہ جماعت الدولۃ اپنے افراد کو یہ اختیار دیتی ہےکہ وہ نظام ِنصیری یا ملحدین (PKK) یا جن کو وہ’ صحوات‘ (مرتدین) کا نام دیتے ہیں کے خلاف قتال میں سے محاذ کو چن سکتے ہیں۔

عجیب یہ کہ جب وہ پہلی مرتبہ وہاں پر پہنچے تو اُس کا استقبال مسوؤلِ حدود نے کیا، اور اُس سے کہا کہ اللہ کا شکر ہے جس نے تمہیں چنا اور تمہیں دیارِ اسلام میں زندہ رکھا (وہ یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ جو علاقہ جبھۃ النصرہ، جبھۃ الشامیہ، جبھۃ انصار الدین نے آزاد کروائے ہیں وہ دارالکفر ہیں)، پس انہوں نے آپس میں گفتگو کی، اُس مسوؤل نے اُس سے کہا کہ اگر تمہارے سامنے ایک جبھۃ النصرہ اور ایک نظامِ نصیری کا فرد پیش کیا جائے، تو تم کس کو پہلے قتل کرو گے؟

تو انہوں نے بلا شک و شبہ جواب دیا کہ وہ نظامِ نصیری سے تعلق رکھنے والے شخص کو قتل کریں گے، تو اُس مسوؤل نے جواب دیا کہ :

تم نے غلط کہا، یہ لازم ہے کہ تم جبھۃ النصرہ کے فرد کو پہلے قتل کرو کیونکہ وہ مرتدین ہیں اور مرتدین سےقتال کفارِ اصلی سے قتال سے اولیٰ ہے۔

اور اس بات میں اضافہ کرتے ہوئے کہا:
تمہارے عقیدے میں بہت سے اشکال ہیں اور تمہارے لیے شرعی دورہ بہت ضروری ہے، اور اس شرعی دورے کے بعد ہم تمہیں صحوات کے خلاف قتال کے لیے بھیجیں گے، خصوصی طور پر جبھۃ النصرہ کے خلاف!

اُس بھائی نے جواب دیا:
میں چاہتا ہوں کہ میں عراق میں روافض کے خلاف قتال کروں، تو اُس کے مسوؤل نے جواب دیا کہ نہیں! تمہیں عین العرب(کوبانی) میں جا کر لڑنے کی اجازت ہے، مسوؤل نے اس شخص سے کہا کہ تم نے بیعت کی ہے اور ضروری ہے کہ تم سمع و طاعت کے تابع رہو اور تمہیں جہاں بھی کہا جائے، وہیں پر جا کر قتال کرو!

اور پھر اس کے بعد اُس کی ملاقات منبج(شہر) کے شرعی سےہوئے، اور اس کے ساتھ اس ضمن میں مسائل پر گفتگو ہوئی تو اس نے کہا کہ جبھۃ انصار الدین مرتدین ہیں! پس وہ نوجوان اس پر حیران ہوئے اور اُس سےاِس تکفیر کا سبب پوچھا!

تو جواب دیا:
وہ (جبھۃ انصارالدین) مرتدین کو ان محاذوں(علاقوں) میں تقویت دیتے ہیں ، جوہم سے ریف شمالی (حلب) میں لڑ رہے ہیں۔

ہم نے کچھ سوچا اور کچھ اور دیکھا اور یہ قوم (جماعت الدولۃ) اپنے غلو اور تکفیر میں تمام جہادی جماعتوں کے معاملہ میں پھیل رہی ہے۔

حسبنا اللہ و نعم الوکیل
المعتصم بالله المدني
شرعی (جیش المہاجرین والانصار)

مصدر ( عربی):
http://justpaste.it/aldolhda3sh

منگل، 20 جنوری، 2015

کیا آپ کے نزدیک شہرحلب اور ریف حلب (حلب کے گردونواح کے علاقہ) میں چوری کی حد کا نفاذ درست ہے؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم
کیا آپ کے نزدیک شہرحلب اور ریف حلب (حلب کے گردونواح کے علاقہ)
میں چوری کی حد کا نفاذ درست ہے؟

شیخ ابو بصیر الطرطوسی


سوال:
ہمارے محترم شیخ، السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ، ہم حلب اور ریف حلب (حلب کے گردونواح کے علاقے)میں محکمہ شریعہ رکھتے ہیں ، ہم آپ سے یہ سوال کرنے کی خواہش رکھتے ہیں کہ فالوقت ان ایام میں چوری کی حد کی تطبیق کرنا (حلب میں) آپ کی نظر میں کیسا ہے؟ اگراس چوری کی حد کا نفاذ کیا جائے تو اس پر آپ کی کیا رائے ہے؟


جواب:
الحمدللہ رب العالمین، وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ، وبعد،

ہم حلب اور اس کے گردونواح (ریف حلب کے علاقے)میں رہنے والوں کے حالات کو مدِنظر رکھتے ہوئے چوری کی حد کی تطبیق کو (اس وقت) درست نہیں جانتے ہیں اور اس کی دو وجوہات ہیں:

ا)اس کی پہلی وجہ اِس کا ’دارالحرب‘ ہونا ہے، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ’دارالحرب‘ میں اقامتِ حدود سے منع فرمایا ہے۔
۲)عمومی طور پر اہل شام پر غربت اور قحط سالی کی آفت کا شبہ ہونا اور حدود کے نفاذ کو شبہات کی بنیاد پر روک دیا جاتا ہے۔

تاہم اگر چوری کرنے والا پیشہ ور مجرم ہے اور مالدار بھی ہے، اور اس چرانے کے عمل کے ساتھ ساتھ اس نے خود کو صفتِ محاربہ(راہزنی) کے عمل پر بھی جمع کیا ہوا ہے اور راستے بھی منقطع کرنےکا سبب بن رہا ہے، اور لوگوں کو ڈراتا دھمکاتا بھی ہے، تواس قسم کی مثل کے افرادکے لیے جی ہاں! میں ان کے اوپر چوری کی حد کی تطبیق کو درست سمجھتا ہوں،اور اِس کے ساتھ ساتھ اِن پر دوسری سزائیں اور حدود کے نفاذکو بھی جمع کیا جا سکتا ہے جس کے وہ مستحق ہوں، جیسا کہ آیتِ حرابہ میں مذکور ہے۔

واللہ اعلم۔

آیتِ حرابہ:
’’جو لوگ اللہ اور اس کے رسول سے لڑتے ہیں اور زمین میں اس لیے تگ و دو کرتے پھرتے ہیں کہ فساد برپا کریں اُن کی سزا یہ ہے کہ قتل کیے جائیں، یا سولی پر چڑھائے جائیں، یا اُن کے ہاتھ اور پاؤں مخالف سمتوں سے کاٹ ڈالے جائیں، یا وہ جلا وطن کر دیے جائیں، یہ ذلت و رسوائی تو اُن کے لیے دنیا میں ہے اور آخرت میں اُن کے لیے اس سے بڑی سزا ہے۔‘‘
(المائدہ: ۳۳)

عبدالمنعم مصطفی حلیمہ
ابو بصیر الطرطوسی
15.01.2015

مصدر:
http://www.altartosi.net/forum/upload/showthread.php?694

ہفتہ، 3 جنوری، 2015

تنظیم (دولۃ) کی تکفیر ، ان پرلعنت کرنے اور ان کے قیدیوں اور اموال سے متعلق شرعی حکم

بسم اللہ الرحمن الرحیم
تنظیم (دولۃ) کی تکفیر ، ان پرلعنت کرنے اور ان کے قیدیوں اور اموال
سے متعلق شرعی حکم

هيئة الشام الإسلامية کا فتوی

سوال:
اس سے پہلے آپ نے فتوے میں بیان کیا تھا کہ تنظیم دولۃ خوارج ہیں، تو کیا خوارج کفار ہیں، اور کیا ان پر لعنت کرنے یا ان کو بد دعا دینے کا جواز ہے؟ اور کیا ان کے خلاف قتال کرنے میں ابتداء کی جا سکتی ہے؟ ان کے قیدیوں کا کیا حکم ہے، اس اسلحہ اور اموال کا کیا حکم ہے جو ان سے غنیمت کیا جاتا ہے؟

جواب:
الحمد لله، والصلاة والسلام على رسول الله، وبعد

بلاشبہ خوارج اہل بدعت و ضلالت ہیں اور اربابِ فسق و انحراف ہیں، اور ان سب جملہ اوصاف کے ساتھ مجموعی طور پر وہ اہلِ ملتِ اسلامیہ ہیں، اور ان پر دین سے خروج کرنے کا اطلاقاً حکم نہیں ہے، ان کو بد دعا دینا جائز ہے، اور ان پر عمومی طور پر لعنت بھی کی جا سکتی ہے،ان کے اہل تدبیر کا پیچھا کیا جا سکتا ہے ،ان کے زخمیوں کو ختم کیا جا سکتا ہے، اور ان کے قیدیوں کو مصلحت کےپیش نظر قتل بھی کیا جا سکتا ہے۔

اول:
اس موقف پرسلف و خلف کے جمہور علماء قائم ہیں:
وہ خوارج کی عدم تکفیر کے قائل ہیں،اس بات کی دلیل وہ یہ پیش کرتے ہیں کہ صحابہ اکرام رضی اللہ عنھم نے خوارج سے قتال کرنے کے باوجود ان پر کفر کا حکم نہیں لگایا تھا، جیسا کہ ابن ابی شیبۃ ’’المصنف‘‘ میں صحیح اسناد کے ساتھ طارق بن شہاب سے روایت کرتے ہیں، کہتے ہیں: میں سیدنا علیؓ کے ساتھ تھا، میں نے ان سے اہل نہروان(یعنی خوارج) سے متعلق سوال کیا؛

کیا وہ مشرکین (کفار) ہیں؟
انہوں نے جواب دیا: وہ تو شرک سے فرار اختیار کرنے والے تھے۔
میں نے کہا: کیا وہ منافقین میں سے ہیں؟
انہوں نے جواب دیا: منافقین تو اللہ تعالیٰ کا ذکر بہت تھوڑا کرتے ہیں۔
میں نے ان سے پھر کہا: تو پھر وہ کون ہیں؟
انہوں نے جواب دیا: ایسی قوم (گروہ) جنہوں نے ہم سے بغاوت اختیار کی۔

ابن تیمیہؒ ’’مجموع الفتاوی‘‘ میں کہتے ہیں:
’’سیدنا علی بن ابی طالبؓ اور سعد بن ابی وقاصؓ اور دیگر صحابہؓ نے ان (خوارج) کی تکفیر نہیں کی تھی، ان سے قتال کرنے کے باوجود وہ انہیں مسلمان سمجھتے تھے، سیدنا علیؓ نے ان سے اس وقت تک قتال نہ کیا جب تک انہوں نے ناحق خون نہ بہایا اور مسلمانوں کے اموال پر لوٹ مار شروع نہ کی، پھر انہوں نے ان کے ظلم اور بغاوت کو دفع کرنے کے لیے ان سے قتال کیا، نہ کہ ان کے کفار ہونے کی وجہ سے یہ قتال ہوا۔‘‘

خطابیؒ کہتے ہیں، جیسا کہ الحافظ نے ان سے ’’الفتح‘‘ میں نقل کیا ہے:
’’علمائے مسلمین اس بات پر جمع ہیں کہ خوارج اپنی ضلالت وگمراہی کے باجود مسلمانوں کے فرقوں میں سے ایک فرقہ ہے، اور ان کے ساتھ نکاح کرنے اور ان کا ذبیح کھانے کی اجازت ہے، اور وہ ان کی تکفیر نہیں کرتے جب تک کہ وہ اسلام کی اصل سے جڑے ہوئے ہیں۔‘‘

ابن تیمیہؒ ’’منہاج السنۃ النبویہ‘‘ میں کہتے ہیں:
’’بلکہ صحابہؓ اور سیدنا علیؓ کا خوارج سے متعلق معاملہ سیرتِ صحابہؓ کے اہل ارتداد کے ساتھ تعامل کے موقف سے مختلف تھا اور ان میں کسی صحابیؓ نے بھی سیدنا علیؓ سے اس معاملے پرمخالفت نہ کی تھی،اس سے معلوم ہوا کہ صحابہؓ کا اس مسئلہ پر اتفاق تھا کہ یہ (خوارج) دینِ اسلام سے خارج مرتدین میں سے نہیں ہیں۔‘‘

امام نوویؒ ’’شرح صحیح مسلم‘‘ میں لکھتے ہیں:
’’صحیح و مختار مذہب جس کو جمہوراور محققین لوگوں نے بیان کیا ،وہ یہ ہےکہ خوارج کی تکفیر نہیں کی جائے گی، جس طرح کہ باقی اہل بدعت کی تکفیر نہیں کی جاتی۔‘‘

ابن حجرؒ ’’فتح الباری‘‘ میں کہتے ہیں:
’’اہل سنت میں سے کثیر اہل ِ اصول اس جانب گئے ہیں کہ خوارج فساق ہیں، اور ان پر حکمِ اسلام ان کے شہادت کہنے اور ارکانِ اسلام پر جمے رہنے کی وجہ سے قائم ہے، اور یہ مسلمانوں کی تکفیر میں فسق کا شکار ہوئے جو انہوں نے فاسد تاویل سےمستنبط کیں، اور یہ وجوہات انہیں اپنے مخالفین کے خون اور اموال کو جائز قرار دینے پر لے کر گئیں اور انہوں نے ان پر کفر اور شرک کا حکم لگایا۔‘‘

علی ہذالقیاس:
یہ بات درست نہیں ہے کہ ’’تنظیم دولۃ‘‘ پر کفر کا حکم لگایا جائے، یہ بات اس چیز کو مانع نہیں ہے کہ ان کے بعض افراد کسی کفر میں مبتلا ہوں؛ اس بناء پر کہ انہوں نے نواقضِ اسلام میں سے کسی ناقض کا ارتکاب کر لیا ہو یا ان کی صفوں میں کوئی غیر مسلم سرایت کر گئے ہوں، یا اس طرح کے دیگر معاملات، لیکن ان پر حکم(ارتداد) بغیر کسی واضح شرعی دلیل کے نہیں لگایا جائے گا، شرائط کی موجودگی اور موانع کو زائل کرنے کے بعد ہی یہ حکم لگے گا۔

تاہم ان پر بدعت اور ضلالت کا حکم ہے، جیسا کہ امام الاجری نے اپنی کتاب "الشريعة"میں لکھا ہے:
’’علمائے متقدمین اور متاخرین نے اس بات پر اختلاف نہیں کیا کہ خوارج کا تعلق قومِ سوء سے ہے، جو کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کرنے والے ہیں، اگرچہ وہ نماز پڑھیں ، روزے رکھیں اور عبادات میں ریاضت کریں، یہ بات ان کے لیے بالکل بھی نفع بخش نہیں ہے۔‘‘

دوم:
ان کی مقتول اور فوت شدگان کے ساتھ ویسا ہی سلوک کیا جائے گا جیسا کہ بقیہ مسلمانوں کے فوت شدگان کے ساتھ رکھا جاتا ہے: جن میں غسل، کفن،ان پر نمازِ جنازہ پڑھنا شامل ہے، یہ مسلمانوں پر ہے کہ وہ ہر کوئی جو اسلام کا اظہار کرتا ہے اور جس سے متعلق کسی بھی نفاق اور ارتداد کا علم نہیں، ان کی نماز(جنازہ) ادا کریں۔

ابراھیم النخعی کہتے ہیں:
’’انہوں نے اہل قبلہ میں سے کسی کی بھی نمازِ جنازہ سے نہیں روکا ہے۔‘‘ اسے اللالكائي نے"شرح أصول اعتقاد أهل السنة" میں روایت کیا ہے۔

امام مالکؒ کہتے ہیں:
’’اس فوت شدہ پر نمازِ جنازہ کو ترک نہ کرو ، جو قبلہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتا ہو۔‘‘

ابن عبدالبر ؒ ’’ الاستذکار‘‘ میں کہتے ہیں:
’’یہ امام شافعیؒ اور فقہاء کی ایک جماعت کا قول ہے کہ جو کوئی بھی لا إله إلا الله وأن محمداً رسول الله صلى الله عليه وسلم کی شہادت دیتا ہو اس کی نمازِ جنازہ پڑھی جائے۔‘‘

لیکن یہ اہل مقام اور اہل علم کے لیے مشروع ہے کہ وہ اس کی نمازِ جنازہ میں شریک نہ ہوں تاکہ اسے سزا کے طور پر دیکھا جا سکے، اور ان کے اعمال کے سامنے رکاوٹ ڈالی جا سکے، جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کی نماز ترک کی جس نے خودکشی کی، جس نے قیمتی مال غنیمت سے لوٹا، جو مقروض تھا، لیکن صحابہؓ کو حکم دیا کہ وہ اس پر نمازِ جنازہ ادا کریں۔

امام ابن تیمیہؒ ’’منھاج السنۃ‘‘ میں کہتے ہیں:
’’اگر بدعت کی طرف دعوت دینے والے اور فجور کو ظاہر کرنے والے شخص کی نمازِ جنازہ کو ترک کر دینے میں لوگوں کو اس گناہ سے دور رکھنے میں مصلحت ہے، تو پھر اس نماز کا ترک کر دینا اس شخص پر جو اس (بدعت) کو دور کرنے میں اثرانداز ہو سکتا ہو ایک مشروع عمل ہے، اسے چاہیے کہ اس پر نمازِ جنازہ نہ پڑھے۔‘‘

سوم:
اہل علم میں سے ایک فریق یہ رائے رکھتا ہے کہ خوارج کا حکم بغاۃ(باغیوں) کے حکم جیسا ہےجو کہ اس طرح ہے کہ ان کے خلاف قتال کی ابتداء نہیں کی جا سکتی، نہ ہی ان کے زخمیوں کو ختم کیا جا سکتا ہے، نہ ہی ان کےاہل تدبیر کا پیچھا کیا جا سکتا ہے،اور نہ ہی ان کے قیدیوں کو قتل کیا جا سکتا ہے۔

ان میں درست موقف جس پر کثیر محققین جمع ہیں، وہ یہ ہے کہ خوارج کا حکم بغاۃ(باغیوں) کے حکم سے مختلف ہے؛ کیونکہ باغی جماعت المسلمین کے خلاف خروج کرتے ہیں یا ان کے امام کے خلاف بغاوت کرتے ہیں، کسی شبہ پر جو انہیں لاحق ہوتا ہے، لیکن وہ مسلمانوں کی تکفیر نہیں کرتے اور نہ ہی ان کے خون کو بہانا جائز قرار دیتے ہیں، اس لیے ان سے فقط اسی لیے قتال کیا جاتا ہے تاکہ ان کی بغاوت اور عدوان کو دور کیا جا سکے؛ برعکس خوارج کے جو مسلمانوں کی تکفیر کرتے ہیں اور ان کے خون کو مباح قرار دیتے ہیں، اور یہ (شریعت سے)روکنے والا گروہ ہے،اس لیےان کی بغاوت،گمراہی اور مسلمان امت سے ان کے شر کو روکنے کے لیے قتال کیا جاتا ہے ،جیسا کہ ان سے متعلق نبوی امر بھی وارد ہوتا ہے‘‘۔

اس بات کے لیےدلیل یہ ہے کہ امیر المومنین علی بن ابی طالبؓ نے خوارج کے ساتھ وہ معاملہ نہیں رکھاجو انہوں نے اہل جمل اور صفین میں موجود بغاۃ کے ساتھ رکھا۔

ابن قدامۃ المقدسی ’’المغنی‘‘ میں کہتے ہیں:
’’یہ ان شاء اللہ صحیح ہے کہ: خوارج کے ساتھ قتال میں ابتداء کی جا سکتی ہے،ان کے زخمیوں کو ختم بھی کیا جا سکتا ہے؛ چونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو قتل کر نے کا حکم دیا ہے، اور ان خوارج کو قتل کرنے والوں کے لیے ثواب کا وعدہ ہے۔‘‘

سیدنا علیؓ نے ارشاد فرمایا:
’’اگر تم تکبر نہ کرتے، تو میں تمہیں اللہ تعالیٰ نے جوان (خوارج) کو قتل کرنے والوں سے متعلق محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے وعدہ کیا ہے اس کو بیان کرتا۔‘‘

پس اس لیے ان کی بدعت اور سوء عمل، ان کے خون کومباح(جائز) کرنے کا تقاضا کرتا ہے، اس دلیل کی بناء پر کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ان کےگناہ کے بڑے ہونے کے متعلق خبر دی ہے، اور یہ کہ وہ تمام مخلوق سے بدترین ہیں، وہ دین سے نکل چکے ہیں، وہ جہنم کے کلاب (کتے) ہیں، اور ان کے قتل پر ابھارا اور ان سے متعلق خبر دیتے ہوئے فرمایا کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ و سلم ان کو پالیں تو انہیں قوم عاد کی طرح قتل کریں گے۔

اس لیے ان خوارج کو ان لوگوں کے ساتھ ملانا جائز نہیں جن سے ہاتھ روکنے کا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ہے۔اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں سےکثیر نے ان سے قتال کرنے سے پرہیز کیا، اور یہ بات بدعت نہیں ہے۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ ’’مجموع الفتاوی‘‘ میں کہتے ہیں:
’’جمہور اہل علم تفریق کرتے ہیں (مارقہ خوارج) اور (اہل جمل و صفین کے بیچ) جنہوں نے تاویل کرتے ہوئے بغاوت کی، اور یہ صحابہؓ میں معروف تھی، اور اسی پر مجموعی طور پر اہل حدیث اور اہل فقہ اور متکلمین قائم ہیں، اور اس پر کثیر ائمہ اور ان کے متبعین اصحاب جیسا کہ مالک، احمد، شافعی وغیرہ کی جانب سے بہت سی نصوص ہیں۔‘‘

علی ہذالقیاس:
خوارج کے قیدیوں کو قتل کیا جا سکتا ہے، ان کے زخمیوں کو ختم کیا جا سکتا ہے ،ان کے فتنہ انگیزوں کا تعاقب کیا جا سکتا ہے، اور ان کے خلاف قتال کی ابتداء کرنا جائز ہے۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ ’’مجموع الفتاوی‘‘ میں کہتے ہیں:
’’اگران کے پاس قابل قوت جماعت ہے، تو بلاشبہ ان کے قیدیوں کو قتل کرنا ، ان کے فتنہ انگیزوں کاتعاقب کرنا اور ان کے زخمیوں کو ختم کرنا جائز ہے، اگر یہ خوارج ان کے ملکوں میں موجود ہیں، اور اسی عقیدے پر ہیں، تو پھر مسلمانوں پر واجب ہے کہ اپنے ملکوں میں ان سے قتال کرنے کی کی نیت و ارادہ کریں حتی کہ دین تمام کا تمام اللہ تعالیٰ کے لیے ہو جائے۔‘‘

یہ گروہ اسی چیز کا مستحق ہے؛ کہ ان کے فساد کو ختم کیا جائے، اور یہی مناسب ہے کیونکہ وہ بار بار مکر اور دھوکہ دہی کرتے ہیں، االلہ تعالی کے حکم پر اترنے سے روکتے ہیں خصوصی طور پرمسلمانوں، ان کے قائدین، اور ان کے فضلاء کے خلاف جرائم کا ارتکاب کرتے ہیں۔

بلکہ یہ بات بھی جائز ہے کہ ان کے اکیلے فرد کو قتل کیا جائے، اگرچہ اس کی کوئی جماعت یا گروہ نہ ہو، جبکہ وہ اس بدعت کی طرف دعوت دے رہا ہو، کیونکہ اس کے باقی رہنے میں مسلمانوں کا ضرر ہے۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ ’’مجموع الفتاوی‘‘ میں کہتے ہیں:
’’جہاں تک ان خوارج میں سے کسی ایک فرد کو جس پر قدرت حاصل ہو کو قتل کرنےکا معاملہ ہے؛ جیسا کہ حروریہ اور رافضہ اور ان جیسے دیگر فرقے: تو اس سے متعلق فقہاء کی رائے موجود ہیں، اور اس میں فقہاء کے دو قول ہیں اور یہ دونوں ہی امام احمدؒ سے مروی ہیں، اور صحیح قول یہ ہے کہ ان کے فرد واحد کو قتل کرنا جائز ہے،جیسا کہ وہ افراد جو اس مذہب(خوارج) کی طرف دعوت دے رہے ہوں، اور اسی طرز پر ہر وہ شخص جس میں اس قسم کا فساد ہو‘‘

اسی طرح ان کو قیدی بنانا بھی جائز ہے تاکہ ان قیدیوں سے دوسرے مسلمان قیدیوں کے لیے فائدہ اٹھایا جا سکے یا ان کو بدعت سے روکنے کی کوشش کی جا سکے۔

چہارم:
جہاں تک ان اموال کا تعلق ہے جو ان کے قبضہ میں ہے:

جہاں تک ان اموال کا تعلق ہے جو عامۃ الناس کے ہیں: جیسا کہ اسلحہ، تیل کے کنویں، حکومتی عمارتیں، کارخانے وغیرہ، تو انہیں غنیمت نہیں بنایا جا سکتا اور نہ ہی تقسیم کیا جا سکتا ہے، بلکہ ان کی بقدرِ استطاعت حفاظت کی جانی چاہیے تاکہ ان کی منفعت عامہ باقی رہے، اور ان کی حفاظت کو یقینی بنانا چاہیے اور ان کی حمایت بھی کرنی چاہیے، جیسا کہ اس سے قبل ہم اپنے فتوی میں بتا چکے ہیں(بعنوان :عوامی سرمائےاور تیل کے کنووں کے انتظامات سے متعلق تصرف کا حکم)

جہاں تک ان کے مخصوص اموال کا تعلق ہے:
اس بارے میں جمہور علماء کا مذہب یہ ہے کہ اسے غنیمت نہیں بنایا جا سکتا ،وہ مال ان کے ورثاء کو دیا جائے گا۔ ان کی عوام کےخلاف بغاوت اور خروج ان کے ساتھ قتال کو تو جائز کرتا ہے لیکن ان کے اموال کو حلال نہیں کرتا، مگر اُس صورت میں اگر اس مال کا سہارا لیتے ہوئے مسلمانوں سے قتال کر رہے ہوں، اس صورت میں ان کے مال کورکھا جا سکتا ہے حتی کہ ان کا فتنہ ختم نہ ہو جائے، اور اگر مسلمانوں کی مصلحت ہو ان کے مال کو رکھنے میں تو وہ حکمِ شریعت کے پیش نظر جائز ہے۔

ابن المناصف اپنی کتاب ’’ الإنجاد في أبواب الجهاد‘‘ میں کہتے ہیں:
’’یہ بات صحیح ہے کہ کسی بھی صورت میں ان کے اموال کو مباح نہیں کیا جا سکتا، مگر صرف وہ مال جو دوران جنگ ضائع ہو جائے، ان سے دفاع کی ضرورت کے پیش نظر ہو اوران کی اصلاح کے پیش نظر، جو شرعاً مامور ہے ، کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں [آپس کے مال ناجائز طریقہ سے مت کھاؤ]، پس ان لوگوں سے قتال تو اس لئے مباح قرار دیا گیا ہے تاکہ ان کے فساد کو ختم کیا جا سکے، اور ان کو ان کے باطل سے روکا جا سکے، حتی کہ یہ اللہ کے حکم کی طرف آ جائیں، ان کے اموال کی اجازت نہیں دی گئی اور نہ ان کے قیدیوں میں(لونڈی، غلام بنانے کی)اجازت ہے، جیسا کہ کفار کے معاملے میں(اموال اور قیدیوں میں) اجازت دی گئی ہے، بلکہ یہ تمام حرمتِ اسلام کی وجہ سے معصوم ہیں، البتہ اتنی مقدار کی اجازت ضرور ہے جس کے ذریعے ان کے ساتھ قتال تکمیل تک پہنچ جائے، یہ ضروری نہیں ہے کہ ہر وہ شخص جسے قتل کیا جائے یا جس سے قتال کیا جائے ، اس سے اس کا مال بھی مباح ہو جائے۔‘‘

شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ ’’ منهاج السنة النبوية ‘‘ میں لکھتے ہیں:
’’ جن لوگوں نے سیدنا علیؓ سے قتال کیا تھا،ان میں سب سے بدترین خوارج تھے، تاہم اس کے باوجود انہوں نے ان پر کفار والا حکم نہیں لگایا تھا، بلکہ ان کے اموال اور قیدیوں کو(لونڈی، غلام بنانا) حرام قرار دیا۔‘‘

شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ ’’مجموع الفتاوی‘‘ میں کہتے ہیں:
’’ان (خوارج) سے لڑا جائے گا جب تک کہ یہ (فتنہ سے) رکتے نہیں، ان کی اولاد کو لونڈی غلام نہیں بنایا جائیگا. ان کا وہ مال غنیمت نہیں بنایا جائے گا جس کے ذریعے انہوں نے قتال کے لیے معاونت حاصل نہیں کی، اور جہاں تک معاملہ ہے ان گھوڑوں اور ہتھیاروں کا جن سے یہ خوارج لڑائی میں معاونت لیتے ہیں، تو اس معاملہ میں علماء کے درمیان اختلاف ہے، سیدنا علی بن طالبؓ کے بارے میں روایت ہے کہ ان کے لشکر نے ہر وہ چیز چھین لی تھی، جو ان خوارج کے لشکر میں تھی، اگر امیر (ولی الامر) کی رائے یہ بنتی ہے کہ خوارج کے لشکر میں موجود مال کو حلال قرار دے، تو یہ اچھا ہو گا۔‘‘

پنجم:
جہاں تک خوارج پرلعنت کرنے کا معاملہ ہے تو اس میں تفصیل ہے:

(۱)اگر ان پر لعنت کرنے کا انداز عموم پر ہے، جیسا کہ یوں کہا جائے: اللہ تعالیٰ اہل بدعت پرلعنت کریں یا اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو خوارج پر یا اللہ تعالیٰ مجرمین ظالمین پر لعنت کریں یا اِس مجرم تنظیم پر اللہ کی لعنت ہو، تو یہ لعنت کرنا جائز ہے اور اس میں کوئی حرج نہیں،

اللہ تعالیٰ نے ظالمین پر لعنت کی ہے:
خبردار! ظالمین پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہے [ھود: ۱۸]
اور جھوٹوں پر بھی اللہ تعالیٰ نے لعنت کی ہے:
اور خد ا سے دعا کریں کہ جو جھوٹا ہو اُس پر خدا کی لعنت ہو [ آل عمران: ۶۱]

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں پر لعنت کی ہے جو اپنے والدین کو لعنت کریں، جو سود کھائیں یا چوری کریں اور اسی طرح دیگر مثالیں موجود ہیں۔

اس معاملے میں اجماع کا انعقاد ہوا ہے، ابن عربی ’’احکام االقرآن‘‘ میں کہتے ہیں:
’’جہاں تک کسی گناہگار پر مطلقاً لعنت کرنے کا سوال ہے، تو اس پر اجماع ہے۔‘‘

علی ہذالقیاس خوارج پر مطلقاً لعنت کا جواز موجود ہے، تو یہ کہا جا سکتا ہے: اے اللہ، خوارج پر لعنت فرما! کیونکہ ان کا فساد عظیم ہے، یہ مسلمانوں کو قتل کرتےہیں، ان کی تکفیر کرتے ہیں، اور غدر کا معاملہ کرتے ہیں، اور ان سے متعلق بعض صحابہؓ کی طرف سے وارد ہوا ہے: ازارقہ پر لعنت ہو (اور یہ خوارج کا ایک فرقہ ہے)

(۲) جہاں تک ان کے کسی شخص پر معین کر کے لعنت کا حکم ہے، جیسا کہ یوں کہا جائے: اللہ تعالیٰ کی لعنت فلاں شخص پر ہو یا فلاں پر اللہ کی لعنت ہو۔

اس طرح سے لعنت کرنا حرام ہے اور جمہور علماء کے نزدیک اس کا کوائی جواز نہیں؛ کیونکہ اس قسم کی لعنت سے مقصود یہ بد دعا ہوتی ہےکہ یہ محروم ہو جائے اور اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور ہو جائے، حالانکہ اس سے متعلق ہم یقینی طور پر نہیں جانتے کہ اس کا خاتمہ کس حال پر ہو گا۔

ابو حامد الغزالی ’’احیاء علوم الدین‘‘ میں کہتے ہیں:
’’کسی فاسق پر معین کر کےلعنت کرنا جائز نہیں، اور یہ بات یاد رہے کہ لوگوں پر لعنت کرنا ایک خطرناک معاملہ ہے، اس لیے اس سے بچنا چاہیے۔‘‘

امام النووی ’’شرح صحیح مسلم‘‘ میں لکھتے ہیں:
’’کسی بھی کافر یا مسلمان یا جانور کو معین کر کے لعنت کرنا جائز نہیں ہے، مگرجبکہ یہ شرعی نصوص سے واضح ہو جائے کہ وہ شخص کفر پر مرا ہے یا یہ کہ مرنے والا ہے، جیسے ابو جہل اور شیطان(کہ ابوجہل کفر پر مر گیا ہے اور شیطان کفر پر مرنے والا ہے)‘‘

صحیح بخاری میں حدیث وارد ہے سیدنا عمر سے مروی ہے کہ نبی کریمﷺ کے زمانے میں ایک شخص جس کا نام عبد اللہ تھا، وہ رسول کریمﷺ کو ہنسایا کرتا تھا، نبی کریمﷺ نے شراب نوشی پر اسے کوڑے لگوائے تھے، ایک دن (پھر) اسے لایا گیا تو نبی کریمﷺ نے اسے کوڑے لگانے کا حکم صادر فرمایا۔ تو لوگوں میں سے ایک شخص نے کہا: اللہ اس پر لعنت کرے کتنی مرتبہ اسے (شراب پینے پر سزا دینے کیلئے) لایا گیا ہے۔ تو نبی کریمﷺ نے فرمایا کہ اس پر لعنت نہ کرو، اللہ کی قسم، جہاں تک میں اسے جانتا ہوں یہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے۔

امام ابن تیمیہؒ ’’منھاج السنۃ‘‘ میں کہتے ہیں:
’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس متعین صحابیؓ پر لعنت کرنے سے منع کیا جو اکثر شراب پیا کرتا تھا،جس کے لیے انہوں نے اس شخص کی اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کو دلیل بنایا، جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شراب پینے والوں پر مطلقاً لعنت بھی فرمائی، جو اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ مطلقاً لعنت کرنا جائز ہے، جبکہ متعین طور پر ایسے شخص پر لعنت کرنا جو اللہ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتا ہے ناجائز ہے، اور یہ ایک معلوم بات ہے کہ تمام مومن کا معاملہ ایسا ہوتا ہےکہ وہ اللہ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سےلازماً محبت کرنے والا ہوتا ہے۔‘‘

بعض سلف کی طرف سے اہل بدعت اور ضلالت کے ائمہ پر جنہوں نے مسلمانون کو شدید نقصان پہنچایا پر لعنت کی اجازت آئی ہےجیسا کہ مختار بن ابی عبید، بشر المریسی، جھم بن صفوان اور ان جیسے دیگر افراد۔

ہر حالت میں یہ ضروری ہے لعنت اور طعن و تشنیع کی عادت سے بچا جائے،
جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قول ہے:
[مومن بہت طعنے دینے والا، بہت لعنت کرنے والا، فحش گوئی کرنے والا، بےہودہ بکنے والا نہیں ہوتا ہے] (رواہ ترمذی)

مسلمان زبان کی حفاظت کرتا ہے، بہترین قول کہتا ہے، نہ ہی گالیاں دیتا ہے اور نہ ہی لعنت کرتا ہے، نہ ہی طعن کرتا ہے،
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
[(اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم) میرے بندوں سے کہہ دیجیے کہ زبان سے وہ بات نکالا کریں جو بہترین ہو]

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :
’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فحش گوئی کرنے والے اور لعنت کرنے اور گالی گلوچ کرنے والے نہ تھے ۔‘‘ (صحیح بخاری)

پھر یہ کہ کسی معین پر لعنت کرنا کسی شخص کو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور اور محروم ہو جانے کی بددعا ہے ،حالانکہ زیادہ مناسب دعا جو مانگنی چاہیے وہ رشدوہدایت کی ہے، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا کہ اے اللہ رسول قبیلہ دوس نے اللہ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی ، اور (اسلام قبول کرنے سے) انکار کیا، آپ ان کے لیے بددعا کیجیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا:
’’اے اللہ! قبیلہ دوس کو ہدایت دیجیے اور انہیں (میرے پاس) بھیج دیجیے۔‘‘

ششم:
جہاں تک معاملہ ہے خوارج پر ان کے ظلم، بغاوت اور فساد کی وجہ سے بددعا کرنے کا تو یہ جائز ہے، اللہ عزوجل ارشاد فرماتے ہیں:
’’اللہ اس کو پسند نہیں کرتا کہ آدمی بد گوئی پر زبان کھولے، الا یہ کہ کسی پر ظلم کیا گیا ہو، اور اللہ سب کچھ سننے اور جاننے والا ہے‘‘( النساء: ۱۴۸)

ابن عباسؓ کہتے ہیں:
’’اللہ تعالیٰ اس بات کو پسند نہیں فرماتے کہ ایک شخص دوسرے شخص کو بد دعا دے، مگر تب جبکہ وہ مظلوم ہو، اسی لیے یہ بات بیان ہوئی ہے کہ بددعا تب کر سکتا ہے جب کوئی اس شخص پر ظلم کر رہا ہے، اس لیے اللہ تعالی کا یہ قول ہے [الا من ظلم]، مگر یہ کہ کسی پر ظلم کیا گیا ہو، لیکن [وَإِنْ صَبَرَ فَهُوَ خَيْرٌ لَهُ] اگر وہ صبر کرے تو اس کے لیے بہتر ہے[اسے طبری نے اپنی تفسیر میں نقل کیا ہے]‘‘

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور انکے صحابہؓ نے کئی ظالموں کو بددعا دی۔

لیکن اس کے ساتھ ساتھ بددعا میں تجاوز کرنے کی اجازت نہیں ہے جیسا کہ یہ کہا جائے کہ اس کی موت کفر پر ہو یا ان کے خلاف بددعا کی جائے جو کہ مستحق نہیں جیسا کہ ان کے اہل و عیال، یا ا ن کو گالی گلوچ کرنا، ان کی عزت پر جھوٹے الزامات لگا نا، یا ان کی شکل و صورت سے متعلق تمسخر اڑانا اور اسی طرح کی دیگر بددعائیں۔

ان تمام باتوں کو بیان کیے جانے کے بعد:

ان کو حق کی طرف دعوت دیتے وقت مایوس نہ ہوا جائے، ان کو علم سے روشناس کروایا جائے، ان کے شبہات کو دور کیا جائے، بلاشبہ ابن عباسؓ کے ذریعے اولین خوارج کی صفوں میں سے ایک تہائی سے زیادہ تعداد (دلائل کی بنیاد پر) واپس آگئی تھی۔

ہم اللہ تعالیٰ سے سوال کرتے ہیں کہ ان میں ان لوگوں کو ہدایت نصیب فرمائیں جن کی ہدایت سے اسلام اور مسلمانوں کو خیرہو، اور ان کے مکر کو انہی پر لوٹا دیں، ان کے فتنہ کو روک لیں، اور عَلم جہاد کو ملکِ شام اور دیگر مسلمانوں کے ممالک میں بلند فرما دیں، اور ان میں موجود سازشوں کو انہی کی طرف لوٹا دیں۔ (آمین)

وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين

مصدر:
http://islamicsham.org/fatawa/2046


اتوار، 28 دسمبر، 2014

جماعت قاعدۃ الجہاد کا جماعت (دولۃ الاسلامیہ فی العراق و الشام) سےتعلق کی بابت بیان

بسم اللہ الرحمن الرحیم
جماعت قاعدۃ الجہاد کا
جماعت (دولۃ الاسلامیہ فی العراق و الشام) سےتعلق کی بابت بیان


تنظیم قاعدۃ الجہاد / قیادتِ عامہ
– بیان کا متن –



الحمد لله والصلاة والسلام على رسول الله وآله وصحبه ومن والاه،

بعدازاں:

اول:
جماعت قاعدۃ الجہاد اعلان کرتی ہے کہ اُس کا جماعت( الدولۃ الاسلامیہ فی العراق والشام) سے کوئی تعلق نہیں ہے۔نہ ہی اُس کے قیام میں کوئی معاونت کی گئی ہے ، نہ اُس کے قیام کا جماعت قاعدۃ الجہاد نے حکم دیا ہے ، نہ ہی مشورہ،اور نہ جماعت قاعدۃ الجہاد اِس پر راضی ہوئی ہے بلکہ اُسے اِس نام سے کام کرنے سے منع کیا ۔ اس لیے یہ جماعت قاعدۃ الجہاد کی کوئی شاخ (فروع)نہیں ہے، نہ ہی کوئی تنظیمی تعلق اِن دونوں کو آپس میں جوڑتا ہے اور نہ ہی جماعت اُس کےافعال کی ذمہ دار ہے۔

جماعت کی شاخیں وہ ہیں جن کا اعلان جماعت قاعدۃ الجہاد کی قیادت عامہ کرتی ہے، اور ان کو تسلیم کرتی ہے۔ اس تاکید کے ساتھ ساتھ کہ ہم ہر مجاہد سے دوستی،محبت اور تائید کی یقین دہانی کراتے ہیں اور ہم مسلمانوں اور مجاہدین کے مابین اخوت کے رشتے کے حریص ہیں۔

دوم:
جماعت قاعدۃ الجہاد جہادی عمل سے متعلق بعض اہم کاموں کی تاکید کرتی ہے:

- شوری، اجتماعی عمل اور اہم فیصلوں میں مجاہدین کے مابین اور ان کی قیادت کے اقرار کے بعد حتمی فیصلوں کو کرنے کا حریص ہونا۔

- اس بات کا حریص ہونا کہ مجاہدین کے مابین اختلافات آپس میں مل بیٹھ کر حل ہوں ،نہ کہ انہیں ذرائع ابلاغ کی زینت بنایا جائے۔

- اس بات کو یقینی بنانا کہ ہم امت کا حصہ بننے کی کوشش کریں، اس کے حق پر قابض نہ ہوں، نہ ہی اس پر اپنا تسلط جمائیں، اورامت جس کو بھی حکمران منتخب کرنا چاہے، جس میں حکمران بننے کی شرعی شرائط پائی جائیں، اس سے یہ حق چھین لینے والے نہ بنیں، اور اسی طرح جب تک ہم علمائے جہاد اور قیادتِ جہاد اور مسلمانوں اور مجاہدین سے مشورہ نہ کر لیں، تب تک کسی بھی امارت یا دولت (ریاست) کا اعلان نہ کریں، اور زبردستی لوگوں پر (بغیر مشورے) والی امارت اور دولت کو مسلط نہ کریں، اور جو اس (بغیر مشورے کےامارت یا ریاست) کی مخالفت کرے، اسے(دائرہ اسلام یا مسلمانوں کی صف ) سے خارج کرنے میں جلدی نہ دکھائیں۔

- اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ امت بنیادی مسائل پر جمع ہو، اور یہی شیخ اسامہ بن لادن رحمہ اللہ کا منہج بھی تھا، جس کے ذریعے انہوں نے جہادی عمل کو پروان چڑھایا اور اس کی دعوت دی، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں شہادت سے سرفراز کیا، ہم ان کے بارے میں یہی گمان رکھتے ہیں، اور حسیبِ اصلی اللہ تعالیٰ کی ذاتِ اقدس ہی ہے۔اسی منہج کو واضح کرنے اور امت کو جن بنیادی مسائل پر جمع کرنا مطلوب ہے کی وضاحت کرنے کے لیے ہی جماعت قاعدۃ الجہاد نے(وثیقۂ نصرتِ اسلام) جاری کیا۔

- جہادی عمل کو نقصان پہنچانے والے تصرفات اور اختلافات سے نجات حاصل کرنے کا بہت خیال رکھنا، اس مقصد کے لیے جماعت نے (جہادی عمل سے متعلق عمومی ہدایات) کی دستاویز کو نشر کیا۔

- ہر اس تصرف سے سے برات کا اعلان کیا جائے جوکسی مجاہد، مسلمان یا کافر پر ظلم سے متصف ہو۔

اور یہاں ہم شا م میں مجاہدین جماعتوں کے درمیان ہونے والے فتنہ سے برات کا اظہار کرتے ہیں، اور ہم اس ناحق بہائے گئے خون سےبرات کا اظہار کرتے ہیں، خواہ وہ کسی طرف بھی بہائے گئے ہوں، اورہم سب کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اللہ کا تقوی اختیار کریں، اور اپنے اوپر موجود بھاری ذمہ داری کو پہنچانیں، اور اس فتنہ کا تدارک کریں جو یہاں تک پہنچ چکا ہے، اور جس کی وجہ سے امتِ مسلمہ کےمستقبل اور جہادِ شام پر ایک سنگین آفت آن پڑی ہے۔

ہم ہرخردمند ، دین دار اور جہاد کی حرص رکھنے والے کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اِس فتنے کے خاتمے اور فوری طور پر جنگ بندی کے لیے عملی کوشش کریں، پھر مجاہدین کے مابین تنازعات کا فیصلہ کروانے کے لیےشرعی عدالتوں کا رخ کریں جو مجاہدین کے مابین موجود ہیں ۔

سوم:
ہم اس بات کی تاکید کرتے ہیں کہ ہمارے اور باقی تمام (افراد اور جماعتوں) سے متعلق نصیحت کا دروازہ کھلا ہے، اور بلاشبہ ایک مسلم مجاہد پر اخوت، نصرت، ولایت کا حق باقی رہتا ہے، چاہے وہ کتنا ہی آگے کیوں نہ بڑھ جائے۔

اور ہم خود کو بھی ان تمام (امورِ متعلقہ) سے بھی پاک نہیں گردانتے۔ (ہمیں بھی ان کی ضرورت بہرحال ہے)

وَمَا أُبَرِّئُ نَفْسِي إِنَّ النَّفْسَ لأَمَّارَةٌ بِالسُّوءِ إِلاَّ مَا رَحِمَ رَبِّيَ إِنَّ رَبِّي غَفُورٌ رَّحِيمٌ
میں کچھ اپنے نفس کی براءَت نہیں کر رہا ہوں، نفس تو بدی پر اکساتا ہی ہے الا یہ کہ کسی پر میرے رب کی رحمت ہو، بے شک میرا رب بڑا غفور و رحیم ہے (۱۲: ۵۳)

إِنْ أُرِيدُ إِلاَّ الإِصْلاَحَ مَا اسْتَطَعْتُ وَمَا تَوْفِيقِي إِلاَّ بِاللّهِ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْهِ أُنِيبُ
میں تو اصلاح کرنا چاہتا ہوں جہاں تک بھی میرا بس چلے اور یہ جو کچھ میں کرنا چاہتا ہوں اس کا سارا انحصار اللہ کی توفیق پر ہے، اُسی پر میں نے بھروسہ کیا اور ہر معاملہ میں اسی کی طرف میں رجوع کرتا ہوں (۱۱: ۸۸)

وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين، وصلى الله على سيدنا محمد وآله وصحبه وسلم

جماعت قاعدۃ الجہاد / قیادتِ عامہ
۲۱ ربیع الاول ۱۴۳۵ھ

مصدر:
http://justpaste.it/ea9k


بدھ، 10 دسمبر، 2014

تنظیم القاعدۃ اور جماعت الدولۃ میں فرق

بسم اللہ الرحمن الرحیم
تنظیم القاعدۃ اور جماعت الدولۃ میں فرق
کاتب /محمد فيزو
ٹویٹر/ @fezoo111


طرفین کو حسبِ معرفت جاننے کے بعد ہم بعض انٹرنیٹ تویٹس کو اس عنوان کے تحت نشر کرتے ہیں
[تنظیم القاعدۃ اور جماعت الدولۃ میں فرق]

القاعدہ اس بات کو سامنے لاتی ہے کہ وہ امت کا ایک جزو ہے جو کہ امت کے داخلی اور خارجی دشمنوں سے جہاد کرنے پرکھڑی ہے؛
جبکہ دولۃ اس بات کو سامنے لاتی ہے کہ وہ خود امت ہے، اور اسی کی بنیاد پر دوستی اور دشمنی رکھتی ہے۔
....................
القاعدہ اس چیز کی کوشش کرتی ہے کہ خلافتِ راشدہ کی اقامت شوری کے منہج پر کی جائے،
جبکہ دولۃ اقامتِ خلافت کو تغلب کےاصول پر قائم کرنا چاہتی ہے،
دونوں فریقین نے اپنے مقالات کو اس پسِ منظرمیں عمل کے ذریعے وضاحت کی ہے۔
....................
القاعدہ کوشش کرتی ہے کہ تمام اسلامی قوتوں کے ساتھ مل کر مشترک ہدف کے حصول کی کوشش کی جائے،
جبکہ دولۃ یہ سمجھتی ہے کہ باقی تمام اسلامی قوتیں ان سے الگ ہیں،
جس کا سبب ان کا کسی تنازع سے متعلق خوف ہے یا کسی بہتر حکومتی منصوبے کا سامنے آنا ہے۔
....................
القاعدہ منہج میں اپنے مخالفین کے ساتھ کتاب اللہ کے ذریعے ہدایت پر قائم ہے،
اور دین کے دشمنوں کے خلاف وہ تلوار کے ذریعے نصرت کرنے کی قائل ہے،
جبکہ دولۃ کتاب اللہ کے ذریعے ہدایت فقط اپنے ماتحت لوگوں تک محدود رکھتی ہے،
اور اپنے مخالفین کے خلاف تلوار کے ذریعے نصرت کرنے کی قائل ہے۔
....................
القاعدہ امت کو جہاد کے ذریعے تحریض دلانے کی کوشش کرتی ہے، اور اس کے وجوب کو اجتماعی اور منفرد سطح پر واضح کرتی ہے،
دولۃ کسی بھی جہاد کو اپنی بیعت(جھنڈا اور امام) کی بیعت کے علاوہ درست نہیں جانتی جیسا کہ فرقہ جامیۃ وغیرہ اہل سنت سے مخالفت کرتے ہوئے یہی اسلوب رکھتےہیں۔
....................
القاعدہ کوشش کرتی ہے کہ امریکہ کے خلاف امت کا دفاع کیا جائے تاکہ وہ اسرائیل اور آلہ کار حکومتوں کی حمایت سے باز آ جائے،
جبکہ دولۃ اس کو جیسا کہ عدنانی نے کہا ویسے دیکھتی ہے کہ اگر تم ہمارے پاس نہیں آؤ گے، تو ہم تمہارے پاس آ جائیں گے، یہ فقط فتوحات کو خود سے منسوب کرتی ہے۔
....................
القاعدہ تب تک کسی کو قائد کے طور پر منتخب نہیں کرتی جب تک وہ طویل جہادی تجربہ سے نہ گزر جائے اور شریعت کا التزام نہ کرتا ہو،
جبکہ دولۃ اپنے قائدین کے انتخاب کو فقط اپنی بیعت کے ساتھ مخصوص کرتی ہے اور شریعت کی پابندی کو اپنی ولایت(بیعت) سے زیادہ اہمیت نہیں دیتی ہے۔
....................
القاعدہ اپنے مخالفین کو پیغامات کے ذریعے نصیحت کرکے مخاطب کرتی ہے جیسا کہ شیخ اسامہؒ نے اپنے پیغامات میں حماس کو نصیحت کی۔
جبکہ دولۃ اپنے مخالفین پر تکفیر کے ذریعے مخاطب ہوتی ہے، جس طرح کہ عدنانی نے مرسی سے متعلق خطاب میں بیان کیا۔
....................
القاعدہ ہر نیک اورفاجر کے ساتھ جہاد کرتی ہے جیسا کہ افغانستان اور شام میں جہاد ہو رہا ہے،
جبکہ دولۃ کسی بھی جہاد کو اپنے بیعت کے علاوہ نہیں دیکھتی ہے، جس طرح کہ عدنانی نے(دولۃ کے مخالفین) سے متعلق کہا کہ گولیوں سے ان کے سروں کو خالی کر دو۔
....................
القاعدہ الولاء اورالبراء کے قاعدے کو تمام مسلمانوں کے ساتھ ان کےمختلف مراتب کو پیش ِنظر رکھتے ہوئے ملحوظ رکھتی ہے ،
جبکہ دولۃ اسی کے ساتھ ولاء (دوستی)کرتی ہے جو اس کے ساتھ ولاء(بیعت) کرے اور ہر اس کے ساتھ دشمنی رکھتی ہے جو اس سے دشمنی رکھے اگرچہ وہ علمائے امت میں سے کیوں نہ ہوں۔
....................
القاعدہ کے ساتھ بہت سے علماء ہیں جو ان کی تائید کرتے ہیں، وہ کسی عالم پر بھی اس بات کو لازم نہیں ٹھہراتی کہ وہ ان کی تنظیم میں ضم ہوں، اور اس بات کی کوشش کرتی ہے کہ سب علماء کے ساتھ رابطہ رکھا جائے،
جبکہ دولۃ کسی کو بھی عالم نہیں ٹھہراتی جب تک وہ ان کی تائید نہ کرے، اور اگر کوئی ان کے خلاف بات کر دے، تو اسے ترک کر دیتی ہے!
....................
القاعدہ اس بات کو کفر کے طور پر دیکھتی ہے کہ مسلمین کے خلاف کفار کی معاونت کی جائے، لیکن وہ بھی تب جب کہ وہ قطعی طور پر برہان اور ثبوت سے ظاہر ہو جائے، جیساکہ اسامہ بن لادنؒ نے بیان فرمایا،
جبکہ دولۃ ظن اور شبہات پر بھی تکفیر کرتی ہے۔
....................
القاعدہ مال کی وصولی کے لیے شریعت کی مطابقت کو ملحوظ رکھتی ہے اگرچہ مالی حاجت ہی کیوں نہ ہو ،
جبکہ دولۃ اپنی تنظیم کی مصلحت کے لیے اس کو جائز سمجھتی ہے، جیسا کہ موصل(عراق کا شہر) کے بینکوں پر غلبہ پا کر مال کی وصولی اور ٹیکسوں کے اجراءوغیرہ کے ذریعے مالی ضروریات کو پوراکیا گیا۔
....................

کاتب /محمد فيزو
مصدر:
http://justpaste.it/hh5f