بدھ، 19 نومبر، 2014

ہر نئے اعلان کے بعد مزید ناحق خون بہتا ہے!

بسم اللہ الرحمن الرحیم
ہر نئے اعلان کے بعد مزید ناحق خون بہتا ہے!
جماعت الدولۃ کے اعلانِ خلافت پر شیخ ابو بصیر الطرطوسی کا بیان

جب جماعت الدولۃ خود کو جماعت اور تنظیم سے متعارف کرواتی تھی، اس وقت بھی ناحق خون اس بات پر بہایا جاتا تھا کہ یہ تو بانی جماعت ہے، جو بڑی (افضل)ہے اورتمام (جماعتوں) پر مقدم ہے، پھر جب اس کو یہ (مقدس) حیثیت نہ ملی، تب بھی خود کو ان(القاب) سے لبریزکیےرکھا، اور جو کہ اِن کی اصلی حیثیت نہ تھی، پھر انہوں نےیہ زعم رکھا کہ یہ عراق میں دولت (ریاست) ہیں، پھر مزید اس زعم میں ناحق خون کو بہایا گیا، پھر اس کے بعد انہوں نے زعم رکھا کہ یہ عراق وشام میں دولت (ریاست) بن گئے ہیں، پھر ناحق خون بہنا دگنا ہو گیا،اسی اعتبار کے ساتھ کہ یہ ایک ریاست(عراق و شام) ہیں، اور جو کوئی بھی اس دولت(ریاست) سے خارج ہے، اورجو اس دولت کی طرف اطاعت و فرمانبرداری کا ہاتھ نہیں بڑھاتا ہے، اس (مسلمان)کا خون بہانا جائز ہے۔

اور آج بھی حالت ایسی ہی ہے، ان کی یہ پیاس ابھی تک نہیں بھجی ہے ، ناحق خون کے لیے اسی طرح پیاسے ہیں، انہیں مزعومہ القابات و عنوانات کی بدولت، انہیں نے اب یہ زعم رکھ لیا ہے کہ یہ ’خلافت‘ ہیں، اور ان کا امیر ’خلیفہ‘ ہے، انہی کے پاس کامل خلیفہ کے حقوق ہیں، جو اس کی مخالفت کرے یا اس کی بیعت میں داخل نہ ہو، اُن کو قتل کردیتاہے۔

اے دشمنانِ اسلام کے لیے فرحت کا باعث بننے والو۔ یہ سب ان سفہاء، کمِ سن، خوارج العصر کے سبب ہےجنہوں نے مسلمانوں کی گردنوں پر اپنی تلواریں کھینچ لیں ہیں، یہ انہیں القابات و عنواناتِ مزعومہ کے زعم اور وہم کے ذریعے نصرت دیے گئے ہیں، جو انہی کے کچھ عدد مریضوں کو لاحق ہوا، جو شدت پسند، نا عاقبت اندیش ہیں اور جن کواب سب جانتے ہیں!

ان خوارج العصر شدت پسند غالیوں کے ہر نئے اعلان کے سبب، مسلمانوں کے غم و الم میں اضافہ ہوتا ہے؛ اِن کے علم میں ہے کہ یہ وہمی القابات اور اسماء اپنے لیےمخصوص کرلینا ان کے معاملات کا حصہ ہے، تاکہ یہ اس کی بنیاد پرقتل و خونریزی کرسکیں، اور تفرقہ کو مزید بڑھائیں، اور اپنے دشمنوں۔۔۔ جن کو یہ خوارج شدت پسند اپنا دشمن سمجھتے ہیں۔۔۔ کی شوکت کو کمزور کریں، اور ان کا خون بہا سکیں۔ ان کے ہر نئے اعلان کے بعد، چیخ وپکار اور دھمکیوں میں اضافہ ہوتا ہے، اور دشمن اس حقیقت کو جانتے ہیں، پس وہ انہیں چھوڑ دیتے ہیں تاکہ یہ اُن علاقوں میں ایک حد تک پھیلاؤ کریں، اور اِن کو برداشت کیا جاتا ہے، اور حسبِ موقع ان کو قوت کی رسی تھما کر بعض پر حاوی بھی کر دیتے ہیں۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا جب انہوں نے اِن (خوارج) کی یہ وصف بیان کی:
[ یہ اہل اسلام کو قتل کرتے ہیں، اور مشرکین کو چھوڑ دیتے ہیں]

مصدر:
http://tinyurl.com/nu23f6b
 

عدنانی منہجِ خوارج سے موافقت کرتے ہوئے!

بسم اللہ الرحمن الرحیم
عدنانی منہجِ خوارج سے موافقت کرتے ہوئے
عدنانی نے اپنے مارقہ بیان ’’معذرت امیرالقاعدہ‘‘سے مخاطب ہوا اور خوارج کے ساتھ
بہت سےامور میں موافقت کی
کاتب:
@ahmad_3393


۱)ہم منہج اسامہؒ کی طرف واپس ہو رہے ہیں؟
عدنانی نے کہا:
اور ہم یہاں ایک بار پھر اپنے ہاتھ کو آپ کی طرف بڑھاتے ہیں، تا کہ آپ اپنے بہترین پیشرو(شیخ اسامہؒ) کے بہترین جانشین بن جائیں، شیخ اسامہؒ نے مجاہدین کو ایک کلمہ پر متحد کیا۔

ہم اس سے کہتے ہیں:
اس بات سے تم اپنے اجداد خوارج کی پیروی کرنے لگے، وہ انحرافِ سیدنا علیؓ کی دعوت دیتے تھے اور سیدنا ابوبکرعمرؓ کے معاملے میں رحم سے کام لیتے تھے؟

۲) شریعت کی تحکیم سے انکار ؟
عدنانی نے کہا:
اور جہاں تک معاملہ ہے غیرجانبدار شرعی محاکمہ کی بابت، جس پر آپ نے زور دیا ہے، تو ہم آپ سے کہتے ہیں: یہ امر تو ممکن نہیں ہے، بلکہ یہ تو ناممکن ہے، اور اس کا سوال کرنا تو بڑی تصوارتی خیالی بات ہے، کیوں؟ کیونکہ آپ نے مسلمانوں کے درمیان تفریق ڈال کر ان کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا ہے، جس میں کوئی بھی تیسرا گروہ باقی نہیں ہے۔ ایک گروہ دولۃ اور انصارانِ دولۃ کا ہے اور دوسرا گروہ وہ ہے جو غیر جانبدار شرعی محاکمہ کا مطالبہ کرنے والا ہے، پس اب روئے زمین پر کوئی بھی غیرجانبدارجمیعت موجود نہیں ہے، جس پر دونوں گروہ متفق ہوجائیں۔

ہم کہتےہیں:
غیرجانبدار تحکیم کا انکار سابقہ خوارج نے بھی کیا تھا جب انہوں نے سیدنا علیؓ سے کہا: ( ان الحکم الا للہ، حُکم تو صرف اللہ کا ہی ہے)،پس یہ بھی اس کا انکار کر رہے اور کہہ رہے: [ ممکن نہیں، بلکہ ناممکن، بلکہ یہ تو فقط تخیلاتی بات ہے] ، تو کیا اسے صرف یہ اعلانِ خلافت ( کی اجازت دینے)کی شرط پر قبول کریں گے؟

عدنانی نے کہا:
پس اب روئے زمین پر کوئی بھی غیرجانبدار جمیعت موجود نہیں ہے، جس پر دونوں گروہ متفق ہوں۔

ابن تیمیہؒ کہتے ہیں:
[کسی بھی خوارج گروہ کی گمراہی کی اصل ان کا یہ اعتقاد ہے کہ ہدایت یافتہ ائمہ اور جماعت المسلمین اب یہ عدل وانصاف سے دور ہو چکے ہیں(یعنی شریعت کے معاملہ میں عدل نہیں کر رہے)، اور انہوں نے گمراہی اختیار کر لی ہے]

اسی لیے دولتِ بغدادی نے شیخ سلیمان العلوان کی قید سے قبل ان کی احرار الشام کی تحکیم سے انکار کیا اور شیخ ربیش کے معاملہ میں شیخ محیسني کے شرعی محاکمہ کے منصوبہ سے انکار کیا، بلکہ انہوں نے کسی بھی غیر جانبدار شرعی محکمہ قضاء کا انکار کیا، اور یہاں تک کہ مشترکہ شرعی محاکمہ قضاء کا بھی انکار کیا۔

۳) عمومی اصول و قواعد و احکامات کو ذکر کر کے تدلیس سے کام لینااور اس کو کسی پر معین حُکم لگانے کی منزل تک پہنچانا
عدنانی نے کہا:
شیخ ابو مصعب الزرقاویؒ منہج جمہوریت اور جمہوریت پسندوں کے بارے میں کہتے ہیں:
"پس یہ اور ان جیسی دوسری وجوہات کی بنا پر ہم نے اس خبیث منھج کے خلاف ایک سخت جنگ کا اعلان کیا ہے اور ہم نے اِس باطل عقیدہ اور ناکامی کے راستے پر چلنے والے افراد کے حکم کو بھی واضح انداز سے بیان کیا ہے۔ پس جو کوئی حمایت اور نصرت کے ذریعے سے اس منہج کو قائم کرنے کی سعی کرتا ہے، تو وہ دینِ جمہوریت اور اس کے پیروکار لوگوں کا نگرانِ حال مانا جائے گا۔ اور اس کا حکم اُن لوگوں کے حکم کی طرح ہے جو اس دینِ جمہوریت کی طرف دعوت دیتے ہیں اور اس کی مدد کرتے ہیں۔

انتخابی امیدوار ربوبیت اور الوہیت کا دعوی کرنے والے ہیں، جبکہ ان کے لیے ووٹ کا استعمال کرنے والے وہ لوگ ہیں جنہوں نے ان کو اللہ کے ساتھ رب اور شریک ٹھہرایا۔ اور اللہ کے دین میں ان سب کا حکم کفر اور اسلام سے ارتداد کا ہے۔

اے اللہ ! کیا میں نے پیغام پہنچا دیا؟ اےاللہ! آپ گواہ رہیے گا"۔ (کلام ختم ہوا)

یہاں پر عدنانی نے تدلیس(حق بات چھپانا) کی ہے:
وہ عام قواعد اور مطلق احکامات کو دلیل کے طور پر سامنے لایا ، اور اس کو حکمِ معین کی منزل تک پہنچا کر ، اس کا اطلاق سب پر کر دیا ہے ۔

اس نے مشائخ القاعدہ سے انہیں تقاریر کا انتخاب کیا جس میں تکفیر اور ارتداد کا ذکر ہے، گویا کہ جیسے القاعدہ (کی فکر) میں تکفیر اور ارتداد کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے؟ یہ کس قسم کی خطا اور تلبیس ہے جو اس دماغ میں پائی جاتی ہے؟

اس قابلِ کراہت باطل کا رد ہم شیخ عطیۃ اللہؒ کے اقوال سے کرتے ہیں،
شیخ عطیۃ اللہ اللیبیؒ نے ان لوگوں کے بارے میں فرمایا جن کو انتخاب کے لیے چنا جاتا ہے:
جہاں تک سوال کےپہلے حصہ کا تعلق ہے جو کہ انتخابی امیدواروں سےہے، جو پارلیمینٹ کے انتخابات میں حصہ لیتےہیں یا دیگر حکام وغیرہ، تو اس میں بھی (فقہ) واقعہ کی تفصیل میں جانا لازم ہے، اس میں جو کوئی اللہ کے دین کے علاوہ قانون سازی کرے، اور اللہ کی شریعت کےعلاوہ قانون سازی میں مصروف ہو جائے، تو ایسا شخص کافر ہے، اور یہ حکمِ نظری ہے (جس کی تطبیق کسی معین پرنہیں کی گئی بلکہ مطلقاً حکم بیان کیا گیا ہے)، اور اسی طرح جو کوئی کسی مرتد حکمران کا انتخاب کرے تاکہ مسلمانوں کے اور دیگر مسلمان ممالک کے فیصلے کرے، تو وہ بھی اسی طرح کافر ہے، لیکن جب ہم فقہ الواقعہ میں جاتے ہیں، تو مسئلہ بالکل اسی طرح سیدھا سادھانہیں ہے، کیونکہ عام لوگ ان افعال کا ارتکاب اس لیے نہیں کرتے کہ یہ اللہ کی شریعت کے علاوہ قانون سازی کریں گےیا مرتد حاکم کا انتخاب کریں گے، مقصود بتانے کا یہ ہے کہ تفصیل میں جانا ضروری ہے، ہم لوگوں کی عمومی تکفیراس قاعدے کے ساتھ نہیں کرتے اور جو کوئی ایسے ( عمومی تکفیر) کرے، بے شک وہ بڑی واضح گمراہی میں جا پڑا ہے اور اصولِ علم وفقہ سے خارج ہو گیا ہے، اور وہ عامۃ المسلمین پر اس حالِ کفر کا اطلاق کر دے گا، جس کا اطلاق اُن پر نہیں ہوتا ہے۔ ہم اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگتے ہیں اور عافیت کا سوال کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ رحم فرمائیں۔

شیخ عطیۃ اللہ ؒنے حماس اور ان کی حکومت کے بارے میں کہا:
جو خطا حماس حکومت سے سرزد ہوئی ہم ان کو معذور، متاول (تاویل کرنے والے) سمجھتے ہیں، اور اس بنیاد پر کہ کچھ فتاوی انہوں نے اخذ اُن اہل علم سے کیے ہیں جن پر انہیں اعتماد ہے، بلکہ وہ ہمارے نزدیک مسلمان ہیں جو خطاکار ہیں، اور ہم انہیں نصیحت کرنے کی سعی کرتے ہیں، اور جس طرح ہم باقی تمام مسلمانوں کو ہدایت کی طرف لانے کا کام کرتے ہیں وہی معاملہ ادھر رکھتے ہیں، اس چیز کا انکار کرتے ہیں جو منکر ہیں، اور ان کی اخطاء کو صراحت سے بیان کرتے ہیں جو ان سے وقوع پذیر ہوں، ہم نہ ہی انہیں دھوکہ دیتےہیں اور نہ ہی امتِ مسلمہ کو۔

پھر شیخ عطیہ اللہؒ نے فرمایا:
لیکن ہم حماس کا جمہوریت اور مجلسِ قانون سازی میں داخلے کو، اور اسی طرح دوسری اشیاء کی طرف جانے کو جو دین کے مخالف ہیں، اس اضافہ کے ساتھ جو کہ دیگر مجموعات سے سرزد ہوئیں جن میں وہ افکار، قولی اور فعلی ضابطے شامل ہیں جو کہ شریعت کے مخالف ہیں، ان کو ہم منکر، باطل اور فسادِ عظیم سمجھتے ہیں، ہم اللہ کے سامنے ان سے برات کا اظہار کرتے ہیں، اور ان کا انکار کرتے ہیں، اور اپنے بھائیوں کو نصیحت کرتےہیں کہ وہ اللہ کی طرف رجوع کر کے توبہ کریں، اس سے اجتناب کریں،اپنی اصلاح کریں اور اللہ کی رسی کو سب مل کر مضبوطی سے تھام لیں۔

جب شیخ عطیہ اللہؒ سے سوال ہوا:
کیا شرعی طور پر یہ جائز ہے کہ حماس کو ارتداد کے اوصاف سے متصف کیا جائے؟

پھر شیخ عطیہ اللہؒ کہتے ہیں:
نہیں بالکل نہیں، یہ بات جائز نہیں کہ ہم انہیں ارتداد کی صفت سے متصف کریں یا ان پر کفر کا حکم لگائیں۔۔۔بلکہ یہ غلطی ہے جس کی طرف توجہ ہم نے تمام جگہوں پر بسنے والے نوجوانانِ ملت کو دلائی ہے کہ وہ اس چیز سے اجتناب کریں، اور جہاں پر ان مسائل کا سامنا ہو وہاں پر کسی ایک پر کفر کا حکم لگانے میں جلدی نہ کریں، ایسے مسائل جن میں خطا اور تاویل سامنے آ جائے، اور یہاں تک کہ اگر غلطی بڑی بھی ہے، اور اس طرف معاملہ(تکفیر) کرنا پڑے،تو یہ (تکفیر)ناقابل واپسی نہ ہو، اور کوئی عذر بھی انکے ساتھ باقی نہ رہنے پائے۔ ہم اللہ تعالیٰ سے سوال کرتے ہیں کہ ایسا نہ ہو، اور اللہ تعالیٰ سے سلامتی اور عافیت کا سوال کرتے ہیں۔

مزیدشیخ عطیہ اللہؒ کہتے ہیں:
ہم یہ نہیں کہتے کہ حرکتِ حماس یا یہاں تک کہ حکومتِ حماس طاغوت بن گئی ہے، کیونکہ وہ مسلمان ہیں جو خیر کی طرف تاویل کا شکار ہوئے ہیں، اور غلطی کر لی ہے، طاغوت تو ہر وہ شے ہے، جو بندگی سے تجاوز کرتے ہوئے خود کو معبود بنا لے یا اس سےبھی بڑھ جائے یا پھر اللہ سے بھی خود کو بڑھا لے، تو پھر کیا اے محبوب بھائی، کیا اس کی تطبیق حماس پر ہو سکتی ہے؟ نہیں! اس کی تطبیق نہیں ہوتی ہے۔

۴)تکفیر میں غلو:
جس طرح یہ سابقہ نقاط بیان کیے گئے ہیں، اس کی تائید کرتے ہوئے عدنانی نے عمومی طور پر مسلمانوں کی تکفیر کی ہے، جس میں انتخابات کے اندر شرکت کو بطور دلیل، بغیرتفصیل میں جائےبنایا گیا ہے، جس طرح کہ شیخ عطیہ اللہؒ نے اس موضوع پر صراحت کے ساتھ وضاحت کر دی ہے۔

وصلى الله وبارك على نبينا محمد . مصدر:
http://justpaste.it/fnv9 
 

منگل، 18 نومبر، 2014

القاعدہ فی البلاد المغرب کی دولۃ الاسلامیہ فی العراق کے نام ہماری نصیحت

بسم اللہ الرحمن الرحیم
القاعدہ فی البلاد المغرب کی دولۃ الاسلامیہ فی العراق کے نام ہماری نصیحت
القاعدہ فی مغرب اسلامی کا دولۃ الاسلامیہ العراق والشام کے اعلانِ خلافت کے بعد اعلامیہ

دولت الاسلامیہ کے نام ہماری نصیحت
یا إخواننا فی الدولۃ الإسلامیۃ، أین أنتم من قیادۃ طالبان وأمیرہا الملا عمر مجاہد حفظہ اللہ الذی ضحی بدولۃ کاملۃ من أجل ثلۃ من المہاجرین من بینہم مؤسس الدولۃ الإسلامیۃ فی العراق الشیخ أبو مصعب الزرقاوی رحمہ اللہ، أین أنتم من الشیخ أیمن الظواہری، الذی لم یکد یخلوخطاب لہ من الإشادۃ ببطولاتکم فی العراق، وإن اختلفتم معہ فی الفترۃ الأخیرۃ، أین أنتم من إمارۃ القوقاز الإسلامیۃ، وأین أنتم من قیادات فروع القاعدۃ فی سائر الأقالیم، وغیرہم من المجاہدین

ہمارے الدولہ کے بھائیو! تم طالبان کی قیادت سے اور ان کے امیر ملاعمر مجاہد حفظہ اللہ سے کیوں دور ہو!جنہوں نے اپنی پوری سلطنت چند مہاجرین کی حفاظت کے اوپر نچھاور کردی وہ مہاجرین جس میں الدولہ کے بانی شیخ ابومعصب الزرقاوی رحمہ اللہ بھی شامل تھے!!اور آپ شیخ الظواہری حفظہ اللہ سے کیوں دور ہو جو کہ عراق میں تمہاری بہادریوں کی داستان بیان کرتے ہوئے ساکت رہ جاتے تھے…اگرچہ تم نے بعد میں ان سے غیر متفق ہونے کا اظہار کیا …تم چیچنیا کی اسلامی امارت سے کیوں دور ہو اور تم القاعدہ کی قیادت اور اس کی مختلف خطوں میں پائی جانے والی شاخوں سے کیوں دور ہو ؟

علمائے حق کو نظر انداز نہ کرو!
ہذا ناہیک عن العلماء والدعاۃ أہل الصدق الذین ثبت لہم قدم صدق راسخ فی الإسلام وفی الدعوۃ إلی إقامۃ الخلافۃ، ولم یرکنوا إلی الطواغیت المحکمین للقوانین الوضعیۃ الموالین لأعداء الأمۃ، ونخص بالذکر أسد التوحید الشیخ أبا محمد المقدسی والشیخ أبا قتادۃ الفلسطینی والشیخ المجاہد أبا الولید الغزی والشیخ المحدث سلیمان العلوان الذی تجرع السجن سنین طوالا بسبب نصرتہ للجہاد فی العراق، فالأمر أوسع من أن تحدہ خلافات فقہیۃ أو سیاسیۃ، إنہا الخلافۃ التی یتفیأ ظلہا کل المسلمین

ان علمائے کرام اور داعی حضرات کو نظر انداز نہ کرو جو اہل حق میں سے ہیں او جو دین اسلام اور خلافت کے قیام کی دعوت میں ثابت قدم ہیں اور جنہوں نے ان طواغیت سے ہاتھ نہ ملایا جو انسان کے بنائے ہوئے قوانین کے مطابق فیصلہ کرتے ہیں اور امت کے دشمنوں کے وفادار ہیں۔ان (علما )میں سب سے خاص اسد التوحید ابو محمد المقدسی حفظہ اللہ ، ابو قتادہ الفلسطینی حفظہ اللہ، مجاھد ابو ولید غازی حفظہ اللہ اور شیخ المحدث سلیمان العلوان حفظہ اللہ ہیں جنہوں نے جہادِ عراق کی حمایت میں کئی سال اسیر کاٹی… یہ (خلافت کا)مسئلہ کسی فقہی اور سیاسی اختلاف سے بالاتر ہے…بے شک خلافت تو مسلمانوں کے لیے رحمت کا سایہ ہے۔

جبھتہ النصرہ اور دولت اسلامیہ کے درمیان اختلافات کا حل
أمام الواقع الجدید، ندعو أولی الأمر، علماء وأمراء ، ونخص بالذکر المشایخ الفضلاء الشیخ أبا محمد المقدسی والشیخ أبا الو لید الغزی والشیخ أبا بکر البغدادی والملا محمد عمر والشیخ أیمن الظواہری والشیخ ناصر الوحیشی والشیخ أبا الزبیر والشیخ أبا محمد الجولانی وغیرہم من العلماء العاملین وقادۃ المجاہدین، للاجتماع علی کلمۃ سوائ،وإصلاح الخلل داخل البیت الواحد بعیدا عن وسائل الإعلام، من أجل حفظ بیضۃ الإسلام والحفاظ علی وحدۃ المسلمین وحقن دمائہم

اس نئے مسئلے پر ہم سب سے پہلے تمام علما اور امراکو خصوصا محترم علماابو محمد المقدسی،شیخ ابو ولید غازی، شیخ ابو بکر البغدادی، ملا محمد عمر، شیخ ایمن الظواہری، شیخ ناصر الوحیشی، شیخ ابو زبیر اور شیخ ابو محمد جولانی حفظہم اللہ اور دیگر علما اور مجاہدین کے امرا کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ ایک بات پر جمع ہو جائیں اور ان اختلافات کو میڈیا سے ہٹ کر اپنے گھر میں حل کر لیں تاکہ اسلام کی عظمت اور مسلمانوں کی وحدانیت کی حفاظت رہے اور خون مسلم کی حرمت برقرار رہے۔

(نام نہاد)خلافت کا انکار اور شیخ ایمن الظواھری حفظہ اللہ کی بیعت کی تجدید
ؤکد أننا لا زلنا علی بیعتنا لشیخنا وأمیرنا أیمن الظواہری، فہی بیعۃ شرعیۃ ثبتت فی أعناقنا، ولم نر ما یوجب علینا نقضہا، وہی بیعۃ علی الجہاد من أجل تحریر بلاد المسلمین وتحکیم الشریعۃ الإسلامیۃ فیہا، واسترجاع الخلافۃ الراشدۃ علی منہاج النبوۃ

ہم اس بات کو زور دے کر کہتے ہیں کہ ہم ابھی تک شیخ ایمن الظواہری حفظہ اللہ کی بیعت میں ہیں اور یہ بالکل شرعی بیعت ہے جس کا طوق ہماری گردنوں میں ہے اور ہمیں اس بیعت کی تجدید کی بھی ضرورت نہیں ہے اور یہ بیعت جہاد کے لیے ہے اور اس امر کے لیے ہے کہ مسلم سرزمینوں کو آزاد کروایا جائے گا اور ان پر شریعت کا نفاذ کیا جائے گا اور خلافت کو علیٰ منہج النبوۃ دوبارہ قائم کیا جائے گا۔


ہر کسی کے موقف اور بیانات کی تحقیق کی جائے!
نذکر المنابر الإعلامیۃ الجہادیۃ، أن أی إعلان أو موقف لا یصدر عن مؤسسۃ الأندلس الإعلامیۃ، فہو لا یمثل تنظیم القاعدۃ ببلاد المغرب الإسلامی، کما ننبہ علی ضرورۃ التثبت وتحری المصداقیۃ فی النقل

ہم تمام جہادی فورمز کو یہ بات یاد کروانا چاہتے ہیں کہ کوئی بھی بیان جو مؤسسۃ الاندلس (الاندلس میڈیا)پر نشر نہ ہو وہ القاعدہ فی اسلامی مغرب کی نمائندگی نہیں کرتا اور ہم اس پر بھی زور دیتے ہیں کہ ہر خبر کی حقیقت کی تحقیق کی جائے۔ 


بشکریہ: مجلہ نوائے افغان جہاد

پیر، 17 نومبر، 2014

جماعت جیش المہاجرین والانصار کے امیر صلاح الدین الشیشانی کا بیان

جماعت جیش المہاجرین والانصار کے امیر صلاح الدین الشیشانی  کا بیان
جمعرات 13 محرم 1436 ھ ـ  موافق 6 نومبر 2014 ء

اور اگر مسلمانوں کی دو جماعتیں آپس میں لڑ پڑیں تو ان میں میل ملاپ کرا دیا کرو۔ پھر اگر ان دونوں میں سے ایک جماعت دوسری جماعت پر زیادتی کرے تو تم (سب) اس گروه سے جو زیادتی کرتا ہے لڑو۔ یہاں تک کہ وه اللہ کے حکم کی طرف لوٹ آئے، اگر لوٹ آئے تو پھر انصاف کے ساتھ صلح کرا دو اور عدل کرو بیشک اللہ تعالیٰ انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے، (یاد رکھو) سارے مسلمان بھائی بھائی ہیں پس اپنے دو بھائیوں میں ملاپ کرا دیا کرو، اور اللہ سے ڈرتے رہو تاکہ تم پر رحم کیا جائے (سورۃ الحجرات:10-9)

بسم اللہ الرحمن الرحیم
الحمد لله ربّ العالمين والصلاة والسلام على رسول اللہ، اما بعد،

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ،

اللہ تعالیٰ کا شکر ہے جس نے ہمیں جہاد کی نعمت سے نوازا، الحمدللہ، آج ہم اللہ کے إذن سے ’لیرامون‘ کے علاقے میں ہیں۔

جیسا کہ آپ دیکھ سکتےہیں کہ ادھر فتنہ موجود نہیں ہے، الحمدللہ، اور جہاد جاری ہے، ہمارے اور ہمارے جہاد کے درمیان اس وقت تک کوئی فتنہ نہیں ہے۔

میں چاہتا ہوں کہ دو دن پہلے شہر رقہ میں ہونے والےواقعات سے متعلق وضاحت کروں، ہم ادھر اس لیے گئے تاکہ کتائب ِاسلامیہ کے درمیان صلح کروا سکیں، اور ان کے درمیان بہتے خون کو روکا جا سکے، کیونکہ جبھۃ النصرہ  اور جبھۃ الاسلامیہ نے مجھ سے التماس کی کہ میں ان کے  اورتنظیم دولۃ الاسلامیہ کے درمیان واسطہ بنوں تاکہ ان کے درمیان صلح کروائی جا سکے۔الحمدللہ، ہم  ادھر گئے، اور اپنے اسباب پر بھی بھروسہ رکھا، جیسا کہ وہاں پر مستقل ایسے حالات بھی ہیں، اور وہاں پر ان سے متعلقہ افراد سے ملاقات کی، ان جماعتوں (جبھۃ النصرہ اور جبھۃ الاسلامیہ) نے تجاویز پیش کیں تاکہ ان کے درمیان بہتے خون اور قتال کو روکا جا سکے اور حملہ آور دشمن سے فقط لڑا جائے، جس کا تنظیم دولۃ نے انکار کر دیا اور کہا کہ یہ تنظیمیں (جبھۃ النصرہ اور جبھۃ الاسلامیہ)  ’کفار‘ ہیں، اور ان کے ساتھ کوئی معاہدہ نہیں ہو سکتا۔

جہاں تک میرے متعلق بات ہے کہ صلاح الدین نے تنظیم دولۃ کی بیعت کر لی ہے، تو یہ معاملہ نہیں ہوا، میری بیعت دوکوعمروف ابو عثمان ؒ (سابقہ امیر امارتِ قوقاز)کے ساتھ تھی، پھر اس کے بعد میں نے اس کی تجدید امیر امارتِ قوقاز ابو محمد (حفظہ اللہ) سے کی، اور یہ قائم ہے، ان شاء اللہ، ہم اپنی بیعت سے وفا کریں گے، اللہ اکبر!

مصدر:

امت کی جانب سے حکیم الامت کے نام پیغام

بسم اللہ الرحمن الرحیم
امت کی جانب سے حکیم الامت کے نام پیغام
منجانب :محترم ومکرم علمائے کرام

الحمد لله ربّ العالمين والصلاة والسلام على نبينا محمد وعلى آله صحبه أجمعين، وبعد:

بلاشبہ جہاد فی سبیل اللہ ان امانتوں میں سے ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو مکلف کیا کہ وہ اس کو اٹھائیں اور اس کو قائم کریں، اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتے ہیں:

[ہم نے اپنی امانت کو آسمانوں پر زمین پر اور پہاڑوں پر پیش کیا لیکن سب نے اس کے اٹھانے سے انکار کردیا اور اس سے ڈر گئے (مگر) انسان نے اسے اٹھا لیا، وه بڑا ہی ظالم جاہل ہے ] (۳۳: ۷۲)

اس امانت کودورِ حاضر کے اہل ایمان کی ایک جماعت نے اٹھایا، جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق میں سے چنا، پس انہوں نے اللہ کی راہ میں ہجرت اختیار کی،اپنے اہل وعیال اور ہم وطنوں کو چھوڑا یہاں تک کہ انہوں نے اللہ کی راہ میں جہاد کو قائم کر لیا، بہت سے جماعتیں مختلف ممالک میں سے اٹھیں اور ارضِ شام کی طرف ہجرت کی اور امت کو اس خیر پر خوشخبری دی، جس سے وہ ارضِ شام میں جمع ہوئے، ابنائے اسلام میں سے بھی کثیر تعداد نے ان کی طرف ہجرت کی، ان صادقین گروہوں کے ساتھ اکٹھے ہوئے تاکہ حملہ آور دشمن کو پچھاڑا جائے اور رب العالمین کی حاکمیت کو شریعت کے نفاذ سے قائم کیا جائے۔

اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے نصرت اور فتوحات کے ذریعے اپنے بندوں کے درمیان مدد فرمائی اور اقوام عالم اس ملک میں پائی جانی والی ان فتوحات کو دیکھ کر حیرت زدہ رہ گئے، اور یہ جہاد اور مجاہدین کی قبولیت عام تھی حتی کہ جہادِ شام جہادِ امت بن گیا، اور کسی خاص گروہ یا جماعت تک محدود نہ رہا ۔

مجاہدین کی یہ حالت اسطرح باقی رہی یہاں تک کہ میدانِ جہاد میں اختلاف اور تفرقہ پیدا ہوا، مجاہدین کے درمیان قتل و غارت شروع ہو گئی، جس کی وجہ منحرف افکار کا ظہور تھا ، جیساکہ اہل غلو کی فکر جس کا بیان وضاحت سے بہت سے اہل علم مثلاً شیخ المقدسی اورشیخ ابو قتادہ وغیرھم نے ظاہر کیا۔

یہ اختلاف اور قتل وغارت جس نے جہادِ امت کو خوفزدہ کیا اور درست سمت سے انحراف کی طرف ڈالا جس کےتنائج کے بارے میں تنبیہ کی گئی،یہ جہاد اور مجاہدین کو مزید ضرر پہنچائے گا اگر یہ معاملہ اسی طرح اختلاف اور خونریزی سے چلتا رہا۔

اس مبارک جہاد سےحرص کے پیش نظر اور اس امانت کو اس ذات باری تعالیٰ کےمبارک چہرے کی طرف ایسے لوٹانے کہ وہ ذات اس سے محبت کرے اور اس سے راضی ہو جائے، ہم اپنے شخ ڈاکٹر ایمن الظواہری حفظہ اللہ سے درخواست کرتے ہیں کہ

وہ حالیہ واقعات پر کلام کریں جس سے جہاد اور مجاہدین کی خیر ہو، اور خاص طور اپنے تعلق کی وضاحت شام میں اعلانِ دولت سے قبل اور بعد جماعت ’الدولۃ الاسلامیہ فی العراق‘ سے کریں، بیعت کے مسئلہ پر وضاحت دیں، اور اس متنازع مسئلہ تحاکم جوفریقین کے درمیان ہے، اس کو واضح کردیں۔

حالیہ واقعات اس چیز کے متحمل نہیں کہ اس میں تاخیر کی جا سکے، جیسا کہ یہ ہر ارضِ شام پر نظر رکھنے والے ہر شخص پر واضح بھی ہے، ہمیں اس بات کی التماس اپنے سےرب کے اس فرمان پر عمل کی وجہ سے ہے:

[جہاں انہیں کوئی خبر امن کی یا خوف کی ملی انہوں نے اسے مشہور کرنا شروع کر دیا، حالانکہ اگر یہ لوگ اسے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کے اور اپنے میں سے ایسی باتوں کی تہہ تک پہنچنے والوں کے حوالے کر دیتے، تو اس کی حقیقت وه لوگ معلوم کر لیتے جو نتیجہ اخذ کرتے ہیں اور اگر اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی رحمت تم پر نہ ہوتی تو معدودے چند کے علاوه تم سب شیطان کے پیروکار بن جاتے ] (۴: ۸۳)

ہم اپنے شیخ (حفظہ اللہ) سے یہ چاہتے ہیں کہ وہ ہمیں تفصیلی بیان سے آگاہی دیں اور اس امر سے متعلق توجیہات کو جاری کریں اور باتوں کو منکشف کریں تاکہ اس نصیحت کے ذریعہ اصلاح ممکن ہو سکے اور حالیہ واقعات پر رہنمائی لی جا سکے۔

اور اللہ آپ کے اس ارادے کا ساتھ دیں!

اولین نام جن سے رابطہ کرنے کی سعی کی جا سکی اور جو اس مراسلے سے موافقت رکھتے ہیں:



  د. طارق عبد الحليم -حفظه الله-
د . هاني السباعي -حفظه الله-
د. إياد قنيبي -حفظه الله-
د. عبد الله المحيسني -حفظه الله-
الشيخ محمد الحصم -حفظه الله-
د.سامي العريدي -حفظه الله-

ہم علماء وطلباء ، مہاجرین وانصار،اور مسلمین کو دعوت دیتے ہیں کہ جو اس مراسلے سے موافقت رکھتا ہے وہ اس میں اپنا نام درج کریں اور اس کو اجتماعی طور پر فارمز اور یگرجگہوں پر نشر کریں، ہم اس کی پیروی کریں گے، اور اس میں موجود ناموں کا اندراج اس میں کر دیں گے، باذن اللہ رب العالمین




اختتام



اتوار، 16 نومبر، 2014

سنتِ نبوی میں خوارج کی صفات

سنتِ نبوی میں خوارج کی صفات
مصنف: شیخ عمار الصیاصنۃ
اتوار 16 ربيع الآخر 1435 ھ ـ  موافق 16 فروری 2014 ء

الحمد لله، والصلاة والسلام على رسول الله،

’’خوارج‘‘ ان کلمات میں سے ہے جو حالیہ ایام میں بہت کثرت سے دہرائے جا رہے ہیں، اور اس لفظ کا اطلاق بعض جماعتوں اور تنظیموں پر حق اور باطل دونوں طریقے پر کیا جا رہا ہے، جس  کے پیش نظر اب یہ ضروری ہو چکا ہے کہ اس پر کچھ دیر توقف کرتے ہوئے، خوارج کی صفات کو واضح انداز میں بالکل ویسے ہی بیان کیا جائے جیسے           سنتِ نبویﷺ میں بیان ہوئی ہیں ،حتی کہ لوگ خود پران صفات کی قربت کےاعتباروحساب سے متوازن انداز سے اِطلاق کرنے لگیں اور پھر ان صفات سے احتراز برتنے کی جدوجہد کریں۔

سنتِ  نبوی ﷺ میں امت کے فرقوں میں سے خوارج  کے فرقے سے زیادہ کسی  اور کی تنبیہ نہیں کی گئی ہے، ان کے متعلق صحیح اور حسن سند کے ساتھ ۲۰ سے زائد احادیث وارد ہوئی ہیں، اور یہ امت کے اوپر ان کےشدید نقصان ، لوگوں پر اپنے معاملہ کی تلبیس اور دھوکے کی وجہ سے ہے؛ کیونکہ ان کا ظاہر خیروتقوی پر ہے،لیکن ان کا مذہب فقط آراء اور افکار تک ہی محدود نہیں، بلکہ یہ خونریزی کی طرف تجاوز کرتا ہے۔

سنتِ  نبوی میں ان کی ثابت شدہ صفات:

۱)کم سِن: 
ان کی کثرت کم سِن نوجوان ہوتے ہیں، ان کے اندر اہل خبر اور اہل تجربہ شیوخ اور کبار کی قلت ہوتی ہے، ان کے بارے میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا:  (حُدَثَاءُ الْأَسْنَانِ)، حافظ ابن حجرؒ الفتح الباری (12/287) میں لکھتے ہیں:  ’ الْحَدَثُ ‘ کا مطلب ہے ’کم عمر،کم سِن‘۔

۲)طیش اور بے قوفی:
عمومی طور پر خوارج اورجو انکے فکری پیروکار ہیں، ان کا تعلق اس (کم عمر) نوجوان طبقے سے ہوتا ہے جن کی طبیعت میں بےقراری، عجلت پسندی، جوش کا غلبہ ہوتا ہے، قلتِ نظر اور فہم وفراست کی کمی ہوتی، تنگ نظراور بصیرت سے محروم ہوتے، جس طرح (متفق علیہ) حدیث میں بیان ہوتا ہے:  [آخری زمانے میں ایک قوم  ظاہرہو گی جو کم عمر کم سِن ہوں گے،بےوقوف کم عقل ہوں گے] اور ’ والأحلام‘ :دانش مندی اور عقلمندی ہے، اور ’ السَّفه‘:  ناپختگی اور ناعاقبت اندیشی کا نام ہے۔

۳)غروروتکبر: 
خوارج کا گروہ اللہ کے بندوں کے بارے میں غرور و تکبر کرنے  اور اپنے نفس اور اعمال کے بارے میں تعجب کرنے کے طور پر معروف ہے، اسی لیے  یہ تکبر میں اپنے ہاتھوں سے کمائے ہوئے اعمال اور افعال  کے سبب بہت  آگےبڑھ جاتے ہیں۔

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے ارشاد فرمایا: 
[ان میں  ایک قوم ظاہر ہو گی جو عبادت میں بہت ریاضت کرنے والی ہوگی حتی کہ لوگ ان کو دیکھ کر تعجب کریں گے، اور یہ اپنے نفس پر بھی (خودپسندی کی وجہ سے) تعجب کریں گے اور وہ اسلام سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے]
(مسند احمد میں صحیح سند سے روایت ہے)

ان کا غرور انہیں علم کے دعوی کی طرف لے جائے گا، اور یہ علماء کی تحقیر کریں گے، اورکسی  عظیم سانحہ کے سامنے بھی بلا تجربہ اور بلا تفکر کھڑے ہوں گے، اور اہل فقہ اور اہل رائے سے رجوع ہرگز نہیں کریں گے۔

۴)عبادت میں انتھک مشقت:
 یہ نماز و روزہ، ذکرو اذکار،قربانی و ایثار میں اہل عبادت میں سے ہوتے ہیں، اور یہی وہ چیز ہے جو ان سے متعلق  دوسروں کو دھوکے میں ڈالتی ہے، اسی لیے نبی اکرم(صلی اللہ علیہ وسلم) کے بیان میں واضح طور پر اسی صفت سے متعلق تنبیہ فرمائی گئی ہے:

[وہ ایسا قرآن پڑھیں گے کہ ان کے پڑھنے کے سامنے تمہارے قرآن پڑھنے کی کوئی حیثیت  نہ ہوگی ،نہ ان کی نمازوں کے سامنے تمہاری نمازوں کی کچھ حیثیت ہوگی، نہ ہی ان کے روزوں کے سامنے تمہارے روزوں کی کوئی حیثیت ہو گی] (صحیح مسلم)

اور فرمایا:
[ان کی نمازوں کے مقابلے میں اپنی نمازوں کو حقیر جانوگےاور انکےروزوں کے مقابلے میں اپنے روزوں کو حقیر جانو گے] (متفق علیہ)

جب صحابہؓ کی نمازیں انکی نمازوں کے مقابلے میں حقیرہیں، تو پھر اُن کا معاملہ کیسا ہو گا جو صحابی نہیں ہیں؟!
جب عبداللہ بن عباسؓ کی ان ملاقات ہوئی تو بیان فرمایا:

[میں ایسی قوم میں گیا جن سے زیادہ میں نے کسی کو عبادت میں ریاضت کرتے نہ دیکھا تھا، ان کے ہاتھ ایسے تھے گویا اونٹ کے پاؤں  اور ان کے چہروں پر سجدوں کے  نشانات نمایاں تھے] (مصنف عبدالرزاق)

۵) قرآن سے متعلق سوء فہم  رکھنا: 
 ان کی کثرت قرآن کو پڑھنے والی اور اس سے استدلال کرنے والی ہے، لیکن بغیر فقہ وعلم کے، بلکہ یہ قرآنی ایات کو موضوع سے ہٹ کر بیان کرتے ہیں، اسی لیے ان کی احادیث میں یہ صفت بیان ہوئی:

[وہ قرآن پڑھیں گے اور یہ گمان کریں گے یہ ان کے حق میں ہے، اور یہ انہی کے اوپر دلیل ہے]، [یہ کتاب اللہ کی تلاوت سے اپنی زبانیں تر رکھیں گے، لیکن قرآن ان کے حلق کے نیچے نہیں اترے گا]،[یہ قرآن کو پڑھیں گے، لیکن ان کے گلے سے نیچے نہیں اترے گا]

امام نووی صحیح مسلم کی شرح میں لکھتے ہیں:
[ان کو قرآن کی تلاوت سے فقط اپنی زبانوں کو تر  رکھنے کے علاوہ کچھ حاصل نہ ہو گا، اور یہ ان کے حلق سے نیچے ان کے دل میں نہیں اتر سکےگا،قرآن کی تلاوت سے زبان کو تر رکھنا قرآن کا  اصل مطلوب نہیں ہے، بلکہ مطلوب تو اس کو دل میں اتار کر اس پر غورو فکر  کرناہے]

شیخ اسلام ابن تیمیہؒ فرماتے ہیں:
[سب سے پہلی بدعت وہ خوارج کی بدعت کے مثل تھی جس میں قرآن سے متعلق سوء فہم رکھا گیا، انہوں نے قرآن سے تعارض کا قصد نہ کیا تھا، لیکن   ان کا قرآن سے فہم کی مراد باطل تھی]

اسی لیے عبداللہ بن عمرؓ نے ان خوارج کے بارے میں فرمایا:
[یہ قرآن کی اُن آیات کی طرف گئے جو کفار کے لیے نازل ہوئیں، اور اس کا اِطلاق مومنین پر کرنا شروع کر دیا]
(امام بخاری نے اسے تعلیق کے طور پر بیان کیا ہے)

فتح البار ی میں حافظ ابن حجرؒ کہتے ہیں:
’’ ان کو [قراء، پڑھنے والے] اس لیے کہا جاتا تھا کہ وہ اپنی تلاوت اور عبادات میں بہت ریاضت کرتے تھے حالانکہ وہ قرآن مجید(احکاماتِ شریعہ) کی تاویل کر کے  وہ باطل بات مراد لیتے تھے، جو اس میں مذکور نہ ہوتی تھی، اپنی مستبدانہ (جابرانہ، متشدد) رائے کو اختیار کرتے تھے، زہدو خشوع میں جزویات کا حد سے زیادہ خیال رکھنے والے تھے اور اسی طرح  کے دیگر امورِ شریعہ میں یہ رویہ اپناتے تھے ‘‘

۶) بہترین خوبصورت کلام پیش کریں گے:
 ان کا بیان بہت ہی بہترین ہوتا ہے، اس کے بیان کی حلاوت اور بلاغت کے بارے میں کوئی بھی اختلاف نہیں کر سکتا!!، یہ تو اصحاب ِمنطق اور اصحاب ِمناظرہ  ہیں، یہ شریعت کی تحکیم کی طرف دعوت دیتے ہیں تاکہ حکم صرف اللہ کے لیے ہو جائے، اور اہل کفروارتدار سے قتال کرتے ہیں،لیکن ان کے افعال ان تمام بہترین باتوں کی مخالفت پر ہوتے ہیں!!

جیسا کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) نے ارشاد فرمایا:
 [بہترین بات کہنے والے اور بدترین افعال کرنے والےہیں]،[کلمۂ حق کے بارے میں کلام کرنے والے ہیں]،[لوگوں  کے سامنے (دھوکہ دہی کے لیےنیک ترین) لوگوں کی بہترین بات بیان کرنے والےہیں]

السندی[ حاشيته على سنن النسائي ] میں کہتے ہیں:
[ہر وہ (خوارج ہے) جو خیارِ امت(امت کے نیک ترین لوگ) کے بعض ظاہری اقوال پر کلام کرتا ہے ، مثلاً إن الحكم إلا لله (حکم تو صرف اللہ ہی کا ہے)، اُن (اقوال) کی نقل کرے،اُن کی طرز پر لوگوں کو کتاب اللہ کی طرف دعوت دے]

۷)تکفیر کرنا اور خون کو مباح قرار دینا: 
یہ ان کی وہ صفت ہے جو دیگر(فرقوں) سے ان کا فرق کرتی ہے، بغیر حق کے تکفیر کرنا اور اپنے مخالفین کے خون  کو بہانا مباح(جائز) قرار دینا، جیسا کہ رسول اللہ(صلی اللہ علیہ وسلم) نے ارشاد فرمایا:

[اہل اسلام کو قتل کر یں گے اور مشرکین کو چھوڑ دیں گے] (متفق علیہ)
[اور یہ  (سب سے بڑی (بری) صفت ہے جس کو نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) نے خوارج سے متعلق بیان کیا ہے] (مجموع الفتاوی)

ان  اہل اسلام کو قتل کرنے کا سبب ان کی تکفیر ہے، قرطبیؒ  [المفهم] میں کہتے ہیں:
[پس یہ اس لیے کہ جب یہ ان پر کفر کا حکم لگاتے ہیں جو مسلمانوں میں سے ان  کے خلاف خروج کرتا ہے، تو یہ ان کے خون کو حلال جانتے ہیں]

ابن تیمیہؒ  [مجموع الفتاوی] میں کہتے ہیں: 
[یہ اہل قبلہ کے خون کو حلال  اس اعتقاد کے ساتھ کرتےہیں کہ یہ مرتدین ہیں اور یہ (اصلی) کفار( جو مرتدین نہیں ہیں )کے مقابلے میں اِن  (اہل قبلہ) کے خون کو زیادہ حلال جانتے ہیں]

اور فرمایا:
[جو ان کی بدعت کی مخالفت کرے اس کی تکفیرکرتے ہیں، اور اس کےجان و مال کو حلال جانتے ہیں، اور یہی حال اہل بدعت کا ہوتا ہے کہ وہ بدعت کا آغاز کرتے ہیں اور جو انکی مخالفت کرتا ہے اس کی تکفیر کرتے ہیں] (مجموع الفتاوی)

خوارج کے نزدیک اس تکفیر کرنے کی بہت ساری صورتیں ہو سکتی ہیں:

جیسا کہ کبائر گناہ کے مرتکب کی تکفیر یا مطلقاً کسی گناہ کی بنیاد پر تکفیر،یاایسے گناہ پر تکفیر جو اصلاً گناہ ہی نہیں ہے، یا ظن اور شبہات پر تکفیر یا امورِ احتمال (امکانات) ہونے کی بنیاد پر تکفیر یا ایسے امور پر تکفیر جن میں اختلافِ رائے اور اجتہاد جائز ہوتا ہے، یا شروط(تکفیر) کی تحقیق کے بغیر تکفیر اور موانع (تکفیر) میں کوتاہی کی بنیاد پر تکفیر ، جہالت وتاویل پر عذر نہیں دیتے، کچھ مخصوص اقوال پر تکفیر کو لازم کرنا،بغیر کسی محکمے، فیصلے، توبہ کے ان لوگوں کے خون کو مباح قرار دیتے جو ان کی تکفیر کر دیتے۔

اسی لیے رسول اللہ(صلی اللہ علیہ وسلم) نے ان خوارج  کے بارے میں فرمایا:
[یہ دین سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے]
[ان کے دین سے نکل جانے کی مشابہت اس تیر  سے دی گئی جو اپنی قوت اور تیزی کے سبب شکار کے اندر داخل ہو کر اس شدت  سےدوسری طرف سے خروج کرتا ہے کہ شکار کے جسم پر کسی بھی قسم کا کوئی آثار(نشان) نہیں چھوڑتا ہے] (عمدة القاري)

صحیح مسلم میں ہے: [ وہ تمام مخلوق سے بدترین ہیں]، مسند احمد میں جید سند کے ساتھ روایت ہے: [ان لوگوں کے لیے بشارت ہے جو ان (خوارج) کوقتل کریں اور جو ان  (خوارج)کے ہاتھوں قتل ہوں]، ابن حجر ؒکہتے ہیں: [بلاشبہ  خوارج امتِ محمدیہ (صلی اللہ علیہ وسلم) میں شریر ترین بدعتی فرقہ ہے]

۸) ایسے شعار اخذ کرنا جو ان کو باقی لوگوں سے ممتاز کرتےہیں: 
ہر  عہد اوردور میں ان کے کچھ مخصوص شعارہوتے ہیں جن سے یہ دوسروں سے ممتاز ہوتے تھے، یہ شعار جھنڈوں، لباس کے رنگ، شکل و صورت یا دیگر متعلقہ چیزوں پر مشتمل ہوتے  ہیں۔

دورِ علی ؓ بن ابی طالب میں ان کا شعار بالوں کو منڈوانا تھا، جیسا کہ اس کے بارے میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے اپنے اس قول سے خبر دی تھی: 
[ان کی نشانی سروں کو منڈوانا ہے] (صحیح بخاری)

شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ مجموع الفتاوی (28/ 497) میں کہتے ہیں:
[یہ نشانی (سروں کو منڈوانا)  اولین خوارج کی تھی جو چوڑے سینوں والے تھے، البتہ خوارج کے لیے یہ صفت لازم نہیں ہے]

امام قرطبیؒ  [المفهم] میں کہتے ہیں:
[ ( ان کی نشانی سر منڈوانا تھا) یعنی:انہوں نے اپنے لیے یہ علامت اس لیےخاص کی کیونکہ وہ دنیا کی زینت کو ترک  کر چکے تھے، اور یہ شعار اس لیے بنایا تاکہ اس کے ذریعے ان کی پہچان ہو سکے]

والحمد لله رب العالمين 

مصدر:
http://islamicsham.org/article/1554

جمعرات، 13 نومبر، 2014

کیا تنظیم (دولۃ الاسلامیہ) خوارج ہیں؟

کیا تنظیم (دولۃ الاسلامیہ) خوارج ہیں؟
هيئة الشام الإسلامية

سوال:
کیا تنظیم (دولۃ) کو خوارج کے ساتھ متصف کرنا درست ہے، جبکہ خوارج تو وہ تھے جو کبائر گناہوں پرتکفیر کرتے تھے اور تنظیم (دولۃ) کبائر گناہوں پر تکفیر کرنےکی رائے نہیں رکھتی ہے، اور خوارج تو وہ تھے جنہوں نے مسلمانوں کے امام کے خلاف خروج کیا، اور شام یا عراق میں مسلمانوں کا کوئی امام نہیں ہے، بلکہ یہاں کے حکام تو اہل سنت کے ساتھ مخالفانہ رویہ  رکھتے ہیں؟

پھر وہ کس طرح خوارج ہو سکتے ہیں جبکہ انہوں نے شریعت کو تھام رکھاہے، عراق اور شام میں جہاد کر رہے ہیں، اور شریعت کی حاکمیت کا مطالبہ کرتے ہیں؟

جواب:
الحمد لله، والصلاة والسلام على رسول الله، وبعد:

خوارج امتِ اسلامیہ پر ایک خطرناک اور شرانگیزگروہ ہے، اس لیے سنتِ نبویﷺ کے اندران کی مکمل صفات کو واضح طور پر بیان کیا گیا ہے؛ تاکہ یہ لوگوں پر اپنے معاملہ پر تلبیس نہ کر سکیں، اور ان صفات کا اطلاق تنظیم (دولۃ) پرشدید تر اندازسےہوتا ہے۔ شرعی نصوص میں اس کی دلیل نہیں ہے کہ خوارج کا مسلمانوں کے امام کے خلاف خروج کرنا شرط ہے، یا کبائر گناہوں پر تکفیر کرناکوئی لازم امر ہے،یہ اصول اور تعریفات جن کا ذکر اہل علم کی جانب سے خوارج کے لیے کیا گیا ہے یہ فقط ان کے قریب ترین ضوابط کو بیان کرتے ہیں، یہ (فرقہ) خوارج کی صفات کے تناظر میں علمی اعتبار سے بیان ہوئے ہیں، اور اس میں مندرجہ ذیل قابل ذکر ہیں: 

اول:
 سب سے پہلا معتبرضابطہ اورقطعی بات خوارج کی تعریف کے حوالے سےجوکسی گروہ کو اس صفت سے متصف کرتی ہے، وہ شرعی نصوص میں ان گمراہ فرقوں میں سے ایک فرقے یا  دیگر گروہوں سے متعلق وارد دلائل ہیں، سنتِ نبوی میں خوارج کی صفات کا تذکرہ موجود ہے، اور ایسا تفصیلی تذکرہ کسی دیگر فرقے کے بارے میں نہیں ملتا ہے،اس کی وجہ ان کاعظیم خطرہ اور امت کودھوکے میں جلد مبتلاکرنا ہے، اور ان میں سب سے اہم صفات یہ ہیں: تکفیر (ناحق) کرنا،  ناحق خون کو حلال جاننا، قرآن وسنت کی نصوص سے متعلق سوء فہم رکھنا، طیش و افراط کا شکار ہونا، کم عمر اور ساتھ غرور وتکبر میں مبتلا ہونا ہے۔

دوم:
کثیر اہل علم نے اس بات کا ذکر کیا ہے کہ مذہبِ خوارج (کبائر کے مرتکب کی تکفیر کرنا) کی یہ صفت تمام ’خوارج‘ کے لیے جامع صفت نہیں ہے، نہ ہی یہ خروج کرنے کی واحد شرط ہے، بلکہ خوارج کے اندر وہ تمام شامل ہیں جو مسلمانوں کی ناحق تکفیر کرتے ہیں اور انکےخون کو حلال کرتے ہیں اگرچہ وہ کبائر کے مرتکب کے کفر کا عقیدہ نہ بھی رکھتے ہوں۔

اس لیے نبیﷺ نے ان کی صفت کے متعلق آگاہی دی کہ (یہ اہل اسلام کو قتل کرتے ہیں)، اور اہل علم نے اس بات کا تذکرہ کیا ہے کہ ان کے مسلمانوں کو قتل کرنے کا سبب: اپنے مخالفین پر کفر اور ارتداد کا حکم ہے۔

قرطبیؒ  [المفھم] میں کہتے ہیں:
’’پس یہ اس لیے کہ جب یہ ان پر کفر کا حکم لگاتے ہیں جو مسلمانوں میں سے ان  کے خلاف خروج کرتا ہے، تو یہ ان کے خون کو حلال جانتے ہیں ‘‘

ابن تیمیہؒ  [الفتاوی] میں کہتے ہیں: 
’’خوارج کا’عظیم دین‘ تو مسلمانوں کی جماعت سے ٹوٹنا اور ان کے مال و جان کو حلال جاننا ہے! ‘‘

اور فرمایا: 
’’یہ اہل قبلہ کے خون کو حلال  اس اعتقاد کے ساتھ کرتےہیں کہ یہ مرتدین ہیں اور یہ (اصلی) کفار( جو مرتدین نہیں ہیں )کے مقابلے میں اِن  (اہل قبلہ) کے خون کو زیادہ حلال جانتے ہیں ‘‘

ابن عبدالبر [الاستذکار] میں کہتے  ہیں:
’’یہ وہ قوم ہے جوکتاب اللہ سے تاویل کی بنیاد پر چیزوں کو حلال کرتی ہے:  مسلمانوں کے خون کو حلال جانتی ہے، ان کی گناہوں پر تکفیر کرتی، اور ان کے خلاف ہتھیار اٹھاتی ہے ‘‘

وہ خوارج جو امیر المومنین سیدنا علیؓ بن ابی طالب اور دیگر صحابہ ؓ کے خلاف نکلے وہ ان لوگوں میں سے نہ تھے ،جو کبائر گناہوں مثلاً زنا، چوری، شراب نوشی پر تکفیر کرنے کا عقیدہ رکھتے تھے، بلکہ انہوں نے صحابہؓ کی تکفیر تحکیم کے مسئلہ پر کی تھی، اور ان (صحابہؓ)کے ساتھ کوئی اصلاً گناہ کی بنیادپرتکفیرنہ تھی، پس انہوں نے سیدنا علیؓ اورسیدنا معاویہؓ اور اس (صلح) میں تحکیم کرنے والوں اور اس تحکیم پر راضی ہونے والوں کی تکفیر کی، ان کے خون کا حلال کیا،پھر اس کے بعد صحابہ ؓ نے ان کے اوپر خوارج ہونے کا حکم لگایا ، جن کے متعلق انہوں نے نبی اکرم ﷺسے ان کے افعال کے متعلق خبر سن رکھی تھی، پھر اس کے بعد صحابہؓ نے ان کے باقی  مذہبی عقائد سے متعلق اِن  خوارج سے استفسار نہیں کیا کہ آیا وہ (کبائر) گناہوں پر تکفیر کرتے ہیں کہ نہیں!

بلکہ [النجدات]جو بالاتفاق تمام اہل علم کے نزدیک  خوارج  کےبڑوں میں سے ہیں، وہ کبیرہ گناہوں کے مرتکب کی تکفیر نہیں کرتے تھے، ابو الحسن الاشعری  [مقالات الاسلامیین] میں کہتے ہیں:  خوارج کے عقیدے سے متعلق یہ  واضح ہے :

’’یہ خوارج  (کےدیگر گروہ) سوائے  النجدات کےاس بات پر جمع ہوئے کہ تمام کبیرہ گناہوں کا مرتکب کفر پر ہے، جبکہ النجدات یہ رائے نہیں رکھتے تھے ‘‘ 

خوارج کے عقیدے سے متصف جامع صفت ’’ ناحق مسلمانوں کی تکفیر اور انکے خون کو جائز کرنا ہے‘‘، اور اس تکفیر (ناحق)کرنے کی بہت ساری صورتیں ہو سکتی ہیں:

 جیسا کہ کبائر گناہ کے مرتکب کی تکفیر یا مطلقاً کسی گناہ کی بنیاد پر تکفیر،یاایسے گناہ پر تکفیر جو اصلاً گناہ ہی نہیں ہے، یا ظن اور شبہات پر تکفیر یا امورِ احتمال (امکانات) ہونے کی بنیاد پر تکفیر یا ایسے امور پر تکفیر جن میں اختلافِ رائے اور اجتہاد جائز ہوتا ہے، یا شروط(تکفیر) کی تحقیق کے بغیر تکفیر اور موانع (تکفیر) میں کوتاہی کی بنیاد پر تکفیر قابلِ ذکر ہیں۔

جب علماء اُن پر خوارج ہونے کا حکم لگاتے ہیں جو کہ کبائر گناہوں کے مرتکب کی تکفیر کرتے ہیں،تو پھر اس  شخص یا گروہ کا کیا معاملہ ہو گا جو صغائر پر تکفیر کرے اور اجتہادی امور کی بنیاد پر تکفیر کرے یا ان چیزوں پر تکفیر کرے جو جائز ہیں جیسا کہ مثلاً کفار کے ساتھ بیٹھنا یا ان سے پیغام رسانی کرنا۔

سوم:
 اس لیے شرعی نصوص میں یہ شرط نہیں ہے کہ (مسلم امام کے خلاف خروج) خوارج کی جامع صفت ہے، بلکہ وہ تمام جو یہ عقائد رکھتے ہیں اور انکے منہج پر ہیں وہ  سب کے سب خوارج ہیں، چاہے وہ امام کے خلاف خروج کریں یانہ کریں، اور (ائمہ کے خلاف خروج) خوارج کے نزدیک ناحق تکفیر  اور مسلمانوں کے خون کو حلال جاننے کے نتیجہ کے طور پر ہوتا ہے، پس اگر خوارج کو امام مل جائے تو وہ اس کے خلاف خروج کرتے ہیں اور انکے خون اور اموال کو حلال جانتےہیں، اور اگر امام میسر نہ ہو تو وہ عامۃ المسلمین اوراولیٰ نیک سیرت مجاہدین اور علماء اور داعیان کے خلاف خروج کرتے ہیں۔

ان کو  ’’خوارج‘‘ کی اصطلاح سے اس لیے پکارا جاتا ہے کیونکہ یہ احکامِ دین سے خروج کرتے اور جماعت المسلمین سے علیحدگی اختیار کر تے ہیں جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
 [آخری زمانے میں ایک قوم پیدا ہو گی جو کم سِن ہوں گےاور وہ بے وقوف کم عقل ہوں گے، وہ اپنے بیان کے اعتبار سےبہترین کلام پیش کریں گے، وہ قرآن مجید پڑھیں گے لیکن یہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا،  یہ دین سے ایسے نکلے ہوں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے، اگر تمہارا ان سے سامنا ہو جائے تو ان سے قتال کرو، کیونکہ ان کو قتل کرنے پراللہ کے ہاں قیامت کے دن اجر دیا جائے گا]

اور جب لوگوں نے تاتاریوں کے حکم سے متعلق اختلاف کیا تو ابن تیمیہؒ نے انہیں خوارج کی اقسام  میں سے قرار دیا حالانکہ انہوں نے امام کے خلاف خروج نہیں کیا تھا۔

حافظ ابن کثیر [البداية والنهاية] میں  کہتے ہیں: 
’’ لوگوں نے تاتاریوں سے متعلق  قتال کی نوعیت سے متعلق کلام کیا کہ ان کو کس ضمرے میں رکھا جائے، کیونکہ یہ اسلام کا اظہار کرتے ہیں، اور انہوں نے امام کے خلاف خروج بھی نہیں کیا ہے،کیونکہ یہ تاتاری تواس   وقت امام کی اطاعت میں ہی نہ تھے  یا پھر اس  کے بعدامام کی مخالفت کی ہو!‘‘

شیخ تقی الدین (ابن تیمیہؒ) کہتے ہیں:
’’ یہ تاتاری خوارج کی اُن اقسام میں سے ہیں ،جنہوں نے سیدنا علی اور سیدنا معاویہؓ کے خلاف خروج کیا تھا، میں دیکھتا ہوں یہ اس حکم(خوارج) کے زیادہ مستحق ہیں، یہ لوگ اس بات کا زعم رکھتے ہیں کہ یہ مسلمانوں میں سے سب سے زیادہ اس بات کے حقدار ہیں کہ وہ  اقامتِ حق کریں‘‘

اگر خوارج اپنی ریاست بھی قائم کر لیں، تو بھی یہ ان کی صفتِ خروج(عامۃالمسلمین اور خیار امت کے خلاف خروج) کو ختم نہیں کرتی، خوارج نے تو کئی بار تاریخ کے مختلف ادوار میں ریاستوں اور امارات کو قائم کیا ہے، بلکہ ان میں تو وہ فرقے بھی موجود رہے ہیں جنہوں نے خلافت کی دعوت دی، ان سب (ریاست، خلافت اور امارات کو موجودگی)کے باوجود ان کی صفتِ خروج (ائمہ یا عامۃ الناس یا خیار امت) پر واپس نہ لی گئی اور نہ ہی انہیں اس وقت تک  خوارج کے حکم سے رخصت ملی جب تک کہ وہ اہل اسلام کی(ناحق) تکفیر کرتے رہے اور ان کے خون کو حلال جانتے رہے۔

چہارم:
  اطاعت  میں جاں فشانی کی دعوت اور نفس کی قربانی، شریعت کی تطبیق کی دعوت یا طواغیت سے قتال، اس بات کو لازم نہیں کرتے کہ اس فکری  انحراف( مذہب ِخوارج) سے سلامتی مل چکی ہے، بلکہ یہ مذکورہ بالا اقوال تو خوارج کی طویل ترین تاریخ سے ایک معلوم بات ہے۔

رسول اللہﷺ نے خوارج کی عبادات کے اندر جاں فشانی سے متعلق ہمیں خبر دی یہاں تک کہ ہمیں خود دھوکہ ہونے کا شائبہ ہوا، انہوں نے فرمایا: 
’’ تم میں سے ہر ایک ان کی نمازوں کے مقابلے میں اپنی نمازوں کو حقیر جانے گا اور انکےروزوں کے مقابلہ میں اپنے روزوں کو حقیر جانے گا ‘‘ (متفق علیہ)

حافظ ابن حجرؒ کہتے ہیں:
’’ ان کو [قراء، پڑھنے والے] اس لیے کہا جاتا تھا کہ وہ اپنی تلاوت اور عبادات میں بہت ریاضت کرتے تھے حالانکہ وہ قرآن مجید(احکاماتِ شریعہ) کی تاویل کر کے  وہ باطل بات مراد لیتے تھے، جو اس میں مذکور نہ ہوتی تھی، اپنی مستبدانہ (جابرانہ، متشدد) رائے کو اختیار کرتے تھے، زہدو خشوع میں جزویات کا حد سے زیادہ خیال رکھنے والے تھے اور اسی طرح  کے دیگر امورِ شریعہ میں یہ رویہ اپناتے تھے ‘‘

السندی[ حاشيته على سنن النسائي ] میں کہتے ہیں:
’’ہر وہ جو خیارِ امت(امت کے نیک ترین لوگ) کے بعض ظاہری اقوال پر کلام کرتا ہے ، مثلاً إن الحكم إلا لله (حکم تو صرف اللہ ہی کا ہے)، اُن (اقوال کی)کی نقل کرے، اوراُس کو کتاب اللہ کی طرف دعوت سے منسوب کرے‘‘

خوارج کے بڑے عہدِ علیؓ بن ابی طالب کے دور میں جمع ہوئے، اور قرآن کو حکم بنانے کا عہد لیا، حق کو طلب کرنے کی بات کی اور ظلم سے انکار کیا، ظالموں سے جہاد کرنے اور دنیا سے بےرغبتی پر یکجا ہوئے، نیکی کی دعوت اور برائی سےبچنے کی نصیحت کی، پھر اس کے بعد صحابہؓ کے خلاف قتال پر نکل کھڑے ہوئے۔

پنجم:
 بلاشبہ تنظیم (الدولۃ) سے متعدد(شرعی) خلاف ورزیاں سرزد ہوئی ہیں، یہ ان کے اقوال سے بھی نشر ہو کر ہم تک پہنچی ہیں اور ان کے متواتر افعال  بھی اس پر گواہ ہیں، جو ہم سے اس بات کا تقاضہ کرتے ہیں کہ ہم ان کے اوپریہ حکم لگائیں کہ یہ خوارج ہیں اور منہج نبوت سے انحراف پر ہیں، اور وہ وجوہات درجہ ذیل ہیں:

۱)مسلمانوں کے ملکوں پر اِن کا یہ حکم لگانا کہ یہ کفر اور ارتداد کے ممالک ہیں، اور مسلمانوں کے اوپراپنی (تنظیم) کے اختیار اور اثرورسوخ والے علاقوں  پر ہجرت کو واجب قرار دینا۔

۲)جو ان کی مخالفت کرے ان پر کفر اور ارتداد کا حکم لگانا، ان کو صحوات(مرتدین) سے متصف کرنا، ان پر خیانت کرنے اور کفار کے آلہ کار ہونے الزام لگانا، صرف شبہ اور جو چیزاصلاً کفر نہیں ، کی بنیاد پرتکفیر کرنا ، جیسا کہ حکومتوں اورباقی نظم کے ساتھ تعامل کرنا اور ان کے مسوؤلین سے ملاقات کرنا۔

۳)ان (دولۃ)کے منہج کی مخالفت کرنے والوں سے قتال کو حلال جاننا یا اپنی فرضی دولت (ریاست یا خلافت) کی بنیاد پر (غیر جانبدار شرعی عدالتوں میں)تسلیم ہونے سے انکار کرنا، مسلمانوں کے ساتھ جبر، غدر،قید،قتل، تعذیب والے معاملات کرنا اور مجاہدین کے مراکز پر دھماکہ خیر گاڑیاں بھیجنا، شامی انقلاب کے قائد مجاہدین، داعیان، اعلامی شہسواروں کو قتل کرنا،ان لوگوں کے خلاف جو عراق وشام میں ان کےنظم کے تابع نہ ہوں  انکے خلاف عملی طور پر برسرپیکار ہونا، ان مسلمانوں کو قتل کرنا جن کو دشمن بھی قتل نہ کر سکا، ان سب جملۂ معاملات سے ان پر رسولﷺ کا یہ قول صادق آتا ہے: ’’یہ اہل اسلام  کو قتل کریں گے اور مشرکین کو چھوڑ دیں گے‘‘ (متفق علیہ)

۴)مسلمانوں کے مال کو اس حجت سے حلال کر کے لوٹنا  کہ وہ منحرف جماعتوں سے لڑ رہے ہیں، بغیر حق کے ان کی ملکیت کو ضبط کرنا، عوامی وسائل مثلاً  تیل کے کنوؤں وغیرہ سے حاصل ہونے والی  آمدن سے متعلق اجارہ داری سے کام لینا، اور ان  میں متمکن حاکم کی طرز پر اصراف سے کام لینا شامل ہے۔

۵) جماعت المسلمین کے خلاف خروج کرنا، اور حق(اسلام) کو اپنے منہج میں محصور کر لینا، ان تمام پر جو اِن کی فکر اور منصوبےسے اختلاف کرے، اس پر دین کے دشمنوں کا حکم لگا دینا، اور آخر میں ان سب کو(نام نہاد خودساختہ) ’خلافت‘ کی دعوت دینا، اور تمام مسلمانوں پر اپنی بیعت کو لازم کرنا ہے۔

۶) ان کے پاس کوئی بھی معروف علماء نہیں  ہیں جو مسلمانوں کے نزدیک مشہور ہوں،  جس طرح ابن عباس ؓ نے انکے جدِ امجدخوارج سے کہا تھا:
’’ میں تمہارے پاس  مہاجرین اور انصار صحابہؓ کی جانب سے آیا ہوں۔۔۔ان کے دور میں قرآن نازل ہوا، تمہاری جماعت میں ان میں سےکوئی بھی نہیں ہے‘‘

ان کی غالب اکثریت ان کم سِن افراد کی ہے جن پربےقراری ، عجلت پسندی،جوش کا غلبہ ہے اور ساتھ یہ قلتِ نظر اور فہم وادراک  سے بھی عاری ہیں، تنگ نظر ہیں اور بصیرت سے محروم ہیں، یہ بالکل ایسےہی ہیں جیسا کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: (کمِ سن وکم عقل بےوقوف)

۷) یہ سب محرکات انہیں غرور اور مسلمانوں کے معاملہ میں تکبر کی طرف لے گئے ہیں، یہ اپنے بارے میں گمان رکھتے ہیں کہ یہ ہی فقط مجاہدین فی سبیل اللہ ہیں، اور یہی  جہاد میں اللہ کی سنت سے متعلق اصل علم والے ہیں،پس اسی سبب یہ اپنے اعمال اور خودکو آگے بڑھانے سے کثرت سے فخر کرنے لگے ہیں۔

یہی وہ غرور ہے جو انہیں اہل علم اور اہل حکمت کے خلاف لے کر گیا ہے، انہوں نے انکےکلام کو چھوڑ دیا ہے، اپنے اوپر علم اور فہم کا تمام دعوی کر دیا ہے، ان تمام بڑے حادثات کا سامنا ان کی ناتجربہ کاری اور عدم غوروفکر کی وجہ سے اہلِ شام کو کرنا پڑا ہے،  اپنے اور دیگر جماعتوں کے مابین غیرجانبدار تحکیم کا انکارکیا ہے۔

اسطرح انہوں نے غاصب نظام(بشار الاسد) کی نصرت مجاہدین کے خلاف قتال اور حصار سے کی، ظالم نظام کے سامنے مجاہدین میں توڑ پھوڑ ڈالنے پر مسرت کا اظہار کیا، ان کے مراکز پر قبضہ کیا، حتی کہ یہ اب بھی بعید از قیاس  بات نہ رہی ہے کہ ان کی صفوں میں اسلام دشمن عناصر اور بعض ملکوں کے خفیہ اداروں نے بھی ان کے اندر ڈیرہ جما لیا ہے، اس کے ذریعے یہ مجاہدینِ شام پر ضرب لگاتے ہیں اور ان  اعمال(بد) کو سرانجام دیتے ہیں جس پر دشمن براہ راست جنگ کے سبب بھی عاجز آ چکا تھا۔ تنظیم (الدولۃ) میں وہ شر جمع ہوا جو اس سے قبل کسی بھی خوارج کے گروہ میں جمع نہ ہوا تھا، جس میں باطل پر اکٹھا ہونا، حق سے منع کرنا اور غیرجانبدار تحکیم کا انکار رکرنا، جھوٹ، غدر، خیانت، عہدتوڑنا، اسلام دشمنوں کی (اپنے اعمال کی وجہ سے) مدد کرنا، حتی کہ یہ مسلمانوں اور مجاہدین  پر نصیری  نظام کے مقابلہ میں سب سے بڑھ کر خطرہ بن گئے ہیں اور اولین خوارج سے شر،بدبختی اور انحراف میں سبقت لے گئے ہیں۔

ہم تنظیم (الدولۃ) پر یہ حکم لگاتے ہیں کہ یہ خوارج ہیں، یہ بات اس چیز کو لازم نہیں کرتی کہ ہم  تمام افراد پر جو اس جماعت میں موجود ہیں ان پر (معین) حکم لگائیں؛ اگران کے اندر ایسےافراد موجود ہیں جو ان کے اقوال و احوال یا ان کے دھوکہ سے لاعلم  ہیں، تو بھی یہ حکم(خوارج) کا اطلاق جماعت پر ہے، جس کی ضرورت فقط ان سے ساتھ تعامل کرنے کے مقصد سے بیان ہو رہی ہے، ہمارے اوپر واجب ہے کہ اہم ان کے شر کو رفع کریں اور ان کا حساب اللہ تعالیٰ کے سپرد ہے۔

ہم اللہ تعالیٰ سے سوال کرتے ہیں کہ ان کے گمراہوں کو ہدایت دیں، انکے ظالمین کوبکھیر دیں، اور مسلمانوں کے اوپر ان کے شر کے لیے کافی ہو جائیں۔(آمین)

والحمد لله رب العالمين

مصدر:
http://islamicsham.org/fatawa/1945


شام میں بہتا خون روکنے کی خاطر ایک شہادت

شام میں بہتا خون روکنے کی خاطر ایک شہادت
شیخ ایمن الظواہری حفظہ اللہ

بسم اللہ والحمدللہ والصلاۃ والسلام علیکم رسول اللہ وآلہ وصحبہ ومن والاہ
دنیا بھر میں بسنے والے میرے مسلمان بھائیو!

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ،

میں یہ فیصلہ کرچکا تھا کہ شام میں مجاہدین کی صفوں میں پھیلنے والے فتنے سے متعلق جو کچھ میں ابھی تک کہہ چکا ہوں اسی پر اکتفاکروں گا لیکن پھر میں نے دعوت و ابلاغ اورنصیحت وخیر خواہی کے محاذ پر صبر کے ساتھ کاربنداپنے قابل قدر اور محبوب مہاجر بھائی،محترم شیخ،ابوکریم ڈاکٹر ہانی السّباعی کی اپیل سنی۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہرقسم کے شر سے ان کی حفاظت فرمائے،حق پر انہیں ثابت قدم فرمائے اور مسلمانوں،بالخصوص مجاہدین کی اصلاح کرنے میں ان کی مدد فرمائے۔چنانچہ میں نے استخارے اور مشورے کے بعد دوبارہ اس موضوع کو کھولنے اور بالخصوص اُن سوالات کے جوابات دینے کا فیصلہ کیا جو انہوں نے مجھ سے جمادی الاولیٰ کی پچیس تاریخ کو مقریزی ریڈیو پر نشر ہونے والے اپنے ایک خطاب میں پوچھے ہیں۔

میں یہ واضح کرتا چلوں کہ اس مسئلے پر دوبارہ بات کرنے کے پیچھے دو بنیادی وجوہات ہیں۔
پہلی وجہ تو محترم شیخ ہانی السّباعی کی یہ امید ہے کہ ان سوالات کا جواب مجاہدین کے درمیان پھیلے فتنے کی آگ بجھانے میں مددگار ہوسکتا ہے،لہٰذا میں نے سوچا کہ اگر میری چند باتوں سے مسلمانوں کا بہتا خون رک جائے تو اس سے بہتر بات اور کیا ہوسکتی ہے۔

جب کہ دوسری وجہ یہ ہے کہ میں اپنے شفیق اور خیرخواہ بھائی کی اِس طلب پر انکار نہیں کرسکتا اور ان کی باتوں کا جواب دینا ان کا مجھ پر حق ہے۔میری گفتگو درج ذیل امورپر مبنی ہوگی:

ایک گواہی
ایک عدد حکم
ایک ہمدردانہ اپیل
اورایک یاددہانی اورنصیحت

سب سے پہلے،جس بات کی میں گواہی دینا چاہتا ہوں وہ دولۃ عراق الاسلامیہ اور اس کے قابل احترام امیر شیخ ابوبکرالحسینی البغدادی حفظہ اللہ کے جماعت قاعدۃ الجہاد کے ساتھ تعلق سے متعلق ہے۔

اللہ تعالیٰ کی مدد کے بعد اور اللہ تعالیٰ کو گواہ ٹھہراتے ہوئے میں یہ شہادت دیتا ہوں کہ دولۃ عراق الاسلامیہ ‘جماعت القاعدۃ الجہاد کی تابع ایک ذیلی شاخ تھی۔میں یہ چاہتا ہوں کہ یہاں اس سلسلے میں کچھ مزید تفاصیل بھی بیان کردوں:

1۔جس وقت دولۃ عراق الاسلامیہ کا اعلان ہواتو جماعت القاعدۃ الجہاد کی قیادت اور ان میں سرفہرست شیخ اسامہ بن لادن رحمہ اللہ سے نہ تو اس سلسلے میں اجازت لی گئی اور نہ ہی ان سے مشورہ کیا گیا۔اس کے بعد شیخ ابوحمزہ المہاجررحمہ اللہ نے جماعت القاعدۃ الجہاد کی قیادتِ عامہ کے نام ایک خط بھیجا جس میں انہوں نے دولہ کے قیام کے اسباب اور وجوہات بیان کیے اور ساتھ ہی تاکید کے طور پر یہ بات بھی واضح کی کہ دولہ الاسلامیہ مرکزی جماعت القاعدۃ الجہاد کے تابع ہی رہے گی۔انہوں نے مزید یہ بھی کہا کہ دولہ کی شوریٰ نے شیخ ابوعمر البغدادی رحمہ اللہ سے یہ عہد لیا ہے کہ اُن کے امیر شیخ اسامہ بن لادن ہی ہوں گے اور دولہ الاسلامیہ ‘جماعت القاعدۃ الجہاد کے تابع ہوگی۔لیکن اس وقت عراق والے بھائیوں کی رائے یہ تھی کہ عراق کے مخصوص حالات اوربعض سیاسی مصلحتوں کی بنا پر اس بات کا اعلان نہ کیا جائے اور اس تفصیل کو صرف اپنے بھائیوں تک ہی محدود رکھا جائے۔

جماعت القاعدہ الجہاد اور دولہ عراق الاسلامیہ کی قیادت اسی قاعدے پر باہمی معاملات چلاتے رہے کہ دولہ عراق الاسلامیہ‘قاعدۃ الجہاد کا ایک جزو ہے۔اس کی کچھ مثالیں درج ذیل ہیں:

الف: شیخ اسامہ رحمہ اللہ کے گھر سے ملنے والے وہ خطوط جو امریکیوں نے نشرکیے تھے،ان میں سے خط نمبر:SOCOM-2012-0000011 Orig

جوکہ شیخ عطیہ رحمہ اللہ نے شیخ مصطفی ابوالیزیدرحمہ اللہ کے نام لکھا تھا۔اس خط میں شیخ عطیہ نے شیخ مصطفی ابوالیزیدرحمہ اللہ کو شدت سے یہ تاکید کی تھی کہ وہ ’کرّومی‘ (جس سے ان کی مراد شیخ ابوحمزۃ المہاجر ہیں)،شیخ ابوعمراوران کے ساتھیوں کے نام واضح ہدایات اورنصیحتیں لکھیں کیونکہ اُنہیں عراق میں سیاسی غلطیاں ہونے کا شدید اندیشہ تھا۔

ب۔ جب شیخ ابوبکر الحسینی البغدادی،اللہ انہیں خیر کی توفیق دے،تنظیم قاعدۃ الجہاد کی اجازت کے بغیردولہ الاسلامیہ کے امیر بنے تو شیخ عطیہ رحمہ اللہ نے دولہ عراق الاسلامیہ کی قیادت کے نام بروز۷جمادی الأولیٰ ۱۴۳۱ ہجری کو خط لکھا جس میں اُنہیں نے کہا:

’’قیادت میں موجود ہمارے بھائیوں کے سامنے ہم یہ تجویز رکھتے ہیں کہ جب تک اس موضوع پر مشاورت جاری ہے،اس وقت تک ایک عارضی قیادت متعین کردی جائے، ہمارے رائے میں بہتر یہی ہے کہ اس معاملے میں جلد بازی نہ ک جائے ،الاّ یہ کہ ایسی شدید نوعیت کی ضرورت ہو جس کی وجہ سے باضابطہ طور پر ایک مستقل قیادت کا اعلان کرنا ناگزیر ہوجائے۔ چنانچہ فی الحال قیادت کے لیے جتنے مجوزہ افراد ہیں ان کے نام اور ان کے مکمل تعارف اور صلاحیتوں پر مبنی ایک رپورٹ بھیج دی جائے۔ہم یہ رپورٹ شیخ اسامہ کو بھیجیں گے تاکہ وہ اس معاملے میں فیصلہ کریں‘‘۔

ٍج: شیخ اسامہ رحمہ اللہ نے شیخ عطیۃ اللہ رحمہ اللہ کے نام ۲۴رجب ۱۴۳۱ہجری کو ایک خط لکھا جس میں انہوں نے کہا:

’’بہت اچھا ہواگر آپ ہمارے بھائی ابوبکر البغدادی،جوہمارے بھائی ابوعمرالبغدادی رحمہ اللہ کی جگہ امیر بنے ہیں،ان کا تفصیلی تعارف بھجوا دیں۔ اسی طرح ان کے نائبِ اول اورابوسلیمان الناصرلدین اللہ کا بھی تفصیلی تعارف بھجوا دیں۔بہترہوگا کہ عراق میں موجود ہمارے دیگر بااعتماد ساتھیوں سے بھی ان کے متعلق پوچھیں اوران کی رائے ہم تک پہنچائیں تاکہ معاملات ہمارے سامنے اچھی طرح واضح ہوسکیں‘‘۔

یہ خط امریکیوں کو شیخ اسامہ رحمہ اللہ کے گھر سے ملا اور اس خط کو درج ذیل نمبر کے تحت امریکیوں نے نشرکیا:SOCOM-2012-0000019 Orig

د۔ شیخ عطیۃ رحمہ اللہ نے انہیں اپنا جواب مورخہ ۵شعبان ۱۴۳۱ہجری کو لکھ بھیجا جس میں آپ نے کہا : ’’ہم ان شاء اللہ ابوبکر بغدادی اوران کے نائب اورابوسلیمان الناصرلدین اللہ کے متعلق معلومات اورمزید تفصیلات طلب کررہے ہیں،تاکہ ہمارے سامنے صورت حال مکمل طورپر واضح ہوسکے‘‘۔

ھ۔ شیخ عطیۃ اللہ نے دولہ عراق الاسلامیہ کی وزارتِ اعلام کے نام مورخہ ۲۰ شوال۱۴۳۱ہجری کو ایک خط لکھا جس میں انہوں نے کہا:

’’مشائخ نے آپ کی جدیدقیادت(اللہ تعالیٰ انہیں خیر کی توفیق دے)کے متعلق تعارف پر مبنی ایک مختصر رپورٹ مانگی ہے جن میں دولہ عراق الاسلامیہ کے امیر المومنین شیخ ابوبکر البغدادی ،ان کے نائب،وزیر حرب، اوراگرآپ چاہیں تو دیگر مسئولین کا ایک تعارف طلب کیا گیا ہے۔یہ بات آپ اپنے مشائخ تک پہنچا دیں۔وہ چاہیں تو خود اپنا ایک تعارف لکھ کے بھیج دیں یا پھر صوتی انداز میں ریکارڈ کرکے ہمیں بھیج دیں‘‘۔

و۔ اس پر دولہ عراق الاسلامیہ کی شوریٰ کے نمائندے نے ذوالقعدۃ ۱۴۳۱ہجری کی اوّل تاریخ کو ایک جوابی خط بھیجا جس میں انہوں نے کہا:

’’محترم بھائی!آپ کا خط ہمیں رجبِ حرام ۱۴۳۱ہجری میں موصول ہوا جس کے ساتھ ہی آپ کا ایک پچھلا خط بھی تھا جس میں مشائخ کرام(اللہ تعالیٰ ان کی حفاظت کرے) کی جانب سے یہاں دولہ کی صورت حال اور نئے امیر کے متعلق حتمی فیصلے میں کچھ عرصہ انتظارکی تاکید تھی۔لیکن ہمیں یہ خط نئی امارت کے اعلان کے بعد ملا۔بہرصورت،یہاں پہلے دن سے بھائی یہ طے کرچکے ہیں کہ آپ کے یہاں مشائخ کو یہاں کی صورت حال اور اصل حقائق سے مکمل طورپرآگاہ رکھا جائے۔ہمارے مشائخ اورمحترم امرائے کرام!ہم آپ کو آگاہ کرتے چلیں کہ عراق میں آپ کی دولہ الاسلامیہ خیریت سے ہے اور مضبوطی سے قائم ہے‘‘۔

اس کے بعد وہ کہتے ہیں:
’’ہمارے محترم مشائخ!دونوں شیوخ(شیخ ابوعمر البغدادی اور شیخ ابوحمزۃ المہاجر) کی شہادت کے بعد شوریٰ نے کسی نئے امیر کی تقرری کااعلان آپ کی جانب سے کسی محفوظ رابطے کے ذریعے امر آنے تک موخر کرنے کی کوشش کی،لیکن مختلف وجوہات کی بنا پر بالخصوص عراق اور عراق سے باہر دشمنوں کی چالوں کے پیش نظر،انتظار کی یہ مدت طویل کرنا ہمارے لیے ممکن نہیں تھا‘‘۔

اس کے بعد وہ مزید کہتے ہیں:
’’یہاں موجود تمام بھائی،بالخصوص شیخ ابوبکرحفظہ اللہ اور مجلس شوریٰ اس بات پر متفق ہیں کہ اس بات میں کوئی حرج نہیں کہ یہ امارت عارضی نوعیت کی ہو۔اور اگر آپ کے یہاں مشائخ کی جانب سے کسی شخص کو یہاں امیر مقرر کرکے بھیجا جائے اور اگر آپ اسی میں مصلحت دیکھتے ہیں تو ہمیں اس بات پر کوئی اعتراض نہ ہوگا اور اگر آپ نے عراق کے محاذ کے لیے کسی کو امیر بنا کر بھیجا تو ہم سب اس کے وفادار سپاہی ہوں گے جن پہ امیر کی سمع و طاعت واجب ہوگی۔مجلس شوریٰ او رشیخ ابوبکر حفظھم اللہ سب اس بات پر متفق ہیں‘‘۔

ز۔ شیخ اسامہ بن لادن رحمہ اللہ کی شہادت کے بعد محترم شیخ ابوبکر الحسینی البغدادی نے ایک بیان جاری کیا جس میں انہوں نے کہا:

’’مجھے اس بات کا مکمل یقین ہے کہ شیخ اسامہ کی شہادت ہمارے بھائیوں کے لیے اس راہ میں مزید ثابت قدمی کا باعث بنے گی،میں ساتھ ہی تنظیم القاعدہ میں موجود اپنے بھائیوں ، اوربالخصوص مجاہد شیخ ایمن الظواہری حفظہ اللہ اور تنظیم کی قیادت میں موجود ان کے بھائیوں کو یہ کہنا چاہوں گا کہ اللہ تعالیٰ آپ کے اجر کوبڑھائے اور مشکل کی اس گھڑی میں آپ کے لیے آسانی فرمائے۔اللہ تعالیٰ کی برکت سے اپنے معاملات کو جاری رکھیے۔ ہماری طرف سے آپ کے لیے یہ خوش خبری ہے کہ دولہ عراق الاسلامیہ میں آپ کے ایسے وفادار سپایہ موجود ہیں جو حق کے راستے پر رواں دواں ہیں،نہ وہ ہمت ہارتے ہیں اور نہ ہی اس راستے سے پیچھے ہٹتے ہیں۔اللہ کی قسم خون کا ہم خون سے لیں گے اور تباہی کا بدلہ تباہی سے‘‘۔

ح۔ اس بیان کے فوراً بعد دولہ عراق الاسلامیہ کے رابطہ کار نے شیخ عطیۃ اللہ رحمہ اللہ کے نام مورخہ ۲۰ جمادی الثانی ۱۴۳۲ہجری کو ایک خط بھیجا جس میں انہوں نے کہا:

’’شیخ نے یہ پیغام بھیجا ہے کہ ہم یہاں کے حالات سے متعلق آپ کو اطمینان دلائیں۔الحمدللہ یہاں معاملات نہ صرف مضبوط بنیادوں پر چل رہے ہیں بلکہ مزید بہتری کی جانب گامزن ہیں۔شیخ نے تنظیم کے نئے امیر کے متعلق آپ کا نقطۂ نظرجاننا چاہا ہے۔کیا دولہ الاسلامیہ ‘تنظیم کے ساتھ اپنی بیعت کی اعلانیہ تجدید کرے یا یہ معاملہ پہلے کی طرح مخفی ہی چلتا رہے جیسا کہ معلوم ہے اور اس پر عمل جاری ہے؟یہ بات بھی مدنظر رہے کہ یہاں موجود ہر بھائی بہرحال آپ کے ترکش میں موجودتیروں کی مانندہیں اوران کا آپ کے ساتھ تعلق اسی طرح ہے جس طرح شیخ ابوبکرالبغدادی نے اپنے بیان ’’الدم الدم والہدم الہدم‘میں بیان کیا ‘‘۔

ط۔ شیخ اسامہ رحمہ اللہ کی شہادت کے بعد جب میں نے ان کی جگہ امارت کی زمام کار سنبھالی تو شیخ ابوبکرالبغدادی الحسینی مجھے اپنے خطوط میں اپنا ’امیر‘ کہہ کر ہی مخاطب کرتے رہے۔حتیٰ کہ ۲۹ جمادی الأولیٰ ۱۴۳۴ہجری کو اُن کا جو آخری خط مجھے ملا اس کی ابتدا بھی ان الفاظ سے ہوتی ہے ’ہمارے محترم و مہربان امیر کے نام‘۔



اس خط کا اختتام انہوں نے کچھ یوں کیا:

’’مجھے ابھی یہ خبر ملی ہے کہ جولانی نے ایک صوتی بیان میں آپ کے ساتھ بلاواسطہ بیعت کا اعلان کیا ہے۔یہی وہ بات تھی جس کے لیے وہ پہلے سے تیاری کررہا تھا،تاکہ اپنے اور اپنے گرد موجود افراد کی اُن غلطیوں کا خمیازہ بھگتنے سے بچا سکے جو اس نے کیں۔شام میں یہاں موجود میرے بھائیوں اور اس بندۂ فقیرکی رائے یہ ہے کہ خراسان میں ہمارے مشائخ پر لازم ہے کہ وہ ایسے واضح موقف کا اعلان کریں جس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہ ہو،تاکہ اس سازش کو یہیں ختم کیا جاسکے،قبل اس کے کہ خون بہے اور ہم امت کے لیے کسی نئے المیے کا سبب بن جائیں۔ہمارے رائے میں اس خائن کی اس اقدام کی تائید…چاہے وہ اشارے کنایے کی صورت میں ہی کیوں نہ ہو…کسی بہت بڑے فتنے کا پیش خیمہ بن سکتی ہے،جس کے نتیجے میں شامہ جہاد کے وہ ثمرات ضائع ہوجائیں گے جن کی خاطر اتنا خون بہہ چکا ہے۔لہٰذا اس عاملے میں درست موقف بیان کرنے میں کسی قسم کی تاخیر موجودہ صورت حال کو نا صرف مزید گھمبیر بنادے گی بلکہ مسلمانوں کی صفوں میں پھوٹ بھی پڑجائے گی،جماعت کا رعب ختم ہوجائے گااورمزید خون بہائے بغیر اس معاملے کا تدارک نہ ہوسکے گا‘‘۔

ی: اسی طرح شیخ ابومحمد العدنانی نے بھی مجھے اس معاملے میں اپنی گواہی بھیجی جس کے اختتام پر انہوں نے لکھا:

’’یہ گواہی بندۂ فقیرابومحمد العدنانی نے بروز۱۹جمادی الاولیٰ ۱۴۳۴ہجری کو اللہ تعالیٰ کے حضور،اپنی امت کے سامنے اور اپنے امرا کے سامنے اپنا عذر پیش کرنے کے لیے تحریر کی جن میں سرفہرست شیخ ڈاکٹر ایمن الظواہری حفظہ اللہ اور شیخ ابوبکر البغدادی حفظہ اللہ شامل ہیں‘‘۔

ک۔ شیخ ابوبکرالحسینی البغدادی حفظہ اللہ نے مورخہ ۲۱رمضان ۱۴۳۴ھ کو جماعت کے ایک مسئول کے نام خط لکھا ،جس میں انہوں نے کہا:

’’شیخ ظواہری کے آخری خط پر غوروفکر تین مراحل سے گزرا:

۱۔شام میں موجود دولہ الاسلامیہ کی قیادت کے ساتھ مشاورت۔
۲۔شام کی مختلف ولایات میں موجودہ امرا جو کہ وہاں ہماری مجلسِ شوریٰ کے بھی رکن ہیں،ان کے ساتھ مشاورت۔
۳۔دولہ الاسلامیہ میں موجود لجنہ شرعیہ کی جانب سے اس خط کے مندرجات پر غوروفکر۔

ہم نے شام میں ٹھہرنے کا فیصلہ تب ہی کیا جب ہمیں یہ واضح نظر آیا کہ ہمارے امیر کی اطاعت میں ہمارے رب کی معصیت اور ہمارے ساتھ موجود مجاہدین اوربالخصوص مہاجرین کی ہلاکت ہے۔لہٰذا ہم نے اپنے رب کی اطاعت کی اور اس کی اطاعت کو اپنے امیر کی مرضی پر ترجیح دی۔اورجوکوئی اپنے امیر کے کسی ایسے امر کی مخالفت کرے جس میں اسے مجاہدین کی ہلاکت اور رب کی نافرمانی نظرآتی ہو،اس کے بارے میں یہ کہنا مناسب نہیں کہ اس نے بے ادبی کا مظاہرہ کیا‘‘۔

اس مسئلے پر میں انہی مثالوں پہ اکتفا کرتا ہوں۔

2۔ باقی جہاں تک اس سوال کا تعلق ہے کہ اس مشکل کے حل کے لیے جو فیصلہ جاری کیا گیا اس کی نوعیت کیا ہے؟کیا وہ ایک امیر کا حکم ہے جو اپنے ماتحت افراد کے مابین فیصلہ کررہا ہے،یا اس کی نوعیت ایک ایسے مقدمے کی ہے جس میں دو فریقین نے ایک قاضی کی طرف معاملہ لوٹایا ہو؟اس حوالے سے میں دولہ میں اپنے بھائیوں کے نام مورخہ ۲۸شوال۱۴۳۴ہجری کے اپنے طویل خط میں اس امر کی وضاحت کرچکا ہوں کہ یہ ایک امیر کی جانب سے اپنے ماتحت افراد کے مابین فیصلہ ہے کسی قاضی کا حکم نہیں جودوفریقین کے مابین کسی خاص مشکل میں فیصلہ کررہا ہو۔

3۔ اسی طرح بعض اوقات یہ سوال بھی اٹھایا جاتا ہے کہ کیا وجہ ہے کہ جماعت اور اس کی قیادت دولہ عراق الاسلامیہ کی تو تعریفیں کرتی رہی اور اس پر راضی بھی رہی جب کہ عراق اور شام میں دولہ پر وہ راضی نہیں؟

اس سوال کا جواب یہ ہے کہ اگر دولہ عراق الاسلامیہ کے اعلان سے پہلے جماعت القاعدہ الجہاد کی قیادتِ عامہ اور جماعت کے امیر شیخ اسامہ بن لادن رحمہ اللہ سے نہ تو اجازت لی گئی تھی نہ ان سے مشورہ کیا گیا تھا اور نہ ہی اس ضمن میں انہیں کوئی اطلاع ہی کی گئی تھی،لیکن پھر بھی قیادت نے دولہ عراق الاسلامیہ کو قبول کرنے کا فیصلہ کیا۔اس کی وجہ وہ بہت سے فروق ہیں جو دولہ عراق الاسلامیہ اوردولہ اسلامیہ عراق وشام کے مابین پائے جاتے ہیں،جن میں سے چند ایک درج ذیل ہیں

الف: دولہ عراق الاسلامیہ ایسے کسی فتنے کی بنیاد پر قائم نہ ہوئی تھی جس میں جبہہ کی تائید کی صورت میں خون بہانے کی دھمکیاں دی جاررہی ہوں۔

ب: دولہ عراق الاسلامیہ مجاہدین کی شوریٰ اور اہل سنت کے قبائل کے ساتھ وسیع مشاورت کے بعد قیام پذیر ہوئی تھی،جیسا کہ شیخ ابوحمزہ المہاجررحمہ اللہ نے ہمیں اس حوالے سے تفاصیل بتائی تھیں اور شیخ ابوحمزہ کے ساتھ طویل تعلق کی بنا پر ہم اُن کی سچائی پر مکمل یقین رکھتے ہیں کہ انہوں نے دولہ کے قیام کے لیے تمام جہادی جماعتوں کے ساتھ رابطے کیے تھے،جب کہ دولہ الاسلامیہ عراق وشام کے اعلان سے پہلے سوائے جماعت کے اندر کے کچھ لوگوں کے کسی سے مشورہ نہیں کیا گیا،یہاں تک کہ خود جبہۃ النصرہ نے یہ اعلان کیا کہ اس ضمن میں ان سے کسی قسم کی مشاورت نہیں کی گئی۔

ج: عراق وشام میں دولہ کا اعلان جماعت قاعدۃ الجہادکی قیادت کے اس حکم کی صریح نافرمانی میں کیا گیا جس میں قیادت نے یہ ہدایت دے رکھی تھی کہ شام میں القاعدہ کے ساتھ منسوب کسی قسم کے وجود کا اعلان نہ کیا جائے،بلکہ جماعت قاعدۃ الجہاد کی قیادت کا عمومی موقف یہ ہے کہ اس مرحلے میں کسی قسم کی امارت کااعلان نہ کیا جائے۔اس امر کی وضاحت شیخ اسامہ بن لادن رحمہ اللہ ‘شیخ عطیۃ اللہ رحمہ اللہ کے نام اپنے خط میں بھی اچھی طرح کرچکے ہیں جسے بعد ازاں امریکیوں نے درج ذیل نمبر کے تحت نشرکیا:
SOCOM-2012-0000019 Orig

اس امر کی تاکید شیخ ابویحییٰ رحمہ اللہ دولہ عراق کے اپنے بھائیوں کے نام اپنے ایک خط میں کرچکے تھے جس کے بعد میں نے اسی بات کا اعادہ شیخ ابوبکرالحسینی البغدادی کے نام اپنے ۲۵جمادی الثانی ۱۴۳۴ہجری کے خط میں بھی کیا تھا،جس میں مَیں نے ان کو لکھا تھا کہ :

’’اگر اس دولہ کے اعلان سے پہلے آپ ہماری رائے پوچھتے تو ہم آپ کے ساتھ ہرگز اتفاق نہ کرتے ،کیونکہ میں اور میرے بھائی یہ دیکھتے ہیں کہ اس اعلان کے نقصانات اس کے فوائد سے کہیں زیادہ ہیں،کیونکہ شام میں دولہ کے قیا م کے بنیادی عناصر ابھی میسر نہیں‘‘۔

د: عراق وشام میں دولہ الاسلامیہ کا اعلان اہلِ شام کے لیے سیاسی طور پر ایک حادثہ ثابت ہوا،چنانچہ ایک ایسے وقت میں جب کہ اہلِ شام جبہۃ النصرہ کی تائید میںاور امریکہ کے خلاف مظاہرے کررہے تھے کہ اس نے جبہۃ النصرہ کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں کیوں شامل کیا؟وہی لوگ دولہ کے اس اعلان کی مذمت کرنے لگے جسے دولہ نے بشارالاسد کو سونے کی طشتری میں رکھ کرپیش کردیا اورشام میں موجود دیگر جہادی جماعتیں بھی یہ سمجھنے لگیں کہ دولہ ان پر بغیر مشورے اور بغیران کی رضا کے خود کو مسلط کرنا چاہتی ہے۔

ھ: عراق وشام میں دولہ کے اعلان کے سبب ایک ہی جہادی جماعت کے درمیان شدید اختلاف نے جنم لیا،جس کی نوبت بالآخر آپس کے قتال تک جا پہنچی۔جب کہ شیخ ابوبکر الحسینی البغدادی نے خود یہ دھمکی دی تھی کہ جبہۃ النصرہ کی کسی قسم کی تائید یا جس موقف کو وہ درست سمجھتے ہیں اس کے اعلان میں تاخیر کا نتیجہ بہتے خون کی صورت میں نکلے گا اور جوکہ بعدازاں بالفعل بہنے لگا۔

و: شام میں ابھی تک خون کی آبشاریں بہہ رہی ہیں جب کہ اگر ودلہ اس حکم کو مان لیتی جو اس مشکل کے حل کے لیے جاری کیا گیا تھا اور جس کا مقصد کسی قسم کی خوں ریزی سے بچنا تھا،تو اس متوقع فتنہ سے بچا جاسکتا تھا۔اگر دولہ کے بھائی عراق کے لیے فارغ ہوجاتے جسے اُن کی مجموعی قوت سے کہیں زیادہ قوت کی اب بھی ضرورت ہے اور اس امر کو قبول کرلیتے اورشوریٰ اورامیر کی سمع وطاعت کی پاس داری کرتے ہوئے اپنی قیادت اور امیر کی صریح خلاف ورزی نہ کرتے،تو وہ مسلمانوں کو اس بہتے خون سے بچا سکتے تھے۔اس صورت میں وہ رافضی صفوی حکومت کو بھی ناکوں چنے چبواتے اورعراق میں اہل سنت کی نصرت کا حق بھی کہیں بڑھ کر ادا کرپاتے۔تاہم ہر حال میں اللہ تعالیٰ کا شکر اور اسی کی تعریف ہے۔

یہ ایک گواہی تھی جس کے بعد میں ایک حکم دینا چاہوں گا اور ایک اپیل کرنا چاہوں گا۔

حکم شیخ فاتح ابومحمد الجولانی حفظہ اللہ اور جبہۃ النصرہ کے تمام محترم سپاہیوں کے لیے ہے جب کہ اپیل ارضِ رباط،شا کے تمام جہادی مجموعات اور جماعتوں کے لیے ہے کہ وہ فوری طور پر ایسے کسی بھی قتال سے رک جائیں جس میں ان کے مجاہد بھائیوں اور دیگر مسلمانوں کی جان اور عزت وناموس پر ظلم وزیادتی کا اندیشہ ہو اور اپنی تمام تر قوت بعثی نُصَیری اوران کی حامی رافضی قوتوں کے خلاف قتال پر مرکوز کریں۔

اسی طرح میں اس امر کا بھی اعادہ کرتا ہوں جس کا میں پہلے بھی متعدد دفعہ ذکر کرچکا ہوں کہ سب لوگ اپنے باہمی اختلافات اور جھگڑوں کے فیصلے کے لیے ایک مستقل اور خودمختار شرعی عدالت کی جانب رجوع کریں۔

اسی طرح میری سب سے یہ درخواست ہے کہ وہ ذرائع ابلاغ اور سماجی رابطوں کے وسائل پر کھلے بندوں ایک دوسرے پر الزام تراشی،غیر مناسب القاب اور فتنے کو ہوا دینے والے الفاظ استعمال کرنے سے مکمل اجتناب کریں اور خیر کی کنجیاں اور شرکو روکنے والے بنیں۔

اورآخر میں رہ گئی ایک نصیحت اور یاددہانی جوکہ شام میںموجود تمام مجاہدین کے لیے ہے کہ امت مسلمہ کے معصوم خون کے ساتھ ہولی کا یہ کھیل اب بہت ہوچکا! جہادی قیادت اور ان کے مشائخ کا قتل بہت ہوچکا!بس اب بہت ہوچکا!کیونکہ آپ کا خون ہم سب کے لیے حددرجہ قیمتی اورگراں قدر ہے ،جس کے بارے میں ہم سب کی یہ خواہش تھی کہ یہ اسلام کے دشمنوں کے خلاف دین کی نصرت کی خاطر بہتا۔

اورایک نصیحت اور یاددہانی خصوصی طور پر محترم ومکرم شیخ ابوبکر الحسینی البغدادی اور ان کے ساتھیوں کے نام،کہ اپنے امیر کی سمع وطاعت کی جانب لوٹ آئیے!اس مقصد کی جانب لوٹ آئیے جس کے حصول کے لیے آپ کے مشائخ،امرا اور ہجرت وجہاد کے رستے پر آپ سے پہلے چلنے والوں نے اپنی کوششوں کو صرف کیا۔زخموں سے چُور عراق کے لیے خود کو فارغ کرلیجیے جسے اس سے کہیں بڑھ کر آپ کی کوششوں کی ضرورت ہے۔ اپنی توجہ کو اس جانب مرکوز کرلیجیے تاکہ اس خونی قتل گاہ کو بندکیاجاسکے اورعراق میں اسلام اور اہل سنت کے دشمنوں کا رخ کیجیے!چاہے آپ یہ سمجھیں کہ آپ پر ظلم ہوا یا آپ کی حق تلفی ہوئی۔مسلمانوں کے بہتے خون کو روکنے ،ان کی صفوں میں اتحاد پیدا کرنے اور دشمن کے خلاف ان کی نصرت کرنے کی خاطر میری اس نداپر لبیک کہیے!چاہے آپ اسے خود پر ظلم وزیادتی اور ناانصافی ہی کیوں نہ سمجھتے ہوں۔

اورایک نصیحت میں خصوصی طور پر محترم ومکرم شیخ ابوبکر الحسینی البغدادی کوکرنا چاہوں گا کہ آپ اپنے دادا،سیدنا حسن السبط رضی اللہ عنہ کی پیروی کیجیے!جنہوں نے اپنے حقِ خلافت سے دست بردار ہوکر مسلمانوں کے بہتے خون کو روک لیا،چنانچہ اُن کے اس اقدام سے وہ اپنے نانا،محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس بشارت کے حق دار ٹھہرے جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا:

اِنَّ ابْنِی ھَذٓاسَیِّدٌ وَلَعَلَّ اللَّہَ أَنْ یُصْلِحَ بِہِ بَیْنَ فِئَتَیْنِ عَظِیْمَتَیْنِ مِنَ الْمُسْلِمِینَ
’’میرا یہ بیٹا سردار ہے اور قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے مسلمانوں کے دو عظیم گروہوں کے مابین صلح کروا دیں گے‘‘۔

کیاآپ کے لیے یہ بشارت کافی نہیں ؟اور کیا آپ اس عظیم سرداری پر راضی نہیں؟کیا آپ کو ایک ایسا فیصلہ پسند نہیں جس کے سبب اللہ تعالیٰ اپنے اذن وتوفیق سے دنیاوآخرت میں آپ کا مقام ومرتبہ بلند فرمادیں اور آپ عراق میں دشمنان اسلام کے مقابلے پر پوری قوت سے کھڑے ہوسکیں جسے اس سے کہیں بڑھ کر کوششوں کی ضرورت ہے۔اپنے اس اقدام سے آپ مسلمانوں کے مابین فتنے کی آگ بجھا کر ان کے مابین محبت واخوت کے جذبے کو دوبارہ زندہ کردیں گے۔پس آپ اللہ تعالیٰ پر توکل کیجیے! اوریہ فیصلہ کرگزریے!آپ اپنے تمام مجاہد بھائیوں اور تمام انصارِجہاد کو اپنا حامی و ناصراورمددگار دیکھیں گے!

اے محترم ومکرم شیخ!آپ اپنے داد کے اسوہ کو اختیار کریں اور اپنے بہترین اسلاف کے بہترین جانشین بن کرخانوادۂ نبوت کے عظیم کارناموں میں ایک اور عظیم کارنامے کا اضافہ کردیجیے!اللہ کی توفیق سے دنیاوآخرت کی کامیابی آپ کے قدم چومے گی۔

من معشرٍحبُھم دینٌ وبغضُھم
کفرٌوقربُھم منجیً ومعتصمُ

یہ وہ خانوادۂ نبوت ہے جس کی محبت جزوِ دین اور جس سے بغض کفر ہے
ان کی قربت باعث نجات اور ان کے چمٹ رہنا ہدایت کا سبب ہے

وآخر دعوانا ان الحمدللہ رب العالمین،وصلی اللہ علی سیدنا محمدوآلہ وصحبہ وسلم
والسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ